رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش سے متعلق ایک روایت کاجائزہ - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-04-14

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش سے متعلق ایک روایت کاجائزہ




رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش سے متعلق ایک روایت کاجائزہ 
(تحریر : کفایت اللہ سنابلی)
✿ ✿ ✿ 
امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774)نے کہا:
”وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَا عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ.قَالَا: وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ.وَفِيهِ بعث، وفيه عرج به إلى السماء، وفيه هَاجَرَ، وَفِيهِ مَاتَ. فِيهِ انْقِطَاعٌ“ 
 ”جابراورابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش عام الفیل، بروز پیر بتاریخ 12 ربیع الاول ہوئی ، اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ، اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی ، اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اوراسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی ہوئی۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ یہ روایت نقل کرنے کے بعد ہی فرماتے ہیں ’’ فِيهِ انْقِطَاعٌ‘‘ یعنی اس کی سند میں انقطاع ہے“ [ البداية والنهاية ط إحياء التراث 3/ 135] 
.
آج کل بعض حضرات بڑے فخرسے یہ روایت پیش کرکے دعوی کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش 12 ربیع الاول کو ہوئی اسی پر بس نہیں بلکہ یہ لوگ اس روایت کو ایک ہی سانس میں صحیح بھی کہہ دیتے ہیں۔
اس روایت کی سند پر تو آگے بحث ہوگی سردست ایک لطیفہ سنئے ۔
 ✿ ✿ معراج بھی 12 ربیع الاول کو:
قارئین روایت مذکورہ کو بغور پڑھیں اس میں 12 ربیع الاول کو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش ہی نہیں کہا گیا ہے بلکہ اسی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:
 ”وفيه عرج به إلى السماء“ یعنی ”اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی“ ۔
حالانکہ تمام میلاد منانے والوں کا معمول ہے کہ وہ جش معراج 12 تاریخ کو نہیں بلکہ رجب کی 27 تاریخ کو بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں اور ببانگ دہل اعلان کرتےہیں کہ اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گی ۔اب اگر کوئی شخص روایت مذکورہ کو ماہ رجب میں پیش کرے تو اسے ضعیف کہنے میں یہ حضرات ایک پل کی تاخیر نہیں کریں گے۔یعنی ان کے نزدیک روایت مذکورہ، ہر سال ماہ ربیع الاول میں توصحیح رہتی ہے مگر ماہ رجب میں ضعیف ہوجاتی ۔
.
تقریبا ایسا ہی طرزعمل یہ حضرات بخاری کی اس حدیث کے ساتھ اپناتے ہیں جس میں ہے کہ آپ یوم عاشورآء کاروزہ رکھتے تھے اور اس کاحکم بھی فرمایاتھا،کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضر ت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کوفرعون اور اس کے لشکر سے نجات دلائی تھی ۔
یہ حضرات اس حدیث کو ربیع الاول میں بڑے زور و شورسے بیان کرتے ہیں اوراس سے میلاد کا جواز کشیدکرتے ہیں، لیکن محرم میں یہ حدیث ان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔
حالانکہ بخاری کی اس حدیث کا اصل تعلق محرم ہی سے ہے ، اوراس میں جس سنت کا بیان ہے وہ ہے عاشورآء کے دن روزہ رکھنا،لیکن افسوس ہے کہ ان لوگوں نے بڑی بے دردی سے اس سنت کاگلاگھونٹ دیاہے ،چنانچہ جب محرم میں عاشورآء کایہ دن آتاہے تو یہ لوگ اس دن روزہ رکھنے کے بجائے کھانے پینے کاکچھ زیادہ ہی اہتمام کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو پکڑپکڑ کرشربت پلاتے ہیں ،اور اس دن انہیں یہ حدیث یاد نہیں آتی ،بلکہ یاددلانے پربھی اس طرف متوجہ نہیں ہوتے ،لیکن حیرت ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں یہی حدیث ان کی نظر میں بہت اہم ہوجاتی ہے ،حالانکہ اس مہینے سے اس حدیث کاکوئی تعلق ہی نہیں ہے!سوال یہ ہے کہ جن کی نظرمیں مذکورہ حدیث کی اصل تعلیم قابل عمل نہیں ہے وہ اسی حدیث سے دیگر چیزیں ثابت کرنے کی جرأت کیسے کرتے ہیں ؟؟؟
اسی طرح زیرتحقیق روایت میں معراج کی تاریخ 12 تاریخ کوبتائی گئی ہے یہ حدیث انہیں صرف ربیع الاول ہی میں یاد رہے گی ماہ رجب میں یہی حدیث ان کے نظر میں بے وقعت ہوکر مردود ہوجائے گی۔
.
