حلالہ کی حقیقت - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-02-22

حلالہ کی حقیقت


پچھلا
باب (8)
حلالہ کی حقیقت
طلاق بدعت کو واقع ماننے والے ایک ساتھ دی گئی تین طلاق کو تین واقع مان لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ میاں اور بیوی اب دوبارہ حلالہ کے بغیر نہیں مل سکتے ۔کاغذی فتوی میں حلالہ شرعیہ لکھیں گے اور عملی حلالہ کی شکل یہ بتائیں گے کہ طے شدہ پلان ک تحت تین طلاق پانے والی عورت کی کسی اور سے شادی کرادی جائے اور یہ دوسرا شوہر اس کے ساتھ اچھی طرح جماع کرے ، یعنی پوری طرح دخول ہو وانزال ہو وہ بھی ننگے عضو کے ساتھ ، کسی بھی طرح کا حائل استعمال کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔عورت بھی پوری طرح اس کا ساتھ دے اور اچھی طرح لطف اندوز ہو لے ۔
بلکہ حد ہوگئی کہ ایک حنفی عالم نے یہ بھی فتوی دےدیا کہ حلالہ میں عین دخول کے وقت ایک گواہ بھی ہونا چاہئے جو اس بات کی شہادت دے کہ واقعی اچھی طرح دخول ہوا ہے ۔[دیکھئے : تحفہ احناف ص139]
اس طرح جب دونوں ایک دوسرے کا مزہ لے کر فارغ ہوجائیں تو دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے، اب اس کے بعد یہ عورت پہلے شوہر سے شادی کرسکتی ہے ، اسی گھناونی کارروائی کو حلالہ کہتے ہیں ۔
حلالہ صرف اور صرف حرام ہے اس کی کوئی بھی جائز شکل موجود نہیں ہے ۔افسوس ہے کہ بعض لوگ حلالہ کی دو قسم کرتے ہیں ایک جائز حلالہ اور دوسرا ناجائز حلالہ ہے۔حالانکہ یہ بے بنیاد تقسیم ہے اور ہرطرح کا حلالہ صرف اور صرف ناجائز اور حرام ہے ۔
کتاب و سنت میں ”حلالہ کرنے“ کی کوئی بھی جائز صورت موجود نہیں ہے بلکہ ہر طرح کا ”حلالہ کرنا“ حرام و ناجائز ہے ۔اور بینونۃ کبری والی مطلقہ کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ایک اتفاقی عمل کے بعد کی صورت بتلائی گئی ہے ، یہ ”عملِ حلالہ“ ہرگز نہیں ہے ، کیونکہ یہ عمل برائے تحلیل جائز ہی نہیں ہے۔
دراصل کسی بھی طریقہ حلالہ کو جائز کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ مطلقہ ثلاثہ کو دوبارہ حاصل کرنے کی نیت سے کوئی جائز اقدام موجود ہے ، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے ۔
قرآن میں اللہ تعالی نے جو یہ کہا ہے کہ تیسری طلاق کے بعد عورت تب تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے ، تو اس میں دوسری شادی کے بعد حرمت کے حلت میں بدل جانے کا بیان ہے ، لیکن اس حرمت کو حلت میں بدلنے کی نیت لیکر دوسری شادی کی اجازت یہاں قطعا نہیں ہے ۔بلکہ حدیث میں ایسا کرنے پر لعنت بھیجی گئی ہے۔

