فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کا جرح وتعدیل کے مقدس نام پر شیطانی کھیل - Kifayatullah Sanabili website

2020-12-13

فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کا جرح وتعدیل کے مقدس نام پر شیطانی کھیل


  آفیشل ویب سائیٹ پر یہ مضمون پڑھنے کے لئے اس لنک پر جائیں

فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کا جرح وتعدیل کے مقدس نام پر شیطانی کھیل
اثرِ خامہ…….. 🖋️ 📚 فیصل عادؔل 
تاریخِ حدیث کے اوراق شاہد ہیں کہ جرح
 و تعدیل کا فن کوئی دودھ پیتے بچوں کا کھیل نہیں ۔ یہ وہ کٹھن اور پرخار راستہ ہے جس پر یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، اور امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہم جیسے جبالِ علم ہی چل سکتے تھے۔ یہ وہ منصب تھا جہاں کسی کے بارے میں لب کشائی کرنے سے پہلے انسان کا اپنا دل خوفِ خدا سے لرزتا تھا۔ اسی عظیم الشان تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے دورِ حاضر کے فقیہ، شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ نے کیا خوبصورت اور حقیقت افروز بات کہی کہ"علمائے جرح و تعدیل تو اب مقابر میں ہیں (یعنی قبروں کی خاک اوڑھ چکے ہیں)۔" علماء الجرح والتعديل في المقابر
https://youtu.be/uj0cVuNSWBI
السائل: أحسن الله إليكم صاحب الفضيلة هذا سائل يقول: من هم علماء الجرح والتعديل في عصرنا الحاضر؟
الشيخ صالح الفوزان: والله ما نعرف أحداً من علماء الجرح والتعديل في عصرنا الحاضر، علماء الجرح والتعديل في المقابر الآن، ولكن كلامهم موجود في الكتب، كتب الجرح والتعديل. والجرح والتعديل في علم الإسناد، رواية الحديث، ما هو الجرح والتعديل في سب الناس وتنقصهم، وفلان فيه كذا وفلان فيه كذا، ومدح بعض الناس وسب بعض الناس، هذا من الغيبة ومن النميمة، وليس هو الجرح والتعديل.
​
ترجمہ👈 سوال کیا جا رہا ہے : فضیلۃ الشیخ اللہ آپ کے ساتھ بھلائی کا معاملہ فرمائے، ایک سائل پوچھتا ہے کہ ہمارے موجودہ دور میں جرح و تعدیل کے علماء کون ہیں؟
شیخ صالح الفوزان: اللہ کی قسم! ہم موجودہ دور میں جرح و تعدیل کے علماء میں سے کسی ایک کو بھی نہیں جانتے۔ جرح و تعدیل کے علماء تو اب قبروں میں ہیں، لیکن ان کا کلام کتابوں (یعنی جرح و تعدیل کی کتب) میں موجود ہے۔ اور جرح و تعدیل تو علمِ اسناد اور حدیث کی روایت کے حوالے سے ہوتا ہے، جرح و تعدیل لوگوں کو گالیاں دینے، ان کی تنقیص کرنے، یہ کہنے کہ 'فلاں میں یہ برائی ہے اور فلاں میں وہ برائی ہے'، اور کچھ لوگوں کی تعریف کرنے اور کچھ کو برا بھلا کہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ (جو آج کل ہو رہا ہے) غیبت اور چغلی ہے، یہ جرح و تعدیل نہیں ہے۔
شیخ فوزان کی اس بات میں ایک گہری کسک بھی ہے اور دورِ حاضر کے فتنوں کا علاج بھی۔ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یہ فن حدیث کے راویوں کو پرکھنے کے لیے تھا، جو اپنے اختتام کو پہنچ چکا، لہٰذا اب ہر کس و ناکس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس مسند پر بیٹھ کر امت کے سلفی علماء کی پگڑیاں اچھالے۔
مگر ٹھہریے! شاید شیخ فوزان کی نظروں سے تاریخ کا وہ "عظیم ترین" باب اوجھل رہ گیا جو آج کل "فرقہ یوسفیہ منہج بدریہ" کے امام صاحب رقم فرما رہے ہیں۔ امام صاحب کی تحریر سے مترشح ہوتا ہے کہ شیخ فوزان غلط فہمی کا شکار ہیں، جرح و تعدیل کی مسند بھلا کیسے خالی ہو سکتی ہے جب تک وہ خود بنفسِ نفیس اس دنیا میں چند مذکرات رٹ کر اور حاطب لیل کی طرح رطب ویابس جمع کر دکتوراہ کی ڈگری اٹھائے مسندِ تجریح پر جلوہ افروز ہیں؟
