کیا ”ابن عمر رضی اللہ عنہ“ نے ”امیر معاویہ رضی اللہ عنہ“ کے گروہ کو ”باغی“ کہا ؟ - Kifayatullah Sanabili Official website

2019-08-22

کیا ”ابن عمر رضی اللہ عنہ“ نے ”امیر معاویہ رضی اللہ عنہ“ کے گروہ کو ”باغی“ کہا ؟


کیا ”ابن عمر رضی اللہ عنہ“ نے ”امیر معاویہ رضی اللہ عنہ“ کے گروہ کو ”باغی“ کہا ؟
”کفایت اللہ سنابلی“
 ✿  ✿  ✿
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف جو غلط باتیں منسوب کی گئی ہیں انہیں میں سے ایک یہ ہے کہ ”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ“ نے ان کے گروہ کو ”باغی“ کہا ہے ۔اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ کیا واقعی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ”امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ“ سے متعلق کہی ہے ؟
دراصل ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے آخری عمر میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ”باغی گروہ“ کے خلاف قتال نہیں کیا ، اس کی بنا پر بعض نے یہ کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو باغی کہا اور ان کے خلاف قتال نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ، چنانچہ :

أبو عبد الله شمس الدين القرطبي رحمه الله (المتوفى671) فرماتے ہیں:
”ندم بعضهم على ترك ذلك كعبد اللّه بن عمر فإنه ندم على تخلّفه عن نصرة علي بن أبي طالب رضي اللّه عنه فقال عند موته: «ما آسى على شي ء ما آسى على تركي قتال الفئة الباغية»، يعني فئة معاوية“ 
 ”بعض ترک قتال پر نادم ہوئے جیسے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا معاملہ ہے ، یہ علی رضی اللہ عنہ کی نصرت سے پیچھے رہ جانے پر نادم ہوئے چنانچہ انہوں نے اپنی وفات کے وقت کہا: «مجھے اس سے زیادہ کسی پرافسوس نہیں کہ میں نے باغی گروہ سے قتال کو ترک کردیا » ان کی مراد معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ ہے“ [التذكرة في أحوال الموتى و أمور الآخرة 2/ 271]

عرض ہے کہ یہ بات قطعا درست نہیں ہے ، کیونکہ امام قرطبی رحمہ اللہ نے جس روایت کی بنیاد پر یہ بات کہی ہے وہ ثابت ہی نہیں ہے بلکہ ثابت شدہ روایت میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس باغی گروہ کی تعیین عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود گروہ سے کی ہے نہ کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ سے اوران کی مراد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ذات نہیں بلکہ وہ گروہ ہے جو باہر سےآگر ان کے ساتھ گھڑا ہوگیا تھا ، تفصیلات ملاحظہ ہوں:

سب سے پہلے  یہ واضح ہو کہ ہم  نہ تو ”امیر معاویہ رضی اللہ عنہ“ کو ”باغی“ مانتے ہیں اور نہ ہی ”عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ“ کو، کیونکہ ان دونوں میں سے کسی نے بھی خلیفہ وقت کی بیعت کی ہی نہیں تھی ، اس لئے ان کی مخالفت پر بغاوت کا اطلاق نہیں ہوسکتا ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ وہ اصلا باغی اس گروہ کو کہہ رہے ہیں جو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، کیونکہ انہوں نے ایک ”فرد“ کو نہیں بلکہ ایک ”گروہ“ کو باغی کہا ہے ، لیکن چونکہ وہ سب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل گئے تھے اس لئے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا نام لیا ۔
ہرحال عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کی مخالفت کا پس منظر کیا تھا؟ اوران کا ساتھ کھڑے ہونے والے حقیقت میں کون لوگ تھے ؟ یہ ایک الگ بحث ہے جس سے ہم صرفِ نظر کرتے ہیں ،اس مضمون میں ہم صرف یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس موقع پرعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے جس گروہ کو باغی قراردیا اوران کے خلاف قتال نہ کرنے پرافسوس ظاہرکیا وہ گروہ بتصریح ابن عمر رضی اللہ عنہ  کون ساتھا؟سب سے پہلے اس سلسلے کی ایک بالکل صحیح روایت ملاحظہ ہو:

امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458) نے کہا:
”حدثنا أبو عبد الله الحافظ إملاء حدثنا أبو عبد الله : محمد بن عبد الله الزاهد حدثنا أحمد بن مهدى بن رستم حدثنا بشر بن شعيب بن أبى حمزة القرشى حدثنى أبى ح وأخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أخبرنا عبد الله بن جعفر بن درستويه حدثنا يعقوب بن سفيان حدثنا الحجاج بن أبى منيع حدثنا جدى وحدثنا يعقوب حدثنى محمد بن يحيى بن إسماعيل عن ابن وهب عن يونس جميعا عن الزهرى وهذا لفظ حديث شعيب بن أبى حمزة عن الزهرى أخبرنى حمزة بن عبد الله بن عمر : أنه بينما هو جالس مع عبد الله بن عمر إذ جاءه رجل من أهل العراق فقال : يا أبا عبد الرحمن إنى والله لقد حرصت أن أتسمت بسمتك وأقتدى بك فى أمر فرقة الناس وأعتزل الشر ما استطعت وإنى أقرأ آية من كتاب الله محكمة قد أخذت بقلبى فأخبرنى عنها أرأيت قول الله تبارك وتعالى ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾[الحجرات: 9] أخبرنى عن هذه الآية فقال عبد الله : وما لك ولذاك؟ انصرف عنى فانطلق حتى توارى عنا سواده أقبل علينا عبد الله بن عمر فقال : ما وجدت فى نفسى من شىء من أمر هذه الأمة ما وجدت فى نفسى أنى لم أقاتل هذه الفئة الباغية كما أمرنى الله عز وجل، زاد القطان فى روايته قال حمزة فقلنا له : ومن ترى الفئة الباغية؟ قال ابن عمر : ابن الزبير بغى على هؤلاء القوم فأخرجهم من ديارهم ونكث عهدهم .  .  . “
 ”حمزہ بن عبداللہ بن عمرکہتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس عراق سے ایک شخص آیا اور کہا:اے ابوعبدالرحمن! واللہ میں اس بات کاحریص ہوں کہ آپ کے نقش قدم پرچلوں اورلوگوں کے اختلاف کے معاملہ میں آپ کی پیروی کروں اورجہاں تک ہوسکے فساد سے الگ تھلگ رہوں ۔لیکن میں قرآن مجید کی ایک محکم آیت پڑھتاہوں تو دل میں کچھ کھٹکتاہے تو آپ اس آیت کے بارے میں مجھے بتادیں! آپ کا اس آیت کے بارے میں کیا خیال ہے(اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میںلڑ پڑیں تو ان میں ملاپ کرا دیا کرو، پھر اگر ان دونوں میں ا سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے ،اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دواور عدل کرو بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)(الحجرات:۹)۔اس آیت کی تفسیر مجھے بتلائیں ! توعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے کہا: یہ جان کرکیا کرو گے ؟ جاؤ یہاں سے ۔پھروہ شخص چلا گیا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔ اس کے بعدعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ ہماری جانب متوجہ ہوئے اورکہا: اس امت کے معاملات میں سے کسی معاملہ پرمجھے اتنا افسوس نہیں ہواجنتا اس بات پرافسوس ہوا کہ میں نے اس باغی جماعت سے قتال کیوں نہیں کیا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔حسین بن القطان نے مزید بیان کیا کہ :حمزہ نے کہا: ہم نے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کس کو باغی جماعت سمجھتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:ابن زبیررضی اللہ عنہ (یعنی ان کے ساتھ موجود گروہ) نے اس قوم کے خلاف بغاوت کی ہے انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا ، ان کا عہد توڑ دیا ۔۔۔“ [ السنن الكبرى للبيهقي، ط الهند: (8/ 172) وإسناده صحيح وأخرجه أيضا ابن عساكر في ”تاريخه“ ( 31/ 193) من طرق عن الزهري به ونقله الحافظ في الفتح (13/ 72)]