✿ حلالہ قرآن کی روشنی میں :
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
{إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ }
”یہ منافق اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ اللہ ان کے دھوکہ بازی کی خبر لینا والا ہے“ [النساء: 142]
اس آیت میں منافقین کی جس دھوکہ بازی کی صفت بتائی گئی ہے وہی دھوکہ بازی حلالی جوڑوں میں پائی جاتی ہے ، لہٰذا حلالی جوڑے بھی اس آیت کے مصداق ہیں ۔
منافقین زبان سے بظاہر کلمہ پڑھتے اور خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ، جب کہ اندر سے ان کی نیت کچھ اور ہوتی ہے ، اس لئے ان کا اسلام حقیقی اسلام نہیں بلکہ مبنی برنفاق ہے۔ یہی حلال حلالی جوڑوں کا ہوتا ہے ، یہ زبان سے نکاح کرنے کا دعوی کرتے ہیں ، لیکن نیت پوری طرح یہی ہوتی ہے کہ ایک دوسرے کا مزہ لینے کے بعد الگ ہوجائیں گے ، اس لئے ان کا نکاح حقیقی نکاح نہیں بلکہ زنا وبدکراری پر مبنی ایک ڈھونگ ہے۔
صحابہ میں قرآن سب سے بڑے جانکار اور مفسر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی حلالی جوڑے کو قرآن کی اسی آیت کا مصداق قرار دیا ہے چنانچہ:
امام سعيد بن منصور رحمه الله (المتوفى227)نے كہا:
 ”نا هشيم، قال: أنا الأعمش، عن عمران بن الحارث السلمي، قال: جاء رجل إلى ابن عباس، فقال: ”إن عمه طلق ثلاثا، فندم. فقال: عمك عصى الله فأندمه، وأطاع الشيطان فلم يجعل له مخرجا. قال: أرأيت إن أنا تزوجتها عن غير علم منه، أترجع إليه؟ فقال: من يخادع الله عز وجل يخدعه الله“ 
 ”عمران بن الحارث السلمی رحمہ اللہ بیان کرے ہیں کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ان کے چچا نے تین طلاق دے دی اب وہ نادم ہیں ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : تمہارے چچا نے اللہ کی نافرمانی کی تو اللہ نے انہیں شرمندہ کیا اور شیطان کی اطاعت کی، اس لئے ان کی خاطرکوئی راستہ پیدا نہیں کیا ۔ تو اس شخص نے کہا: آپ کا كيا خیال ہے اگر میں ان کے علم کے بغیر اس عورت سے شادی کرلوں (پھر طلاق دے دوں ) تو اس کے بعد وہ میرے چچا کے پاس لوٹ (کردوبارہ شادی کر) سکتی ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو اللہ کو دھوکہ دے گا اللہ اس کے دھوکہ بازی کی خبر لے گا“ [سنن سعيد بن منصور، ت الأعظمي: (1/ 300) رقم (1065) وإسناده صحيح ، ومن طريق سعيد بن منصور أخرجه ابن بطة في ”إبطال الحيل“ (ص: 48) وقد صرح الأعمش عنده بالسماع ۔وأخرجه أيضا عبدالرزاق في ”مصنفه،“ ( ت الأعظمي: 6/ 266) من طريق الثوري ومعمر ۔ ومن طريق عبدالرزاق أخرجه ابن حزم في ”المحلي“ (ت بيروت: 9/ 428) ۔وأخرجه الطحاوي في ”شرح معانى الآثار“ (ت النجار: 3/ 57 ) من طريق الثوري۔وأخرجه البيهقي في ”سننه“ (ط الهند: 7/ 337) من طريق ابن نمير ۔ كلهم (الثوري ومعمر وابن نمير) عن الأعمش،عن مالك بن الحارث به]

اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ بہت واضح ہیں کہ انہوں نے ”دھوکہ باز“ حلالی سانڈ کو کہا ہے اور اسی کے ”لعنتی فعل“ کی سزابیان کی ہے ۔
لیکن دیوبندی استاذ حدیث مولانا منیر احمد صاحب نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ کا ترجمہ کرتے ہوئے بریکٹ میں اس کی کیسی معنوی تحریف کی ہے ملاحظہ کریں ، لکھتے ہے:
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو اللہ کے ساتھ دھوکہ کا معاملہ (نافرمانی) کرتا ہے ، اللہ اس کو دھوکہ کی سزا دیتا ہے (جس کی صورت یہ ہے کہ اللہ نے حلالہ کا حکم دیا ہے ، اور باعزت غیرت مند مرد کے لئے یہ بڑی سخت سزا ہے ، البتہ بے غیرتوں کے نزدیک یہ سزا صرف عورت کے لئے ہے ، مرد کے لئے کچھ نہیں)“[حرام کاری سے بچئے : ص 123 ، 124 تالیف : مولانا منیر احمد]
ملاحظہ کریں:
موصوف نے یہاں دھوکہ بازی کے عمل کو بریکٹ میں( نافرمانی) لکھ کر اسے حلالی سانڈ سے الگ کرکے طلاق دینے والے بد نصیب شوہرکے گلے ڈال دیا ، پھر بڑی ڈھٹائی سے لعنتی فعل حلالہ کو اللہ کو حکم قرار دے کر ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ سزا کو حلالی سانڈ سے ہٹاکر بے چارے شوہر پرفٹ کردیا ، اور اس سزا کی یہ تشریح بیان کی کہ اس میں غیرت مند شوہر کے لئے سزا ہے ۔ استغفراللہ !
اور بے شرمی کی حد تو دیکھئے کہ ”حرام کاری سے بچئے“ کے عنوان سے کتاب لکھ رہے ہیں اور اس میں حلالہ جیسی ملعون اور گٹھیا حرام کاری کو اللہ کا حکم بتارہے ہیں ، اور اس پر طرہ یہ کہ اہل حدیثوں ہی کو بے غیرت بتائے جارہے ہیں ، سبحان اللہ !
نوٹ:-
ایک مجلس کی تین طلاق سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دونوں طرح کا فتوی ثابت ہے ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا اصل فتوی ایک مجلس کی تین طلاق کے ایک ہی ہونے کا ہے اور تین والا فتوی فرمان فاروقی کی بناپر محض عارضی تھا اس پر تفصیل گذرچکی ہے۔