ایک طرف شیخ صالح فوزان کہتے ہیں کہ علمائے جرح وتعدیل قبروں میں جا چکے ہیں اور موجودہ دور میں جو تجریح کر رہے ہیں وہ غیبت و نمیمہ کے قبیل سے ہے
اس لنک سے سن سکتے ہیں 
https://youtube.com/shorts/bu4X8dPmyEc
السؤال:
فضيلة الشيخ وفقكم الله، يقول: هل الكلام في أخطاء الدعاة وبيانها يعتبر من علم الجرح والتعديل؟
​الجواب:
لا، من النميمة والغيبة، ولا يجوز، وهذا يثير الشر بين طلبة العلم، إذا رأيت خطأ على طالب علم أو على عالم المناصحة بينك وبينه، وأما أنك تجلس في المجالس وتجرح الناس ما يجوز هذا، ولا فيه مصلحة بل فيه مضرة، الحين انقسم الناس بسبب هذه الأمور، تحزبوا بسبب هذه الأمور، ما يجوز هذا. انتهى من كلام الشيخ صالح الفوزان حفظه الله 
دوسری طرف فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب کا طمطراق دیکھیے! ان کا فرمانا ہے کہ جرح و تعدیل کا دروازہ آج بھی کھلا ہے اور ہم اس کے مجاز ہیں کہ جسے چاہیں ثقہ قرار دیں اور جس سلفی عالم کو چاہیں اپنی زبانِ دراز کی قینچی سے کاٹ کر پھینک دیں۔ کیا ہوا اگر ہم نے علم کی وہ گھاٹیاں عبور نہیں کیں جو سلف کا طرہِ امتیاز تھیں؟ کیا ہوا اگر راتوں کو اٹھ کر رونے والا تقویٰ ہمارے پاس نہیں؟ ہمارے پاس سوشل میڈیا کا منبر، چند اندھے عقیدت مند، اور طعن و تشنیع کے وہ جدید نشتر تو ہیں جن سے ہم جلیل القدر سلفی علماء کا گوشت بخوبی نوچ سکتے ہیں!
یہ دعویٰ کرنا کہ "ہم آج بھی جرح کر سکتے ہیں"، ایسا ہی ہے جیسے کوئی کھلونا پستول تھام کر یہ اعلان کر دے کہ وہ اب طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی کا جانشین ہے۔ بونے اگر پنجوں کے بل کھڑے بھی ہو جائیں تو وہ قد آور نہیں بن جاتے۔ بڑوں کی قبا جب چھوٹے پہنتے ہیں تو وہ لباس کم اور تماشا زیادہ لگتے ہیں۔
اسی لیے ان جارحینِ عصر کا حال یہ ہے کہ جب تک کسی ہندوستانی سلفی عالمِ دین پر بیجا جرح نہ کر لیں، ان کا ناشتہ ہضم نہیں ہوتا۔ سلف کی جرح دین کو بچانے کے لیے تھی، اور ان کی "جرح" اپنی انا کی تسکین اور اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے لیے ہے۔ امام صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی اس خود ساختہ عدالتِ جرح و تعدیل کا بورڈ اتار لیں۔ جن کے اپنے دامن تعصب اور تنگ نظری کی خاک سے اٹے ہوں، وہ دوسروں کو منہج بدر کرتے نہ پھریں۔ شیخ فوزان نے سچ کہا تھا، اس فن کے شہسوار واقعی قبروں میں سو چکے ہیں، جو بچ گئے ہیں وہ جرح و تعدیل کے نام پر فقط "غیبت و بہتان" کے چورن بیچ رہے ہیں۔
شیخ فاروق عبداللہ نارائن پوری سمجھتے ہیں کہ جرح وتعدیل کے باب کو فی زمانہ کوئی بند جانے تو وہ اخوانیت کا شکار ہے اس منطق سے تو شیخ صالح فوزان بھی اخوانی قرار پائیں گے کہیں یہی وجہ تو نہیں کہ شیخ صالح فوزان بھی سید قطب کی تفسیر سے اپنی کتاب میں اقتباسات نقل کرتے پائے جاتے ہیں ۔
📢 ​کاش کوئی ان مدعیانِ علم کو بتائے کہ دینِ اسلام میں جرح و تعدیل مقاصدِ شریعت کی محافظ تھی، اسے اپنی نفسانی خواہشات اور علماءِ حق سے بغض نکالنے کا ہتھیار مت بنائیں۔ ورنہ تاریخ جب بھی اس " فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ" کے مسند نشینوں کا ذکر کرے گی، تو انہیں محدثین کی صف میں نہیں، بلکہ ان لوگوں کی فہرست میں رکھے گی جنہوں نے اپنوں کی ہی صفوں میں انتشار کے بیج بوئے۔
آئیے فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب کے دلائل پر ایک نظر دوڑاتے ہیں
1۔ پہلی دلیل انھوں نے ابن تیمیہ
