اکٹھی دی گئی تین طلاق ایک ہوتی ہے - Kifayatullah Sanabili Official website

2019-07-18

اکٹھی دی گئی تین طلاق ایک ہوتی ہے


اکٹھی دی گئ تین طلاق ایک ہوتی ہے
تحریر: کفایت اللہ سنابلی
✿ ✿ ✿ 
تین طلاق کا مسئلہ عہدرسالت میں بھی پیش آچکا ہے اور عدالت نبوی میں اس کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے۔ نبوی عدالت سے بڑھ کر نہ کوئی عدالت ہے اورنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر کوئی فیصلہ کرسکتاہے۔ملاحظہ فرمائيں:
امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
”حدثنا سعد بن إبراهيم ، حدثنا أبي ، عن محمد بن إسحاق ، حدثني داود بن الحصين ، عن عكرمة ، مولى ابن عباس ، عن ابن عباس ، قال : طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد ، فحزن عليها حزنا شديدا ، قال : فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم : «كيف طلقتها ؟» قال : طلقتها ثلاثا ، قال : فقال : «في مجلس واحد ؟ » قال : نعم قال : «فإنما تلك واحدة فأرجعها إن شئت» قال : فرجعها فكان ابن عباس : يرى أنما الطلاق عند كل طهر“ 
 ”عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے دی، پھر اس پر انہیں شدید رنج لاحق ہوا ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیسے طلاق دی ؟“ انہوں نے کہا: میں نے تین طلاق دے دی ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے پوچھا: ”کیا ایک ہی مجلس میں ؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر یہ ایک ہی طلاق ہے تم چاہو تو اپنی بیوی کو واپس لے لو“ ، چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی کو واپس لے لیا ۔ اس حدیث کی بنا پر ابن عباس رضی اللہ عنہ فتوی دیتے کہ طلاق الگ الگ طہر میں ہی معتبر ہوگی“ [مسند أحمد ط الميمنية: 1/ 265 رقم 2387 وإسناده صحيح ، ومن طريق أحمد أخرجه الضياء المقدسي في ”المختارة“ (11/ 363) والذهبي في ”تاريخ الإسلام“ (8/ 410 ، ت تدمري )۔وأخرجه أيضا البيهقي في ”السنن الكبرى“ ( 7/ 339،ط الهند) من طريق عبد الله بن سعد عن أبيه عن عمه إبراهيم بن سعد ۔وأخرجه أيضا أبويعلى في ”مسنده“ (4/379 ) من طريق يونس بن بكير ، وأبو نعيم في ”معرفة الصحابة“ (2/ 1113 ) من طريق يزيد بن هارون كلهم( إبراهيم بن سعدو يونس بن بكيرو يزيد بن هارون) عن ابن إسحاق به ]
 . 
یہ حديث بلاتردد بالکل صحیح اور بے داغ ہے۔

اس حدیث کو صحیح قرار دینے والے محدثین:
 اسے درج ذيل محدثين نے صحيح قرار ديا ہے:
➊ امام أحمد بن حنبل رحمه الله (م241) [مسائل أحمد رواية أبي داود- ت طارق ص: 236، مجموع الفتاوى :33/ 73 ، 86 ]
➋ امام أبو يعلى رحمه الله (م307) [ فتح الباري 9/ 362]
➌ أبو الحسن علي بن عبدالله اللخمي (م570)[الوثائق كما في إغاثة اللهفان 1/ 326]
➍ امام ضياء الدين المقدسي رحمه الله (م643) [ المختارة:11/ 363 ]
➎ شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (م728)[ مجموع الفتاوى 33/ 67]
➏ امام ابن قيم رحمه الله (م751)[إغاثة اللهفان 1/ 287]
➐ حافظ ابن حجر رحمه الله (م852)[ فتح الباري 9/ 362 سكت عليه وأقر تصحيح أبي يعلي]
➑ علامہ أحمد شاكر(م1377)[مسند أحمد ت شاكر 3/ 91 تحت الرقم2387]
➒ علامہ المعلمي رحمه الله (م1386)[آثار الشيخ المعلمي 17/ 604، اشار إلي صحته]
➓ علامہ البانی رحمہ اللہ(م1420)[إرواء الغليل 7/ 145 ]

