عقیقہ میں‌ بڑے جانور سے متعلق بعض آثار کا جائزہ۔ - Kifayatullah Sanabili website

2020-12-03

عقیقہ میں‌ بڑے جانور سے متعلق بعض آثار کا جائزہ۔

انس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ضعیف اثر


علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا:
فروينا عن أنس بن مالك أنه كان يعق عن ولده الجزور[تحفة المودود ص: 83]۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے یہ بات ابن المنذر رحمہ اللہ سے نقل کی ہے اور ابن المنذر رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الاشراف ج ٣ ص ٤١٦ پر بغیرکسی سند کے ذکرکیا ہے۔
البتہ امام طبرانی رحمہ اللہ نے اسے سند کے ساتھ ذکر کیا ہے ، ملاحظہ ہو:
امام طبراني رحمه الله (المتوفى:321) نے کہا:
حدثنا أبو مسلم، ثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا هشام، ثنا قتادة، «أن أنس بن مالك كان يعق عن بنيه الجزور»[المعجم الكبير للطبراني: 1/ 244]۔

یہ روایت ضعیف ہے قتادہ رحمہ اللہ معروف و مشہور مدلس ہیں ۔
امام علائي رحمه الله (المتوفى:761)نے کہا:
قتادة بن دعامة السدوسي أحد المشهورين بالتدليس[جامع التحصيل للعلائي: ص: 254]۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں مدلسین کے تیسرے طبقہ میں رکھتے ہوئے کہاہے:
وهو مشهور بالتدليس وصفه به النسائي وغيره[طبقات المدلسين لابن حجر: ص: 43]۔

اورقتادہ نے یہاں یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ مذکورہ بات انہوں نے انس بن مالک سے سنی ہے یا یہ ان کا اپنا مشاہدہ ہے ، لہٰذا یہاں سماع یا مشاہدہ کی صراحت نہیں ہے ، لہٰذا روایت ضعیف ہے۔

انس رضی اللہ عنہ سے یہی اثر ایک دوسرے طریق سے بھی مروی ہے ، علامہ ابن قیم رحمہ اللہ ابن المنذر سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ثم ساق عن الحسن قال كان أنس بن مالك يعق عن ولده الجزور[تحفة المودود ص: 83]۔

عرض ہے کہ یہ بات بھی ابن قیم نے امام ابن المنذر کی کتاب الاشراف سے نقل کی ہے اور ابن المنذر نے اس کی بھی کوئی سند بیان نہیں کی ہے ۔
البتہ امام ابن ابی شیبہ ، امام ابن عدی اور امام ابن ابی الدنیا رحمہم اللہ نے اسے سند کے ساتھ بیان کیا ہے ملاحظہ ہو۔
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى: 235)نے کہا:
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، عن حريث بن السائب، عن الحسن، أن أنس بن مالك: «كان يعق عن ولده بالجزور»[مصنف ابن أبي شيبة: 5/ 116]۔
امام ابن أبي الدنيا رحمه الله (المتوفى:281):
حدثني الحسين بن محمد حدثنا مسلم بن إبراهيم عن حريث بن السائب عن الحسن أن أنسا كان يعق عن ولده الجزر[العيال لابن ابي الدنيا: 1/ 206]۔
امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى:365)نے کہا:
حَدَّثَنَا الساجي، حَدَّثَنا أَبُو الجوزاء أَحْمَد بْن عُثْمَان، حَدَّثَنا أبو داود، حَدَّثَنا حريث بن السائب، حَدَّثَنا الْحَسَن أن أنسا كَانَ يعق عن ولده بالجزر.[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 2/ 475]۔

ان تینوں اماموں نے اس روایت کو ایک ہی طریق یعنی حریث بن السائب ہی کے طریق سے روایت کیا ہے اور یہ درج علتوں کی بنا پر ضعیف ہے:

پہلی علت:
حسن بصری مدلس ہیں اور انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ مذکورہ بات انہوں نے انس مالک سے سنی ہے یا یہ ان کا اپنا مشاہدہ ہے ، لہٰذا یہاں سماع یا مشاہدہ کی صراحت نہیں ہے ، لہٰذا روایت ضعیف ہے۔

العیال کے محقق مذکورہ روایت کے بارے میں کہتے ہیں:
الحسن البصري ولم يذكر سماعه من أنس بن مالك هنا[العيال 1/ 206]۔

