{15} صحابہ سے فطرہ میں قیمت اور نقد (درہم) دینے کا ثبوت (ساتویں قسط) - Kifayatullah Sanabili Official website

2018-06-26

{15} صحابہ سے فطرہ میں قیمت اور نقد (درہم) دینے کا ثبوت (ساتویں قسط)



{15} صحابہ سے فطرہ میں قیمت اور نقد (درہم)  دینے کا ثبوت  (ساتویں قسط)
✿ ✿ ✿ ✿
بعض حضرات نے یہ دعوی کررکھا ہے کہ  فطرہ میں نقد و رقم دینے سے متعلق صحابہ سے صحیح تو کیا، کوئی ضعیف روایت بھی کسی کتاب میں منقول نہیں ہے۔
قارئین آئیے ہم آپ کو ایک نہیں دو کتاب سے وہ بھی ضعیف نہیں بلکہ صحیح سند سے روایت پیش کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نقد یعنی درہم سے فطرہ دینے کو نہ صرف جائز سمجھتے تھے بلکہ اس پران کا عمل بھی تھا ، والحمدللہ ۔
.
✿ سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ گھوڑوں اور غلاموں پر زکاۃ نہیں ہے ۔ابوہريره رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ليس على المسلم في فرسه وغلامه صدقة“ ، ”مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ واجب نہیں“[صحيح البخاري 2/ 120 ، رقم 1463]
لیکن عہد رسالت کے بعد عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں بعض مسلمانوں کو اللہ تعالی نے گھوڑے اور غلاموں کی دولت سے نواز تو انہوں از راہ تبرع و تطوع گھوڑے اور غلاموں میں بھی زکاۃ دینے کی خواہش ظاہر کی گرچہ یہ ان پر واجب نہیں تھی ، عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان کی اس پیشکش پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا، بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ اگر اسے ان کی مرضی کے مطابق ہی لیا جاتا رہے اور بعد میں اسے لازم قرارنہ  دیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ پیشکش قبول فرمالی اور ان سے گھوڑے اور غلاموں میں بھی زکاۃ وصولنے لگے لیکن ساتھ میں عمرفاروق رضی اللہ عنہ انہیں اس کے بدلے عطيات سے بھی نوازتے تھے ۔تاکہ اللہ کی راہ میں ان کی خیرات بھی ہوجائے اور فرض سے زائد خرچ كرنے پر ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی رہے ۔ملاحظہ ہو اس سلسلے کی ایک صحیح روایت:
امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310) نے کہا:
”حدثنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن أنس: أن أهل اليرموك، قالوا لعمر بن الخطاب: إنا قد أصبنا أموالا فطهرنا. فأخذ من كل فرس عشرة دراهم، ومن كل رأس دينارا، ورزقهم أفضل من ذلك“
”انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یرموک کے لوگوں نے عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم کو مال(یعنی گھوڑوں اور غلاموں )کی نعمت ملی ہے ، تو آپ اس مال کو پاک کردیں ، تو عمررضی اللہ عنہ نے ہرگھوڑکے بدلے دس درہم اور ہر غلام کے بدلے ایک دینار وصول کیا ، اور انہیں اس سے بہتر عطیہ دیا“ [تهذيب الآثار مسند عمر، للطبري: 2/ 940 ، رقم 1328 وإسناده صحيح]
یہ توبعض ان لوگوں کا معاملہ ہے کہ اللہ نے انہیں گھوڑے اور غلام کی نعمت سے نوازا تو وہ دیگر فرض زکاۃ کے ساتھ  اس میں بھی زکاۃ دے رہے تھے ۔

.✿ یہی خیال بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی ہوا اور انہوں نے بھی غلاموں کی زکاۃ دینی چاہی جو کہ فرض نہ تھی ، لیکن انہوں نے اس کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کیا وہ یہ کہ اسلام میں غلاموں کی طرف سے صرف ایک ہی زکاۃ فرض ہے اور وہ صدقہ الفطر ۔
چنانچہ ان صحابہ نے یہ کیا کہ ہرسال غلاموں کی طرف سے جو صدقہ الفطر دیتے تھے اسی صدقہ کو بڑھا کر دینا چاہا، تاکہ ان کی خواہش کے مطابق غلاموں کی طرف سے زکاۃ بھی دے دی جائے ، اور اسے مسنون راستے سے دیا جائے ، یعنی  اسے صدقہ الفطر بنا کر دیا جائے جو کہ غلاموں کی طرف سے پہلے سے ہی واجب ہے ۔
چنانچہ اس نیک ارادے کو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے ظاہر کیا اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے خوب سراہا ،اور ان کی یہ پیشکش قبول فرمالی ، ملاحظہ ہواس سلسلے کی صحیح روایت:
أبو عُبيد القاسم بن سلاّم بن عبد الله الهروي البغدادي (المتوفى: 224) نے کہا:
”حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، عن عبد الخالق بن سلمة الشيباني، قال: سألت سعيد بن المسيب عن الصدقة يعني صدقة الفطر، فقال: كانت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم صاع تمر، أو نصف صاع حنطة، عن كل راس، فلما قام أمير المؤمنين عمر كلمه ناس من المهاجرين، فقالوا: إنا نرى أن نؤدي عن أرقائنا عشرة كل سنة، إن رأيت ذلك، قال عمر: نعم ما رأيتم، وأنا أرى أن أرزقهم كل شهر جريبين، قال: فكان الذي يعطيهم أمير المؤمنين أفضل من الذي ياخذ منهم“
ترجمہ:
”عبدالخالق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سعیدبن المسیب رحمہ اللہ سے صدقہ الفطر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صدقہ الفطر ایک صاع کھجور  یا نصف صاع گیہوں ہر فرد کی طرف سے دیا جاتا تھا ، لیکن جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو بعض مہاجرین صحابہ نے ان سے کہا کہ : ہماری خواہش ہے کہ ہم اپنے غلاموں کی جانب سے دس درہم ہرسال (فطرہ کے طور پر) ادا کریں ، اگر آپ اسے درست جانیں ۔ تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگوں نے بہت اچھا سوچا ۔ اور میرا ارادہ ہے کہ میں ہرماہ ان غلاموں کے لئے دو جریب (غلہ) عطا کروں گا ، چانچہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا عطیہ ان کے وصول کردہ چیز سے بہتر ثابت ہوتا “[الأموال لأبي عبيد القاسم بن سلام، ت: محمدعمارۃ ص 337 رقم 617 و إسناده صحيح موقوفا ، ایضا ص 565 رقم 1368 ومن طريق أبي عبيد أخرجه ابن زنجويه في الأموال ، ت  شاكر  2/ 548 رقم 900 ]
اسی  روایت کو دوسری جگہ امام ابوعبید نقل کرنے کے بعد  آخر میں فرماتے ہیں:
”يعني صدقة الفطر عن الرقيق“ ، ”یعنی غلام کی طرف سے بطور صدقہ الفطر“ [الأموال لأبي عبيد القاسم بن سلام، ت: محمدعمارۃ ص 565 رقم 1368 ]
.
یہ ضعیف نہیں بلکہ صحیح روایت ہے ، اور دو کتابوں میں صحیح سندکے ساتھ موجود ہے ، جیساکہ حوالہ دیا جاچکا ہے۔
ملاحظہ فرمائیں کہ یہ روایت کتنی واضح اور صریح دلیل ہے کہ صدقہ الفطر میں رقم دینا عمرفاروق رضی اللہ عنہ اور مہاجرین صحابہ نیز دیگر صحابہ کی نظر میں بلاتردد جائز تھا ۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ غلاموں کی زکاۃ، صدقہ الفطر کی شکل میں قبول نہ فرماتے اور صاف کہتے کہ صدقہ الفطرطعام ہی سے ادا کرو اور غلاموں کی زکاۃ الگ سے دینا چاہو تو دو ، لیکن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایسا ہرگز نہیں کہا بلکہ درہم یعنی نقد ہی شکل میں غلاموں کی طرف سے ان کا  صدقہ الفطر مع اضافی زکاۃ قبول فرمالیا۔
واضح رہے کہ اس روایت  کی سند بالکل صحیح ہے ، اس کے سارے رجال ثقہ ہیں اور سند بھی متصل ہے۔
.
❀  بعض ائمہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعید ابن المسیب کے سماع کا انکار کیا ہے ، لیکن دیگر ائمہ نے سماع کااثبات کیا ہے اور یہی بات درست ہے ، کیونکہ اثبات انکارپر مقدم ہوتا ہے ، مزید یہ کہ سماع کا اثبات کرنے والوں کے پاس ٹھوس اور مضبوط  دلائل بھی ہیں ۔قدرے تفصیل ملاحظہ ہو :
سب سے پہلے یہ جان لیں عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے دو سال بعد سعید ابن المسیب کی پیدائش ہوئی ہے جیساکہ خود سعید بن المسیب نے یہ بیان کیا ہے[مسندابن منیع ، المطالب 4/ 191وإسناده صحيح]
اور عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت دس سال کچھ ماہ ہے ، اس طرح سعیدبن المسیب نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا آٹھ   سالہ دور پایا ہے ، اوریہ مدت کافی ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے سننے کے لئے ۔
.
❀  اب بعض محدثین کے اقول بھی دیکھ لیں:
● امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى234) سے ابن عبدالبرنے نقل کیا :
”كان علي بن المديني يصحح سماعه من عمر“ 
”علی بن المدینی عمر رضی اللہ عنہ سے سعیدبن المسیب کے سماع کو صحیح قراردیتے تھے“[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد 23/ 94]
● امام احمد (المتوفى241)کے شاگرد ابوطالب کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد  رحمہ اللہ سے پوچھا:
”سعيد، عن عمر حجة؟ قال: هو عندنا حجة، قد رأى عمر وسمع منه، إذا لم يقبل سعيد عن عمر فمن يقبل ؟“
”سعید ابن المسیب عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کریں تو یہ سند حجت ہے ؟ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہ حجت ہے ، یقینا سعید بن المسیب نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے اوران سے سنا ہے ، اگر عمر رضی اللہ عنہ سے سعید ابن المسیب کی روایت قبول نہیں کی جائے گی تو پھر کس کی قبول کیا جائے گی ؟“[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 4/ 61]
● امام بخاری (المتوفى256) رحمہ اللہ بھی عمر رضی اللہ عنہ سے سعیدبن المسیب کے سماع کو ثابت مانتے ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تاریخ میں”إبراهيم بن طريف“ کے ترجمہ میں فرمایا:
”قال ابن عيينة حدثنا إبراهيم سمع حميد بن يعقوب سمع سعيد بن المسيب قال سمعت من عمر كلمة لم يسمعها أحد غيري حين رأى البيت قال اللهم أنت السلام ومنك السلام“ [التاريخ الكبير للبخاري، ط العثمانية: 1/ 294]
اس روایت میں سعیدبن المسیب نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت کی ہے ، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ذکر کیا اور اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ سماع کی یہ صراحت ان کی نظر میں ثابت ہے ۔
● حافظ محمد بن وضاح لقرطبي(المتوفی287) نے کہا:
”ولد سعيد بن المسيب لسنتين مضتا من خلافة عمر وسمع منه“ 
”سعیدبن المسیب عمر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے دوسال بعد پیدا ہوئے  اور ان سے سنا ہے“[التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد 23/ 93 ،وإسناده صحيح]
● امام حاكم رحمه الله (المتوفى405) نے کہا :
”وقد أدرك سعيد عمر وعثمان وعليا وطلحة والزبير إلى آخر العشرة وليس في جماعة التابعين من أدركهم وسمع منهم غير سعيد و قيس بن أبي حازم“
”سعید بن المسیب نے عمر ، عثمان ، علی ،طلحہ ، زبیر رضی اللہ عنہم اور عشرہ مبشرہ میں سے بقیہ لوگوں کو پایا ہے، اورتابعین میں سے کوئی نہیں ہے جس نے ان کو پایا ہو اوران سے سنا ہو سوائے سعید بن المسیب اور قیس بن ابی حازم کے“  [معرفة علوم الحديث للحاكم: ص: 67]
.
