أنوار الأخلاق في مسئلة الطلاق(احکام طلاق) - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-03-10

أنوار الأخلاق في مسئلة الطلاق(احکام طلاق)



طلاق کے مسئلہ پر نئی کتاب
✿ ✿ ✿

نام کتاب:- أنوار الأخلاق في مسئلة الطلاق(احکام طلاق)
طلاق کے شرعی احکام ، اور فقہی اور حدیثی مباحث کا انسائیکلوپیڈیا
تالیف:- ابوفوزان کفایت اللہ سنابلی
ناشر:- اسلامک انفارمیشن سنیٹرممبئی۔
صفحات :- 650

◈ ◈ ◈

طلاق کا مسئلہ صرف دینی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے ، حتی کہ عصرحاضر میں یہ سیاسی مسئلہ بھی بن چکا ہے ، نیز اسلام پر اعتراض کرنے والے غیر مسلمین کے یہاں طلاق ایک پسندیدہ موضوع ہے ، ان تمام باتوں سے اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
مسلمان عوام نے جس طرح عملی اعتبار سے اس مسئلہ پر بہت ظلم کیا ہے ، ٹھیک اسی طرح مذھبی برادری کے علماء نے بھی اس مسئلہ پر کم ستم نہیں ڈھایا ہے ، چنانچہ جس دور میں بھی کسی مجتہد نے تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی دینے کی کوشش کی ، مذھبی برادری ان پر چڑھ دوڑی ہے اور انہیں جیل میں ڈالنے سے لیکر جلاوطنی تک جو کچھ بھی بن پڑا ان کے خلاف کیا ۔
طلاق کے مسئلہ میں اکثر مذھبی حضرات کا تعصب اتنا خطرناک رہا ہے کہ ان لوگوں نے مسلمان عورتوں کی آبرووں کو حلالہ کی چوکھٹ پر نیلام کرنا تو گوارا کرلیا لیکن اس حقیقت کو کبھی ابھرنے نہیں دیا کہ چاروں مذاہب کا متفقہ فتوی بھی غلط ہوسکتا ہے ۔زیادہ دور نہ جائیں ہندوستان ہی کی مثال لیں ، طلاق کا مسئلہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ، ہندوستانی مسلمانوں کے لئے دینی آزادی خطرے پڑگئی ، ان کی عبادات داؤ پر لگ گئیں ، یہ سب کچھ گوارا کرلیا گیا اور ہر خطرہ مول لے لیا گیا ، مگر زبان کو کسی صورت اس اعتراف کی اجازت نہیں دی گئی کہ قرآن وحدیث سے استدلال کرتے ہوئے امت مسلمہ کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تین طلاق کو ایک سمجھتا ہے اور خود ہندوستان میں بھی کم وبیش چار کروڑ اہل حدیثوں کا یہی موقف ہے۔
.
حالانکہ ہر ذی شعور شخص اچھی طرح واقف ہے کہ اس مسئلہ میں اتنے تشدد کی گنجائش قطعا نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ چاروں مذاہب میں ہر مذہب کے ماننے والوں میں بعض اہل علم ایسے گذرے ہیں جنہوں نے اپنے مذہب کے خلاف فتوی دیا ہے۔بلکہ اسی ہندوسان میں ایک انگریز عیسائی جوڑے نے اسلام قبول کیا اور کچھ عرصہ بعد شوہر نے بیوی کو بیک وقت تین طلاق دے دی ، پھر اس نے مسئلہ پوچھا تو سب نے حلالہ کا فتوی دے ڈالا ، قریب تھا کہ یہ جوڑا مرتد ہوجاتا کہ بعض نے انہیں مشورہ دیا کہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے اجلاس میں مفتی محمد شفیع صاحب آئے ہوئے ہیں ان سے رجوع کرو ، اس جوڑے نے ان سے رجوع کیا تو مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے فتوی دیا کہ ”مسلمانوں کے ایک مسلک موسومہ بہ اھل الحدیث کے نزدیک ایک ہی طلاق ہوئی ، رجوع کرلیا جائے“ ، جب یہ جوڑا چلا گیا تو مفتی صاحب نے فرمایاکہ: اگر اس وقت میں یہ فتوی نہ دیتا تو یہ جوڑا پھر عیسائی ہوجاتا کہ جس اسلام میں میری ایک ذرا سی غلطی کی تلافی ممکن نہیں ہے ، وہ مذھب صحیح نہیں ہوسکتا [ماہنامہ الشریعہ جلد 21 شمارہ 7 جولائی 2010 صفحہ 14]

مذہبی حضرات نے جہاں اس مسئلہ میں وسعت کے ہر دروازے بند کرنے کی کوشش کی ہے وہی علمی طور پر قرآن یا حدیث کی ہر اس دلیل پر تاویل یا نسخ کا غلاف چھڑانے کی کوشش کی ہے جو ان کے خلاف ہے ،بالخصوص صحیح مسلم میں موجود ابن عباس رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث جو تین طلاق کے مسئلہ میں باجماع محدثین صحیح اور محکم ہے اور اپنے مفہوم میں بہت واضح اور فیصلہ کن ہے ، اس کے باوجود بھی اس حدیث کو رد کرنے کے لئے مذہبی حضرات نے جو کرم فرمائیاں کی ہیں ، وہ اسلام کی فقہی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے ، اسی لئے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے اسلام کی فقہی تاریخ کا عجوبہ قراردیتے ہوئے کہا:” اللهم إن هذا لمن عجائب ما وقع في الفقه الإسلامي“ ، ” اللہ کی قسم ! یہ اسلام کی فقہی تاریخ کا عجوبہ ہے“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة 3/ 272]