 رحمہ اللہ کی عبارت سے اندھ بھکتوں پر دھول جھونکتے ہوے جرح وتعدیل کے لیے جو پیش کی ہے اس کا جائزہ لیتے ہیں انھوں نے اپنے اہوا کے حساب سے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام کے مفہوم سے جو اخذ کیا ہے وہ غلط ہے اصل عبارات دیکھیں 
فَلَا بُدَّ مِنْ التَّحْذِيرِ مِنْ تِلْكَ الْبِدَعِ وَإِنْ اقْتَضَى ذَلِكَ ذِكْرَهُمْ وَتَعْيِينَهُمْ؛ بَلْ وَلَوْ لَمْ يَكُنْ قَدْ تَلَقَّوْا تِلْكَ الْبِدْعَةَ عَنْ مُنَافِقٍ؛ لَكِنْ قَالُوهَا ظَانِّينَ أَنَّهَا هُدًى وَأَنَّهَا خَيْرٌ وَأَنَّهَا دِينٌ؛ وَلَمْ تَكُنْ كَذَلِكَ لَوَجَبَ بَيَانُ حَالِهَا. وَلِهَذَا وَجَبَ بَيَانُ حَالِ مَنْ يَغْلَطُ فِي الْحَدِيثِ وَالرِّوَايَةِ وَمَنْ
يَغْلَطُ فِي الرَّأْيِ وَالْفُتْيَا وَمَنْ يَغْلَطُ فِي الزُّهْدِ وَالْعِبَادَةِ؛
— مجموع الفتاوى – ابن تيمية (٢٨ ‏/ ٢٣٣–٢٨ ‏/ ٢٣٤)
واضح رہے کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس قول میں اس بات کی قطعی کوئی دلیل نہیں ہے کہ علمِ "جرح و تعدیل" اپنے اصطلاحی اور فنی معنوں میں آج بھی باقی ہے۔ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام و متبوعین جس نگارشی طنطنہ اور طمطراقیاں بکھیرتے ہوے اس قول کو دورِ حاضر میں سلفی اور حق گو علماء پر اپنی بلاجواز تنقید کا جواز بنانے کے لیے پیش کرتے ہیں، وہ ایک بہت بڑی علمی خیانت اور خلطِ مبحث کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
علمِ جرح و تعدیل یہ علمِ حدیث کا ایک مخصوص اور باقاعدہ فن ہے (جسے علم الرجال بھی کہا جاتا ہے جس میں رواۃِ حدیث اور اسانید پر بحث کی جاتی ہے) اس کا مقصد ان راویوں کی جانچ پڑتال کرنا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی احادیث آگے بیان کرتے تھے۔ یہ فیصلہ کرنا کہ کون سا راوی سچا ہے (تعدیل) اور کون سا کمزور یا جھوٹا ہے (جرح)، اس فن کا حصہ تھا۔ چونکہ احادیث کی تدوین کا کام صدیوں پہلے مکمل ہو چکا ہے اور کتبِ احادیث مرتب ہو چکی ہیں، اس لیے اس مخصوص فن کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کے اس قول کا کہ "علمائے جرح و تعدیل مقابر میں ہیں"، یہی مطلب ہے کہ وہ فن اور اس کے ماہرین اپنے وقت پر اپنا کام مکمل کر کے جا چکے۔
ردّ المخالف اور تحذیر من البدع 
یہ دین کا وہ حصہ ہے جس کا ذکر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے دین میں پیدا ہونے والی نئی چیزوں (بدعات)، غلط فتووں، یا گمراہ کن نظریات کا رد کرنا اور لوگوں کو ان سے بچانا (تحذیر)۔ یہ دراصل "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" اور "الدین النصیحۃ" (دین خیر خواہی ہے) کے باب میں آتا ہے، اور یہ فریضہ قیامت تک علمائے حق ادا کرتے رہیں گے۔ ماشاء اللہ آئی پلس سے وابستہ علماء عملی طور پر ہمیشہ مسلکِ محدثین کے مطابق سلفی نہج پر احقاق ِ حق و ابطالِ باطل کرتے ہوے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں جزاہم اللہ خیرا 
دورِ حاضر میں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب دراصل امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی "تحذیر و رد"  والی بات کو کھینچ کر "جرح و تعدیل" کا نام دے دیتے ہیں، تاکہ ان کی ذاتیات پر مبنی تنقید کو وہی تقدس مل جائے جو یحییٰ بن معین اور امام احمد بن حنبل وغیرہ رحمہم اللہ کی جرح کو حاصل تھا۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا قول "باطل نظریات اور بدعات کے رد" کے بارے میں ہے، جو علمائے ربانیین کا کام ہے۔ اسے دورِ حاضر کی فرقہ واریت، ذاتی بغض، اور علماء کی پگڑیاں اچھالنے کے لیے "جرح و تعدیل" کے نام پر استعمال کرنا اس قول کا صریحاً غلط استعمال اور سلف کے منہج کی توہین ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے آگے لکھا ہے 
