ایک رات میں ختم قران سے متعلق کچھ روایات کی تحقیق - Kifayatullah Sanabili Official website

2019-06-19

ایک رات میں ختم قران سے متعلق کچھ روایات کی تحقیق

complete-quran-in-one-night

فضائل قرآن کے مطلق کچھ روایات کی تحقیق درکار ہے کہ کیا ان روایات کی اسناد واقعی صحیح ہیں؟

۱۔ امام شافعی سے ثابت ہے آپ رمضان البمارک میں ساٹھ مرتبہ قرآن ختم کیا کرتے تھے۔ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ أَخْتِمُ فِي رَمَضَانَ سِتِّينَ مَرَّةً» (حلية الأولياء ج۹ ص۱۳۴ وسندہ صحیح)

۲۔ امام بخاری رحمہ اللہ ہر روز ایک قرآن مجید ختم کرتے اور فرماتے ہر قرآن ختم کرنے پر دعا قبول ہوتی ہے (شعیب الایمان ج۲ ص۵۲۴ وسندہ صحیح)

امام شافعی اور امام بخاری کا اتنے کم عرصہ میں قرآن ختم کرنا کوئی کمال کی بات نہیں، بلکہ یہ عمل صحابہ کرام سے بھی منقول ہے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے (فضائل القرآن لابن کثیر ص۲۵۷ بسند حسن)

اسی طرح حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے (ایضا وصححہ ابن کثیر)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان میں ۳ دن میں قرآن پڑھا کرتے تھے (فضائل القرآن لابن کثیر ص۲۵۵ وقال ابن کثیر اسناد صحیح وحسنہ ابو اسحاق الحوینی)

۱۔ امام شافعی سے ثابت ہے آپ رمضان البمارک میں ساٹھ مرتبہ قرآن ختم کیا کرتے تھے۔ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: «كُنْتُ أَخْتِمُ فِي رَمَضَانَ سِتِّينَ مَرَّةً» (حلية الأولياء ج۹ ص۱۳۴ وسندہ صحیح)
امام أبو نعيم رحمه الله (المتوفى430)نے کہا:
حدثنا أبو محمد بن حيان ثنا إبراهيم بن محمد بن الحسن قال قال الربيع سمعت الشافعي يقول كنت أختم في رمضان ستين مرة[حلية الأولياء 9/ 134]

اس کی سند صحیح ہے۔
ممکن ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ تک وہ حدیث نہ پہونچی ہو جس میں تین دن سے کم قران مجید ختم کرنے کی مذمت ہے۔
نیز اس بات کا بھی امکان ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قدیم عمل ہو اوربعد میں امام شافعی رحمہ اللہ نے اسے ترک کردیا ہے جیساکہ خود اسی اثر سے اشارہ ملتا ہے کیونکہ اس میں امام شافعی رحمہ اللہ یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ میں ہررمضان میں ساٹھ بار قرآن ختم کرتاہوں بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں رمضان میں ساٹھ بار قرآن ختم کرتاتھا۔واللہ اعلم۔

۲۔ امام بخاری رحمہ اللہ ہر روز ایک قرآن مجید ختم کرتے اور فرماتے ہر قرآن ختم کرنے پر دعا قبول ہوتی ہے (شعیب الایمان ج۲ ص۵۲۴ وسندہ صحیح)
امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، أخبرني محمد بن خالد الصوفي، حدثنا مسبح بن سعيد، قال كان محمد بن إسماعيل البخاري: إذا كان أول ليلة من شهر رمضان يجتمع إليه أصحابه فيصلي بهم، فيقرأ في كل ركعة عشرين آية، وكذلك إلى أن يختم القرآن، وكذلك يقرأ في السحر ما بين النصف إلى الثلث من القرآن، فيختم عند السحر في كل ثلاث ليال، وكان يختم بالنهار كل يوم ختمة، ويكون ختمه عند الإفطار كل ليلة ويقول: " عند كل ختمة دعوة مستجابة "[شعب الإيمان 3/ 524]


”أبو جعفر مسبح بن سعيد البخاري“ کی توثیق مجھے نہیں مل سکی۔
ان کا امام بخاری کا شاگر ہونا او ان کی بعض کتب کاراوی ہونا ان کی توثیق کے لئے کافی نہیں ہے۔واللہ اعلم۔

