![]() |
(نوٹس برائے خطبہ جمعہ ودرس)
جس طرح ہم نماز کے مسائل اچھی طرح سیکھتے ہیں تاکہ ہماری نماز سنت کے مطابق ہو اسی طرح زکاۃ کے مسائل بھی ہمیں سیکھنا چاہئے تاکہ اس میں غلطی نہ ہو ۔ زکاۃ کے مسائل نہ سیکھنے کے سبب لوگ زکاۃ کی ادائیگی میں کئی طرح کی غلطی کرتے ہے جن میں بعض غلطیاں ایسی ہیں جن کے اتکاب سے زکاۃ ادا ہی نہی ہوتی ہے ۔
آگے ہم ادائیگی زکاۃ سے متعلق دس غلطیاں پیش کریں جو ہمارے یہاں رائج ہیں ۔
① زکاۃ اور پرسینٹیج پر چندہ
امام ابن عبد البر رحمه الله (المتوفى 463) فرماتے ہیں:
« وأما قوله عز و جل ﴿وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ [ التوبة 60] فلا خلاف بين فقهاء الأمصار أن العامل على الصدقة لا يستحق جزءا معلوما منها ثمنا أو سبعا أو سدسا وإنما تعطى بقدر عمالته »
”جہاں تک اللہ تعالی کے فرمان ﴿وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ کی بات ہے ، تو تمام شہروں کے فقہاء کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ زکاۃ کا عامل متعین پرسنٹ کا مثلا بارہ پرسنٹ (12.5) یا چودہ پرسنٹ (14.28) یا سولہ پرسنٹ (16.67) کا مستحق نہیں ہے بلکہ اسے اسکی محنت کے بقدر ہی دیا جاسکتا ہے۔“ [الاستذكار 3/ 211]
معلوم ہوا کہ زکاۃ وصولنے والوں کا وصول کردہ مال سے پرسینٹیج لینا بالاجماع حرام وناجائز ہے۔
② زکاۃ ، رکن تملیک اور فقراء ومساکین
اگرفقراء ومساکین کے لئے زکاۃ وصولی جارہی ہے تو پھر سلف اور مذاہب اربعہ کے یہاں یہ بات متفق علیہ ہے کہ غرباء و مساکین کو یہ مال دے کر انہیں اس کا مالک بنانا ضروری ہے۔
.
باقی نوٹس کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں
.



No comments:
Post a Comment