❀  ان اقوال کے علاوہ ثابت اور صریح روایات بھی موجود ہیں جو بتلاتی ہیں کہ سعید بن المسیب نے عمر رضی اللہ عنہ سنا ہے چند ملاحظہ ہوں:
⟐ امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
أخبرنا سليمان أبو داود الطيالسي، قال: أخبرنا شعبة، قال: أخبرني إياس بن معاوية، قال: قال لي سعيد بن المسيب: ممن أنت؟ قلت: رجل من مزينة، فقال سعيد بن المسيب: «إني لأذكر يوم نعى عمر بن الخطاب النعمان بن مقرن على المنبر»[الطبقات الكبرى ط دار صادر 6/ 19وإسناده صحيح]
⟐امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241) نے كہا:
ثنا سفيان نا يحيى وهو ابن سعيد الأنصاري سنة أربع وعشرين ومعنا رجل من أهل اليمامة يقال له إبراهيم بن طريف فقال إبراهيم أخبرني حميد بن يعقوب وهو حي بالمدينة فقال سمعت سعيدا وهو ابن المسيب يقول سمعت من عمر كلمة ما بقي أحد سمعها غيري سمعته حين رأى الكعبة قال اللهم أنت السلام ومنك السلام حينا ربنا بالسلام [سؤالات أبي عبيد الآجري أبا داود، ت منصور: ص: 162، العلل ومعرفة الرجال لأحمد، ت وصي: 1/ 199وإسناده صحيح]
حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ایک اور صحیح روایت  نقل کی ہے جس میں سعید ابن المسیب نے عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے سماع کی صراحت کی ہے ، اور اسے مسلم کی شرط پر صحیح قراردیاہے دیکھیں:[تهذيب التهذيب لابن حجر، ط الهند: 4/ 88]
.
❀ واضح رہے کہ بعض وہ ائمہ جن کے سامنے مذکورہ دلائل نہ تھے اس سے لاعلم ہونے کی بنا پر انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعید بن المسیب کی روایت کو مرسل تو کہا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ مرسل مسند کے برابر ہے یعنی عمر رضی اللہ عنہ سے سعیدبن المسیب کی روایت صحیح ہی ہے ۔کیونکہ واسطہ ثقہ اور معتبر ہے۔چانچہ:
امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277) نے کہا:
”سعيد بن المسيب عن عمر مرسل يدخل في المسند على المجاز“ ، ”سعیدبن المسیب کی عمر سے روایت مرسل ہے ، لیکن مجازا اسے مسند میں شمار کیا جائے“  [المراسيل لابن أبي حاتم ت قوجاني: ص: 71]
یعنی یہ قابل قبول اور حجت ہے لہٰذا مسند ہی کے قائم مقام ہے ۔
اسی لئے امام ابن قيم رحمه الله (المتوفى751) نے کہا:
”لم يحفظ عن أحد من الأئمة أنه طعن في رواية سعيد عن عمر بل قابلوها كلهم بالقبول والتصديق“ 
”ائمہ میں سے کسی سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ اس نے عمر رضی اللہ عنہ سے سعید بن المسیب کی روایت پرطعن کیا ہو ، بلکہ سب نے ان کی ایسی روایت کو قبول کیا ہےا ور اس کی تصدیق کی ہے“ [عون المعبود مع حاشية ابن القيم: 13/ 243]
.
❀ الغرض یہ کہ ائمہ کے اقوال کے ساتھ ثابت اور صریح دلائل سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ سے سعید بن المسیب کا سماع ثابت ہے ۔
٭معاصرین میں سے بیشتر حضرات نے یہی تحقیق پیش کی ہے کہ عمررضی اللہ عنہ سے سعید ابن المسیب کا سماع ثابت ہے اور یہ سند صحیح ہے۔
مسند احمد کے محققین کا بھی یہی موقف ہے دیکھیں۔[مسند أحمد ط الرسالة 1/ 287 ، حاشہ رقم 3]
٭حافظ زبیرعلی زئی غفر اللہ لہ ایک جگہ لکھتے ہیں :
 ”سعید ابن المسیب کا سیدنا عمررضی اللہ عنہ کو دیکھنا ثابت ہے لہٰذا یہ سند متصل ہے“ [مقالات: ج2 ص206]
لہذا مذکورہ روایت صحیح ہے ۔اور اس میں اس بات کی صریح دلیل موجود ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فطرہ میں درہم دینے کو جائز سمجھتے تھے اور اس پر بعض کا عمل بھی تھا ۔
اب آگے ہم ایک اور روایت پیش کریں گے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی فطرہ میں درہم یعنی نقد دیتے تھے ۔
(جاری ہے ۔۔۔)

No comments:

Post a Comment