مسند احمد کی احادیث کے بارے میں احناف کا اصول ہے کہ :
”وكل ما في مسند أحمد فهومقبول“ ، ”اور مسند احمد میں جو بھی حدیث ہے وہ مقبول ہے“[ قواعد فی علوم الحدیث ص69]
لہٰذا احناف کے اصول سے مسند احمد کی یہ حدیث بھی مقبول ہے ۔

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی شمار ہوگی ، اس میں اس قدر صراحت ہے کہ اس کی کوئی تاویل کی ہی نہیں جاسکتی ، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) نے کہا:
”وهذا الحديث نص في المسألة لا يقبل التأويل“ 
 ”یہ حدیث اس مسئلہ (تین طلاق کے ایک ہونے ) میں صریح دلیل ہے ، اس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 9/ 362]

امام شوكاني رحمه الله (المتوفى1250) فرماتےہیں:
”والحديث نص في محل النزاع“ ، ”اور یہ حدیث اس متخلف فیہ مسئلہ میں بالکل صریح ہے“ [نيل الأوطار 6/ 275]
  اعتراضات کا جائزہ 
اس حدیث پر جتنے اعتراضات کئے گئے ہیں انہیں ہم سند اور متن کے لحاظ سے دو قسموں میں بانٹ سکتے ہیں:
اعتراض کی پہلی قسم : سند پر اعتراض
ہم سب سے پہلے سند پر کئے گئے اعتراضات کو دیکھتے ہیں سند پر وارد کردہ اعتراضات تین طرح کے ہیں:
اول : رواۃ پر اعتراض
دوم: طریق پر اعتراض
سوم: اضطراب کا دعوی
اب ان تینوں اعتراضات کے جوابات ملاحظہ ہوں

سند پر پہلا اعتراض : رواۃ پر 
(الف)عکرمہ پر اعتراض
عکرمہ کے تفرد پر اعتراض:
امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458) فرماتے ہیں:
”وهذا الإسناد لا تقوم به الحجة مع ثمانية رووا عن ابن عباس رضى الله عنهما فتياه بخلاف ذلك ومع رواية أولاد ركانة : أن طلاق ركانة كان واحدة“ 
”اس سند سے حجت قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ آٹھ لوگوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان کا فتوی اس کے خلاف روایت کیا ہے، نیز رکانہ کی اولاد نے یہ روایت کیا ہے کہ رکانہ کی طلاق ایک ہی تھی“ [السنن الكبرى للبيهقي، ط الهند: 7/ 339]
عرض ہے کہ:
امام بیہقی رحمہ اللہ ہی نے قرات خلف الامام کے مسئلہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ایک حدیث پر یہ اعتراض کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے موقوفا مروی حدیث اس کے خلاف ہے تو یہ اعتراض نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا سرفرازصفدر صاحب لکھتے ہیں:
 ”اعتراض : بیہقی رحمہ اللہ اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اصل روایت میں لاصلاۃ خلف الامام کا جملہ نہیں ہے جیساکہ علاء بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا موقوف اثر نقل کیا ہے اور اس میں یہ جملہ مذکور نہیں ہے..الخ 
جواب: یہ اعتراض چنداں وقعت نہیں رکھتا اولا: اس لئے کہ مرفوع حدیث کو موقوف اثر کے تابع بناکر مطلب لینا خلاف اصول ہے ۔ وثانیا : اس کی بحث اپنے مقام پر آئے گی کہ اعتبار راوی کی مرفوع حدیث کا ہوتا ہے اس کی اپنی ذاتی رائے کااعتبار نہیں ہوتا“ [احسن الکلام 1/ 298]
مولانا سرفرازصفدر نے ایک دوسرے مقام پر لکھا:
 ”روایت کے مقابلے میں راوی کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا“ [احسن الکلام 2/ 118]

امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہاں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مخالف فتوی کے لئے ان کے آٹھ شاگردوں کا حوالہ دیا ہے ، لیکن صحیح مسلم کی حدیث کا دفاع کرتے ہوئے ہم نے واضح کیا ہے کہ مخالف فتوی ان کے صرف چھ شاگردوں سے ثابت ہے ، نیز دوسری طرف ان کے چھ شاگردوں انہیں سے اس حدیث کے موافق فتوی بھی نقل کیا ہے ۔
دراصل امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہی اعتراض صحیح مسلم والی ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث پر بھی کیا ہے اور گزشتہ سطور میں اس کا تفصیلی جواب دیا چکاہے ، وہی جواب یہاں پر اس اعتراض کا بھی ہے ۔ دیکھئے اسی کتاب کا صفحہ
رہی بات رکانہ کی اولاد والی حدیث کی تو وہ مضطرب اورضعیف ہے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
(ب) داود بن الحصين پر اعتراض:
آپ صحیحین سمیت کتب ستہ کے ثقہ راوی ہیں۔
امام محمد بن إسحاق المدنى (150) نے کہا:
”وكان ثقة“ ، ”یہ ثقہ تھے“ [ تاريخ ابن أبي خيثمة 2/ 286وإسناده صحيح]
امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230) نے کہا:
 ”كان ثقة“ ، ”یہ ثقہ تھے“ [الطبقات لابن سعد ت عبد القادر: 5/ 414]
امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233) نے کہا:
 ”ثقة“ ، ”یہ ثقہ ہیں“ [تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 3/ 235]
امام عجلى رحمه الله (المتوفى261) نے کہا:
 ”ثقة“ ، ”یہ ثقہ ہیں“ [معرفة الثقات للعجلي: 1/ 340]
امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354) نے کہا:
 ”وكان متقنا“ ، ”یہ متقن تھے“ [الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 6/ 284]
نیز کہا:
 ”من أهل الحفظ والإتقان“ ، ”یہ حفظ اور اتقان والے لوگوں میں تھے“ [مشاهير علماء الأمصار لابن حبان: ص: 135]
امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365) نے کہا:
 ”فإذا روى عنه ثقة فهو صحيح الرواية“ ، ”جب ان سے ثقہ روایت کریں تو ان کی روایت صحیح ہے“ [الكامل لابن عدي طبعة الرشد: 4/ 440]
برهان الدين الحلبي (المتوفى841) نے کہا:
 ”كيف لا يكون ثقة وقد روى له الأئمة الستة“ 
 ”یہ ثقہ کیسے نہیں ہوں گے جب کہ ان سے کتب ستہ کے ائمہ نے روایت کیا ہے“ [الكشف الحثيث ص: 112]
ان کے علاوہ اور بھی کئی محدثین نے انہیں ثقہ کہا ہے ۔

رہی بات ان پر جرح کی تو ان پر دو قسم کی ہے :
اول: انہوں نے منکر احادیث بیان کی ہیں ، یا غلطی کی ہے ، امام بوحاتم کی جرح ”لیس بقوی“ ، امام ابوزرعہ کی جرح ”لین“ کا تعلق اسی قسم سے ہے۔[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 3/ 409]
دوم: یہ خوارج والی بعض رائے رکھتے تھے۔ امام ساجی نے جرح کرتے یہی عیب لگایا ہے اور امام جوزجانی کی جرح ”لا يحمد الناس حديثه“ ، ”لوگ ان کی حدیث کی تعریف نہیں کرتے“ کا تعلق اسی قسم سے ہے [أحوال الرجال للجوزجاني : ص: 239]
کیونکہ یہ خوارج وغیرہ والی رائے والوں پر بہت سخت تھے [مقدمة فتح الباري لابن حجر: ص: 406]
جہاں تک پہلی قسم کی جرح کا تعلق ہے تو اس کا جواب ابن عدی رحمہ اللہ نے یہ دیا کہ اس کی وجہ داؤد نہیں بلکہ ان سے روایت کرنے والے راوی ہیں ، امام ابن عدی فرماتے ہیں:
 ”فإذا روى عنه ثقة فهو صحيح الرواية، إلا أنه يروي عنه ضعيف فيكون البلاء منهم لا منه، مثل ابن أبي حبيبة هذا، وإبراهيم بن أبي يحيى“ 
 ”جب ان سے ثقہ روایت کریں تو ان کی روایت صحیح ہے ، مگر جب ان سے ضعیف راوی روایت کرے تو مصیبت اس ضعیف راوی کے سبب آتی ہے نہ کا داؤد کی طرف سے جیسے ابن ابی حبیبہ اور ابراہیم بن ابی یحیی وغیرہ“ [الكامل لابن عدي طبعة الرشد: 4/ 440]
رہی دوسری قسم کی جرح تو اس جواب امام ابن حبان رحمہ اللہ نے یہ دیا ہے کہ یہ اپنی اس رائے کی طرف دعوت نہیں دیتے تھے ، امام ابن حبان فرماتے ہیں:
 ”وكل من ترك حديثه على الإطلاق وهم لأنه لم يكن بداعية إلى مذهبه“ 
 ”جس نے بھی ان کی حدیث کو علی الاطلاق ترک کیا ہے وہ وھم کا شکار ہے کیونکہ یہ اپنے مذہب کی طرف دعوت دینے والے نہیں تھے“ [الثقات لابن حبان ط االعثمانية: 6/ 284]

