حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا انجام - Kifayatullah Sanabili website

2020-12-12

حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کا انجام

 حقوق کا مفہوم اور اس کے اقسام
حقوق کی دو قسمیں ہیں :
➊ اللہ کے حقوق ➋ بندوں کے حقوق
اور بندوں کے حقوق کی بھی دو قسمیں ہیں : (الف) فیملی حقوق ، (ب) معاشرتی حقوق

◈ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (36) الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا} [النساء: 34 – 37]
اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا (36) جو لوگ خود بخیلی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخیلی کرنے کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنا فضل انہیں دے رکھا ہے اسے چھپا لیتے ہیں ہم نے ان کافروں کے لئے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے
● اس آیت میں تمام حقوق یعنی اللہ کے حقوق اور فیملی ومعاشرتی حقوق (پڑوسیوں اور مساکین وغیرہ کے حقوق) کا ذکرہے۔

 حقوق میں کوتاہی کا دنیاوی انجام
① دنیا میں ہی سزا
➊ اللہ کی لعنت کا مستحق
اللہ کی رحمت نصیب نہیں ہوگی ، آفات ومصائب میں
عَنْ عَلِيٌّ …قال فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً مَكْتُوبٌ فِيهَا: «لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ، وَلَعَنَ اللهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا»
”جو شخص غیر اللہ کے لیے ذبح کرے اس پر اللہ لعنت کرے اور جو شخص زمین کی (حد بندی کی) نشانی چھپائے اللہ اس پر لعنت کرے اور جو شخص اپنے والد پر لعنت کرے اللہ اس پر لعنت کرے، اور جو شخص کسی بدعتی کو پناہ دے اللہ اس پر لعنت کرے۔“[صحيح مسلم 1978]
اس لعنت کا اثر آخرت میں بھی ہوسکتا ہے۔

.
مکمل نوٹس کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں

No comments:

Post a Comment