صبح وشام کے اذکار صرف صحیح احادیث کی روشنی میں - Kifayatullah Sanabili Official website

2019-08-08

صبح وشام کے اذکار صرف صحیح احادیث کی روشنی میں

صبح وشام کے اذکار صرف صحیح احادیث کی روشنی میں
(کفایت اللہ سنابلی)
 ⟐  ⟐  ⟐ 

 ●  وقت صبح سے مراد :
 ◈ نماز فجرکے بعد سے لیکر طلوع شمس تک افضل وقت ہے۔(سورۃ ق 39، سنن أبی داؤد ،رقم 3667 وحسنه الألباني والأرنؤوط وهو كذلك وله طرق ولم يصب من ضعفه)
 ◈ طلوع شمس کے بعد سے لیکر ظہر تک بھی جائزہے لیکن یہ مفضول وقت ہے۔(مستفاد از:سنن أبی داود رقم 1503 وإسنادہ صحیح)
 ◈ اگرظہر تک بھی نہ پڑھ سکے تو صبح کا وقت تو نہیں رہ گیا لیکن اگروقت شام سے قبل جب ممکن ہو پڑھ لے تو بعض اہل علم کے بقول اس کی بھی گنجائش ہے واللہ اعلم۔

 ● وقت شام سے مراد :
 ◈  نمازعصر کے بعد سے لیکر غروب شمس تک افضل وقت ہے۔(سورۃ ق 39، سنن أبی داؤد ،رقم3667 وحسنه الألباني والأرنؤوط وهو كذلك وله طرق ولم يصب من ضعفه)
 ◈ غروب شمس کے بعد سے لیکرآدھی رات تک بھی جائزہے لیکن یہ مفضول وقت ہے۔(مستفاد از:بخاری،رقم 3603،صحیح ابن حبان، رقم 12341 وإسنادہ حسن،الصحيحة6/ 135)
 ◈ اگرآدھی رات تک بھی نہ پڑھ سکے توشام کا وقت تو نہیں رہا لیکن اگر وقت صبح سے قبل جب ممکن ہوپڑھ لے توبعض اہل علم کے بقول اس کی بھی گنجائش ہے ، واللہ اعلم۔

وہ اذکارجنہیں ایک بارپڑھناہے
✿ ① ﴿اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ﴾ 
{اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کئے ہوئے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت کر دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا} [ بخاری ،رقم 6306، سیدالاستغفار] 

✿ ② 
صبح کے وقت: 
﴿أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ»«لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِا اليوم وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِا اليوم وَشَرِّ مَا بَعْدَهَ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ﴾ 
{ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک نے صبح کی، شکر ہے اللہ کا، کوئی سچا معبود نہیں سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی سلطنت ہے اسی کو تعریف لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے پروردگار! میں تجھ سے اس دن کی بہتری مانگتا ہوں اور اس دن کے بعد کی اور پناہ اس دن کی برائی سے اور اس کے بعد کی برائی سے، اے پروردگار! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے، اے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے} 
شام کے وقت:
 ﴿أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ»«لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ﴾ 
 {ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی، شکر ہے اللہ کا، کوئی سچا معبود نہیں سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی سلطنت ہے اسی کو تعریف لائق ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے پروردگار! میں تجھ سے اس رات کی بہتری مانگتا ہوں اور اس رات کے بعد کی اور پناہ اس رات کی برائی سے اور اس کے بعد کی برائی سے، اے پروردگار! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے، اے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے} [ مسلم ،رقم2723] 

 ✿ ③ ﴿اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي﴾ 
 {اے للہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاؤں} [ سنن أبی داود،رقم5074 وإسنادہ صحیح وصححه الألبانی] 

 ✿ ④  ﴿اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ ﴾ 
 {اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، کھلی ہوئی اور پوشیدہ چیزوں کے جاننے والے، کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے تیرے، تو ہر چیز کا رب (پالنے والا) اور اس کا بادشاہ ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر اور اس کے جال اور پھندوں سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے آپ کے خلاف کوئی گناہ کر بیٹھوں، یا اس گناہ میں کسی مسلمان کو ملوث کر دوں} [سنن الترمذی رقم 3529 وإسنادہ صحیح وصححه الألبانی فی الصحيحة 6/ 623] 

 ✿ ⑤  ﴿يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرَفَةَ عَيْنٍ﴾ 
 {اے زندہ وجاوید! اے قائم ودائم! میں تیری رحمت ہی کے ذریعہ مدد طلب کرتاہوں ، تو میرا ہرکام سنواردے ، اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کےسپرد نہ کر} [المستدرك للحاكم رقم 2000 وإسنادہ حسن وصححه الحاکم ووافقه الذهبي] 