 ✿ ✿ وفات رسول بھی 12 ربیع الاول کو:
قارئین اسی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں:
 ”وَفِيهِ مَاتَ“ یعنی ”اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی ہوئی“ [البداية والنهاية ط إحياء التراث 3/ 135]۔
جبکہ میلاد منانے والے آج کل اس کا انکار کررہے ہیں اورلوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ 12 ربیع الاول صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی تاریخ ہے نہ کہ وفات(ان کے الفاظ میں وصال ) کی۔
.
 ✿ ✿ وفات رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
مذکورہ حدیث میں صاف طورسے لکھا ہوا ہے :
 ”وَفِيهِ مَاتَ“ یعنی ”اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی ہوئی“ [البداية والنهاية ط إحياء التراث 3/ 135]۔
یعنی اس تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وفات پاچکے ہیں مگرمیلاد منانے والے حضرات لوگوں کو یہ عقیدہ سکھارہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں ، بلکہ روایت مذکوہ میں دو صحابہ جابر و ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے جو یہ بات ہے کہ ’’وَفِيهِ مَاتَ‘‘ یعنی اسی تاریخ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ۔ اگر یہی بات کوئی دوسرا کہے تو یہ حضرات اسے گستاخ رسول کہتے ہیں۔
.
 ✿ ✿ روایت مذکورہ کی تضعیف اہل فن سے:
 ① امام جوزقاني رحمه الله (المتوفى 543):
امام جوزقانی نے اس روایت کو اپنی کتاب ”الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير“ (1/ 267) میں نقل کیا ہے اوراسے صحیح نہیں کہا ہے معلوم ہواکہ یہ روایت ان کے نزدیک باطل ہے۔
 ② شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728):
امام ابن قيم رحمه الله (المتوفى751) اپنے استاذ ابن تیمہ رحمہ اللہ (المتوفى728) سے نقل کرتے ہیں:
 ”هَذَا إذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْإِسْرَاءِ تُعْرَفُ عَيْنُهَا فَكَيْفَ وَلَمْ يَقُمْ دَلِيلٌ مَعْلُومٌ لَا عَلَى شَهْرِهَا وَلَا عَلَى عَشْرِهَا وَلَا عَلَى عَيْنِهَا بَلْ النّقُولُ فِي ذَلِكَ مُنْقَطِعَةٌ مُخْتَلِفَةٌ لَيْسَ فِيهَا مَا يُقْطَعُ بِهِ“ [زاد المعاد 1/ 57]۔
معلوم ہوا کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک معراج کی تاریخ بتلانے والی تمام روایات بشمول روایت مذکورہ ضعیف ہیں ، یادر رہے کہ روایت مذکورہ میں تاریخ معراج اورتاریخ پیدائش دونوں کا ذکرہے۔
 ③ امام ابن كثير رحمه الله (المتوفى774) :
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے پوری صراحت کے ساتھ اس روایت کو منقطع یعنی ضعیف قراردیا ہے، آپ نے اپنی کتاب میں جہاں اس روایت کونقل کیا ہے وہی فورا ہی کہا ہے:
’’ فِيهِ انْقِطَاعٌ‘‘ یعنی ”اس کی سند میں انقطاع ہے“ [البداية والنهاية ط إحياء التراث 3/ 135]۔
.
 ✿ ✿ وجہ ضعف:
رویت مذکورہ کی سند یہ ہے:
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى: 235)نے کہا:
 ”حَدَّثَنَا عُثْمَانُ[کذا والصواب عفان کما فی نقول اخری] عَنْ (؟) سَعِيدِ بْنِ مِينَا عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ.قَالَا: وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ الثَّانِيَ عَشَرَ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ.وَفِيهِ بعث، وفيه عرج به إلى السماء، وفيه هَاجَرَ، وَفِيهِ مَاتَ. فِيهِ انْقِطَاعٌ“ [البداية والنهاية ط إحياء التراث 3/ 135]۔
.