لہٰذا ضرورت محسوس کی گئی کہ ایک ایسی مفصل کتاب تیار کی جائے ، جس میں علم و مناقشے کے نام پر ایسی تمام تاویلات کو بے نقاب کیا جائے اور اس مسئلہ میں قرآن و حدیث کے واضح دلائل پر چڑھائی گئی گرد کو پوری طرح صاف کیا جائے ، اسی مقصد کے تحت مسلسل چار سال کی محنت کے بعد بحمداللہ آج یہ کتاب پایہ تکمیل کو پہنچی ہے ۔

اس کتاب کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
● اس کتاب میں”طلاق حیض“ اور ”تین طلاق“ پر جس ترتیب اور جس تفصیل کے ساتھ گفتگو ہے ، اس کی نظیر شاید کسی اور کتاب میں نہ ملے ۔
● کتاب کااکثر حصہ خالص علمی اور تحقیقی ہے جس سے عوام کا مستفید ہونا مشکل ہے ، اس لئے کتاب کے ابتدائی ابواب میں عام فہم زبان میں اسلامی نکاح کی خصوصیات ،میاں بیوی کے حقوق ، ، طلاق کے اسباب ، طلاق سے قبل اصلاح کے مراحل اور اسلام میں طریقہ طلاق وغیرہ پر مفید معلومات و ہدایات درج کردی گئی ہیں تاکہ اس کتاب سے اہل علم و طلباء کے ساتھ ساتھ عوام الناس بھی استفادہ کرسکیں۔
● ”طلاق حیض“ اور ”تین طلاق“ کے مسئلہ میں فریقین کی مستدل تمام مرفوع و موقوف روایات کو مع سند ومتن مکمل نقل کیا گیاہے اور صحت و ضعف کے لحاظ سے ہر سند کا حکم بھی مع سبب بیان کردیا گیا ہے۔
● اسانید کی تحقیق اور روایات پر حکم لگانے میں محدثین کے منہج پر چلتے ہوئے وہی طریقہ اپنا یا گیاہے جس کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب ’’أنوار البدر في وضع الیدین علی الصدر‘‘ (ص: 43 تا 61) میں کی ہے۔
●اس کتاب میں صرف برصغیرکے حنفی دلائل پر گفتگو نہیں ہے ، بلکہ تقلیدی مذاہب کے وجود سے لے کراب تک ان کے چاروں حلقوں نے طلاق کے مسئلہ میں جو کچھ بھی رقم فرمایا ہے ،حتی الامکان ان سب کو سامنے رکھتے ہوئے ہر ایک کے اعتراض اور ہرایک کے شبہہ کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
● صحیح مسلم میں ابن عباس رضی اللہ عنہ والی حدیث پر تقلیدی مذاہب نے بہت بے دردی سے جرح کی ہے ، اور اس پر انتہائی فضول، لایعنی اور غیراصولی اعتراضات کرکے اپنے اپنے حلقوں کوتسلی دینے کی کوشش کی ہے، اس کتاب میں ایک بڑا حصہ اس حدیث کے دفاع پر مشتمل ہے جس میں اس حدیث کی سند یا اس کے متن پروارد جملہ اعتراضات کے جوابات محدثین اور فقہائے اہل حدیث کے منہج پردئے گئے ہیں، بالخصوص غیر مدخولہ والے اعتراض کی مفصل ومدلل تردید کی گئی ہے۔
● شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر بعض لوگوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ ان سے پہلے کسی نے بھی تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی نہیں دیا ہے ، اس الزام کی تردید کرتے ہوئے ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پہلے ہر ہر صدی سے ایسے ائمہ وعلماء کے نام مع حوالہ پیش کئے گئے ہیں جو تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی دیتے تھے ۔اس ضمن میں صرف انہیں اہل علم کے نام درج کئے گئے ہیں جن سے ان کے اقوال ثابت شدہ ہیں۔
●دکتور سلیمان بن عبداللہ العمیر نے ”تسمية المفتين بأن الطلاق ثلاث بلفظ واحد طلقة واحدة“ کے نام سے ایک کتاب لکھ کر عہد صحابہ سے لیکر عصر حاضر تک کے ان تمام ائمہ واہل علم کا ذکر کیاہے جنہوں نے تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی دیا ہے ، ہم نے اپنی اس کتاب میں ان تمام ناموں کی صرف فہرست پیش کی ہے ، اور اس پر استدراک کرتے ہوئے بعض مزید ائمہ کے ناموں کا اضافہ کیا ہے جن میں دو نام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پہلے دور کے ہیں ۔نیز اس ضمن میں مذاہب اربعہ میں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے بعض ایسے علماء کے نام پیش کئے گئے ہیں جو تین طلاق کو ایک مانتے تھے۔
● عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح دس ایسی روایات پیش کی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ بیک وقت دی گئی تین طلاق کو شرعا ایک ہی مانتے تھے ۔
● دس ایسے مسائل پیش کئے گئے ہیں ، جن میں ائمہ اربعہ یا مذاہب اربعہ کا اتفاق ہے ، مگردیگر اہل علم کا فتوی اس کے خلاف ہے ، ان دسوں مسائل میں ائمہ اربعہ یا مذاہب اربعہ سے اختلاف کرنے والے اہل علم کا موقف ہی راجح ہے۔
.
آٹھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب تیار ہوچکی ہے ، اور اسلامک انفارمیشن سینٹر کی گرافک ٹیم کے حوالے کردی گئ ہے ، جلد ہی یہ طبع ہوکر آپ کے ہاتھوں میں ہوگی ۔ان شاء اللہ !
(کفایت اللہ سنابلی)

No comments:

Post a Comment