جن صاحب نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے ممکن ہے انہیں اس کی توثیق ملی ہولیکن جب تک اس دلیل تک ہماری رسائی نہیں ہوجاتی ہماری نظر میں یہ روایت ضعیف ہی شمارہو گی ۔
اگر سائل کے لئے ممکن ہو تو صاحب تحریر سے رابطہ کرکے اس کی توثیق طلب کرے اور ہمیں آگاہ کرے۔تاکہ اس سے استفادہ کیا جاسکے۔

ہوسکتا ہے اس مسبح بن سعید کی توثیق کو اس لئے نظرانداز کردیا گیا ہو کہ یہ امام بخاری کے شاگر د ہیں اورجب شاگر اپنے استاذ کے بارے میں بیان دےرہیں تو اس میں ضبط کی کوتاہی نہیں ہوسکتی ۔
یہ بات درست ہے کہ لیکن ایسا اس صورت میں مانا جاسکتا ہے جب مسبح بن سعید کا ترجمہ دستیاب ہو اور اہل علم نے کم ازکم ان کی اتنی تعریف وتوصیف کی ہو کیا ان کا عادل ہونا اورامانت دار ہونا ثابت ہوجائے ۔واللہ اعلم۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے (فضائل القرآن لابن کثیر ص۲۵۷ بسند حسن)
امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے کہا:
قال أبو عبيد رحمه الله: حدَّثَنا هشيم، أنا منصور، عن ابن سیرین (؟)قال: قالت نائلة بنت الفرافصة الكلبية، حيث دخلوا على عثمان ليقتلوه، إن تقتلوه أو تدعوه؛ فقد كان يحيى الليل كله بركعة يجمع فيها القرآن[فضائل القرآن لابن كثير ص: 257]

یہ سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔
کیونکہ محمدبن سیر ین شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے دو سال قبل پیداہوئے[تهذيب التهذيب لابن حجر: 9/ 215]
اس لئے ناممکن ہے کہ وہ شہادت عثمان کے واقعہ کا کوئی حصہ بیان کریں۔
یاد رہے کہ اس روایت میں محمدبن سیر ین نائلہ سے کوئی روایت نہیں بیان کررہے ہیں ، بلکہ بوقت شہادت عثمان نائلہ کا قول نقل کررہے ہیں ۔لہذا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے وقت ان کا صاحب سن تمییز ہونا ضروری ہے ۔جبکہ ایسا نہیں ہے ۔

بالٍفرض مان لیں کہ اس روایت میں ابن سیرین نائلہ سے روایت کررہے ہیں تو بھی یہ سند محل نظر ہے ۔
کیونکہ محمدبن سیرین رحمہ اللہ بہت زیادہ ارسال کرنے والے راوی ہیں۔
اور یہ بصرہ کے رہنے والے تھے جبکہ نائلہ زوجہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا بصرہ آنا ثابت نہیں ہے۔بلکہ مدینہ کے بعد صرف شام آنا ثابت ہے۔
بطور مثال عرض ہے کہ :
امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
سئل أبي عن ابن سيرين سمع من أبي الدرداء قال قد أدركه ولا أظنه سمع منه ذاك بالشام وهذا بالبصرة
میرے والد (امام ابوحاتم رحمہ اللہ)سے پوچھا گیا کہ کیا محمدبن سیرین نے ابوالدرداء سے سناہے؟ تو انہوں نے جواب دیاد:ان کوپایا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ان سے سناہے،کیونکہ وہ شام کے رہنے والے ہیں اور یہ بصرہ کے ہیں۔[المراسيل لابن أبي حاتم ص: 187]

نیز محمدبن سیر ین کےشیوخ میں نائلہ کا ذکر کسی نے بھی نہیں کیا ہے اور نہ زیرنظر روایت کے علاوہ کوئی اور روایت ابن سیرین نے نائلہ سے نقل کی ہے۔
اس لئے اس سند میں محمدبن سیرین کی طرف سے ارسال کا قوی امکان ہے لہذا یہ سند اس اعتبار سے بھی محل نظر ہے ۔ واللہ اعلم۔