 مولانا صفدر صاحب دیوبندی لکھتے ہیں:
’’اصول حدیث کی رو سے ثقہ راوی کاخارجی یا جہمی ، معتزلی یا مرجئی وغیرہ ہونا اس کی ثقاہت پر قطعا اثر انداز نہیں ہوتا اورصحیحین میں ایسے راوی بکثرت موجود ہیں‘‘ [احسن الکلام ج 1ص31]

رہی بات یہ کہ:
ابن عیینہ نے کہا ہے : ”كنا نتقي حديث داود بن حصين“ ، ”ہم ان کی حدیث سے بچتے تھے“ اور عبد الرحمن بن الحكم نے کہا ہے کہ: ”كانوا يضعفونه“ ، ”لوگ ان کی تضعیف کرتے تھے“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 3/ 409]
تو یہ مفسر کلام نہیں ہے اور اس سے مراد مذکور دونوں قسموں میں سے کسی قسم والی جرح ہے جس کا جواب دیا جاچکا ہے۔
(ج) محمدبن اسحاق پر اعتراض
محمدبن اسحاق پر ہم نے مفصل مقالہ لکھ رہاہے جس میں ان پر وارد کردہ سارے اعتراضات کے مفصل جوابات ہیں ، دیکھئے ہماری کتاب : [انوار الكلام في االقراۃ خلاف الامام]