وَمَنْ عُلِمَ مِنْهُ الِاجْتِهَادُ السَّائِغُ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يُذْكَرُ عَلَى وَجْهِ الذَّمِّ وَالتَّأْثِيمِ لَهُ؛ فَإِنَّ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ خَطَأَهُ؛ بَلْ يَجِبُ لِمَا فِيهِ مِنْ الْإِيمَانِ وَالتَّقْوَى مُوَالَاتُهُ وَمَحَبَّتُهُ وَالْقِيَامُ بِمَا أَوْجَبَ اللَّهُ مِنْ حُقُوقِهِ: مِنْ ثَنَاءٍ وَدُعَاءٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
— مجموع الفتاوى – ابن تيمية (٢٨ ‏/ ٢٣ ٤)
بد ترین تجریحی عمل یہ ہے جو فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ نے جرح و تعدیل کے نام پر معاصر سلفی علماء کے تئیں اپنایا ہے ۔ بقول ابن تیمیہ جن سلفی علماء کے لیے دعا و ثناء ہونی چاہیے ان پر مذموم عزائم کے تحت بیجا طعن وتشنیع انھیں منہج بدر کر کے پبلک میں ساکھ گرانا اور لوگوں کو ان سے بدظن کرنا عقلانی یا اخوانی ٹھہرانا سخت مذموم عمل ہے۔
اس قسم کے افراد کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن القیم نے لکھا ہے 
وَكَمْ تَرَى مِنْ رَجُلٍ مُتَوَرِّعٍ عَنِ الْفَوَاحِشِ وَالظُّلْمِ، وَلِسَانُهُ يَفْرِي فِي أَعْرَاضِ الْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، وَلَا يُبَالِي مَا يَقُولُ.
— الداء والدواء = الجواب الكافي - ط دار المعرفة – ابن القيم (١٥ ٩)
2۔دوسری دلیل کاجواب
جہاں تک شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ کا قول جرح وتعدیل کے باب مفتوح ہونے کے سلسلے میں فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب نے پیش کیا ہے کوئی انھیں شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ کا یہ قول بھی سنادیتا تو کاش وہ اور ان کے متبعین تفریق بین السلفیین سے باز آجاتے چنانچہ شیخ کہتے ہیں 
فالسلفية بمعنى أن تكون حزباً خاصاً له مميزاته، ويضلل من سواهم، نقول فهؤلاء ليسوا من السلفية في شيء. السلفية اتباع منهج السلف عقيدة، وقولاً، وعملاً، وائتلافاً، واتفاقاً، وتراحماً، وتواداً، كما قال النبي ـ عليه الصلاة والسلام ـ: «مثل المؤمنين في توادهم، وتراحمهم، وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد إذا اشتكى منه عضو، تداعى له سائر الجسد بالحمى ،والسهر»،
اس لنک سے شیخ کی آواز میں آڈیو سنیں https://shorturl.at/VLeuY
مختصر مفہوم 👈 سلفیت کسی ایسے مخصوص حزب یا جماعت کا نام نہیں جس کے علاوہ سب کو گمراہ قرار دیا جائے، بلکہ سلفیت عقیدے، قول، عمل اور باہمی رحمت و اتفاق میں منہجِ سلف کی پیروی کا نام ہے۔
3۔ تیسری دلیل کا جواب 
 حامل لواء الجرح و التعدیل والی دلیل کا تجزیہ 
 فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ کے امام صاحب نے علامہ البانی کے حوالے سے بتایا ہے کہ انھوں نے شیخ ربیع کو حامل لواء الجرح والتعديل قرار دیا اس سلسلے میں معلوم ہونا چاہیے کہ جرح وتعدیل سے متعلق ایک سوال پر شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ نے کہا(دیکھیں الذريعة إلى بيان مقاصد كتاب الشريعة: 3 / 213 -
216) 