اسی طرح حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے (ایضا وصححہ ابن کثیر)
نوٹ:
روایت کا یہ ترجمہ”پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے“ درست نہیں ہے ۔
کیونکہ روایت میں صرف ایک بار ایک رکعت میں قرآن ختم کرنے کا ذکر ہے۔جیساکہ الفاظ آگے آرہے ہیں۔

امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے کہا:
قال أبو عبيد رحمه الله: : حدَّثَنا أبو معاوية، عن عاصم، عن ابن سليمان، عن ابن سيرين، أن تميما الدارى قرأ القرآن في ركعة.[فضائل القرآن لابن كثير ص: 257]

اصل کتاب میں سند اس طرح ہے:
حدثنا أبو معاوية، عن عاصم بن سليمان، عن ابن سيرين، أن تميما الداري، قرأ القرآن في ركعة

یہ سند ضعیف ہے ۔
ابومعاویہ محمد بن خازم الكوفي نے عن سے روایت کیا ہے اور یہ مدلس ہیں۔ان کاعنعنہ عام طورپر قابل قبول ہے مگر اس روایت میں نہیں ۔
کیونکہ یہ روایت تمیم داری سے ثابت شدہ عمل کے خلاف ہے چنانچہ:

امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
أخبرنا عفان بن مسلم قال: أخبرنا وهيب قال: أخبرنا أيوب، عن أبي قلابة، عن أبي المهلب، عن أبي بن كعب: «أنه كان يختم القرآن في ثماني ليال، وكان تميم الداري يختمه في سبع»[الطبقات الكبرى ط دار صادر 3/ 500 واسنادہ صحیح علی شرط مسلم]

مسلم کی شرط پر صحیح اس روایت سے معلوم ہواکہ تمیم داری رضی اللہ عنہ سات دن میں قرآن ختم کرتے تھے۔
لہٰذا کسی کمزورسند سے اس کے خلاف ملے تو اس کی کمزوری کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔

اگر ابومعاویہ کی صحیح متابعت ثابت ہوجائے ۔
تو یہ کہنا لازم ہوگا کہ تمیم داری رحمہ اللہ سے صرف ایک بار ایک رکعت میں قران ختم کرنا ثابت ہے لیکن یہ ان کادائمی عمل نہیں تھا۔کیونکہ ابن سعد کی روایت میں ان کا دائمی عمل یہ منقول ہے کہ وہ سات دن میں قران ختم کرتے تھے۔بلکہ اس روایت کی بناپر یہ کہنا بھی درست ہوگاکہ ایک رکعت میں قرآن پڑھنے کا عمل تمم داری نے ترک کردیا تھا اور بعد میں سات دن میں قران ختم کرنے کا معمول بنالیا تھا ۔
اور یہ تبدیلی اس وقت آئی ہوگی جب انہیں تین دن سے کم قران مجید ختم کرنے پر مذمت والی حدیث معلوم ہوئی ہوگی ۔واللہ اعلم۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان میں ۳ دن میں قرآن پڑھا کرتے تھے (فضائل القرآن لابن کثیر ص۲۵۵ وقال ابن کثیر اسناد صحیح وحسنہ ابو اسحاق الحوینی)
امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے کہا:
قال أبوعبيد:حدَّثَنا حجاج، عن شعبة، عن محمد بن ذِكْوان، عن عبد الرحمن ابن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، أنه كان يقرأ القرآن فى رمضان فى ثلاث.[فضائل القرآن لابن كثير ص: 255]

اس کی سند حسن ہے۔

خلاصہ کلام

کم سے کم مقدار جس میں قران ختم کرنا صحابہ سے ثابت ہے وہ تین دن ہے ۔
اس سے کم دنوں میں یا ایک ہی دن یا ایک ہی رات میں قران مجید ختم کرنا کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے ۔
بلکہ صحابہ میں عبدللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے تین دن سے کم قران مجید ختم کرنے کی ممانعت منقول ہے چنانچہ:

امام سعيد بن منصور رحمه الله (المتوفى: 227)نے کہا:
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَير ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قال: قال عبد الله: اقرؤا القرآن في سبع، ولا تقرؤه فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ، وَلْيُحَافِظِ الرَّجُلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ عَلَى جزئه.[التفسير من سنن سعيد بن منصور - محققا 2/ 442 قال المحقق :سنده صحيح، والأعمش قد صرح بالسماع في رواية الفريابي]

No comments:

Post a Comment