 ✿ حلالہ حدیث کی روشنی میں :
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت بھیجی ہے
 ● امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235) نے کہا:
 ”حدثنا المعلى بن منصور قال : حدثنا عبد الله بن جعفر , عن عثمان بن محمد الأخنسي , عن المقبري , عن أبي هريرة قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحل والمحلل له“ 
 ”صحابی رسول ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت بھیجی ہے“ [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 4/ 296 وإسناده حسن ومن طريق المعلي أخرجه ابن الجاروفي في ”المنتقي“ (ص: 172) والترمذي في ”علله الكبير“ (ت السامرائي : ص: 161) ونقل عن البخاري أنه قال: هو حديث حسن ۔وأخرجه أيضا أحمد في ”مسنده“ (2/ 323) من طريق أبي عامر كلاهما (المعلى بن منصور و أبوعامر) عن عبد الله بن جعفربه]

 ● امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235) نے کہا:
 ”حدثنا الفضل بن دكين , عن سفيان , عن أبي قيس , عن هزيل , عن عبد الله قال : لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المحل والمحلل له“ 
 ”صحابي رسول عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت بھیجی ہے“ [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 4/ 295 وإسناده صحيح وأخرجه أيضا أحمد في ”مسنده“ (ط الميمنية: 1/ 448) عن الفضل بن دكين۔وأخرجه أيضا الدارمي في ”سننه“ (3/ 1450) والنسائي في ”المجتبي“ (6/ 149) من طريق أبي نعيم ۔وأخرجه أيضا الترمذي في ”سننه“ (ت بشار 2/ 419) من طريق أبي أحمد ۔كلهم (الفضل بن دكين وأبونعيم وأبوأحمد) من طريق سفيان به]

 ✿ حلالہ اقوال صحابہ کی روشنی میں :
 ● عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا فتوی:
ان کا فتوی ماقبل میں گذرچکا ہے کہ انہوں نے حلالہ کرنے کو اللہ کے ساتھ دھوکہ دہی قرار دیا ہے۔

 ● عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا فتوی :
آپ کا فتوی ہے کہ حلالی جوڑے بیس سال تک بھی ایک ساتھ رہیں توبھی زناکار ہوں گے چنانچہ:
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211)نے كہا:
 ”عن سفيان الثوري عن عبد الله بن شريك العامري، قال: سمعت ابن عمر يسأل عمن طلق امرأته ثم ندم، فأراد أن يتزوجها رجل يحللها له؟ فقال له ابن عمر: كلاهما زان، ولو مكثا عشرين سنة“ 
 ”عبد الله بن شريك العامري کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گيا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو(تینوں) طلاق دے دیا ، پهر شرمندہ ہوا اور ارادہ کیا کہ کوئی دوسراشخص اس عورت سے شادی کرکے اس کے لئے حلال کردے تو اس کا کیا حکم ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”دونوں زنا کرنے والے ہوں گے گرچہ بیس سال تک ایک ساتھ باقی رہیں“ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 6/ 266 رقم 10778 وإسناده حسن ، المحلى بالآثار 9/ 424 واللفظ له ، وانظر:عمدة القاري 20/ 236 ]

 ● عمرفارق رضی اللہ عنہ کا فتوی:
آپ کا فتوی ہے کہ حلالی جوڑے نہ صرف زناکار ہیں بلکہ ان پر زنا کی حد بھی نافذ کی جائے گی ۔
 ✿ امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) نے کہا:
 ”حدثنا محمد بن سعيد بن نبات نا أحمد بن عون الله نا قاسم بن أصبغ نا محمد بن عبد السلام الخشني نا محمد بن بشار نا يحيى بن سعيد القطان نا شعبة عن الأعمش عن المسيب بن رافع عن قبيصة بن جابر الأسدي قال: قال عمر بن الخطاب: لا أوتى بمحلل أو محلل له إلا رجمته“ 
 ”قبيصة بن جابر الأسدي کہتے ہیں کہ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس جو بھی حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا گیا وہ لایا گیا تو میں اسے رجم کردوں گا“ [المحلى لابن حزم، ت بيروت: 12/ 195وإسناده صحيح و الأعمش هنا يروي عنه شعبة فعنعنته مقبولة ، وأخرجه أيضا عبدالرزاق في مصنفه رقم 10777من طريق الثوري ومعمر ،وأخرجه أيضا سعيد بن منصور في سننه 2/ 75 وعنه حرب الكرماني في مسائله 1/ 320 من طريق جرير بن عبدالحميد ،وأخرجه أيضا سعيد بن منصور في سننه 2/ 75 وعنه حرب الكرماني في مسائله 1/ 320 وابن أبي شيبه في مصنفه 4/ 294 والبيهقي في سننه 7/ 208 من طريق أبي معاويه ،وأخرجه أيضا الثعلبي في تفسيره 6/ 231 من طريق ابن مسهر ، كلهم (شعبة والثوري ومعمر وجرير وأبومعاوية وابن مسهر ) عن الأعمش به]

