عقیقہ میں بڑے جانور سے متعلق ایک روایت کا جائزہ - Kifayatullah Sanabili website

2020-12-04

عقیقہ میں بڑے جانور سے متعلق ایک روایت کا جائزہ

عقیقہ میں بڑے جانور سے متعلق ایک روایت کا جائزہ
امام طبراني رحمه الله (المتوفى:321)نے کہا:
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْوَانَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْرُوفٍ الْخَيَّاطُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَلْيَعِقَّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ أَوِ الْبَقَرِ أَوِ الْغَنَمِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حُرَيْثٍ إِلَّا مَسْعَدَةُ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْرُوفٍ[المعجم الصغير للطبراني: 1/ 150]۔
صحابی رسول انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے یہاں بچہ کی پیدائش ہو اسے چاہئے کہ بچے کی طرف سے اونٹ یا گائے یا بکری ذبح کرکے بچہ کا عقیقہ کرے۔
پہلی علت:
حسن بصری رحمہ اللہ نے عن سے روایت کیا ہے اور یہ معروف و مشہور مدلس ہیں۔

دوسری علت:
’’حريث بن السائب التميمى‘‘ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى:277)نے کہا:
ضعيف الحديث، جابر الجعفي أحب إلينا منه[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 3/ 264]۔

امام زكريا بن يحيى الساجى رحمه الله (المتوفى:307) نے اسے ضعیف کہا ہے :
امام ساجی کے شاگردامام ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:قد أدخله الساجي فِي كتاب ضعفائه الذي خرجه[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 2/ 477]۔

امام عقيلي رحمه الله (المتوفى:322)نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے اوراس کی ایک روایت کے بارے میں کہا:
وَالرِّوَايَةُ فِيهِ أَيْضًا لَيِّنَةٌ[الضعفاء الكبير للعقيلي: 1/ 287]۔

امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى:365) نے کہا:
ليس لحريث بْن السائب إلا اليسير من الْحَدِيث وقد أدخله الساجي فِي كتاب ضعفائه الذي خرجه[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 2/ 477]۔
یعنی امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اپنے استاذ امام ساجی رحمہ اللہ کی تضعیف کو برضاء ورغبت نقل کیا ہے۔

امام دارقطني رحمه الله (المتوفى:385)نے کہا:
كذا رواه حريث بن السائب ، عن الحسن ، عن حمران ، عن عثمان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ووهم فيه[علل الدارقطني: 3/ 29]۔

امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507)نے کہا:
حريث هذا ضعيف[ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 4/ 2332]۔

امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى:597)نے کہا:
حريث بن السائب المؤذن بصري ضعفه الساجي وقال احمد بن حنبل روى عن الحسن حديثا منکر[الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي 1/ 196]۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
حريث بن السائب البصري عن التابعین ضعفه زکریا الساجي[دیوان الضعفاء ، رقم : ٨٦٨]۔

تحریر التقریب کے مؤلفین کہتے ہیں:
ضعیف یعتبربہ [تحریر التقریب رقم : ١١٨٠]۔

مذکورہ محدثین کے علاوہ کچھ اور محدثین سے بھی راوی مذکور پر جرح منقول ہے مگر اس کا ثبوت محل نظر ہے۔
امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى:275)سے منقول ہے:
حريث بن السائب ، فقال ليس بشيء [سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود: ص: 364]۔
لیکن ابوعبید آجری خود مجہول ہے

أبوالعرب، محمد بن أحمد بن تميم، القيرواني،(المتوفى:333)نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے[إكمال تهذيب الكمال لمغطائی: ج٤ص ٤١]۔
مگر مغلطائی بذات خود مجروح ہیں ۔

ان اقوال کا ثبوت محل نظر ہے مگر اوپر جو اقوال پیش کئے گئے وہ سب ثابت شدہ ہیں۔

معلوم ہوا کہ ’’حريث بن السائب التميمى‘‘ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ، اس کے برخلاف جن لوگوں سے ان کی توثیق نقل کی جاتی ہے وہ اول تو تعداد میں کم ہیں دوم ان میں سے اکثر سے حقیقی توثیق ثابت ہی نہیں ہے بلکہ انہوں نے صرف دیانت داری بیان کی ہے تفصیل ملاحظہ ہو:

امام فسوي رحمه الله (المتوفى:277)نے کہا:
حريث شيخ ثبت لا بأس به[المعرفة والتاريخ للفسوي: 2/ 116]۔
امام فسوی رحمہ اللہ کی یہ توثیق جمہورکے خلاف ہے لہٰذا مردود ہے ۔

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى:327)نے کہا:
ثقة [تاريخ ابن معين - رواية الدوري: 4/ 133]۔
ابن معین رحمہ اللہ غیر اصطلاحی توثیق کرنے میں معروف ہیں اور انہوں نے یہاں بھی اصطلاحی معنی میں توثیق نہیں کی ہے ۔
اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اسحاق بھی منصورنے ابن معین رحمہ اللہ ’’حريث بن السائب‘‘ کے بارے میں ’’صالح‘‘ کا لفظ نقل کیا ہے۔
امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى:327)کہتے ہیں:
ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى ابن معين أنه قال: حريث بن السائب صالح.[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 264]۔

اور’’صالح‘‘ کے ذریعہ توثیق نہیں بلکہ محض دینداری بتلانی مقصود ہوتی ہے ۔
یادرہے کہ ''صالح ''يہ تعديل کاسب سے آخري مرتبہ هے، (تدريب الراوي:1871)،اور اس آخري مرتبہ پر بهی یہ لفظ اس وقت دلالت کرتاہے جب یہ ''الحديث'' کی طرف مضاف ہو يعنی ''صالح الحديث'' مستعمل ہو، اوراگر یہ بغيراضافت کے صرف ''صالح'' مستعمل ہوجيساکہ یہاں ہے تواس سے ''صالح في الدين'' مراد ہوتاہے نہ کہ''صالح في الحديث والرواية'' ۔

حافظ ابن حجرفرماتے ہيں:
''وقول الخليلي:نه شيخ صالح أراد به في دينه لا في حديثه لأن من عادتهم ذا أرادواوصف الراوي بالصلاحية في الحديث قيدوا ذلک، فقالوا: صالح الحديث، فذا أطلقوا الصلاح، فنمايريدون به في الديانة [النکت علي کتاب ابن الصلاح:832]۔
دکتور ماہر الفحل کہتے ہيں:
''قولهم في الراوي:''صالح'' بلا ضافة تختلف عن قولهم:''صالح الحديث''، فالأولي تفيد صلاحه في دينه، والثانية صلاحه في حديثه''[بحوث في المصطلح: ص354 ]۔

معلوم ہوا کہ ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق غیر اصطلاحی ہے ، اور ابن معین رحمہ اللہ کا یہ اسلوب بہت ہی معروف ہے ۔
اسی چیز کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقد اختلف كلام ابن معين في جماعة ، يوثق أحدهم تارة ويضعفه أخرى ، منهم إسماعيل بن زكريا الخُلقاني ، وأشعث بن سوار ، والجراح بن مليح الرواسي ، وزيد بن أبي العالية ، والحسن بن يحيى الخُشَني ، والزبير بن سعيد ، وزهير بن محمد التميمي ، وزيد بن حبان الرقي ، وسلم العلوي ، وعافية القاضي ، وعبد الله الحسين أبو حريز ، وعبد الله بن عقيل أبو عقيل ، وعبد الله بن عمر بن حفص العمري ، وعبد الله بن واقد أبو قتادة الحراني ، وعبد الواحد بن غياث ، وعبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب ، وعتبة بن أبي حكيم ، وغيرهم . وجاء عنه توثيق جماعة ضعفهم الأكثر ون منهم تمام بن نجيح ، ودراج ابن سمعان ، والربيع بن حبيب الملاح وعباد بن كثير الرملي ، ومسلم بن خالد الزنجي ، ومسلمة بن علقمة ، وموسى بن يعقوب الزمعي ، ومؤمل بن إسماعيل ، ويحيى بن عبد الحميد الحماني .وهذا يشعر بأن ابن معين كان ربما يطلق كلمة .. ثقة لا يريد بها أكثر من أن الراوي لا يتعمد الكذب .[التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 164]۔