فعلم الجرح والتعديل علم عظيم، ولا يتصدى له إلا أفراد من الناس، حتى كثير من كبار حفاظ الحديث ما عدهم العلماء في علماء الجرح والتعديل، وأنا أقول لكم: إني لست من علماء الجرح والتعديل، وأنصح الإخوان بترك الغلو ، فأنا ناقد؛ نقدت عددًا من الناس معينين في أخطائهم، فطورها الناس، فأنا أبرأ إلى الله من الغلو، لا تقولوا: الشيخ ربيع إمام الجرح والتعديل، أبدًا، أشهد الله أني أكره هذا الكلام، اتركوا هذه المبالغات يا إخوة، 
"علم جرح وتعدیل ایک عظیم علم ہے ، بہت کم ہی لوگ ہیں جو اس میدان میں اتر پاتے ہیں اور اس کے اہل بن پاتے ہیں حتی کہ کبار حفاظِ حدیث کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں محدثین نے ائمہ جرح وتعدیل میں شمار ہی نہیں کیا ہے"
آگے کہتے ہیں 
"باتوں کا بتنگڑ بنانا ترک کردو ، جس کے پاس علم ہے ، منہج سلف سے واقفیت ہے اور وہ نقد کرتا ہے ، تو جان لو کہ علمائے جرح وتعدیل نے ہمارے لئے جھوٹے ، متروک ، بدعتی ، بد حفظ ، کمزور ، ثقات ، عادل اور حفاظ لوگوں کے حالات بیان کردئے ہیں … ہم صرف نقد کرنے والے ہیں ، میں ایک کمزور ناقد ہوں ، ان غلطیوں پر نقد کرتا ہوں جن سے دوسرے لوگ خاموش ہیں یا اس پر آگاہ نہیں ہوسکے ، اس لئے ان ساری چیزوں کو ترک کردو ! "
آگے کہتے ہیں 
میں کہتا ہوں کہ بعض لوگ زبردستی اس منہج کی طرف خود کو منسوب کرتے ہیں ، ان لوگوں نے گھٹیا اخلاق واسلوب اختیار کر رکھا ہے ، یہ سلفیت کے نام پر سلفیت ہی سے ٹکرا رہے ہیں ، اس طرز عمل سے ان لوگوں نے سلفی دعوت کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دی ہے ، میں نوجوانوں کو نصیحت کرتاہوں کہ اللہ سے ڈریں ، نفع بخش علم حاصل کریں ، نیک عمل انجام دیں اور علم و حکمت کے ساتھ لوگوں کو دعوت دیں ۔
آگے لکھا ہے 
"بھائیو ! سوشل میڈیا نے ان گھٹیا اور حددرجہ ظالمانہ اسلوب کو مزید بڑھاوا دے دیا ہے اور یہ سب کچھ سلفیت کے نام پر ہورہا ہے، اس صورت حال نے بو الہوس وباطل پرست لوگوں کو موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ خود کو سلفی کہنے والوں کا مذاق اڑائیں چنانچہ یہ سلفیوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی باہمی نوک جھوک پر خوشی سے تالیاں پیٹتے ہیں"
شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کو اللہ جزائے خیر دے انھوں نے مفصل انداز میں اپنے ویب سائٹ پر بیان کیا ہے 
https://kifayatsanabili.com/shaik-rabi-jarh-o-tadeel/
اسی طرح شیخ ربیع المدخلی رحمہ اللہ نے المحجة البيضاء صفحہ 48میں نصیحت کے باب میں لکھا ہے
بشرط أن يقصد النصيحة، وهذا مما يُغلط فيه، وقد يحمل المتكلم بذلك الحسد، ويلبس الشيطان عليه ذلك ويخيل إليه أنه نصيحة؛ فليتفطن لذلك"
 یہاں شیخ ربیع مدخلی رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ اس کام میں ایک باریک موڑ آتا ہے جس میں لوگ ٹھوکر کھا جاتے ہیں بسا اوقات انسان کے دل میں چھپا ہوا حسد اسے کسی کی برائی کرنے پر ابھارتا ہے، لیکن شیطان اسے یہ دھوکا دیتا ہے کہ وہ دین کی خاطر "نصیحت" کر رہا ہے۔ اسی لیے انہوں نے تاکید کی کہ انسان کو اس معاملے میں بہت بیدار مغز اور چوکنا ہونا چاہیے (فليتفطن لذلك)۔
4۔ چوتھی دلیل کا جواب 
جہاں تک شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ کا حوالہ فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ نے نقل کیا ہے اس سلسلے میں آپ قارئین کے سامنے وہ پیش کرنا لازمی ہے جو انھوں نے تجریحی روش کے بارے میں لکھا ہے۔
لا يجوز أن يَمتحن أيُّ طالب علم غيرَه بأن يكون له موقف من فلان المردود عليه أو الرَّاد، فإن وافق سلم، وإن لم يُوافق بُدِّع وهُجر، وليس لأحد أن ينسب إلى أهل السنَّة مثل هذه الفوضى في التبديع والهجر، وليس لأحد أيضًا أن يصف من لا يسلك هذا المسلك الفوضوي بأنَّه مُميِّع لمنهج السلف