افسوس ہے کہ احناف عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اس صحیح اور صریح روایت سے آنکھ بند کرکے ان کی طرف منسوب ایک جھوٹی اور من گھڑت روایت کو بنیاد عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی کا نام لیکر حلالے جوڑی کی شادی کو درست ٹہراتے ہیں اور حلالہ کے کارو بار کو سند عطا کرتے ہیں یہ جھوٹی روایت اس طرح ہے :
امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211) نے کہا:
”عن هشام، عن ابن سيرين قال: أرسلت امرأة إلى رجل فزوجته نفسها ليحلها لزوجها، فأمره عمر: أن يقيم عليها ولا يطلقها، وأوعده بعاقبة إن طلقها“ 
 ”ابن سیرین سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک عورت نے ایک مرد کو بلا کر اس سے اس شرط پر نکاح کیا کہ وہ اسے پہلے شوہر کے لئے حلال کردے ،عمرفاروق رضی اللہ عنہ ( کو معلو م ہوا تو انہوں) نے اس مرد کو حکم دیا کہ وہ اس عورت کواپنے پاس ہی رکھے اور اسے طلاق نہ دے اور وارننگ دی کہ اگر اسے طلاق دے دیا تو اسے سزاملے گی“ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 6/ 267 رقم 10786]
اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ دیکھو عورت نے حلالہ کی شرط پر نکاح کیا تھا لیکن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کے نکاح کو معتبر جانا اور دونوں کو ساتھ ہی رہنے کا حکم دیا ۔
عرض ہے کہ اس روایت کو بیان کرنے والے محمد بن سیرین رحمہ اللہ ہیں اور ان کی پیدائش عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے دو سال قبل ہوئی ہے [التاريخ الأوسط للبخاري ت زائد: 1/ 245]
یعنی انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور پایا ہی نہیں اس لئے ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ واقعہ کسی اور سے سنا ہے جس کا نام انہوں نے نہیں بتایا کہ اور چونکہ اس مجہول شخص کی بیان کردہ بات عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ثابت شدہ بات کے خلاف ہے ، اس لئے یہ بات جھوٹی اورمن گھڑت ہے اور صحیح بات یہ ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ حلالہ کی غرض سے شادی کو نہ صرف زناکاری و بدکاری شمار کرتے تھے بلکہ ایسے بدکاروں کو رجم کرنے کا فیصلہ بھی سنارکھا تھا ۔

الغرض قرآن وحدیث اور اقوال صحابہ سے معلوم ہوا کہ حلالہ کی کوئی بھی جائز شکل نہیں ہے ، بلکہ یہ کام صرف اور صرف حرام و ناجائز بلکہ زنا کاری وبدکاری ہے۔

مفتی عامر عثمانی فاضل دیوبند فرماتے ہیں:
”حلالہ کے سلسلے میں یہ غلط طریقہ رواج پاگیا ہے کہ مطلقہ عورت کا کسی اور مرد سے نکاح کرایا ہی اس مقصد سے جاتا ہے کہ وہ طلاق دے دے اور اس عورت کے لئے شوہر اول سے نکاح جائز ہوجائے یہ رواج خلاف شرع ہے خانہ پری کی حدتک تو اس کا حلالہ ہوجاتا ہے ، مگر عنداللہ نہیں ہوتا ، اس لئے حدیث میں حلالہ کرنے اور کرانے والوں پر لعنت کی گئی ہے“ [ماہنامہ تجلی دیوبند 43 ، شمارہ 11 جلد 19 جنوری وفروری 1968ء]



 ✿ احناف کا قولی حلالہ اور عملی حلالہ
جب بھی مروجہ حلالہ کی مذمت کرو تو احناف بڑی سادگی سے یہ وضاحت شروع کردیتے ہیں کہ ہم بھی ایسے حلالہ کو ناجائز مانتے ہیں ، اور یہ ارشاد فرمانے لگ جاتے ہیں کہ جائز حلالہ یوں ہوگا کہ تین طلاق یافتہ عورت کسی دوسرے شخص سے باہمی رضامندی سے شادی کرلے پھر دوسرا شخص اپنی مرضی سے طلاق دے تو ایسی صورت میں تین طلاق یافتہ عورت اپنے سابق شوہر کے لئے حلال ہوگئی، یہی احناف کے یہاں جائز حلالہ ہے ۔
عرض ہے کہ:
زیادہ بھولا بننے کی ضرورت نہیں ہے ، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ وضاحتی حلالہ صرف بحث و مناظرہ اور بیانات کی حدتک ہے اور عملا احناف کے یہاں جو حلالہ رائج ہے وہ یہ ہے کہ باقاعدہ پلان کے ساتھ تین طلاق یافتہ عورت کی کسی دوسرے شخص کے ساتھ وقتی شادی کرائی جاتی ہے اور طے کیا جاتا ہے کہ دوسرا شخص اس عورت سے جماع اور ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے گا ،اور عملا ایسا ہی ہوتا ہے ۔
اس دوسرے طریقہ کو احناف ناجائز تو کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ شرمناک فتوی بھی دیتے ہیں کہ گرچہ اس طرح کا حلالہ ناجائز ہے لیکن اس حلالہ کے بعد بھی تین طلاق یافتہ عورت سابق شوہر کے لئے حلال ہوجاتی ہے ۔
فقہ حنفی کی معروف کتاب الھدایہ میں لکھا ہے :
”وإذا تزوجها بشرط التحليل فالنكاح مكروه لقوله عليه الصلاة والسلام لعن الله المحلل والمحلل له وهذا هو محمله فإن طلقها بعد ما وطئها حلت للأول لوجود الدخول في نكاح صحيح إذ النكاح لا يبطل بالشرط“ 
”اور حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرے تو یہ نکاح مکروہ ہوگا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے سبب کہ حلالہ کرنے اور کروانے والے پر اللہ کی لعنت ہو ، اور یہ حدیث ایسے نکاح پر صادق آتی ہے ، پھر اگر اس کے بعد حلالی شوہر اس عورت کے ساتھ ہمبستری کرکے اسے طلاق دے دے تو وہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی کیونکہ اس کے ساتھ صحیح نکاح کے ذریعہ ہمبستری کی گئی ہے کیونکہ باطل شرط سے نکاح باطل نہیں ہوتا“ [الهداية في شرح بداية المبتدي 2/ 258]