دوسری علت:
’’حريث بن السائب التميمى‘‘ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى:277)نے کہا:
ضعيف الحديث، جابر الجعفي أحب إلينا منه[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 3/ 264]۔

امام زكريا بن يحيى الساجى رحمه الله (المتوفى:307) نے اسے ضعیف کہا ہے :
امام ساجی کے شاگردامام ابن عدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:قد أدخله الساجي فِي كتاب ضعفائه الذي خرجه[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 2/ 477]۔

امام عقيلي رحمه الله (المتوفى:322)نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے اوراس کی ایک روایت کے بارے میں کہا:
وَالرِّوَايَةُ فِيهِ أَيْضًا لَيِّنَةٌ[الضعفاء الكبير للعقيلي: 1/ 287]۔

امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى:365) نے کہا:
ليس لحريث بْن السائب إلا اليسير من الْحَدِيث وقد أدخله الساجي فِي كتاب ضعفائه الذي خرجه[الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 2/ 477]۔
یعنی امام ابن عدی رحمہ اللہ نے اپنے استاذ امام ساجی رحمہ اللہ کی تضعیف کو برضاء ورغبت نقل کیا ہے۔

امام دارقطني رحمه الله (المتوفى:385)نے کہا:
كذا رواه حريث بن السائب ، عن الحسن ، عن حمران ، عن عثمان ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ووهم فيه[علل الدارقطني: 3/ 29]۔

امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507)نے کہا:
حريث هذا ضعيف[ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 4/ 2332]۔

امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى:597)نے کہا:
حريث بن السائب المؤذن بصري ضعفه الساجي وقال احمد بن حنبل روى عن الحسن حديثا منکر[الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي 1/ 196]۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
حريث بن السائب البصري عن التابعین ضعفه زکریا الساجي[دیوان الضعفاء ، رقم : ٨٦٨]۔

تحریر التقریب کے مؤلفین کہتے ہیں:
ضعیف یعتبربہ [تحریر التقریب رقم : ١١٨٠]۔

مذکورہ محدثین کے علاوہ کچھ اور محدثین سے بھی راوی مذکور پر جرح منقول ہے مگر اس کا ثبوت محل نظر ہے۔
امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى:275)سے منقول ہے:
حريث بن السائب ، فقال ليس بشيء [سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود: ص: 364]۔
لیکن ابوعبید آجری خود مجہول ہے

أبوالعرب، محمد بن أحمد بن تميم، القيرواني،(المتوفى:333)نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے[إكمال تهذيب الكمال لمغطائی: ج٤ص ٤١]۔
مگر مغلطائی بذات خود مجروح ہیں ۔

ان اقوال کا ثبوت محل نظر ہے مگر اوپر جو اقوال پیش کئے گئے وہ سب ثابت شدہ ہیں۔

معلوم ہوا کہ ’’حريث بن السائب التميمى‘‘ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ، اس کے برخلاف جن لوگوں سے ان کی توثیق نقل کی جاتی ہے وہ اول تو تعداد میں کم ہیں دوم ان میں سے اکثر سے حقیقی توثیق ثابت ہی نہیں ہے بلکہ انہوں نے صرف دیانت داری بیان کی ہے تفصیل ملاحظہ ہو:

امام فسوي رحمه الله (المتوفى:277)نے کہا:
حريث شيخ ثبت لا بأس به[المعرفة والتاريخ للفسوي: 2/ 116]۔
امام فسوی رحمہ اللہ کی یہ توثیق جمہورکے خلاف ہے لہٰذا مردود ہے ۔

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى:327)نے کہا:
ثقة [تاريخ ابن معين - رواية الدوري: 4/ 133]۔
ابن معین رحمہ اللہ غیر اصطلاحی توثیق کرنے میں معروف ہیں اور انہوں نے یہاں بھی اصطلاحی معنی میں توثیق نہیں کی ہے ۔
اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اسحاق بھی منصورنے ابن معین رحمہ اللہ ’’حريث بن السائب‘‘ کے بارے میں ’’صالح‘‘ کا لفظ نقل کیا ہے۔
امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى:327)کہتے ہیں:
ذكره أبي عن إسحاق بن منصور عن يحيى ابن معين أنه قال: حريث بن السائب صالح.[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 264]۔