اس سند کے سارے راوی بخاری ومسلم کے راوی ہیں ، لیکن سند میں انقطاع ہے۔
 ”عفان بن مسلم بن عبد الله الباهلى“ کا سماع ”سعيد بن ميناء المكى“ سے ثابت نہیں ہے، بلکہ اس کے برخلاف:
 ➊ اولا:
عام کتب احادیث میں ”عفان بن مسلم“ اور ”سعیدبن میناء“ کے طریق سے جو بھی سندیں ہیں تمام میں ان دونوں کے مابین ایک راوی کا واسطہ ہو ، مثلا :
 ⟐ وَقَالَ عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ وَفِرَّ مِنْ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنْ الْأَسَدِ[صحيح البخاري: 14/ 340]۔
 ⟐ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاء، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُعَاوَمَةِ - وَقَالَ أَحَدُهُمَا: وَبَيْعِ السِّنِينَ - وَعَنْ الثُّنْيَا، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا [مسند أحمد: 23/ 188]۔
 ➋ ثانیا:
سعیدبن میناء تابعی ہیں ، اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں تیسرے طبقہ کا بتلایا ہے، حافظ موصوف فرماتے ہیں:
 ”سعيد ابن مينا مولى البختري ابن أبي ذباب الحجازي مكي أو مدني يكنى أبا الوليد ثقة من الثالثة“ [تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 241]۔
اور تیسرے طبقہ سے حافظ ابن حجرکی مراد تابعین کا متوسط طبقہ ہے، جیساکہ حافظ ابن حجرنے خود کہا:
 ”الثالثة: الطبقة الوسطى من التابعين، كالحسن وابن سيرين“ .[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 1]۔
اورعفان بن مسلم کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دسویں طبقہ کا بتلایا ہے، حافظ موصوف فرماتے ہیں:
 ”عفان ابن مسلم ابن عبدالله الباهلي أبو عثمان الصفار البصري ثقة ثبت قال ابن المديني كان إذا شك في حرف من الحديث تركه وربما وهم وقال ابن معين أنكرناه في صفر سنة تسع عشرة ومات بعدها بيسير من كبار العاشرة ع“ [تقريب التهذيب لابن حجر: 2/ 393]۔
اور دسویں طبقہ سے حافظ ابن حجرکی مراد اتباع تابعین کے شاگرد ہیں ، جن کی ملاقات تابعین سے ثابت ہی نہیں ہے، جیساکہ حافظ ابن حجرنے خود کہا:
 ”العاشرة: كبار الآخذين عن تبع الأتباع، ممن لم يلق التابعين، كأحمد بن حنبل“ .[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 1]۔
معلوم ہوا کہ عفان بن مسلم کا سماع سعيد بن ميناء سے ممکن ہی نہیں ہے۔
 ➌ ثالثا:
رجال کی کسی بھی کتاب میں نہ تو ”عفان بن مسلم“ کے اساتذہ میں ”سعيد بن ميناء“ کا تذکرہ ہے اورنہ ہی ”سعيد بن ميناء“ کے تلامذہ میں ”عفان بن مسلم“ کا ذکرہے۔
 ➍ رابعا:
امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے پورے جزم کے ساتھ روایت مذکورہ کو منقطع قرار دیا ہے ، یعنی ابن کثیر رحمہ کے نزدیک بھی عفان بن مسلم کا سماع سعيد بن ميناء سے ثابت نہیں ہے۔
.
 ✿ ✿ تنبیہ :
خطیب بغدادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
 ”والآخر سعيد بن ميناء أبو الوليد المكي ، سمع جابر بن عبدالله وأبا هريرة وعبدالله بن الزبير روى عنه سليم بن حيان وزيد بن أبي أنيسة.
 أخبرنا القاضي أبو بكر أحمد بن الحسن الحيري حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم حدثنا إبراهيم بن مرزوق حدثنا عفان بن مسلم حدثنا سعيد بن ميناء قال سمعت أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم لخلوف فم الصائم أطيب عند الله يوم القيامة من ريح المسك.“ [المتفق والمفترق للخطيب البغدادي 1/ 110]۔
ممکن ہے کوئی کہے کہ اس روایت سے معلوم ہوا کہ ”عفان بن مسلم“ نے ، ”سعیدبن میناء“ سے سنا ہے کیوکہ اس سند میں ”سعیدبن میناء“ اس کا استاذ ہے اور ”عفان“ سے تحدیث کی صراحت بھی کردی ہے ۔
.