ماسٹر امین اوکاڑوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:
”تین طلاق کے بعد عورت کا کسی سے اس شرط پر نکاح کردینا کہ وہ صحبت کے بعد طلاق دے دے گا یہ شرط باطل ہے اور حدیث میں ایسا حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت فرمائی گئی ہے ، تاہم ملعون ہونے کے باوجود اگر دوسرا شوہر صحبت کے بعد طلاق دے دے تو عدت کے بعد عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہوجائے گی“ [تجلیات صفدر 4/ 627، 628]
احناف کا یہی وہ گھناؤنا فتوی ہے جو خود احناف کے یہاں ناجائز قراردئے گئے حلالہ کی راہ ہموار کرتا ہے اور اس حلالہ کا سارا کارو بار اسی دوسرے فتوی کے تحت چلتا ہے ۔
احناف کے اس فتوی کی بنیاد یہ قیاس آرائی ہے کہ غلط شرط سے نکاح باطل نہیں ہوگا ، لیکن یہ قیاس آرائی حلالہ کے بارے میں نہیں چل سکتی کیونکہ حلالہ کے بارے میں خصوصی نص موجود ہے ، کہ یہ لعنتی عمل ہے ، لہٰذا اس خاص نص کی موجودگی قیاس باطل ہے ۔
غور کریں کہ نکاح متعہ میں بھی تو یہی ہوتا ہے کہ باطل شرط لگاکر نکاح متعہ کیا جاتا ہے ، تو کیا احناف نکاح متعہ کے بارے میں بھی کہیں گے کہ نکاح متعہ صحیح ہے اور غلط شرط سے نکاح باطل نہیں ہوتا ؟ 
الغرض جس طرح احناف کا یہ فتوی ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینا بدعت و ناجائز ہے لیکن اگر کسی نے ایسی تین طلاق دے ڈالی تو یہ تینوں طلاق ہوجائے گی ، ٹھیک اسی طرح احناف کا یہ فتوی بھی ہے کہ حلالہ کے لئے وقتی نکاح گرچہ ناجائز وحرام ہے لیکن اس ناجائز نکاح سے بھی عورت اپنے پرانے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی ۔
بلکہ احناف نے تو یہاں تک کہا ہے کہ اگردل میں حلالہ ہی کی نیت ہو لیکن زبان سےاس کا اظہار نہ کرے تو ایسی صورت میں حلالہ کا یہ لعنتی فعل بھی جائز ہوجائے گا بلکہ اس پرثواب بھی ملے گا معاذ اللہ !
كمال الدين ابن الهمام (المتوفى 861) لکھتے ہیں:
”أما لو نوياه ولم يقولاه فلا عبرة به ويكون الرجل مأجورا لقصده الإصلاح“ 
”لیکن اگردونوں حلالی جوڑے دل میں حلالہ ہی کی نیت رکھیں اور زبان سے اس کا اظہار نہ کریں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، اور ایسی صورت میں حلالی شوہر کو اجر ملے گا کیونکہ اس کا ارادہ اصلاح کا ہے“ [فتح القدير للكمال ابن الهمام 4/ 181]
مولوی نیاز محمد حنفی  نے بھی لکھا ہے کہ:
 ”حلالہ کی شرط . . . دل میں اگر ہو تو کوئی حرج نہیں بلکہ اصلاح ذات البین کی نیت ہو تو ثواب ملے گا“ (النجاۃ الکاملۃ ص 178 بحوالہ ایک مجلس کی تین طلاق ص 90 از مولانا حکیم اسرائیل سلفی)
یہ دل میں نیت والی بات سے بھی حلالہ نہ تو جائز ہوگا نہ ہی حلالی جوڑا حلالہ کی لعنت کی زد سے باہر ہوگا ، کیونکہ حلالہ کی حرمت والی حدیث دونوں صورتوں پر صادق آتی ہے ۔
افسوس ہے کہ احناف نے ایسی بات کہہ ڈالی جسے کہنے کے جرأت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو بھی نہ تھی چنانچہ امام ابوحنیفہ کے شاگرد قاضی قاسم بن معن رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
 ”فإن القاسم بن معن قاضي الكوفة قال : قال أبو حنيفة : لولا أن يقول الناس لقلت أنه مأجور يعني المحلل“ 
 ”کیونکہ قاسم بن معن قاضی کوفہ نے کہا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: اگر لوگوں کی طرف سے سخت کلامی کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں یہ کہہ دیتا کہ حلالہ کرنےوالے کو ثواب ملے گا“ [مجموع الفتاوى، ت حسنين: 6/ 8]
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نےیہ بھی  واضح کیا ہے کہ قاضی قاسم بن معن رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ کی یہ بات ان کی تائید کے لئے نقل نہیں کی ہے بلکہ یہ بتانے کے لئے نقل کی ہے لوگ اس طرح کی بات کہنے والوں پر کتنے غضبناک ہوتے تھے ۔

غور کریں حنفی حضرات ایسے عمل کو باعث اجر وثواب بتارہے ہیں جس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ، احناف کو بھی پتہ تھا کہ یہ لعنت والی حدیث کے ہوتے ہوئے ان کی بات نہیں بننے والی اس لئے ان لوگوں نے اس حدیث میں لعنت کا معنی یہ بتایا کہ :
”لعل المراد باللعنة الرحمة“ یعنی حلالہ کرنے اور کروانے والے پر جو لعنت کی گئی ہے اس سے مراد رحمت ہے [مستخلص الحقائق شرح كنز الدقائق ص126 دوسرا نسخہ 199]


 ✿ اگرحلالی شوہر طلاق نہ دے تو حلالی بیوی کیسے چھٹکارا حاصل کرے ؟؟
یہ بات مسلم ہے کہ احناف کے یہاں تین طلاق یافتہ عورت کا حلالہ کرایا جاتا ہے ، یعنی کسی دوسرے شخص سے وقتی طورپر نکاح کراکر ایسا جماع کروایا جاتا ہے جس میں دونوں ایک دوسرے سے خوب مزہ حاصل كرتے ہیں ، پھر دونوں کا پیٹ بھرجانے کے بعد حلالی شوہر سے طلاق طلب کرکے عورت کو سابق شوہر کے پاس لوٹا دیا جاتا ہے ۔
لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کوئی حلالی ایک رات میں آسودہ نہ ہو اور ”ھل من مزید“ کے لئے مدت جماع میں مزید تو سیع کا تقاضا کرکے ، یا نئے ٹیسٹ پر اس قدر فریفتہ ہو جائے کہ دست بردارہونے کے لئے ہی تیار نہ ہو اورطلاق دینے سے صاف انکار کردے ، تو ایسی نازک صورت حال میں احناف نے بہت سارے فتاوئے دئے ہیں اور بہت سارے حیلے بتلائے ہیں ،جن پر عمل پیرا ہوکر ایسے حلالی شوہر سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، ذیل میں ہم صرف دو اہم فتوے ذکرتے ہیں:
.
 ⟐ پہلا فتوی : قاضی کا اجبار
پہلا فتو ی یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں معاملہ قاضی کے پاس لے جایا جائے گا اور پھر قاضی جبرا حلالی شوہر سے طلاق دلوادے گا ، چنانچہ فقہ حنفی کی کتاب ”فتح القدير“ میں ہے :
 ”وذهب بعضهم إلى أنه يصح الشرط أيضا، حتى لو امتنع المحلل من الطلاق يجبر عليه“ 
 ”بعض فقہائے احناف کا فتوی یہ ہے کہ حلالہ میں طلاق کی شرط لگانا بھی صحیح ہے ، حتی کہ اگر حلالی شوہر طلاق دینے سے انکار کردے تو زبردستی اس سے طلاق دلوائی جائے گی“ [فتح القدير للكمال ابن الهمام 4/ 183]
نوٹ: یہ فتوی امام ابوحنیفہ کی طرف بھی منسوب ہے دیکھئے حوالہ مذکور۔
لیکن اگر کوئی حلالی بہت پہنچا ہوا ہو اور اس کے سامنے قاضی بھی بے بس ہو تو احناف کے یہاں اس کا ایک دوسرا حل بلکہ حیلہ ہے ملاحظہ ہو:
.
 ⟐ دوسرا فتوی: بیوی مرتد ہوجائے
حلالی شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کا دوسرا حنفی حل بلکہ حیلہ یہ ہے کہ ایسی بیوی دین اسلام سے مرتد ہوجائے ، چنانچہ مرتد ہوتے ہی اس کا نکاح خود بخود ٹوٹ جائے گا ، اور یہ حلالی شوہر کے نکاح سے آزاد ہوجائے گی ، پھر یہ دوبارہ اسلام قبول کرکے اپنے پہلے شوہر سے شادی کرلے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ حیلہ بازوں کی مذمت کے ضمن ميں نقل فرماتے ہیں:
 ”وقد ذكر عن بعض أهل الرأي : أن امرأة أرادت أن تختلع من زوجها ، فأبي ، فقيل لها: لو ارتددت بنت منه ، ففعلت . فذكر ذلك لعبدالله بن المبارك ، وقيل له ، إن هذا في ”كتاب الحيل“ ، فقال: من وضع هذالكتاب فهو كافر“ 
 ”بعض اہل رائے  سے منقول ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر سے چھٹکارا چاہا تو اس نے انکار دیا ، تو اس کو فتوی دیا گیا کہ اگرتم مرتد ہوجاؤ تو اس سے خود الگ ہوجاؤگی ، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا ، یہ بات عبداللہ بن مبارک کے سامنے ذکر کی گئی اوران سے کہا گیا کہ ایسا فتوی ”کتاب الحیل“ میں مذکورہے تو عبداللہ بن المبارک نے فرمایا: جس نے یہ کتاب لکھی ہے وہ کافر ہے“ [شفاء العليل في اختصار ابطال التحليل : ص69]

الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ یہ بات خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے تاریخ بغداد میں نقل کی ہے چنانچہ :
خطيب بغدادي رحمه الله (المتوفى463)نے کہا:
 ”أخبرنا إبراهيم بن عمر البرمكي، قال: أخبرنا محمد بن عبد الله بن خلف الدقاق، قال: حدثنا عمر بن محمد الجوهري، قال: حدثنا أبو بكر الأثرم، قال: حدثني زكريا بن سهل المروزي، قال: سمعت الطالقاني أبا إسحاق يقول سمعت ابن المبارك يقول من كان كتاب الحيل في بيته يفتي به أو يعمل بما فيه فهو كافر بانت امرأته وبطل حجه قال فقيل له إن في هذا الكتاب إذا أرادت المرأة أن تختلع من زوجها ارتدت عن الإسلام حتى تبين ثم تراجع الإسلام فقال عبد الله من وضع هذا فهو كافر بانت منه امرأته وبطل حجه فقال له خاقان المؤذن ما وضعه إلا إبليس قال الذي وضعه عندي أبلس من إبليس“ 
”ابن المبارک کہتے ہیں کہ جس کے گھر میں کتاب الحیل ہو اور وہ اس کے مطابق فتوی دیتا ہوں وہ کافر ہے ، اس بیوی کا نکاح ٹوٹ گیا اور اس کاحج بھی باطل ہوگیا ، تو ابن المبارک سے کہا گیا : اس کتاب میں لکھا ہے کہ : اگر عورت اپنے شوہر سے الگ ہونا چاہے تو وہ اسلام سے مرتد ہوکر بائن ہوجائے ، پھر واپس اسلام قبول کرلے ، تو عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ نے کہا: جس نے یہ کتاب لکھی ہے وہ کافر ہے اس کی بیوی بائن ہوگئی اور اس کا حج باطل ہوگیا ، تو ان سے خاقان مؤذن نے کہا: اسے تو شیطان نے لکھا ہوگا، تو ابن المبارک رحمہ اللہ نے کہا: جس نے اس کتاب کو لکھا ہے وہ میرے نزدیک ابلیس سے بھی بڑا شیطان ہے“[تاريخ مدينة السلام للخطيب البغدادي: 15/ 556، وإسناده صحيح ، رواية الجوهري من الأثرم من كتاب ، وكتاب الأثرم من موارد الخطيب]
واضح رہے کہ اس بات میں اختلاف ہے کہ کتاب الحیل کس کی کتاب ہے ، لیکن یہ بات متفق علیہ ہے کہ یہ احناف ہی کی کتاب ہے۔
.
❀ اس طرح کے حوالوں پر احناف یہ کہتے ہیں کہ یہ فقہ حنفی کا ”مفتی بہ“ قول نہیں ہے،لیکن آپ ان سے یہ پوچھیں کہ:
● کیا زبردستی دی گئی طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ تو کہیں گے واقع ہوجائے گی ۔اب اگر یہ فتوی موجود ہے تو پھر حلالی شوہر سے جبرا طلاق دلوانے کو گرچہ احناف ناجائز بولیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ یہی کہیں گے کہ ایسی طلاق واقع ہوجائے گی یعنی گھوم پھر کربات وہی ہوجاتی ہے کہ حلالی شوہر سے جبرا طلاق دلوا کر اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی راہ ہے ۔
● اسی طرح ارتداد کے حیلےکوبھی وہ ناجائز بولیں تو پوچھا جائے کہ یہ ناجائز کام کرنے کے بعد کیا عورت حلالی شوہر کے نکاح سے باہر ہوجائے گی یا نہیں ؟ اگر جواب ہاں ہے تو پھر اب نئے سرے سے مسلمان ہونے کے بعد پہلے شوہر سے شادی کرسکتی ہے یا نہیں ؟ اگر جواب ہاں ہے تو غور کریں بات تو وہی ہے کہ حلالی شوہر سے نجات حاصل کرنے کے لئے یہ نسخہ بھی کار آمد ہے ۔
 ⋆ دراصل احناف کے یہاں بعض فتاوے جو ”مفتی بہا“ نہیں ہوتے ہیں ، ان پر عمل کرنے سے بھی کام بن جاتا ہے ، اس طرح ان کے یہاں بعض فتاوے ”غیر مفتی بہا“ ہونے کے باجود بھی ”معمول بہا“ بن سکتے ہیں ۔