سند پر دوسرا اعتراض : طریق پر 
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ  یہ حدیث « داؤد بن الحصين عن عكرمة» کے طریق سے ہیں اور داؤد جب عکرمہ سے روایت کرتے ہیں تو ان کی روایت منکر ہوتی جیساکہ کئی ایک محدث نے کہا ہے۔
عرض ہے کہ اس اعتراض سے اچھے خاصے لوگ دھوکہ میں پڑ گئے ہیں اس لئے اس کے تعلق سے کچھ وضاحتیں ضروری ہیں۔
سب سے پہلے یہ واضح رہے کہ یہ نقد صرف اور صرف امام علي بن المديني رحمه الله (المتوفى234) کا ہے ۔باقی دیگر محدثین نے اسی پر اعتماد کیا ہے ۔اب اس کے کل چار جوابات ملاحظہ فرمائیں:
 . 
➊ تطبیق :
ائمہ میں جب اختلاف ہو تو جمع و توفیق یعنی تطبیق کی صورت بھی دیکھی جاتی ہے اور یہاں یہ صورت ممکن ہے اس کا خلاصہ یہ کہ اس طریق میں جب داؤد کےتلامذہ ضعیف ہوتے ہیں تبھی نکارت ہوتی ہے لیکن جب داؤد سے ثقہ تلامذہ روایت کرتے ہیں تو نکارت نہیں ہوتی ۔امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365) نے یہی وضاحت کی ہے ۔
امام ابن عدی ”داود بن الحصين، عن عكرمة“ کے طریق سے ایک روایت بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
”وهذا الحديث ليس البلاء من داود، فإن داود صالح الحديث إذا روى عنه ثقة، والراوي عنه ابن أبي حبيبة، وقد مر ذكره في هذا الكتاب في ضعفاء الرجال، وداود هذا له حديث صالح، فإذا روى عنه ثقة فهو صحيح الرواية، إلا أنه يروي عنه ضعيف فيكون البلاء منهم لا منه، مثل ابن أبي حبيبة هذا، وإبراهيم بن أبي يحيى“ 
 ”اس حدیث میں مصیبت داؤد کی طرف سے نہیں ہے ، کیوکہ داود درست حدیث والے ہیں جب ان سے ثقہ روایت کریں اور یہاں ان سے ابن ابی حبیبہ روایت کررہے ہیں ، جن کا ذکر اس کتاب میں ضعیف رواۃ میں ہوچکا ہے ، اور داؤد کی حدیث صالح ہے ، لہٰذا جب ان سے ثقہ روایت کریں تو ان کی روایت صحیح ہے ، مگر جب ان سے ضعیف راوی روایت کرے تو مصیبت اس ضعیف راوی کے سبب آتی ہے نہ کا داؤد کی طرف سے، جیسے یہاں اس ابن ابی حبیبہ ، اسی طرح ابراہیم بن ابی یحیی کا معاملہ ہے“ [الكامل لابن عدي طبعة الرشد: 4/ 440]
 . 
➋ تاویل:
اس طریق میں نکارت سے مراد تفرد ہے جیساکہ متعدد ائمہ نے صراحت کی ہے کہ تفرد پر بھی نکارت کا اطلاق کیا جاتا ہے ۔لیکن عکرمہ سے داؤد بن الحصین کو خاص ملازمت و تلمذ حاصل ہے بلکہ عکرمہ اخیر حیات میں داؤد بن الحصین کے یہاں ہی مقیم تھے اور وہیں ان کی وفات ہوئی اس لئے ظاہر ہے کہ عکرمہ سے یہ ایسی باتیں بیان کرسکتے ہیں جو دیگر حضرات کے علم میں نہ آسکیں ۔علامہ  ندودی رحمہ اللہ نے  یہ جواب بڑی تفصیل سے رقم فرمایا ہے دیکھیں: [تنویر الآفاق ص: 471تا479]
 . 
➌ ترجیح:
ابن المدینی رحمہ اللہ کے برعکس دیگر ناقدین اور ماہرین علل، ائمہ نے اس طریق کو صحیح قراردیا ہے جیساکہ حدیث مذکور کے مصححین میں بعض نام دیکھے جاسکتے ہیں ۔اور امام احمد ، امام دارقطنی ، حافظ ابن حجر رحمہہ اللہ  کے حوالے آگے آرہے ہیں۔
  . 
➍ تردید:
امام ابن المدینی نے اپنے کلام کی بنیاد ایسی بات پر رکھی ہے جو جرح کو مستلزم نہیں ہے کیونکہ انہوں نے اپنی جرح کے بعد کہا ہے:
”ومالك روى عن داود بن حصين، عن غير عكرمة“
”امام مالک نے داؤد بن حصین عن عکرمہ کے طریق سے روایت نہیں لی ہے“[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 3/ 409]
لیکن یہ بات درست نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ خود امام مالک نے اسی طریق سے موطا میں ایک مقام پر روایت لی ہے لیکن عکرمہ کو مبہم بنادیا ہے ۔دیکھیں:[موطأ مالك ت عبد الباقي: 1/ 11]
اور یہ امام مالک کا طرزعمل تھا کہ وہ جس راوی کو پسند نہیں کرتے تھے اسے ساقط کردیتے تھے یا مبہم بنادیتے تھے اور اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ امام مالک عکرمہ کو بعض لوگوں کے کلام (جو کہ بے بنیاد تھا )کے سبب پسند نہیں کرتے تھے[الاستذكار 1/ 64]
اس لئے ایک مقام پر اسے مبہم بنادیا جبکہ ایک دوسرے مقام پر اسے ساقط کردیا [موطأ مالك ت عبد الباقي: 1/ 287]
معلوم ہوا کہ امام مالک کو اصل مسئلہ عکرمہ سے تھا وہ انہیں ناپسند تھے لیکن اس ناپسندیدگی کے باجود وہ ان کے نزدیک ضعیف نہیں تھے کیونکہ انہوں نے خود ان کی روایت پر اعتماد کیا ہے ۔بلکہ ایک مقام پر عکرمہ کا نام بھی لیا کیونکہ وہاں احتمال تھا کہ یہ عکرمہ کا قول بھی ہوسکتا ہے اورایسا ہونے کی صورت میں اصل قائل ساقط نہ ہو اس لئے ان کا نام صراحتا ذکرکیا ہے ۔[موطأ مالك ت عبد الباقي: 1/ 384]
امام مالک کے منہج سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عکرمہ کو ناپسند کرتے تھے سند سے ان کو گرادیتے تھے یا انہیں مبہم بنادیتے تھے اور ایک مقام پر ضرورتا ان کا نام لیا ۔ 
اس پوری صورت حال کو سامنے نہ رکھا جائے تو یقینا منظر یہی سامنے آتا ہے کہ امام مالک عکرمہ کا قول بھی درج کررہے اورداؤد کی روایت بھی لے رہے ہیں لیکن (داؤد عن عکرمہ) کے طریق سے روایت نہیں لارہے ہیں ۔جس سے امام مالک کی نظر میں یہ طریق ہی مشتبہ ٹہرتا ہے ۔ لیکن ماقبل ہم واضح کرچکے ہیں امام مالک نے اس طریق سے بھی رویات لی ہے لیکن عکرمہ کو روپوش کردیا ہے ۔ لہٰذا امام مالک کی نظر میں یہ طریق منکر ثابت نہیں ہوتا لہٰذا اس کی بنیاد پر امام ابن المدینی کا نتیجہ بھی قابل قبول نہیں بلکہ قابل رد ہوگا ۔
نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام مالک نے عکرمہ سے متعلق بعد میں اپنے خیالات بدل دئے تھے اور ان سے روایت شروع کردی تھی ۔جیساکہ علامہ ندوی رحمہ اللہ نے تحقیق پیش کی ہے۔
 . 
✿ تنبیہ:
بعض اہل علم اس طریق پر نکارت کے اعتراض کے لئے امام ابوداؤد کا قول: أحاديثه عن عكرمة مناكير (عکرمہ سے ان کی احادیث مناکیر ہیں)(تهذيب الكمال : 8/ 381)پیش کرتے ہیں ۔
عرض ہے کہ اول توبعض کے منہج کے مطابق یہ قول ثابت ہی نہیں ۔ دوسرے یہ کہ امام ابوداؤد امام ابن المدینی کے شاگردہیں اس لئے بہت ممکن ہے انہوں نے اپنے استاذ ہی کے قول کی ترجمانی کی ہو جس کا جواب دیا جاچکا ہے۔
علاوہ بریں امام ابوداؤد کے الفاظ الگ ہیں انہوں نے داؤد کو اس طریق میں منکر الحدیث نہیں کہا ہے بلکہ اس طریق سے ان کی مرویات کو مناکیر کہا ہے اس سے فی نفسہ اس طریق پر کوئی داغ نہیں لگتا بلکہ اس کے ذمہ دار دوسرے رواۃ بھی ہوسکتے ہیں جیساکہ امام ابن عدی کے حوالے سے وضاحت گذرچکی ہے ۔اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ خود امام ابوداؤد نے اس طریق سے آنے والی بعض احادیث پر اعتماد کیا ہے جیساکہ علامہ ندوی رحمہ اللہ نے تفصیل پیش کی ہے۔
بلکہ اگر امام ابوداؤد نے ان الفاظ میں اپنے استاذ ابن المدینی ہی کے موقف کی ترجمانی کی ہے تو پھر ثابت ہوتا ہے کہ ابن المدینی رحمہ اللہ کے کلام کا بھی وہ مفاد نہیں ہے جو سمجھ لیا گیا ہے بلکہ بات صرف وہی ہے جس کی وضاحت امام ابن عدی رحمہ اللہ نے کی ہے جیساکہ اوپر پیش کیا گیا ۔