اس روایت کی سند صحیح ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کے ابتدائی حصہ کو شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے نقل کیا ہے اور آخری حصہ کو ابن القطان کے طریق سے نقل کیا ہے اوران دونوں طریق کی مکمل سند بالکل صحیح ہے۔
 ● ’’أحمد بن محمد بن مہدی بن رستم ‘‘:یہ’’ أحمد بن مہدی بن رستم أبو جعفر الأصبہانی المدنی‘‘ ہیں۔
 ● ’’حجاج بن ابی منیع ‘‘:یہ’’ حجاج بن یوسف بن عبید اللہ بن أبی زیاد‘‘ ہیں ، ان کے دادا ’’عبید اللہ بن أبی زیاد الرصافی ‘‘ہیں ۔ 
بقیہ رجال معروف ومشہورہیں اوریہ سب کے سب ثقہ راوی ہیں دیکھیں عام کتب رجال۔
یہ روایت بالکل صحیح ہے اس سے واضح ہوجاتاہے کہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ جس گروہ کے خلاف عدم قتال پرافسوس کررہے تھے وہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ قطعا نہیں تھا۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے یہ روایت پیش کی پھر اس کو دلیل بناتے ہوئے اس  میں مذکور بات ہی کو درست کہا ہے دیکھیں:[تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 5/ 465]

لیکن بعض رواۃ نے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کے اس بیان کو بدل کریوں کردیا کہ ابن عمررضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین کو باغی سمجھ کران کے خلاف قتال نہ کرنے پر افسوس کرتے تھے۔اب ہم اس روایت کی حقیقت واضح کرتے ہیں ، یہ کل دو روایات ہیں:

✿ پہلی روایت:
امام طبرانی رحمہ اللہ نے متعدد طرق سے نقل کرتے ہوئے کہا:
”حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا علي بن حكيم الأودي . وحدثنا الحسين بن جعفر القتات الكوفي ثنا منجاب بن الحارث .وحدثنا أحمد بن عمرو القطراني ثنا محمد بن الطفيل ثنا شريك عن فطر بن خليفة عن حبيب بن أبي ثابت عن ابن عمر قال ما أجدني آسى على شيء إلا أني لم أقاتل الفئة الباغية مع علي“ 
 ”عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا مجھے اس سے زیادہ کسی پرافسوس نہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ باغی گروہ سے قتال نہیں کرسکا“ [المعجم الكبير للطبراني 13/ 145]

یہ روایت گذشتہ سطور میں پیش کردہ بیہقی کی صحیح روایت کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ ضعیف ومنکر اورباطل ہے ۔
اس کے تمام طرق کادارومدار ”حبیب بن ابی ثابت“ پر ہے اورحبیب کا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے لہٰذا یہ روایت منقطع ہے، اسی لئے امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہا:
 ”فهذا منقطع“  ، ”یہ روایت منقطع ہے“ [سير أعلام النبلاء للذهبي: 3/ 231]