— رفقا أهل السنة بأهل السنة – عبد المحسن العباد (٥٢)
مفہوم: کسی طالبِ علم کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دوسرے شخص کو اس بنیاد پر آزمائے کہ فلاں شخص جس پر رد کیا گیا ہے یا جو رد کر رہا ہے، اس کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے؛ اگر وہ موافقت کرے تو محفوظ رہے، اور اگر موافقت نہ کرے تو اسے بدعتی قرار دے کر اس سے قطع تعلق کر لیا جائے۔ اور کسی کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ جو شخص اس بے اصولی اور انتشار والے طرزِ عمل کو اختیار نہیں کرتا، اسے منہجِ سلف میں (ممیّع) نرمی برتنے والا یا اسے ڈھیلا کرنے والا قرار دے۔ 
منہجی کم فہمی و کج فہمی کی وجہ سے آج فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ نے اپنے ائمہ کو "منہج سلف کے اکلوتے ٹھیکیدار" فرض کر لیا ہے۔ اور سلفی علماء کو ٹکڑیوں میں بانٹ کر سلفی دعاۃ کے مابین پھوٹ ڈال دی ہے اور سلفیوں کا اتحاد پارہ پارہ کیا ہے۔ اس فرقہ واریت کے سبب دل و دماغ میں بعض شخصیات کے تئیں محفوظ عن الخطأ جیسی عقیدت جا گزیں ہو چکی ہے ۔اب جو ان کی اندھی تقلید کرتا ہے ہر پوسٹ پر اعجاب و مشارکة کرے وہ ان کے نزدیک "سلفی" ہے، اور جو اختلاف کرے وہ "منحرف" ہے۔ یہ وہی حزبیت ہے جس کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔
✅ شیخ کے قول سے معلوم ہو گیا کہ بعض شخصیات کو اساس مان کر امتحان لینا اور لوگوں کو پرکھنا نصوصِ قرآن و سنت سے  ثابت نہیں ۔ اور اس طرح لوگوں کا امتحان لینا جائز نہیں ۔
شيخ بكر أبو زيد رحمه الله لکھتے ہیں 
وفي عصرنا الحاضر يأخذ الدور في هذه الفتنة دورته في مسلاخ من المنتسبين إلى السنة مُتَلَفِّعِينَ بِمِرْطٍ يَنْسُبُونَهُ إِلى السلفية - ظلماً لها - فنصبوا أنفسهم لرمي الدعاة بالتهم الفاجرة، المبنية على الحجج الواهية، واشتغلوا بضلالة التصنيف .
وهذا بلاء عريض، وفتنة مضلة في تقليص ظل الدين، وتشتيت جماعته، وزرع البغضاء بينهم، وإسقاط حملته من أعين الرعية، وما هنالك من العناد، وجحد الحق تارة، ورده أخرى . (تصنيف الناس بين الظن واليقين ص ٢٨-٢٩)
ترجمہ👈 اور ہمارے موجودہ دور میں اس فتنے کا بیڑا اہل سنت کی طرف منسوب ایسے لوگوں نے اٹھا لیا ہے جنہوں نے سلفیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ حالانکہ ان کا یہ دعویٰ سلفیت پر سراسر ظلم ہے۔ ان لوگوں نے دین کے داعیوں پر انتہائی کمزور اور کھوکھلی دلیلوں کی بنیاد پر سنگین اور بے ہودہ الزامات لگانے کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے، اور وہ لوگوں کی درجہ بندی کرنے (ان پر فتوے اور ٹھپے لگانے) کی گمراہی میں مگن ہیں۔
​یہ ایک بہت بڑی مصیبت اور ایسا گمراہ کن فتنہ ہے جو دین کے سائے کو سکیڑنے، مسلمانوں کی جماعت کو بکھیرنے، ان کے درمیان بغض و کینہ بونے اور دین کے علمبرداروں کو عوام کی نظروں سے گرانے کا سبب بن رہا ہے۔ اسی کی وجہ سے ضد اور ہٹ دھرمی جنم لیتی ہے، جس کے باعث کبھی حق کا صریح انکار کیا جاتا ہے اور کبھی اسے ماننے سے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ 
اسی طرح دل میں پیدا ہونے والی حسد کی تشفی کے لیے معاصر سلفی علماء، طلبہ، دعاۃ وغیرہم کا امتحان لے کر ان پر جرح و تعدیل کے انداز میں معتبر یا غیر معتبر کے لیبل لگانا بھی شیطانی چال کے تحت آتا ہے۔
چنانچہ امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597) فرماتے ہیں:
«ومن تلبيس إبليس عَلَى أصحاب الحديث قدح بعضهم فِي بعض طلبا للتشفي ويخرجون ذلك ‌مخرج ‌الجرح ‌والتعديل الذي استعمله قدماء هذه الأمة للذب عَن الشرع وَاللَّه أعلم بالمقاصد ودليل مقصد خبث هؤلاء سكوتهم عمن أخذوا عنه وما كان القدماء هكذا»
ترجمہ:
 ”اہل حدیث حضرات کے یہاں تلبیس ابلیس (شیطانی مکروفریب) کی ایک شکل یہ ہوتی ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہی دیگر ساتھی پر محض ذاتی انتقام کی خاطر ردّ و قدح کربیٹھتے ہیں اور اسے اُس ”جرح وتعدیل“ کے پیرائے میں پیش کرتے ہیں جسے سلف صالحین شریعت کے دفاع میں استعمال کیا کرتے تھے ۔ اصل مقاصد کی بابت اللہ بہتر جانتا ہے لیکن ان کے خبیث مقصد کی دلیل یہ ہے کہ یہ خود جن سے درس وفیض حاصل کریں گے ان کی لغزشوں پر چپی سادھ لیں گے حالانکہ سلف کا ایسا طرزِ عمل (یہ منہج) نہیں تھا ۔“ 
[تلبيس إبليس لابن الجوزی (ص105) ] 
معلوم ہوا کہ حدیث وعلومِ حدیث کے جانکار رواۃِ حدیث کے احوال کا علم تو سیکھتے ہیں اور ان سے متعلق جرح وتعديل کا تعلیم وتعلم ابھی بھی برقرار ہے اس کا کسی کو انکار نہیں ۔
لیکن معاصر سلفی طلبہ، علماء ودعاۃ کے خلاف محاذ کھول کر ان پر تجریح وطعن وتشنیع کے مورچہ کھولنا اور منہج بدر کرنا اور اس بد عملی کو چھپانے کے لئے علمِ جرح وتعديل کو بیچ میں لا کر چسپاں کرنا تاکہ حسد و حقد کی آگ میں تبرید ہو یہ ابلیسی فریب کاری اور تلبیس کے سوا کچھ نہیں جیسا کہ امام ابن الجوزی نے تلبیس کے باب میں بتایا ہے ۔ بعض مذکرے رٹ کر یا حاطب اللیل کی طرح رطب ویابس جمع کر ڈگری لے کر سلفی علماء، دعاۃ اور طلبہ کو ٹکڑیوں میں بانٹنا اور اس کے لیے جرح و تعدیل جیسے علم کو ڈھال بنانا ایسا ہی ہے جیسے یہود کے شقائق روافض دین کے اولین مبلغین کی ساکھ گرانے کے لیے آل بیت کی محبت کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور اپنی شرپسندی و خباثت پر غلاف چڑھاتے ہیں تاکہ پورے طور پر دین کی عمارت ہی منہدم کر سکیں جب دین کے اولین مبلغین صحابہ ہی غیر معتبر ہو جائیں تو پھر دھڑام سے پورا دین زمین دوز ہو جائے گا ۔
شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ  فیس بک کے ایک پوسٹ میں اس فتنے کے تعلق سے شاندار انداز میں نقشہ کھینچا ہے 👇 
برائی کو ”برائی“ کے نام پر کرنا اتنا خطرناک نہیں ہے جتنا برائی کو ”خیر واصلاح“ کے نام پر انجام دینا، پہلی صورت میں برائی صرف بروں تک ہی محدود رہتی ہے، لیکن دوسری صورت میں برائی بدکرداروں کے ساتھ سادہ لوح اور صاف دل لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اگرآپ اس بات پر حیران ہوں کہ اسلامی تاریخ میں بہت سارے فتنو،ں میں بعض اچھے اور نیک لوگوں کے نام کیسے شامل ہیں؟ تو جان لیجئے کہ یہ سب ”شرو،فساد“ پر چڑھائے گئے ”اصلاح واحتساب“ کے غلاف کا نتیجہ ہے۔
یہ ہنر سب سے زیادہ دنیا پرست علماء کوآتا ہے اورآج کل ان کی کمال فریب کاری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہر فساد پر ”منہج“ کا نقاب چڑھادیتے ہیں ، سستی شہرت کاحصول ہو ، جاہ ومنصب کی ہو،س ہو ، بغض وحسد کا مرض ہو ، احساس کمتری کی گھٹن ہو، کبر وبرتری کا اظہار ہو ، یا دشمن ومخالف سے انتقام ہو ، غرض ہرمعاملے میں یہ ”منہج“ کی تلوا،ر استعمال کرتے ہیں۔
یہ مکر، و حیلہ ہردور میں اور علماء کے ہر طبقے میں مستعمل رہا ہے، بالخصوص ”المعاصرۃ اصل المنافرہ“ کے مظاہر دیکھ ڈالئے آپ کو اس کا بڑاحصہ اسی پر مشتمل ملے گا۔ مذہب سلف کی طرف دعوت اور اس کی ضرورت واہمیت سے کسی کو انکار نہیں، لیکن آج کے دور میں بعض حلقوں میں لفظ ”منہج“ کے نام پر جو جنگ برپا ہے اور تعریض وتعلیق ، جدل ومناظرہ اوربحث ومباحثہ کا جو ایک تسلسل ہے ، وہ دراصل اسی باب کاحصہ ہے، جنہیں بھولے بھالے اور صاف طبیعت کے لوگ منہجی اختلاف باور کرتے ہیں۔
.انتہی کلامہ
https://www.facebook.com/100002284388756/posts/7602466613172743/?app=fbl
جہاں تک شہود اور منحرفین کے تعلق سے جرح وتعدیل کو فرقہء یوسفیہ منہج بدریہ نے جوڑا ہے اس سلسلے میں معلوم ہونا چاہیے کہ عصر الرواية والتدوين کے گزرنے کے بعد وہ اصطلاحی جرح و تعدیل کے بجائے لفظی یا پھر توثیق وتنقید کے قبیل سے ہے تنقید و توثیق والی جرح وتعدیل جس کا ذکر شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ نے فرمایا ہے ایک خاص علمی اور عدالتی ضرورت ہے جسے صرف اہل علم متعلقہ دائرے میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اسے عام لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے، مخالفین کو ذلیل کرنے، یا بلاجواز فتوے بازی کا ہتھیار بنانا قطعی طور پر غلط ہے۔ کورٹ اور عدالتوں میں امورِ دینیہ و دنیاویہ (بیع وشراء نکاح وطلاق، ہلال کی رؤیت،شہادات وغیرہ) کے تعلق سے جو شہادات دی جاتی ہیں ان میں شامل افراد کا معاملہ علم اسناد اور رواۃ الحدیث کے ساتھ ملانا درست رویہ نہیں ہے ۔علمِ اسناد ایک بالکل الگ اور بلند پایہ فن ہے جسے دنیاوی تنازعات اور گروہی سیاست کے ساتھ جوڑنا علمی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ شیخ ابن عثيمين رحمہ اللہ کی آواز میں مکمل سنیں 
Https://youtu.be/v0SS5PQqHIg?si=RAv8b5hfO2i-eYhP
السائل: يقول السائل هل سنة الجرح والتعديل ماتت وما حكم الرد على المخالف بغض النظر عن شخصيته؟
الشيخ ابن عثيمين: أنا أخشى أن تكون هذه كلمة حق أريد بها باطل. الجرح والتعديل لم يمت ولم يدفن ولم يمرض ولله الحمد هو قائم. الجرح والتعديل يكون في الشهود عند القاضي يمكن يجرحه الخصم ويطلب منه البينة ويكون أيضاً في الرواية وقد سمعنا قراءة إمامنا قول الله تعالى: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا". فالجرح والتعديل لا يزال باقياً ما دام نوع الإنسان باقياً. فالجرح والتعديل باقي لكن أنا أخشى أن يقول قائل إن هذا الإنسان مجروح وليس بمجروح فيتخذ من هذه الفتوى وسيلة لنشر معايب الخلق.
ولهذا أقول إذا كان في شخص عيب ما فإن اقتضت المصلحة أو الحاجة أو الضرورة إلى بيانه فلا بأس به، لا بأس في بيانه، ولكن الأحسن أن يقول بعض الناس يفعل كذا بعض الناس يقول كذا، لسببين: السبب الأول أن يسلم من قضية التعيين، والسبب الثاني أن يكون هذا الحكم شاملاً له ولغيره. إلا إذا رأينا شخصاً معيناً قد فتن الناس به وهو يدعو إلى بدعة أو إلى ضلالة فحينئذ لابد من التعيين حتى لا يغتر الناس.
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے واضح کر دیا کہ جرح و تعدیل کے اصول (گواہوں کی جانچ، روایات کی تحقیق) تو قیامت تک باقی ہیں، لیکن بعض لوگ اسے "کلمۃ حق أرید بھا باطل" (سچی بات کہہ کر غلط مقصد نکالنا) کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ اسے بنیاد بنا کر بلاجواز لوگوں کے عیب تلاش کرتے اور پھیلاتے ہیں۔ شیخ کے مطابق کسی کی غلطی بتانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ نام لیے بغیر اصلاح کی جائے (جیسا کہ نبی ﷺ فرماتے تھے "ما بال أقوام")۔ ہاں، اگر کوئی شخص علانیہ گمراہی یا بدعت پھیلا رہا ہو اور لوگوں کے گمراہ ہونے کا ڈر ہو، صرف تب اس کا نام لے کر لوگوں کو اس کے شر سے بچانا لازمی ہے۔

No comments:

Post a Comment