اور’’صالح‘‘ کے ذریعہ توثیق نہیں بلکہ محض دینداری بتلانی مقصود ہوتی ہے ۔
یادرہے کہ ''صالح ''يہ تعديل کاسب سے آخري مرتبہ هے، (تدريب الراوي:1871)،اور اس آخري مرتبہ پر بهی یہ لفظ اس وقت دلالت کرتاہے جب یہ ''الحديث'' کی طرف مضاف ہو يعنی ''صالح الحديث'' مستعمل ہو، اوراگر یہ بغيراضافت کے صرف ''صالح'' مستعمل ہوجيساکہ یہاں ہے تواس سے ''صالح في الدين'' مراد ہوتاہے نہ کہ''صالح في الحديث والرواية'' ۔

حافظ ابن حجرفرماتے ہيں:
''وقول الخليلي:نه شيخ صالح أراد به في دينه لا في حديثه لأن من عادتهم ذا أرادواوصف الراوي بالصلاحية في الحديث قيدوا ذلک، فقالوا: صالح الحديث، فذا أطلقوا الصلاح، فنمايريدون به في الديانة [النکت علي کتاب ابن الصلاح:832]۔
دکتور ماہر الفحل کہتے ہيں:
''قولهم في الراوي:''صالح'' بلا ضافة تختلف عن قولهم:''صالح الحديث''، فالأولي تفيد صلاحه في دينه، والثانية صلاحه في حديثه''[بحوث في المصطلح: ص354 ]۔

معلوم ہوا کہ ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق غیر اصطلاحی ہے ، اور ابن معین رحمہ اللہ کا یہ اسلوب بہت ہی معروف ہے ۔
اسی چیز کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقد اختلف كلام ابن معين في جماعة ، يوثق أحدهم تارة ويضعفه أخرى ، منهم إسماعيل بن زكريا الخُلقاني ، وأشعث بن سوار ، والجراح بن مليح الرواسي ، وزيد بن أبي العالية ، والحسن بن يحيى الخُشَني ، والزبير بن سعيد ، وزهير بن محمد التميمي ، وزيد بن حبان الرقي ، وسلم العلوي ، وعافية القاضي ، وعبد الله الحسين أبو حريز ، وعبد الله بن عقيل أبو عقيل ، وعبد الله بن عمر بن حفص العمري ، وعبد الله بن واقد أبو قتادة الحراني ، وعبد الواحد بن غياث ، وعبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب ، وعتبة بن أبي حكيم ، وغيرهم . وجاء عنه توثيق جماعة ضعفهم الأكثر ون منهم تمام بن نجيح ، ودراج ابن سمعان ، والربيع بن حبيب الملاح وعباد بن كثير الرملي ، ومسلم بن خالد الزنجي ، ومسلمة بن علقمة ، وموسى بن يعقوب الزمعي ، ومؤمل بن إسماعيل ، ويحيى بن عبد الحميد الحماني .وهذا يشعر بأن ابن معين كان ربما يطلق كلمة .. ثقة لا يريد بها أكثر من أن الراوي لا يتعمد الكذب .[التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 164]۔

الغرض یہ کہ ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق سے اصطلاحی توثیق مراد نہیں ہے ۔

امام ابن شاهين رحمه الله (المتوفى:385)نے کہا:
حريث بن السائب البصري يروى عنه عبد الرحمن بن مهدي ووكيع وهو ثقة قاله يحيى [تاريخ أسماء الثقات ص: 74]۔
یہاں ابن شاہین رحمہ اللہ نے صرف ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق نقل کی ہے اوریہ وضاحت کی جاچکی ہے کہ ابن معین رحمہ اللہ نے راوی مذکور کی اصطلاحی توثیق نہیں کی ہے۔

أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى:277)نے کہا:
ما به بأس[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 265]۔

امام ابوحاتم اس کے ذریعہ بھی صرف تعدیل ہی کررہے نہیں نہ کی توثیق کیونکہ خود انہوں نے اسے واضح طورپر ضعیف کہہ رکھا ہے ۔
امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى:327) نے کہا:
سألت أبي عن حريث بن السائب فقال: ضعيف الحديث، جابر الجعفي أحب إلينا منه[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 3/ 264]۔
غورکریں کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ان پر سخت جرح کی ہے یہاں تک جابر الجعفی جیسے متروک روای کو اس سے بہتر بتلایا ہےیہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے ’’ما به بأس‘‘ کے ذریعہ توثیق نہیں کی ہے بلکہ صرف عدالت کی طرف اشارہ کیا ہے اورراوی کے ثقہ ہونے کے لئے عادل ہونے کے ساتھ ساتھ ضابط ہونا بھی ضروری ہے۔