تو عرض ہے کہ اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کیونکہ اس سند میں ناسخ کی غلطی کے وجہ سے ”عفان“ اور ”سعید“ کے بیچ کا ایک راوی ساقط ہوگیا ہے، اس کے بہت سارے دلائل ہیں ، مثلا:
 ① اولا:
اوپر یہ تفصیل پیش کی جاچکی ہے کہ ”عفان“ دسویں طبقہ کے راوی ہیں اور ”سعید“ تیسرے طبقہ کےراوی ہیں لہٰذا ان دونوں کی ملاقات ممکن ہی نہیں ۔
 ② ثانیا:
خطیب بغدادی نے اس روایت کو درج کرنے سے پہلے ”سعیدبن مینا“ کے شاگردوں کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
 ”روى عنه سليم بن حيان وزيد بن أبي أنيسة“ . [المتفق والمفترق 2/ 1087]۔
غورکریں کہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ اسی روایت سے قبل ”سعید بن میناء“ کے شاگردوں کا تذکرہ کررہے ہیں مگر ان میں ”عفان بن مسلم“ کو نہیں شمار کررہے ہیں ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس روایت میں بھی ”عفان بن مسلم“ ، ”سعید بن میناء“ کا شاگرد نہیں ہے ، ورنہ خطیب بغدادی ”سعیدبن میناء“ سے شاگردوں میں ”عفان بن مسلم“ کا بھی تذکرہ کرتے ۔
 ③ ثالثا:
نیز اس روایت سے قبل خطیب بغدادی نے سعید کے شاگردوں میں سليم بن حيان کا تذکرہ کیا ہے ، اورسليم بن حيان ، سعیدبن میناء کا شاگردہونے کے ساتھ ساتھ عفان بن مسلم کا استاذ بھی ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ یہاں اس روایت میں اسی کا نام ناسخ سے چھوٹ گیا ۔
 ⟐ اس کی ایک زبردست دلیل یہ ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اسی روایت کی اسی سند اورمتن سے روایت کیا ہے اورامام احمد کی بیان کردہ سند میں ع ”فان بن مسلم“ اور ”سعیدبن میناء“ کے بیچ میں سليم بن حيان کا واسطہ موجود ہے ۔
ملاحظہ ہو امام احمدکی روایت اسی سند ومتن سے :
 ”حَدَّثَنَا عَفَّان(بن مسلم)، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلِيم(بن حیان) قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ(بن میناء)، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ“ [مسند أحمد: 15/ 158]۔
.
 ✿ ✿ زیر تحقیق راویت کی سندسے ساقط راوی نا معلوم ہے:
اوپربتایا جاچکاہے کہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے مصنف ابن ابی شیبہ سے جو راویت نقل کی ہے وہ منقطع ہے یعنی ”عفان بن مسلم“ اور ”سعیدبن میناء“ کے درمیان سے ایک راوی ساقط ہے جو نامعلوم ہے ۔
لیکن امام جوزقانی سے اپنی سند سے ابن ابی شیبہ کے طریق سے یہی راویت نقل کی ہے اور ان کی نقل کردہ سند میں انقطاع نہیں ہے بلکہ ”عفان“ اور ”سعیدبن میناء“ کے درمیان
 ”سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ“ نامی ثقہ راوی کا ذکرہے۔
ملاحظہ ہو یہ یہ مکمل روایت:
 ”أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عِيسَى، إِمْلَاءً، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَا، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: «وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفِيلِ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، الثَّانِي عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ، وَفِيهِ بُعِثَ، وَفِيهِ عَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ، وَفِيهِ هَاجَرَ، وَفِيهِ مَاتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ [الأباطيل والمناكير للجورقاني: 1/ 267]۔
لیکن یہ سند بھی بے سود ہے ، کیونکہ:
 ① اولا:
ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ کی روایت کو ان کی کتاب مصنف سے نقل کیا ہے اوراصل کتاب میں سند منقطع ہے جیساکہ خودابن کثیر رحمہ اللہ نے وضاحت کردی ہے لہٰذا کتاب سے بیان کردہ بات گو حفظ سے بیان کردہ بات پر ترجیح حاصل ہوگی۔
 ② ثانیا:
امام جوزقانی کی سند میں ان کے استاذ ’’محمد بن طاهر‘‘ متکلم فیہ ہیں ، ان پر جرح ہوئی ہے:
 ● امام أبو الفضل ابن ناصر رحمه الله (المتوفى 550)نے کہا:
 ”محمد بن طاهر لا يحتج به“ [المنتظم لابن الجوزی : 9/ 178]۔
 ● امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى:571)نے کہا:
 ”وكانت له مصنفات كثيرة إلا أنه كان كثير الوهم“ [تاريخ دمشق لابن عساكر 53/ 281]۔
 ● امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى:597)نے کہا:
 ”من اثنى عليه فلأجل حفظه للحديث والا فالجرح اولى به ذكره“ [المنتظم لابن الجوزی: 9/ 178]۔
 ● امام ذهبي رحمه الله (المتوفى:748)نے کہا:
 ”ليس بالقوى، فإنه له أوهام كثيرة في تواليفه“ .[ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 587]۔
 ● حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) نے بھی یہی بات کہی ہے[لسان الميزان لابن حجر: 7/ 211]۔
لہٰذا جب یہ متکلم فیہ راوی ہیں تو ان کی بیان کردہ سند چونکہ ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ کی کتاب مصنف میں مندرج سند سے مختلف ہے اس لئے ان کی روایت ناقابل التفات ہے۔
.
 ✿  ✿  ✿ 
خلاصہ بحث:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ پیدائش 12 ربیع الاول بتلانے والی روایت مذکورہ منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔
(کفایت اللہ سنابلی)

No comments:

Post a Comment