داؤد بن الحصین عن عکرمہ کا طریق اور محدثین:
داؤد بن الحصین عن عکرمہ کا طریق  صحیح ہے محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس طریق کو صحیح یا حسن قراردہا ہے ۔
جن محدثین نے اس طریق سے مروی زیر بحث حدیث کو صحیح قراردیا ہے ان کے نام شروع میں ذکر کئے جاچکے ہیں ان کے علاوہ دیگر محدثین کے حوالے ملاحظہ ہوں:
امام احمد رحمہ اللہ(المتوفی241)
یہ حدیث جس طریق سے مروی ہے عین اسی طریق سے یعنی {إبراهيم بن سعد الزهري عن ابن إسحاق، قال: حدثني داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس} کی سند سے امام احمد بن حبنل رحمہ اللہ نے وہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد ان کے پاس بھیج دیا اور قدیم نکاح ہی کو باقی رکھا نئے سرے سے نکاح نہیں پڑھايا ۔[مسند أحمد ط الرسالة 4/ 195 رقم 2366]
اس حدیث کے بارے میں امام عبداللہ کہتے ہیں کے ان کے والد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
”والحديث الصحيح الذي روي أن النبي صلى الله عليه وسلم أقرهما على النكاح الأول“
”اس سلسلے میں جو صحیح حدیث مروی ہے وہ یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں (زینب اور ابوالعاص رضی اللہ عنہما) کو پہلے نکاح پر باقی رکھا“ [مسند أحمد ط الميمنية: 2/ 207]
معلوم ہوا کہ امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ سند بالکل صحیح ہے ، اس کے رجال یا ”داؤد عن عکرمہ“ کے طریق پر کوئی بھی اعتراض درست نہیں ہے۔
امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365):
آپ کے الفاظ گذرچکے ہیں کہ آپ نے  ”داود بن الحصين، عن عكرمة“ کے طریق سے ایک روایت بیان کرنے کے بعد واضح کیا ہے کہ اس میں ضعف داؤد کی شاگرد کی طرف سے نہ کہ داؤد کی طرف سے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ(المتوفی385)
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے بهي امام احمد رحمہ کی طرح مذکورہ حدیث زینب کے بارے میں کہا:
”والصواب حديث ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم ردها بالنكاح الأول“
”صحیح ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسم نے اپنی بیٹی زینب کو ان کے شوہر کے پاس پہلے نکاح پر ہی بھیج دیا“[سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 4/ 374]
معلوم ہوا کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ جیسے ماہر علل کے نزدیک بھی یہ طریق بالکل صحیح ہے ، یہی موقف اور بھی کئی محدثین کا ہے اس لئے اس طریق پر امام ابن المدینی کا کلام مرجوح ہے۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ(المتوفی852)
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) اسی طریق سے مروی ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
”كذا وصله أحمد بن حنبل وغيره من طريق محمد بن إسحاق عن داود بن الحصين عن عكرمة عن بن عباس وإسناده حسن“ 
 ”اسی طرح امام احمد وغیرہ نے بھی اسے محمد بن إسحاق عن داود بن الحصين عن عكرمة عن بن عباس کے طریق سے بیان کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 1/ 94]