امام عجلى رحمه الله (المتوفى:261)نے کہا:
لا بأس به [تاريخ الثقات للعجلي: 1/ 290]۔
’’ لا بأس به ‘‘ یہ توثیق کا صیغہ صرف انہیں محدثین کے کلام میں ہوگا جن کے بارے میں معلوم ہوجائے وہ اس کے ذریعہ توثیق کرتے ہیں ، ورنہ عام حالات میں یہ صرف تعدیل ہی کے معنی میں ہوگا جیساکہ علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ اللمحات میں بڑی تفصیل سے واضح کیا ہے،دیکھئے المحالت :ج 2 ص341 تا 347۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
ثقة قال أبو حاتم ما به بأس[الكاشف للذهبي: 1/ 318]۔
لیکن امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی ضعفاء والی کتاب المغني في الضعفاء میں نقل کیا ہے ملاحظہ ہو:
حريث بن السائب البصري عن الحسن ثقة ضعفه زكريا الساجي ووثقه ابن معين وأبو حاتم[المغني في الضعفاء للذهبي ص: 72]۔
اسی طرح ضعفاء والی دوسری کتاب دیوان الضعفاء میں بھی نقل کیا ہے اورکہا:
حريث بن السائب البصري عن التابعین ضعفه زکریا الساجي[دیوان الضعفاء ، رقم : ٨٦٨]۔
یعنی صرف امام ساجی کی تضعیف نقل کی ہے اور کوئی دفاع نہیں کیا ہے، لہٰذا یا تو تطبیق دی جائے یا امام ذہی ہی کے اصول کے مطابق ان کے دنوں اقوال کو ساقط الاعتبار قراردیاجائے چنانچہ امام ذہبی یہ اصول پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
عبدالرحمن بن ثاب بن الصامت. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال ابن حبان: فحش خلافه للاثبات فاستحق الترك.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وذكره أيضا ابن حبان في الثقات فتساقط قولاه.[ميزان الاعتدال للذهبي: 2/ 552]۔

الغرض یہ کہ مذکورہ راوی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

اس پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ انس رضی اللہ عنہ کا مذکور اثر ضعیف ہے ، امام ابن عدی رحمہ اللہ نے بھی اس اثر کو حریث بن سائب کی ضعیف روایات میں گنایاہے [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 2/ 475]۔

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ضعیف اثر ۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا:
عن أبي بكرة أنه نحر عن ابنه عبد الرحمن جزورا فأطعم أهل البصرة[تحفة المودود بأحكام المولود 8/ 35]۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے یہ بات ابن المنذر رحمہ اللہ سے نقل کی ہے اور ابن المنذر رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الاشراف ج ٣ ص ٤١٥ پر بغیرکسی سند کے ذکرکیا ہے۔
البتہ امام ابن ابی الدنیا نے اسے سند کے ساتھ روایت کیا ہے ، ملاحظہ ہو:
امام ابن أبي الدنيا رحمه الله (المتوفى:281)نےکہا:
حدثني الحسين بن محمد حدثنا يحيى بن ميسرة الجشمي حدثنا عون العقيلي قال أول مولود ولد بالبصرة عبد الرحمن بن أبي بكرة فنحر أبوه بكرة جزورا ودعا الناس وأطعمهم [العيال لابن ابي الدنيا: 1/ 211]۔

لیکن یہ سند صحیح نہیں ، اس میں ’’ يَحْيَى بْنُ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ‘‘ راوی مجہول ہے۔
الجرح والتعدیل 9/ 189، التاريخ 8/ 305، میں اس راوی کا تذکرہ ملتاہے مگر اس کی توثیق کے بارے میں کچھ نہیں ملتا۔

اسی مفہوم کی ایک روایت اور بھی ملتی ہے چنانچہ:
امام ابن أبي خيثمة رحمه الله (المتوفى:279)نے کہا:
حَدَّثَنَا يَعْقُوب بْنُ إِبْرَاهِيم الدَّوْرَقِيّ، قَالَ: حَدَّثَنا الْحَارِث بْنُ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّام: شَيْبَان بْنُ زُهَيْر، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن بن أَبِي بَكْرَة؛ قَالَ: كنتُ أَوَّلَ مولودٍ وُلِدَ بالْبَصْرَة فَفَرِحَ بِيَ الْمُسْلِمون أَنْ وُلِدَ مولودٌ فِي مِصْرٍ مَصَروه وذُهِبَ بِي إِلَى أميرِ الْمُؤْمِنِين فحذاني ثَمَانِينَ دِرْهَمًا ونُحِرَتْ عَنِّي جزورٌ فَطَعِمَ مِنْهَا جَمِيعُ أَهْل الْبَصْرَة.[ تاريخ ابن أبي خيثمة :2/ 975]۔