 ✿ ⑥ 
صبح کے وقت:
 ﴿اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ﴾ 
 {اے اللہ ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے صبح کی ، اور تیری ہی حفاظت میں شام کی ، اورتیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے ہیں ، اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں ، اور تیری ہی طرف لوٹناہے} 
شام کے وقت:
 ﴿اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ﴾ 
 {اے اللہ ! تیری ہی حفاظت میں ہم نے شام کی ، اور تیری ہی حفاظت میں صبح کی ، اورتیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے ہیں ، اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں ، اور تیری ہی طرف لوٹناہے} [ الأدب المفرد للبخاري رقم 1199 ،وإسنادہ صحیح وصححه الألباني] 

 ✿ ⑦ صرف صبح کے وقت:
 ﴿أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ، وَكَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَدِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًاوَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ 
 {ہم نے فطرت اسلام ، کلمہ اخلاص ،اوراپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےدین ، اوراپنے باپ ابراہیم علیہ السلام -جو یک رخ اور فرمانبردارتھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے-کی ملت پر صبح کی} [ سنن الدارمي رقم 2730 وإسنادہ صحیح واللفظ له ، مسند أحمد 3/407 وإسنادہ صحیح علی شرط الشیخین ،ورواية المساء شاذة ، انظرالصحيحة6/ 1231]

وہ اذکار جنہیں تین(3) بار پڑھنا ہے
✿ ① ﴿بسم الله الذي لا يضرُّ مَعَ اسمِهِ شيءٌ في الأرضِ وَلاَ في السماءِ وهُوَ على السميعُ العليمُ﴾ 
{میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے} [سنن الترمذي رقم3388وإسناده حسن وحسنه الألباني] 

✿ ② ﴿اللَّهُمَّ عَافِنِي في بَدَني، اللَّهُمَّ عافِني في سَمْعي، اللَّهُمَّ عافِنِي في بَصَري، لا إله إلاَّ أنت، اللَّهُمَّ إني أعُوذُ بِكَ من الكُفْرِ، والفَقْرِ، اللَّهُمَّ إني أعُوذُ بِكَ مِنْ عذابِ القَبْرِ، لاَ إله إلاَّ أنْتَ﴾ 
{اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں} [سنن أبی داود،رقم5090 وإسناده حسن وحسنه الألباني ولم يصب من ضعفه ، جعفر بن ميمون حسن الحديث علي الراجح] 

✿ ③ (صرف صبح ) ﴿سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ 
 {میں اللہ کی پاکی بولتا ہوں خوبیوں کے ساتھ اس کی مخلوقات کے شمار کے برابر اور اس کی رضا مندی اور خوشی کے برابر اور اس کے عرش کے تول کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر} [مسلم،رقم 2726] 

✿ ④ (صرف شام) ﴿أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴾ 
 {میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعہ اس کی مخلوق کے شر سے پناہ چاہتاہوں} [ مسلم،رقم2709 والترمذی رقم 3604] 

وہ ذکر جسے دس (10) بار پڑھنا ہے
 ✿ ﴿لا إِلَهَ إِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ 
 {اللہ کے علاوہ کوئی معبود حقیقی نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت ہے اوراسی کی تعریف ہے ، اوروہ ہرچیز پر قاد ہے} [ مسند أحمد2/ 360 وإسناده صحيح علي شرط الشيخين وانظر الصحيحة 6/ 136۔137] 
 ✿ اسے صرف ایک بار بھی پڑھ سکتے ہیں [سنن ابن ماجه ،رقم 3867وإسنادہ صحیح وصححه الألباني] 

وہ ذکرجسے سو(100) بارپڑھناہے
 ✿ ﴿سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ 
 {پاک ہے اللہ اپنی تعریفوں کے ساتھ}[ مسلم ، رقم 2692]

یہاں صرف ان اذکار کویکجاکیاگیاہے جن کے بارے میں یہ صراحت ہے کہ انہیں خصوصی طور پر ”صبح“ یا ”شام“ کو پڑھاجائے ۔
بعض اذکار کے کئی صیغے اور الفاظ ثابت ہیں لیکن ہم نے ان الفاظ کا انتخاب کیا ہے جن پر اکثررواۃ کا اتفاق ہے۔
ان کے علاوہ دن رات میں پڑھے جانے کے لئے اوربھی کئی اذکار صحیح سندوں سے ثابت ہیں لیکن ان کا وقت عام ہے انہیں دن رات میں کبھی بھی پڑھ سکتے ہیں۔
مذکورہ اذکار کے علاوہ صبح وشام کے جتنے بھی اذکار وارد ہیں وہ شاذ یاضعیف یا موضوع ومن گھڑت ہیں ، واللہ اعلم۔

 ⟐  ⟐  ⟐


(کفایت اللہ سنابلی)

2 comments: