دعائے شب قدر «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» کی تحقیق - Kifayatullah Sanabili website

2020-12-06

دعائے شب قدر «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» کی تحقیق



دعائے شب قدر «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» کی تحقیق
(تحریر : کفایت اللہ سنابلی)
✿ ✿ ✿
یہ حدیث مرفوعا اور موقوفا دونوں طرح مروی ہے ۔ہم سب سے پہلے مرفوع حدیث پر بات کریں گے اور اخیر میں موقوف روایت پربحث ہوگی ۔
اس موضوع پر بحث کرتے ہوئے معاصر اہل علم وباحثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے ”عبداللہ بن بریدہ“ کے سماع کا انکار کیا ہے ۔ پھر طرفین کی بحث اس نکتے پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کا یہ فیصلہ درست اور معتبر ہے یا اسے غیر مقبول اور غیر معتبر سمجھا جائے۔
لیکن اس بحث میں ہم قارئین کے سامنے اس حقیقت سے پردہ اٹھائیں گے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ کا اصلاً ایسا کوئی موقف موجود ہی نہیں کہ ”عبداللہ بن بریدہ“ کا ”ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا“ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ درحقیقت، امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اصل کلام اور ان کی کتابوں کی تمام متعلقہ عبارات کو براہ راست سامنے رکھنے کے بجائے، بعض متاخرین نے ثانوی مراجع پر زیادہ اعتبار کرلیا ، جس کی وجہ سے یہ غلط فہمی پھیل گئی۔ اس غلط فہمی سے متاثر ہو کر معاصر کئی باحثین بھی اسی نتیجے پر پہنچ گئے۔ورنہ متقدمین میں سے کوئی ایک بھی ناقد ومحدث اس موقف کا حامل نہیں ملے گا۔
اور متاخرین کی بات کریں تو رجال کی سب سے بڑی کتاب ”تہذیب الکمال“ کی اصل ”الکمال“ میں امام عبدالغنی المقدسی نے یہ صراحت کر رکھی ہے کہ عبداللہ بن بریدہ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے۔اس مسئلہ پر حوالوں کے ساتھ تفصیلی بحث قارئین آگے پڑھیں گے۔
اب آئیے ہم سب سے پہلے مرفوع حدیث اور اس کے طرق کو دیکھتے ہیں۔
مرفو ع حدیث کو اماں عائشہ سے نقل کرنے والے ”عبداللہ بن بریدہ“ ہیں ۔ اور پھر ان سے اس حدیث کو ان کے تین شاگردوں سے روایت کیا ہے۔تفصیل ملاحظہ ہو:
.
مکمل مضمون پڑھنے کے لئے نیچے کے لنک پر جائیں

.

No comments:

Post a Comment