بلکہ اسی روایت کے ایک طریق میں حبیب نے اپنے اورابن عمررضی اللہ عنہ کی بیچ ایک نامعلوم واسطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
”بلغني عن ابن عمر“ 
”یعنی کسی شخص کے ذریعہ ابن عمررضی اللہ عنہ کی یہ بات مجھ تک پہنچی ہے“ [الطبقات الكبرى ط دار صادر 4/ 187]۔
یہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ یہ روایت منقطع ہے اور ساقط راوی نام معلوم ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے بھی  اس روایت کے پیش نظر اس کے منقطع ہونے ہی کا فیصلہ کیا ہے دیکھیں :[العلل للدارقطني، ت محفوظ السلفي: 12/ 429]
مزید یہ کہ ”حبیب بن ابی ثابت“ نے ”عن“ سے روایت کیا ہے اور یہ بکثرت تدلیس کرنے والے ہیں حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے انہیں تیسرے طبقہ میں ذکرکرتے ہوئے کہا:
 ”یکثر التدلیس“ ، ”یہ کثرت سے تدلیس کرتے تھے“ [طبقات المدلسین لابن حجر ت القریوتی:ص37]
رہی بات یہ ہے کہ امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اس روایت کو مجمع الزوائد میں نقل کرتے ہوئے کہا کہ:
”رواه الطبراني بأسانيد، وأحدها رجاله رجال الصحيح“ 
 ”اسے طبرانی نے کئی سندوں سے روایت کیا ہے اور اس کی ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں“ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد 7/ 242]
توعرض ہے کہ اول تو اس کے تمام رجال صحیح کے رجال نہیں ہیں لہٰذا یہ امام ہیثمی رحمہ اللہ کا وہم ہے دوسرے یہ کہ صحیح کے رجال بتلانا یہ روایت کی تصحیح نہیں ہے کیونکہ سند منقطع بھی ہوسکتی ہے ۔اوریہاں سند منقطع ہے،جیساکہ وضاحت کی گئی اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس سند کو منقطع بتلایا ہے۔

✿ دوسری روایت:
امام أبو زيد عمر بن شبة (المتوفى 262) نے کہا:
”حدثنا أبو أحمد، حدثنا عبد الجبار بن العباس، عن أبي العنبس، عن أبي بكر بن أبي الجهم، قال: سمعت ابن عمر يقول: ما آسى على شيء إلا تركي قتال الفئة الباغية مع على“ 
 ”ابوبکر بن ابی الجھم نے کہا کہ میں نے ابن عمررضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ : مجھے اس سے زیادہ کسی پرافسوس نہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ باغی گروہ سے قتال کرنے سےاجتناب کیا“ [الإستيعاب لابن عبد البر: 3/ 953]

سب سے پہلے ایک الزامی بات ذکر کردیں کہ یزید کے مخالفیں کے اصول سے یہ روایت اصلا ثابت ہی نہیں کیونکہ جب ہم امام ذہبی و ابن کثیر کے ذریعہ امام مدائنی کی مع سند روایت پیش کرتے تو مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ امام ذہبی وابن کثیرنے مدائنی کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
اس اصول سے مخالفین کی نظر میں یہ روایت بھی غیر ثابت ہونی چاہئے کیونکہ اسے  امام ابن عبد البر رحمه الله (المتوفى463) نے امام أبو زيد عمر بن شبة (المتوفى 262) سے نقل کیا ہے اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
لیکن ہم یہ اعتراض نہیں کرتے کیونکہ ہماری نظر میں اس طرح کے مقامات پر ائمہ کتاب سے نقل کرتے ہیں ۔
اب ذیل میں اس روایت کے ضعیف ہونے کی اصل تفصیلات دیکھیں:

یہ جھوٹی روایت ہے اس کی سند میں موجود ”عبد الجبار بن العباس“ کذاب راوی ہے ۔
 ● امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354) نے کہا:
 ”كان ممن ينفرد بالمقلوبات عن الثقات وكان غاليا في التشيع“ 
 ”یہ ثقہ رواۃ سے الٹ پلٹ باتیں نقل کرتا تھا اور غالی قسم کا شیعہ تھا“ [المجروحين لابن حبان، تزايد: 2/ 159]
امام ابن حبان رحمہ اللہ کے اس  کلام کا مصداق اس راوی کی یہ روایت بھی کیونکہ صحیح روایت کے مطابق ابن عمررضی اللہ عنہ نے باغی گروہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی جماعت کو کہاہے جبکہ اس شیعی راوی نے اس بات کو پلٹ دیا اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کا نام ذکرکردیا ۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب ”الثقات“ میں ایک دوسرے راوی کے ترجمہ کے ضمن میں اس کی روایات کو غیر معتبر قراردیا ہے [الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 7/ 272]
 ● اور اس کے شاگرد امام ابونعیم ہی سے نقل کیا کہ:
 ”لم يكن بالكوفة أكذب من عبد الجبار بن العباس وأبي إسرائيل الملائي“ 
 ”کوفہ میں ”عبد الجبار بن العباس“ اور ”ابو إسرائيل الملائي“ سے جھوٹا کوئی نہ تھا“ [المجروحين لابن حبان، تزايد: 2/ 159]
 ● ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597) اس کی ایک حدیث سے متعلق فرماتے ہیں:
 ”هذا حديث موضوع، والمتهم بوضعه عبد الجبار فإنه كان من كبار الشيعة“ 
 ”یہ من گھڑت حدیث ہے ، اور اس کے گھڑنے میں عبدالجبار ہی متہم ہے کوینکہ یہ بہت بڑا شیعہ تھا“ [الموضوعات لابن الجوزي، ت شكري: 2/ 242]
 ● برهان الدين الحلبي (المتوفى 841 ) نے اس کا تذکرہ ان لوگوں میں کیا ہے جن پر حدیث گھڑنے کا الزام ہے اس کے بعد کہا:
 ”مختلف فيه والأكثر على تجريحه“ 
 ”یہ مختلف فیہ راوی ہے اور اکثر نے اس پر جرح کی ہے“ [الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث ص: 162]
معلوم ہوا کہ برھان الدین حلبی رحمہ اللہ کی نظر میں یہ راوی جمہور کی نظر میں مجروح ہے اور توثیق کرنے والے کم لوگ ہیں ۔
نیز جارحین کی جرح مفسر ہے اس لئے ان کی جرح ہی راجح ہے ۔
 ● علامہ مقبل بن هادي الوادعي رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”فالرجل تالف إذ جرج مفسرًا“ 
 ”یہ راوی برباد ہے کیونکہ اس پر مفسر جرح کی گئی ہے“ [کتاب الشفاعة للعلامہ مقبل بن ھادی ص: 81]

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت سخت ضعیف ہے۔

 ⟐ تنبیہ بلیغ:
واضح رہے کہ اگر مذکورہ دونوں روایات کو صحیح بھی مان لیں تو اس میں صرف یہ ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کے مخالف گروہ کو باغی کہا اور ان کے خلاف ترک قتال پر افسوس ظاہر کیا ہے ۔
لیکن صرف امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ ہی علی رضی اللہ عنہ کے مخالف نہ تھا بلکہ خوارج کا گروہ بھی ان کے مخالف تھا اور علی رضی اللہ عنہ سے ان کی بغاوت متفق علیہ ہے اس لئے مذکورہ روایات کو صحیح فرض کرنے کی صورت میں خوارج کا یہی گروہ ہی ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول کا مصداق ہوگا نہ کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ جو باغی تھا ہی نہیں ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان روایات کا یہی مطلب بتایا ہے چنانچہ لکھتے ہیں:
”واتفقت الصحابة على قتال الخوارج حتى ان ابن عمر مع امتناعه عن الدخول في فرقة كسعد وغيره من السابقين ولهذا لم يبايعوا لأحد الا في الجماعة قال عند الموت «ما آسى على شيء إلا على أني لم أقاتل الطائفة الباغية مع علي» يريد بذلك قتال الخوارج“ 
”خوارج کے قتال پر صحابہ متفق تھے حتی کہ ابن عمررضی اللہ عنہ ، جو سعدرضی اللہ عنہ اور ان جیسے دیگر سابقون صحابہ کی طرح اختلاف سے دور رہے اور اسی سبب جب تک کسی پر اتفاق نہ ہوا اس کی بیعت نہ کی ، یہی ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت کہا: ”مجھے اس سے زیادہ کسی پرافسوس نہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ باغی گروہ سے قتال نہیں کیا“ ، یعنی خوارج سے قتال“ [النبوات لابن تیمیہ ص: 139]