الغرض یہ کہ ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق سے اصطلاحی توثیق مراد نہیں ہے ۔

امام ابن شاهين رحمه الله (المتوفى:385)نے کہا:
حريث بن السائب البصري يروى عنه عبد الرحمن بن مهدي ووكيع وهو ثقة قاله يحيى [تاريخ أسماء الثقات ص: 74]۔
یہاں ابن شاہین رحمہ اللہ نے صرف ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق نقل کی ہے اوریہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ ابن معین رحمہ اللہ نے راوی مذکور کی اصطلاحی توثیق نہیں کی ہے۔

أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى:277)نے کہا:
ما به بأس[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 265]۔

امام ابوحاتم اس کے ذریعہ بھی صرف تعدیل ہی کررہے نہیں نہ کی توثیق کیونکہ خود انہوں نے اسے واضح طورپر ضعیف کہہ رکھا ہے ۔
امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى:327) نے کہا:
سألت أبي عن حريث بن السائب فقال: ضعيف الحديث، جابر الجعفي أحب إلينا منه[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 264]۔
غورکریں کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ان پر سخت جرح کی ہے یہاں تک جابر الجعفی جیسے متروک روای کو اس سے بہتر بتلایا ہےیہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ’’ما به بأس‘‘ کے ذریعہ توثیق نہیں کی ہے بلکہ صرف عدالت کی طرف اشارہ کیا ہے اورراوی کے ثقہ ہونے کے لئے عادل ہونے کے ساتھ ساتھ ضابط ہونا بھی ضروری ہے۔

امام عجلى رحمه الله (المتوفى:261)نے کہا:
لا بأس به [تاريخ الثقات للعجلي: 1/ 290]۔
’’ لا بأس به ‘‘ یہ توثیق کا صیغہ صرف انہیں محدثین کے کلام میں ہوگا جن کے بارے میں معلوم ہوجائے وہ اس کے ذریعہ توثیق کرتے ہیں ، ورنہ عام حالات میں یہ صرف تعدیل ہی کے معنی میں ہوگا جیساکہ علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ اللمحات میں بڑی تفصیل سے واضح کیا ہے،دیکھئے المحالت :ج 2 ص341 تا 347۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
ثقة قال أبو حاتم ما به بأس[الكاشف للذهبي: 1/ 318]۔
لیکن امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی ضعفاء والی کتاب المغني في الضعفاء میں نقل کیا ہے ملاحظہ ہو:
حريث بن السائب البصري عن الحسن ثقة ضعفه زكريا الساجي ووثقه ابن معين وأبو حاتم[المغني في الضعفاء للذهبي ص: 72]۔
اسی طرح ضعفاء والی دوسری کتاب دیوان الضعفاء میں بھی نقل کیا ہے اورکہا:
حريث بن السائب البصري عن التابعین ضعفه زکریا الساجي[دیوان الضعفاء ، رقم : ٨٦٨]۔
یعنی صرف امام ساجی کی تضعیف نقل کی ہے اور کوئی دفاع نہیں کیا ہے، لہٰذا یا تو تطبیق دی جائے یا امام ذہی ہی کے اصول کے مطابق ان کے دنوں اقوال کو ساقط الاعتبار قراردیاجائے چنانچہ امام ذہبی یہ اصول پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
عبدالرحمن بن ثاب بن الصامت. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال ابن حبان: فحش خلافه للاثبات فاستحق الترك.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وذكره أيضا ابن حبان في الثقات فتساقط قولاه.[ميزان الاعتدال للذهبي: 2/ 552]۔

الغرض یہ کہ مذکورہ راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

تیسری علت:
’’ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ“ کذاب اوروضاع راوی ہے۔

امام احمد رحمه الله (المتوفى:241)نے کہا:
مسْعدَة بن اليسع لَيْسَ بِشَيْء خرقنا حَدِيثه أَو تركنَا حَدِيثه مُنْذُ دهر[العلل ومعرفة الرجال لأحمد رواية ابنه عبد الله 3/ 267]۔

امام مسلم رحمه الله (المتوفى:261)نے کہا:
أبو اليسع مسعدة بن اليسع ضعيف الحديث[الكنى والأسماء للإمام مسلم: 2/ 931]۔

أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى:277)نے کہا:
ذاهب منكر الحديث لا يشتغل به يكذب على جعفر بن محمد[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 370]۔

امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى:354)نے کہا:
كان ممن يروي عن الثقات الأشياء المقلوبات حتى إذا سمعها المبتدىء في الصناعة علم أنه لا أصول لها[المجروحين لابن حبان: 3/ 35]۔

امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى:365)نے کہا:
مسعدة هذا ضعيف الحديث كل ما يرويه من المراسيل ومن المسند وغيره.[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 8/ 128]۔

امام دارقطني رحمه الله (المتوفى:385)نے کہا:
وهو ضعيف[سنن الدارقطني: 4/ 99]۔

امام بيهقي رحمه الله (المتوفى:458)نے کہا:
مسعدة بن اليسع ضعيف بمرة [شعب الإيمان للبیھقی: 5/ 105]۔

امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507):
مسعدة متروك الحديث[ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 2/ 829]۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
هالك كذبه أبو داود[المغني في الضعفاء للذهبي ص: 57]

امام هيثمي رحمه الله (المتوفى:807)نے کہا:
وفيه مسعدة بن اليسع وهو كذاب[مجمع الزوائد للهيثمي: 4/ 70]۔

امام بوصيري رحمه الله (المتوفى:840)نے کہا:
مسعدة بن اليسع، وَهُوَ ضَعِيفٌ[إتحاف الخيرة المهرة للبوصيري: 5/ 493]۔

امام سبط ابن العجمي الحلبي رحمه الله (المتوفى:841)نے کہا:
مسعدة متروك[الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث للحلبي ص: 109]۔

امام ابن العراق الكناني رحمه الله (المتوفى:963):
مسعدة بن اليسع الباهلى سمع من متأخرى التابعين هالك كذبه أبو داود[تنزيه الشريعة المرفوعة لابن العراق: 1/ 117]۔

چوتھی علت:
’’عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْرُوفٍ الْخَيَّاطُ الْوَاسِطِيُّ‘‘ مجہول ہے، کسی کتاب میں اس کی توثیق نہیں ملتی۔

پانچویں علت:
امام طبرانی کے استاذ ’’إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْوَانَ الْوَاسِطِيُّ‘‘ ضعیف ہیں کیس بھی محدث نے ان کے توثیق نہیں کی ہے اس کے برعکس :

امام دارقطني رحمه الله (المتوفى:385)نے کہا:
إبراهيم بن أحمد بن مروان ليس بالقوي [سؤالات الحاكم للدارقطني: ص: 101]۔

إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني کے مصنف کہتے ہیں:
قلت: (ليس بالقوي)[إرشاد القاصي والداني إلى تراجم شيوخ الطبراني ص: 52]۔


اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت مسلسل بالعلل اور موضوع اور من گھڑت ہے ۔

امام ہیثمی رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے بارے میں کہتے ہیں:
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"من ولد له غلام فليعق عنه من الإبل أو البقر أو الغنم".رواه الطبراني في الصغير وفيه مسعدة بن اليسع وهو كذاب
[مجمع الزوائد للهيثمي: 4/ 70]۔

صاحب تحفۃ الاحوذی مذکورہ روایت کے بارے میں کہتے ہیں:
وَأَمَّا حَدِيثُ أَنَسٍ يَعُقُّ عَنْهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ فَلَيْسَ مِمَّا يُحْتَجُّ بِهِ فَإِنَّ فِي سَنَدِهِ مَسْعَدَةَ بْنَ الْيَسَعِ الْبَاهِلِيَّ ،قَالَ الْحَافِظُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ الْبَاهِلِيُّ سَمِعَ مِنْ مُتَأَخِّرِي التَّابِعِينَ هَالِكٌ كَذَّبَهُ أَبُو دَاوُدَ[تحفة الأحوذي (5/ 87)]۔

علامہ البانی رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں :
موضوع[إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل 4/ 393]۔


الغرض یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے لہٰذا اس سے استدلال جائز نہیں ۔

No comments:

Post a Comment