داؤد بن الحصین عن عکرمہ کا طریق اور علمائے احناف:
مولانا ظفر احمد تھانوی حنفی رحمہ اللہ نے داؤد بن الحصین عن عکرمہ کی سند کو حجت قرار دیا ہے [ قواعد فی علوم الحدیث : ص350]
مفتی تقی عثمانی حنفی صاحب فرماتے ہیں:
”حنفیہ نے بھی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کو قوت سند کی بناپر ترجیح دے کر تعارض رفع کیا“ [درس ترمذی 3/ 432]
اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ روایت محمدبن اسحاق عن داؤد بن الحصین عن عکرمہ ہی کے طریق سے ہے ۔
مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے اسی حدیث کو صحیح کہا ہے[العرف الشذي للكشميري: 2/ 391]
اس طرح کے مزید حوالے دیکھنے کے لئے ملاحظہ فرمائیں[ تحفہ احناف ص 248 تا 251]

سند پر تیسرا اعتراض :  اضطراب کا دعوی
بعض لوگوں اس پر اضطراب کا اعتراض کرتے ہوئے رکانہ کی اولاد والی حدیث پر وارد اعتراضات کو اس پر فٹ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
عرض ہے کہ رکانہ کی اولاد والی حدیث الگ حدیث ہے اور اضطراب کا اعتراض اسی پر وارد ہوتا ہے نہ کہ مسند احمد کی اس حدیث پر ، اس بارے میں مکمل تفصیل آگے آرہی ہے۔


