ماہ شعبان اور سنن وبدعات
کفایت اللہ
ماہ شعبان کی فضیلت
اس مہینے کی فضیلت میں صرف اور صرف ایک ہی بات ثابت ہے وہ یہ کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں ۔
امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
”أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو الْغُصْنِ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ، قَالَ: ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ“
”اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جتنا میں آپ کو شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں اتنا کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا، آپ نے فرمایا: ”رجب و رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال رب العالمین کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، تو میں چاہتا ہوں کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزہ سے رہوں“ [سنن النسائي 4/ 201 واسنادہ حسن]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس ماہ میں بندوں کے اعمال اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں۔اوراعمال کی یہ پیشی سالانہ پیشی ہوتی ہے اس کے ساتھ ہردن رات اور ہرہفتہ بھی اعمال کی پیشی ہوتی ہے جیساکہ دیگرروایات سے معلوم ہوتاہے۔
باقی نوٹس کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں


No comments:
Post a Comment