اول : تو اس روایت میں یہ ذکر ہی نہیں کہ ان کا یہ عقیقہ کس نے کیا تھا آیا ان کے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یا کسی اور نے ۔
دوم : یہ روایت بھی منقطع ہے کیونکہ عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے عقیقہ کے بارے میں بات کررہے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ اپنے عقیقہ کے بارے میں خود کوئی معلومات نہیں دے سکتے بلکہ لازمی طور پر کسی اورسے انہوں نے یہ بات سنی ہے لیکن کس سے سنی ہے اس کا نام موصوف نے نہیں بتلایا لہذا روایت منقطع یعنی ضعیف ہے۔


واضح رہے کہ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ مذکورہ روایت میں جو عمل ہوا اس پر دوسرے حضرات نے تنقید بھی اور کہا کہ جائز نہیں ہے ، ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
ثم ذكر من حديث يحيى بن يحيى أنبانا هشيم عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه أن أبا بكرة ولد له ابنه عبد الرحمن وكان أول مولود ولد في البصرة فنحر عنه جازورا فأطعم أهل البصرة وأنكر بعضهم ذلك وقال أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاتين عن الغلام وعن الجارية بشاة ولا يجوز أن يعق بغير ذلك[تحفة المودود بأحكام المولود 8/ 35]۔

لیکن اس روایت کی مکمل سند مجھے نہیں مل سکی۔

الغرض یہ کہ یہ اثربھی ثابت نہیں ہے۔
اس کے برعکس بعض مستند آثار ایسے ملتے ہیں جن میں بڑے جانور سے عقیقہ کی ممانعت ملتی ہے ، مثلا:


امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى:211)نے کہا:
عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَابْنُ مُلَيْكَةَ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَوَلَدَتْ لِلْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ غُلَامًا، فَقُلْتُ: «هَلَّا عَقَقْتِ جَزُورًا عَلَى ابْنِكِ» ، فَقَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ كَانَتْ عَمَّتِي عَائِشَةُ، تَقُولُ: «عَلَى الْغُلَامِ شَاتَانِ، وَعَلَى الْجَارِيَةِ شَاةٌ»[مصنف عبد الرزاق: 4/ 328]۔

علامہ البانی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں: و إسناده صحيح [سلسلة الأحاديث الصحيحة( 1/ 8 )]۔

امام ابن أبي الدنيا رحمه الله (المتوفى:281)نے کہا:
حدثنا داود بن عمرو الضبي حدثنا عبد الجبار بن الورد عن ابن أبي مليكة قال قيل لعائشة وولد لابن أختها غلام فقالوا عقي عن ابن أختك جزورتين قالت معاذ الله ولكن ما قال رسول الله ( شاتان مكافئتان ) [العيال لابن ابي الدنيا: 1/ 201]۔

اس کتاب کے محقق نے اس روایت کی سند کو حسن کہا ہے۔
امام طحاوي رحمه الله (المتوفى:321)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ: نُفِسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عُقِّي عَنْهُ جَزُورًا فَقَالَتْ: مَعَاذَ اللهِ، وَلَكِنْ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ " [شرح مشكل الآثار: 3/ 68]۔

علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں کہا: وإسناده حسن [إرواء الغليل 4/ 394]۔

حدثنا أبو جعفر كامل بن أحمد المستملي رحمه الله أنبأ بشر بن أحمد الإسفرائيني ثنا داود بن الحسين البيهقي ثنا يحيى بن يحيى ثنا عبد الجبار بن ورد قال سمعت بن أبي مليكة يقول : نفس لعبد الرحمن بن أبي بكر غلام فقيل لعائشة رضي الله عنها يا أم المؤمنين عقي عليه أو قال عنه جزورا فقالت معاذ الله ولكن ما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم شاتان مكافأتان [السنن الكبرى للبيهقي: 9/ 301]۔

حافظ زیبرعلی زئی حفظہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قراردیاہے، ملاحظہ موطا محقق بروایت ابن القاسم :ص ٢٧٨، نیزدیکھیں فتاوی علمیہ : ج ١ص ٦٦٠۔

No comments:

Post a Comment