❀ نوٹ:
بعض روایات ایسی ہیں جن میں صرف باغی گروہ کا ذکرہے ، اس کی تعین روایت کے اندر موجود نہیں ہے ، اور شروع میں بیہقی کی صحیح روایت کی روشنی میں اس کی تعین ابن زبیررضی اللہ عنہ کے گروہ سے ہی کی جائے گی ۔
لیکن اس کی طرح کی ایک مجمل روایت کو نقل کرکے بعد کے کسی راوی نے اپنی طرف سے یہ تعیین کردی کی اس سے مراد حجاج بن یوسف کا گروہ ہے چنانچہ:
أبو بكر ابن أبي الدنيا رحمہ اللہ (المتوفى 281 ) نے کہا:
”حدثنا محمد بن عبيد الله قال: حدثنا روح بن عبادة قال: حدثنا العوام بن حوشب، عن عياش العامري، عن سعيد بن جبير قال: لما حضرت ابن عمر الوفاة قال: ما آسى على شيء إلا على ظمأ الهواجر ومكابدة الليل، وأني لم أقاتل الفئة الباغية التي نزلت بنا, يعني الحجاج“ [المحتضرين لابن أبي الدنيا 5/ 377]

لیکن اس میں ”یعنی الحجاج“ یہ بعض رواۃ کی اپنی طر ف سے تشریح جو خود ابن عمر رضی اللہ عنہ کی صراحت کے خلاف ہونے کے سبب مردود ہے ۔
 اسی لئے امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں کہا:
 ”قلت: هذا ظن من بعض الرواة، وإلا فهو قد قال الفئة الباغية ابن الزبير كما تقدم، والله أعلم“ 
 ”میں (امام ذہبی ) کہتاہوں کہ: یہ بعض رواۃ کا اپنا خیال ہے ،ورنہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے خودیہ کہا ہے کہ باغی گروہ ابن زبیررضی اللہ عنہ کا (یعنی ان کے ساتھ موجود) گروہ ہے جیساکہ گذرا۔ واللہ اعلم“ [تاريخ الإسلام للذهبي ت تدمري 5/ 465]

اور اگر ہم اسے صحیح مان لیں تو یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے  امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کو باغی نہیں کہا ہے، کیونکہ یہاں حجاج بن یوسف اور اس کے گروہ کے باغی ہونے کا ذکر ہے ۔
.
خلاصہ یہ کہ ابن عمررضی اللہ عنہ  اپنے صریح الفاظ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کو نہیں بلکہ ایک دوسرے گروہ کو باغی کہا ہے اور ان سے قتال نہ کرنے پرافسوس کا اظہار کیا ہے ۔یہ روایت بالکل صحیح سند سے ثابت ہے اوراس کے برخلاف جن روایات میں ابن عمررضی اللہ عنہ کی مراد علی کے مخالف گروہ کو بتلایا گیا ہے وہ ثابت نہیں ، یہی امام ذہبی رحمہ اللہ کا بھی موقف ہے کما مضی .
اوربالفرض دوسری قسم کی روایات کو ثابت بھی مان لیں تو اس سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ نہیں بلکہ خوارج کا گروہ مراد ہے جیساکہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تشریح گذرچکی ہے۔
(کفایت اللہ سنابلی)

4 comments:

  1. Assam o alimony ham sheikh Saab la rascal la hawala said Rasta karna chat a ha

    ReplyDelete
  2. کیا ہمیں شیخ کا رابطہ نمبر مل سکتا ہے

    ReplyDelete
  3. آپ آفس کے نمبر پر نماز عصر تا مغرب کے بیچ کال کرسکت
    نمبر یہ ہے:
    02226500400

    ReplyDelete
  4. Allah tala tamam alam islam ko kuffaar ki sazisho se mehfooz farmaye

    ReplyDelete