رمضان بعد ہمارا طرز عمل - Kifayatullah Sanabili website

2020-12-09

رمضان بعد ہمارا طرز عمل




(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)
رمضان بعد ہمارا طرزعمل کیا ہونا چاہئے اس تعلق سے ہم دس نکات پر گفتگو کریں گے ۔

① محاسبہ
● ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ [الحشر: 18]
● ﴿وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا (7) فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (8) قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا (9) وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾ [الشمس: 7 – 10]
یہ ایک مستقل اور تفصیل طلب موضوع ہے اس پر تفصیلی گفتگو ہم نے اپنے دوسرے درس ”اختتام رمضان اور محاسبہ نفس“ میں پیش کی ہے۔

② موت تک عبادت
● ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ﴾ [الحجر: 99]
● اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
«وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ »
”اور تم نے جوحلقہ پکڑا تھا وہ اسلام کا حلقہ ہے اسے موت تک مضبوطی سے پکڑے رہنا“ [صحيح مسلم 2484]
● « عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النِّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، قَالَ: لَوْ أَنَّ عَبْدًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى أَنْ ‌يَمُوتَ ‌هَرَمًا ‌فِي ‌طَاعَةِ ‌اللهِ، لَحَقَرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ» [مسند أحمد رقم 17650 وإسناده صحيح ]

③ توحید پر مداومت
رمضان میں شرک کے اڈے بند رہتے ہیں ہر مسلمان صرف اللہ ہی کو یاد کرتا ہے ، اللہ ہی کے کلام کو پڑھتا ہے ، اور تنہائی میں بھی روزہ نہیں توڑتا ہے تو اللہ ہی کے ڈرسے اسی لئے حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے : « الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ» ( بخاري 7492) یعنی بندہ میرے لئے روزہ رکھتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ۔ تو بندہ جس رمضانی عبادت میں توحید الوھیت کا ثبوت دیتا ہے رمضان بعد بھی اسے اسی پر باقی رہنا چاہئے
● ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ﴾ [فصلت: 30]
● عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ – وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ – قَالَ: ” قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، فَاسْتَقِمْ [صحيح مسلم 38]

④ تقوی پر مداومت
روزہ کا مقصد تقوی حاصل کرنا ہے اور یہ تقوی ہیشہ باقی رہنا چاہئے
● ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ [البقرة: 183]
● ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ [آل عمران: 102]
● ﴿تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا﴾ [مريم: 63]
● عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا» ، قَالَ ثَوْبَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ، وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ، قَالَ: «أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ، وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ، وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا» [سنن ابن ماجه 4245]

⑤ اعمال صالحہ پر ہمیشگی

باقی نوٹس پڑھنے کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں
.
.

No comments:

Post a Comment