 ✿ کیا حلالہ سے متعلق احناف کا فتوی صرف عام حنفی کے لئے ہے؟
حنفی عوام کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ تین طلاق کے مسئلہ میں احناف مسلک پرستی میں انہیں نہ صرف بے وقوف بنارہے ہیں بلکہ حلالہ کے نام پر ان کی ماؤں اور بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں ، جب کوئی عام حنفی شخص اپنی بیوی کو ایک ہی بار میں تین طلاق دے بیٹھتا ہے تو حنفی مسلک کے مفتیان اسے یہ فتوی دیتے ہیں کہ تمہاری بیوی تم پرحرام ہوچکی ہے اوردوبارہ اپنی بیوی کو واپس پانا چاہتے تو اپنی بیوی کا حلالہ کراؤ یعنی ایک دو رات کے لئے کسی دوسرے شخص سے اس کی شادی کرادو اور یہ دوسرا شخص شادی کے بعد اس کے ساتھ رات گذارے ، اس کے ساتھ جماع وہمبستری کرے اس کے بعد اسے طلاق دے دے ۔تو اب تم اپنی بیوی کو دوبارہ اپنا سکتے ہو۔
لیکن یادرہے کہ جب کسی مذہبی اور بڑے حنفی گھرانے میں تین طلاق کا واقعہ پیش آتا ہے ، تو یہ اہل حدیث سے فتوی لے کر اس گھرانے کی عورتوں کی عزت داغدار ہونے سے بچالیتےہیں ، اس سلسلے میں خود شاہی امام مولانا سید احمد بخاری کی شہادت ملاحظہ فرمائیں وہ کہتے ہیں :
 ”مذہبی گھرانوں میں اگر کوئی شخص ایک نشست میں تین طلاق دیتا ہے تو وہ لوگ اہلحدیث سے فتویٰ لے لیتے ہیں ، لیکن اگر عام مسلمانوں میں سے کوئی تین طلاق دے دیتا ہے تو کہتے ہیں کہ طلاق مغلظہ واقع ہو گئی۔ شاہی امام نے سوال کیا کہ آخر یہ منافقت کیوں؟“ (شاہی امام مولانا سید احمد بخاری)
لنک 
https://m.dailyhunt.in/news/india/urdu/aaj+ka+inqalab-epaper-ainqalab/-newsid-72203846

سوال یہ ہے کہ کیا عام حنفی عورت کی عزت، عزت نہیں ہے ؟ اور کیا حنفی مسلک صرف عامی اور غریب حنفی کے لئے ہے ؟
اگر حنفی مفتیان بعض بڑے اور پہنچے ہوئے حنفی گھرانوں کی عزت بچانے کے لئے اہل حدیث کے فتوی پر عمل کر والیتے ہیں تو پھر تمام مسلم خواتین کی آبرو اور اسلام کے تحفظ کے لئے اہل حدیث کے مسلک کو تسلیم کرنے میں کیا قباحت ہے ؟
احناف کو چاہئے کہ جس طرح بعض حنفی گھرانوں کی عزت بچانے کے لئے وہ تین طلاق کے مسئلہ میں اہل حدیث کے مسلک کو تسلیم کرلیتے ہیں ، ایسے ہی اسلام کی عزت اور ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے وہ اہل حدیث کے مسلک کو تسلیم کرلیں جو خالص کتاب وسنت اور عہد صدیقی کے تمام مسلمانوں کے متفقہ و اجماعی فہم پر مبنی ہے ۔

حلالہ کی حقیقت سے متعلق انتہائی اختصار کے ساتھ یہ چند باتیں عرض کی گئی ہیں مزید تفصیل کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ہوگا۔
 ”بيان الدليل على بطلان التحليل“ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 
 ”شفاء العليل في إختصار إبطال التحليل“ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 
 ”حلالہ کی چھری“ ، تالیف : ابوشرحبیل

1 comment:

  1. اہلخبیث کے نزدیک زنا جائز ہے

    ReplyDelete