اعتراض کی دوسری قسم : متن پر اعتراض
متن پر وارد کردہ اعتراضات دو ہیں:
اول: ابن عباس رضی اللہ عنہ کے فتوی سے معارضہ 
دوم: مفہوم پر اعتراض
متن پر پہلا اعتراض : ابن عباس کے فتوی سے معارضہ
بعض لوگوں کا یہ اعتراض ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتوی خود اس حدیث کے خلاف ہے اس لئے ان کے فتوی کو لیا جائے گا ۔
عرض ہے کہ:
یہی اعتراض صحیح مسلم والی ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث پربھی کیا گیا ہے اور اس کا تفصیلی جواب گزشتہ سطور میں دیا جاچکا ہے ، وہی جواب یہاں پر اس اعتراض کا بھی ہے
متن پر دوسرا اعتراض: مفہوم پر اعتراض
بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس حدیث کا تعلق طلاق البتہ سے لیکن راوی نے روایت بالمعنی کرنے ہوئے طلاق البتہ کو طلاق ثلات سے تعبیر کردیا۔
عرض ہے کہ:
❀ اولا:
یہ تاویل بے بنیاد ہے کیونکہ اس حدیث کے کسی بھی طریق میں طلاق البتہ کا لفظ وارد نہیں ہے ۔اور ابوداؤدوغیرہ کی روایت میں جو طلاق البتہ والی حدیث ہے وہ بالکل الگ حدیث ہے اور وہ مضطرب وضعیف بھی ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
❀ ثانیا:
عہد رسالت میں طلاق البتہ صرف اس طلاق کو کہا جاتا تھا، جو سنت کے مطابق تیسری بار دی جاتی تھی جو کہ طلاق بائن بینونۃ کبری ہوتی تھی ، یعنی طلاق رجعی کو طلاق البتہ نہیں کہاجاتا تھا ، مثلا سنت کے مطابق ایک ہی طلاق دی گئی ، یا سنت کے مطابق دوسری طلاق دی گئی تو اس کو طلاق البتہ نہیں کہا جاتا تھا، بلکہ سنت کے مطابق تیسری طلاق ہی کو طلاق البتہ کہا جاتا تھا ۔
اور اس حدیث کے اندر عہد رسالت کا واقعہ ذکر ہے جو اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اس سے طلاق البتہ مراد نہیں ہے ۔کیونکہ عہد رسالت میں طلاق البتہ کو ایک ماننے کا مطلب یہ ہوگا کہ سنت کے مطابق الگ الگ وقت میں دی گئی تین طلاق کو بھی ایک کہا جاتا تھا اور یہ ناممکن ہے اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
❀ ثالثا:
مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب فرماتے ہیں:
”اہل مدینہ کا عرف یہ تھا کہ طلاق ثلاث کو طلاق البتہ کہا کرتے تھے ، نہ یہ کہ طلاق البتہ کو طلاق ثلاث ۔اس لئے اہل مدینہ کے عرف کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہی معنی درست ہے کہ جن روایات میں البتہ کا لفظ مستعمل ہوا ہے وہاں اس کا معنی ثلاث ہے اور یہ فرض کرلینا کتنا تعسف ہے کہ ابن عباس جیسے فقیہ اور بحر الامت نے عرف کے خلاف البتہ کو طلاق ثلاث سمجھ لیا ہو“ [ دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص240 ]
❀رابعا:
 اس حدیث کو طلاق البتہ پر محمول کرنا خود احناف کے بھی خلاف ہے کیونکہ اس روایت میں طلاق البتہ کے بعد رجوع کرنے کا ثبوت ملتا ہے ، جبکہ حنفی مذہب میں طلاق البتہ کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں ہیں ہے ، چنانچہ:
ملا علي القاري رحمہ اللہ (المتوفى1014) فرماتے ہیں:
 ”طلاق البتة عند الشافعي واحدة رجعية وإن نوى بها اثنتين أو ثلاثا فهو ما نرى، وعند أبي حنيفة واحدة بائنة وإن نوى ثلاثا فثلاث“
 ”طلاق البتہ سے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے ، اگر اس نے دو یا تین کی نیت کی ہو تو بھی ہماری نظر میں ایک ہی طلاق واقع ہوگی ، جبکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوگی اور اگروہ تین کی نیت کرے تو تین واقع ہوگی“ [مرقاة المفاتيح للملا القاري: 5/ 2139]
معلوم ہوا کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیگ اگر کوئی ایک کی نیت سے طلاق البتہ دے تو وہ ایک بائنہ طلاق مانی جائے گی ، جبکہ مذکورہ حدیث میں طلاق کے بعد رجوع ثابت ہے ۔اس لئے خود احناف کے مسلک میں بھی اس حدیث کو طلاق البتہ پر محمول کرنے کی قطعا گنجائش نہیں ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت بالکل صحیح ہے ، نیز اس کی صحت کی مزید تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہی روایت کیا ہے اور اس میں یہ ذکر ہے کہ عہد رسالت میں تین طلاق کو ایک قرار دیا جاتا تھا ۔
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”ويقوى حديث بن إسحاق المذكور ما أخرجه مسلم من طريق عبد الرزاق عن معمر عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن بن عباس قال كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة“ 
 ”اور ابن اسحاق کی مذکورہ حدیث کی تائید اس حدیث سے ہوتی جسے امام مسلم نے عبد الرزاق عن معمر عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن بن عباس کی سند سے روایت کیا ہے جس میں یہ ہے یہ عہد رسالت ، عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو سالوں تک تین طلاق ایک شمار کی جاتی تھی“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 9/ 363]

2 comments: