کیا شوال کہ چھ روزے سے پہلے رمضان کے قضاء روزے رکھنے ضروری ہیں؟ - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-01-04

کیا شوال کہ چھ روزے سے پہلے رمضان کے قضاء روزے رکھنے ضروری ہیں؟


کیا شوال کہ چھ روزے سے پہلے رمضان کے قضاء روزے رکھنے ضروری ہیں؟
(تحریر: کفایت اللہ سنابلی)
✿ ✿ ✿
ماہ رمضان کے روزوں کے ساتھ ساتھ ماہ شوال کے چھ روزوں کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے ،حدیث ہے:
”عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ - رضي الله عنه - أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِيَامِ الدَّهْرِ“ 
”ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے رمضان کے چھ روزے رکھے پھراس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے،اس کو عمربھرکے روزوں کاثواب ملے گا“ [صحیح مسلم ، رقم1164]
”عن ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن رسول الله ﷺ أنه قال: «من صام ستة أيام بعد الفطر كان تمام السنة، ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾“ 
 ”رسول اللہ ﷺکے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے تو اس کو پورے سال کے روزے کا ثواب ملے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ یعنی جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا“ [سنن ابن ماجه ، رقم 1715والحدیث صحیح]
.
◄ ان احادیث سے رمضان کے بعد شوال کے چھ روزوں کی مشروعیت اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ، لیکن اہل علم میں ایک اختلاف یہ ہے کہ رمضان کے قضاء والے روزے پورے کرنے کے بعد شوال کے ان چھ روزوں کو رکھا جائے گا یا پہلے شوال کے روزے رکھ کر رمضان کے قضاء والے روزوں کو مؤخر بھی کیا جاسکتاہے۔
مذاہب اربعہ میں جمہور یعنی احناف ، مالکیہ اور شوافع کا کہنا ہے کہ قضاء سے پہلے نفلی روزے رکھ سکتے ہیں ، جبکہ حنابلہ کا کہنا یہ ہے کہ قضاء روزے مکمل کرنے پہلے شوال کے نفل روزے رکھنا جائز نہیں ہے۔بلکہ بعض نے تواسے بدعت تک کہہ دیا ہے۔[ البرهان المبين في التصدي للبدع والأباطيل:ج1ص527]
بلکہ بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جس سے رمضان کے کچھ روزے چھوٹ گئے اس کے لئے شوال کے روزے مسنون ہی نہیں ہیں ،گرچہ وہ بعد میں چھوٹے روزے کی قضاء کرلے اور اس کے بعد شوال کے روزے رکھے[ شرح زاد المستقنع للخليل 3/ 15 ترقيم الشاملة]
.
◄ اس سلسلے میں یہ بات تو تقریبا سب نے کہہ رکھی ہے کہ اگر رمضان کے قضاء والے روزے زیادہ نہ ہوں اور ان کو پہلے پورا کرنا آسان ہو تو بہتر یہی ہے کہ پہلے یہ روزے رکھ لئے جائیں اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھیں جائیں ۔
لیکن اگر سہولت اور آسانی اختیار کرتے ہوئے یا کسی مشقت کے باعث رمضان کے قضاء والے روزے مؤخر کردے اور پہلے شوال کے چھ روزے رکھ لے تو جمہور کی رائے ہی اقرب الی الصواب ہے یعنی ایسا کرنا جائز ہے اور اس سے مطلوبہ اجر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کیونکہ اس سلسلے کی کسی بھی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بغیر شوال کے روزے نہیں رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی عمومی طورپر اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ فرض روزوں سے پہلے نفل روزے نہیں رکھ سکتے ۔
اورجوحضرات شوال سے پہلے رمضان کے روزوں کی تکمیل ضروری سمجھتے ہیں ان کے کل اعتراضات کوہم تین قسموں میں بانٹ سکتے ہیں ، ذیل میں ان تینوں کے جوابات ملاحظہ ہوں:

✿  پہلا اعتراض : رمضان ہی میں سارے روزوں کے ادا کی شرط:
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ شوال کے روزے وہی رکھ سکتا ہے ، جس نے رمضان ہی میں رمضان کے سارے روزے رکھے ہوں ، یعنی اگر رمضان میں کسی سے کچھ روزے چھوٹ گئے اور وہ عید بعد پہلے ان کی قضاء بھی کرلے تو بھی وہ شوال کے روزے نہیں رکھ سکتا ۔
چنانچہ أحمد بن محمد بن حسن بن إبراهيم الخليل نقل کرتے ہیں:
 ”القول الأول: أنه لا يصوم الست إلا إذا أتم رمضان ، لقوله ﷺ (من صام رمضان) , ومن أفطر بعض رمضان لا يصدق عليه أنه صام رمضان بل صام بعض رمضان“ 
 ”پہلا قول یہ ہے کہ: کوئی شوال کے چھ روزے تب تک نہیں رکھ سکتا جب تک کہ رمضان کے پورے روزے رمضان ہی میں نہ رکھ لے ، کیونکہ حدیث میں ہے : (جو رمضان کے روزے رکھ لے ) اور جس نے رمضان میں کچھ روزے چھوڑ دئے اس پر یہ بات صادق نہیں آسکتی کہ اس نے رمضان کے روزے رکھے ہیں بلکہ اس نے تو بعض رمضان کے روزے رکھے ہیں“ [ شرح زاد المستقنع للخليل 3/ 15، ترقيم الشاملة]
❀ جوابا عرض ہے کہ:
● اولا:
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
{وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ}
 ”وہ چاہتا ہے کہ تم(رمضان کے روزوں کی) تعداد پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو( یعنی تکبیرکہو)“ [البقرة: 185]
اس آیت میں تکبیرات کا حکم ہے نیز یہ حکم رمضان کے روزوں کی تکمیل کے بعد ہے اور اہل علم نے اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان کے ختم ہوتے ہی عید الفطر کی تکبیرات کہنی شروع کردینی چاہئے۔
یہاں غور کریں کہ رمضان کے روزوں کو مکمل کرنے کے بعد تکبیرات کاحکم ہے لیکن یہاں یہ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ یہ تکبیرات صرف وہی لوگ کہیں گے جنہوں نے رمضان کے مکمل روزے رکھے ہوں اور جن کے روزے چھوٹ گئے وہ تکبیرات نہیں کہہ سکتے ۔کیونکہ یہاں حسب استطاعت روزہ رکھنے کے ساتھ ماہ رمضان کااختتام مراد ہے ، یہی معاملہ شوال کے چھ روزے والی حدیث کا بھی ہے ۔
● ثانیا:
صحیح بخاری (رقم38) کی حدیث میں رمضان کے روزوں کی یہ فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اس سے پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے اس میں ”من صام رمضان“ (جس نے رمضان کے روزے رکھے )کے الفاظ ہیں ، اب کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ رمضان میں جس کے کچھ روزے کسی عذر کی بنا پر چھوٹ گئے اور بعد میں وہ قضاء بھی کرلے تو بھی وہ اس فضیلت کا مستحق نہیں؟ ظاہر ہے کہ ایسا کوئی نہیں کہہ سکتا پھر اس حدیث میں ”من صام رمضان“ کا جو مفہوم ہے وہی شوال والی حدیث کا بھی مفہوم ہے۔
.
✿  دوسرااعتراض: شوال کے روزوں سے پہلے رمضان کے روزوں کی تکمیل کی شرط:
بعض اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ جس سے رمضان کے روزے چھوٹ گئے وہ بھی شوال کے روزے رکھ سکتا ہے ، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزوں کو مکمل کرلے کیونکہ حدیث میں پہلے رمضان کے روزے رکھنے کی بات ہے اس کے بعد ”ثم أتبعه“ کے الفاظ میں شوال کے روزوں کی تعلیم ہے۔
❀ جوابا عرض ہے کہ:
● اولا:
ایسے لوگ مذکورہ پہلے اعتراض والوں کے جواب میں کیا کہیں گے جو کہتے ہیں کہ شوال کے روزوں کی اجازت صرف انہیں کو ہے جو رمضان ہی میں رمضان کے مکمل روزے پورے کرلیں ، شیخ محمد بن محمد المختار الشنقيطي یہی الزامی جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
 ”ثم نقول: لو كان الأمر كما ذُكِر لم يشمل الحديث مَن أفطر يوماً من رمضان؛ فإنه لو قضى في شوال لم يصدُق عليه أنه صام رمضان حقيقةً؛ وإنما صام قضاءً ولم يصم أداءً“ 
 ”پھر ہم کہتے ہیں کہ اگرمعاملہ ویساہی جیسا آپ لوگ فرماتے ہیں تو پھر یہ حدیث اس شخص کو بھی شامل نہیں ہوگی جو رمضان میں کسی ایک دن کا بھی روزہ چھوڑ دے ، کیونکہ اگر وہ شوال میں اس کی قضاء بھی کرلے تو بھی اس پر یہ بات صادق نہیں آئے گی کہ اس نے حقیقت میں رمضان کے روزے رکھے ہیں بلکہ اس نے تو قضاء کے ذریعہ روزہ رکھا نہ کہ ادا کے ذریعہ“ [ شرح زاد المستقنع للشنقيطي 11/ 21، ترقيم الشاملة]
اب پہلے اعتراض کا جوبھی جواب دیا جائے گا وہی دوسرے اعتراض کا بھی جواب ہوگا۔
● ثانیا:
کسی حدیث میں ”ثم أتبعه“ (رمضان کے روزوں کے بعد)کے الفاظ ہیں تو کسی حدیث میں ”بعد الفطر“ (اختتام رمضان کے بعد) کے الفاظ ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اختتام رمضان کے بعد بغیر قضاء والے روزوں کی تکمیل کے ہی شوال کے چھ روزے رکھ سکتے ہیں اور قضاء روزوں کو بعد میں بھی رکھا جاسکتاہے۔
● ثالثا:
بعض روایات میں ترتیب کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے مثلا:
⟐ ”من صام رمضان وستا من شوال ، فقد صام الدهر“ 
 ”جس نے رمضان کے روزے اور شوال کے چھ روزے رکھے اس نے زندگی بھر کا روزہ رکھا“ [مسند أحمد ط الميمنية: 5/ 419 واسنادہ حسن]
⟐ ”صيام شهر رمضان بعشرة أشهر وصيام ستة أيام من شوال بشهرين فذلك صيام سنة“ 
 ”رمضان کے ایک ماہ کاروزہ رکھنے سے دس(10)ماہ کے روزوں کاثواب ملتاہے،اور(شوال کے)چھ دنوں کاروزہ رکھنے سے دوماہ کے روزوں کاثواب ملتاہے،اس لحاظ سے رمضان وشوال کے مذکورہ دنوں میں روزہ رکھنے سے پورے سال بھرکے روزوں کاثواب ملتاہے“ [السنن الكبرى للنسائي رقم 2873 والحدیث صحیح]
.
ان احادیث میں ترتیب کا ذکر نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترتیب اصل مقصود نہیں بلکہ مجموعی تعداد مقصود ہے ، بلکہ مؤخر الذکر حدیث میں روزوں کی تعداد کو شمار کرکے اسی کے حساب سے اس کا فائدہ بتلایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شوال کے چھ روزے رمضان کے قضا والے روزوں سے پہلے رکھے جائیں یا بعد میں بہرصورت ان کا ثواب دوماہ کے روزوں کے برابر ہوگا اور رمضان کے کل روزوں کا ثواب دس ماہ کے برابر ہوگا۔
.
✿  تیسرا اعتراض: نفل سے پہلے فرض روزوں کو مکمل کرنے کی شرط:
بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ فرض روزوں سے پہلے نفل روزے رکھنا اصلا درست ہی نہیں ہیں خواہ شوال کے روزوں کا مسئلہ ہو یا کسی اور نفل روزے کا مسئلہ ہو ، مزید یہ کہ  نفل روزے رہ جائیں تو اس پر مواخذہ نہیں ہے لیکن فرض روزے رہ جائیں تو اس پر مواخذہ ہے اس لئے فرض روزوں کی تکمیل سے پہلے نفل روزے رکھنا ہی درست نہیں ۔
جوابا عرض ہے کہ:
● اولا:
ان حضرات کی اصل دلیل یہ حدیث ہے:
 ”ومن صام تطوعا وعليه من رمضان شيء لم يقضه، فإنه لا يتقبل منه حتى يصومه“ 
 ”جس نے نفلی روزے رکھے اوراس پر رمضان کے روزے باقی ہیں جن کی قضاء نہیں کیا ہے تو اس کے یہ نفل روزے قبول ہی نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ قضاء والے روزے نہ رکھ لے“ [مسند أحمد ط الميمنية: 2/ 352]
اس کی سند میں ”ابن لهيعة“ ضعیف راوی ہے ، نیز الفاظ میں بھی اضطراب ہے ، اس لئے یہ روایت ضعیف ہے، ، مسند احمد کے معلقین نے بھی اسے ضعیف کہا ہے[مسند أحمد ط الرسالة 14/ 270]
یاد رہے کہ اس معنی کی دیگر ساری روایات ضعیف ہیں.
اسی طرح ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی پیش کیا جاتاہے:
 ”لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة“ (جب تک فرض نہ ادا کرلیا جائے نفل عبادت قبول نہیں ہوتی )[مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 19/ 297]
اس کی ساری اسانید منقطع وضعیف ہیں۔
.
⟐ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ایک اثر کی وضاحت:
 ”عن عثمان بن موهب قال: سمعت أبا هريرة وسأله رجل قال: إن علي أياما من رمضان، أفأصوم العشر تطوعا؟ قال: لا، ولم؟ ابدأ بحق الله، ثم تطوع بعدما شئت“ 
 ”عثمان بن وہب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہیں ، تو کیا میں عشرہ ذی الحجہ میں عام نفل روزے رکھ لوں ؟ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، اور کیوں ایسا کرو گے ؟ پہلے اللہ کا حق ادا کرو پھر اس کے بعد جتنے چاہو نفلی روزے رکھو“ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمي: 4/ 257 وإسناده صحيح]
عرض ہے کہ یہ اثر اس بارے میں صریح نہیں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرض سے پہلے نفل کے قائل نہیں تھے بلکہ ممکن ہے کہ انہوں نے مستحب اور بہتر چیز کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بات کہی ہو ، اوریہی ظاہر ہے کیونکہ انہوں نے آگے یہ نہیں کہا کہ ایسا ناجائز ہے بلکہ یہ کہا کہ پہلے اللہ کا حق ادا کرو پھر جتنا چاہو نفل روزہ رکھو۔
ابن حجر رحمہ اللہ اسی طرح کے بعض اقوال کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
 ”وظاهر قوله جواز التطوع بالصوم لمن عليه دين من رمضان إلا أن الأولى له أن يصوم الدين أولا“ 
 ”اس قول سے بظاہر یہی معلوم ہوتاہے کہ جس پر رمضان کے روزے ہوں وہ پہلے نفلی روزے رکھ سکتا ہے ، لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے رمضان کے روزے پورے کرلے“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 4/ 189]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا بھی یہی مفاد ہے ، اس بات کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں:
 ”إذا بدأ بالفريضة لا بأس أن تصومها في العشر“ 
 ”اگر پہلے فرض روزے رکھے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے کہ عشرہ ذی الحجہ میں انہیں رکھ لے“ [مصنف ابن أبي شيبة. سلفية: 3/ 74 وإسناده صحيح]
دوسری بات یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے شوال ، عاشوراء یا خاص عرفہ کے روزے سے متعلق سوال نہیں ہوا تھا ، بلکہ عشرہ ذی الحجہ سے متعلق سوال تھا ، اوریہ ایام صرف روزوں کے لئے خاص نہیں ہیں بلکہ ہر طرح کے نیک اعمال کے لئے ہیں، اور ان اعمال میں روزہ بھی شامل ہے مگر روزہ کا ان ایام کے ساتھ اس طرح کا اختصاص نہیں ہے جیسے شوال ، عاشوراء اور عرفہ وغیرہ کا معاملہ ہے۔بلکہ ان دنوں میں روزہ کی حیثیت عام دونوں میں نفلی روزے جیسی ہی ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ ان دنوں کی فضیلت کے باعث ان میں روزوں کا ثواب زیادہ ہے۔یادرہے کہ یہ سوال کسی عورت کا نہیں بلکہ مرد کا تھا اور عام طور پر مرد حضرات کے رمضان میں زیادہ روزے نہیں چھوٹتے ۔
نوٹ:-عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا ایک اثر ہے کہ (عشرہ ذی الحجہ میں رمضان کے روزے قضاء کرنے میں حرج نہیں ہے) ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 4/ 189]
یہ اثر بھی بتارہا ہے کہ عشرۃ ذی الحجہ میں رمضان کی قضاء بہترتو ہے مگر ضروری نہیں ، لیکن یہ اثر منقطع ہے جیسا کہ امام مسدد کی روایت سے معلوم ہوتا دیکھئے:[المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية 1/ 361]
.
● ثانیا:
اہل علم کے یہاں اس بات پر اتفاق ہے کہ بغیر عذر کے بھی رمضان کے روزوں کی قضاء کو شعبان تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، دیکھیں: [الفروع وتصحيح الفروع5 / 62]
تو جب بغیر عذر کے قضاء میں تاخیر کی جاسکتی ہے تو پھر اگرکسی نے شوال کے روزوں کی خاطر تاخیر کردی تو اس میں کون سی قباحت لازم آگئی ؟ ذرا سوچئے کہ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ بلاعذر کے قضاء میں تاخیر کی اجازت دی جائے، مگر شوال کے روزوں کی خاطر اس تاخیر کو حرام قرار دیا جائے !!
یہیں سے مواخذہ والی بات کو بھی سمجھ لیجئے کہ اگر کوئی شوال کے چھ روزے رکھ لے تو اسے اچانک مرنے کا حوالہ دے کر مؤاخذہ کا خوف دلایا جارہا ہے ، لیکن اگر کوئی شوال کے روزے بھی نہ رکھے اور یوں ہی بلا عذر رمضان کے قضاء روزوں کو مؤخر کردے، وہ بھی شعبان تک ، تو اس کے لئے خوف ودہشت کی کوئی بات نہیں ہے! سبحان اللہ !
اگر شوال کا روزہ رکھنے والا آگے چل کر فوت ہو سکتا ہے ، تو شوال کا روزہ رکھے بغیر شعبان کا انتظار کرنے والے پر بھی تو اچانک موت آسکتی ہے!
پھر منتظر شعبان کے تعلق سے جو بھی کہا جاسکتا ہے وہی شوال کے روزے رکھنے والے سے متعلق بھی کہا جاسکتاہے۔
.
شیخ حمد بن عبد الله بن عبد العزيز الحمد فرماتے ہیں:
 ”فوقع عليه الموت من غير أن يظنه فلا يأثم لأنه فعل ما يجوز له ومثل هذا ونظيره – كما قال شيخ الإسلام: الرجل يؤخر الصوم من رمضان، يريد أن يؤخر قبيل رمضان الآخر، فإن هذا جائز له والقضاء من رمضان إلى رمضان وقت موسع، فالفضيلة في الاستعجال بذلك، ولكن الجواز وقته موسع، فإذا أخر القضاء – حيث يجوز له – فمات قبل أن يقضي فلا إثم عليه بالإجماع“ 
 ”کسی نے نماز کو آخر وقت تک مؤخر کیا لیکن اس سے پہلے وہ فوت ہوگیا اور اسے اس کا گمان تک نہیں تھا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ، اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے شیخ الاسلام نے کہا ہے کہ اگر کوئی رمضان کے قضاء روزے میں تاخیر کرے اور اس کا ارادہ ہو کہ اگلے رمضان کی آمد سے پہلے ہی قضاء کرلے گا، تو ایسا کرنا اس کے لئے جائز ہے کیونکہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے پیچ پورا وقت اس کی قضاء کے لئے موجود ہے ، تاہم افضل یہی ہے کہ قضاء میں جلدی کرے مگر تاخیر کا جواز ہے اس کا وقت وسیع ہے ، اور اگر کسی نے تاخیر کی جو کہ اس کے لئے جائز تھا پھر قضاء سے پہلے اس کی وفات ہوگئی تو بالاجماع اس پر کوئی گناہ نہیں ہے“ [ شرح زاد المستقنع للحمد3/ 18 ترقيم الشاملة]
غور کریں کہ اگر شوال کے روزے رکھے بغیر قضاء رمضان میں تاخیر کردے اور قضاء سے پہلے اس کی وفات ہوجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ، تو اگر کسی نے شوال کے روزے رکھ کرقضاء میں تاخیر کردی اور قضاء سے پہلے اس کی وفات ہوگئی تو وہ گنہگار کیسے ہوسکتا ہے؟
● ثالثا:
فرض سے پہلے نفل کی ادائیگی کی تاکید اس وقت کی جاسکتی ہے جب وقت تنگ ہو اور فرض اور نفل میں سے کسی ایک ہی کو ادا کیا جاسکتا ہو ، لیکن اگر وقت میں وسعت ہو تو فرض عبادت کے لازم ہونے کے باوجود بھی نفل نماز پڑھی جاسکتی ہے ، مثلا زوال کے بعد ظہر کی نماز فرض ہوجاتی ہے لیکن چونکہ وقت میں وسعت ہوتی ہے ، اس لئے اس سے پہلے سنت پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔یہی معاملہ رمضان کے روزوں اور نفل روزوں کا بھی ہے کہ رمضان کے روزوں کی قضاء کے لئے پورے سال کا وقت ہے ، جبکہ وقتی نفل روزوں کے لئے اتنا وقت نہیں ہوتا ، اسی لئے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا رمضان کے روزوں کی قضاء کو مؤخرکردیتی تھیں (بخاری1950)
اوران سے بہت بعید ہے کہ وہ کوئی بھی نفلی روزہ نہ رکھتی ہوں ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”لأن عائشة أخبرت أنها كانت تقضي رمضان في شعبان, ويبعد أن لا تكون تطوعت بيوم, مع أن النبي ﷺ كان يصوم حتى يقال: لا يفطر, ويفطر حتى يقال: لا يصوم, وكان يصوم يوم عرفة وعاشوراء, وكان يكثر صوم الاثنين والخميس, وكان يصوم ثلاثة أيام من كل شهر“ 
 ”کیونکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا ہے کہ وہ شعبان میں رمضان کی قضاء کرتی تھیں ، اور یہ بات بہت بعید ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کسی دن بھی نفلی روزہ نہیں رکھا ، جبکہ اللہ کے نبی ﷺ کثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے ، یہاں تک کہ کہاجاتا کہ اب آپ روزہ رکھنا بند ہی نہیں کریں گے ، اور جب روزہ رکھنا بند کردیتے تو کہا جاتا اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے ، نیز آپ ﷺ عرفہ اور عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ، پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ، اور ہر ماہ میں تین دن کا روزہ رکھتے تھے“ [شرح العمدة لابن تيمية كتاب الصيام 1/ 358]
بلکہ بعض روایات سے صراحتا ثابت ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نفلی روزے رکھتی تھیں ، (موطأرقم 133 بسند صحيح ، ابن أبي شيبة 6/ 110بسندصحيح)
اور اللہ کے نبی ﷺ نے ان پر نکیر نہیں کی ہے اس لئے یہ دلیل ہے کہ فرض روزوں کی ادائیگی کے لئے وسیع وقت موجود ہو تو حالیہ نفلی روزوں کو پہلے رکھا جاسکتا ہے۔
.
شیخ محمد بن محمد المختار الشنقيطي فرماتے ہیں:
 ”ومَنَعَ بعض العلماء، واحتجوا بأنه كيف يَتَنَفَّل وعليه الفرض؟ وهذا مردود؛ لأن التَّنَفُّل مع وجود الخطاب بالفرض فيه تفصيل: فإن كان الوقت واسعاً لفعل الفرض والنافلة ساغ إيقاع النفل قبل الفرض بدليل: أنك تصلي راتبة الظهر قبل صلاة الظهر وأنت مخاطب بصلاة الظهر، فإن الإنسان إذا دخل عليه وقت الظهر وزالت الشمس وجب عليه أن يصلي الظهر، ومع ذلك يؤخرها فيصلي الراتبة، ثم يصلي بعدها الظهر، فتنفل قبل فعل الفرض بإذن الشرع، فدل على أن النافلة قد تقع قبل الفرض بإذن الشرع، فلما أذن النبي صلى الله عليه وسلم لأم المؤمنين عائشة أن تؤخر القضاء دل على أن الوقت موسع“ 
ترجمہ:
 ”بعض علماء نے رمضان کے روزوں کی قضاء سے پہلے شوال کے روزوں سے منع کیا اور یہ دلیل دی ہے کہ جب اس پر فرض روزے باقی ہیں تو وہ نفل کیسے رکھ سکتا ہے؟ تو یہ بات مردود ہے ، کیونکہ فرض عبادت کے ہوتے ہوئے نفل کی ادائیگی کے سلسلے میں تفصیل ہے ، چنانچہ اگر فرض اور نفل دونوں کی ادائیگی کے لئے لمبا وقت موجود ہو تو ایسی صورت میں فرض سے پہلے نفل عبادت انجام دی جاسکتی ہے ، اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ نماز ظہر سے پہلے سنت پڑھتے ہیں جبکہ آپ نماز ظہر پڑھنے کے پابند ہوتے ہیں ، کیونکہ کسی انسان کے سامنے ظہر کا وقت داخل ہوجائے اور سورج کا زوال ہوجائے تو اس پر نماز ظہر فرض ہوجاتی ہے ، اس کے باوجود بھی وہ ظہر کی فرض نماز کو مؤخر کرتا ہے اور پہلے سنت پڑھتا ہے اس کے بعد ظہر پڑھتا ہے ، تو یہاں شریعت نے فرض سے پہلے نفل کی اجازت دی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت میں فرض سے پہلے بھی نفل کی اجازت موجود ہے ، یہی اجازت روزوں کے سلسلے میں بھی ہے چنانچہ اللہ کے نبی ﷺ نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب یہ اجازت دے دی کہ وہ رمضان کے روزوں کی قضاء کو مؤخر کرسکتی ہیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں اس کی ادائیگی کے لئے لمبا وقت موجود ہے“ [ شرح زاد المستقنع للشنقيطي 11/ 21 ترقيم الشاملة]
◈ نوٹ: -
یاد رہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا یہ تاخیر عذر کی بنا پر کرتی تھیں ، جس روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺکی خدمت میں مشغول ہونے کے سبب یہ تاخیرکرتی تھیں ، یہ الفاظ مدرج ہیں ، اس کی تفصیل ہم نے دوسرے مقام پر پیش کردی ہے ، ملاحظہ فرمالیں یہ لنک :
.
✿ خلاصہ کلام یہ کہ:
زیر بحث مسئلہ میں جمہور یعنی احناف ، مالکیہ اور شوافع کا موقف ہی راجح ہے اور حنابلہ کا موقف مرجوح اور کمزور ہے ۔
اور اس مرجوح موقف کے مطابق بہت سے لوگ شوال کے روزوں کی عظیم الشان فضیلت سے محروم رہ جائیں گے ، مثلا اگر کوئی شخص رمضان میں پچیس دن یا اس سے بھی زیادہ بیمار رہا اور روزہ نہیں رکھ سکا ، یا جس عورت نے حمل و رضاعت یا نفاس کے سبب رمضان کے اکثر حصوں کے یا کل رمضان کے روزے چھوڑ دئے ، تو یہ لوگ اگر شوال کا روزہ رکھنا چاہیں تو پہلے انہیں رمضان کے سارے چھوٹے ہوئے روزے قضاء کرنے ہوں گے اور ان کے لئے ناممکن ہے ۔
بلکہ جن کے رمضان میں صرف پندرہ روزے چھوٹے ہوں ان کے لئے بھی شوال کے روزوں کی فضیلت حاصل کرنا بہت بڑی مشقت کی بات ہوگی کیونکہ انہیں شوال میں پہلے رمضان کے تمام چھوٹے ہوئے روزے ایک ساتھ قضاء کرنے ہوں گے ، یہ ساری دشواریاں اللہ کے اس فرمان کے ساتھ میل نہیں کھاتیں جسے قرآن میں اللہ نے اس طرح ذکرکیا:
﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾
 ”تم میں سے جو مریض یا مسافر ہوں وہ دیگر ایام میں اس کے روزوں کی قضاء کریں“ [البقرة: 184]
غور کریں کہاں اس آیت میں مریض ومسافر کے لئے بغیر کسی قید کے دیگر عام دنوں میں قضاء کی رخصت اور کہاں شوال کے روزوں کو لیکر ایسے معذوروں کے لئے مشقت اور مایوسی کی باتیں ؟ یقینا یہ مناسب بات نہیں ہے ، اور جمہور کا موقف ہی اطمینان بخش ہے ۔
واضح رہے کہ مذہب حنبلی میں امام احمد رحمہ اللہ ہی کا ایک قول یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ فرض روزے مثلا رمضان کے قضاء روزے سے پہلے نفل روزے مثلا شوال کے روزے رکھنے جائز ہیں ، اور بعض حنابلہ نے اسی کو اختیار کیا ہے چناچنہ:
امام علاء الدين المرداوي الحنبلي (المتوفى 885هـ) لکھتے ہیں:
 ”هل يجوز لمن عليه صوم فرض أن يتطوع بالصوم قبله؟ فيه روايتان، ... إحداهما لا يجوز، ولا يصح، وهو المذهب...والرواية الثانية: يجوز، ويصح...قلت: وهو الصواب“ 
 ”جس پر فرض روزے باقی ہوں کیا اس کے لئے اس سے پہلے نفلی روزہ رکھنا جائزہے ؟ اس بارے میں امام احمد رحمہ اللہ کا دو قول ہے . . . ، پہلا قول یہ ہے کہ یہ جائز نہیں ہے ایسا روزہ صحیح نہیں ہوگا ، اور یہ مذہب حنبلی کا مفتی بہ قول ہے . . . ، اور امام احمد رحمہ اللہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ یہ جائز ہے اور اس کا نفلی روزہ صحیح ہے . . . ، میں (امام المرداوي) کہتاہوں یہی دوسرا قول ہی درست ہے“ [الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي 3/ 350]
امام احمد رحمہ اللہ کے اس دوسرے قول سے متعلق مزید حوالوں کے لئے دیکھئے:[ المغني لابن قدامة4 /402 ، مغني ذوي الأفهام ص180 ، فقه العبادات على المذهب الحنبلي ص403، شرح العمدة لابن تيمية، 1/ 358]
عرض ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا یہی قول ہی تمام احادیث کے موافق ہے ۔، اس لئے یہی درست ہے جیساکہ حنبلی امام علامہ المرداوي نے بھی شہادت دی ہے۔
.
⟐ تنبیہ:
بعض لوگوں کا کہنا کہ امام احمد رحمہ اللہ کا جو دوسرا قول جواز کا ہے وہ عام نفل روزوں کو فرض سے پہلے ادا کرنے کا ہے ، لیکن شوال کے چھ روزوں سے اس کا تعلق نہیں ہے۔
عرض ہے کہ مذہب حنبلی میں ایسی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے بلکہ یہ تفصیل بعد کے حنابلہ کی ہے ۔
دکتور عبدالعزيز الشايع ، استاذ جامعۃ الامام محمدبن سعود/ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”جمهور أهل العلم على جواز تقديم صيام النفل على القضاء،والقول بعدم الجواز من مفردات الحنابلة.ويدخل في ذلك:جواز تقديم صيام الست من شوال على القضاء.ولا يعرف (تقديم الست)بقول خاص عن المسألة الأم عند من تقدم.فيجوز عند الجمهور تقديم الست، وتأخير القضاء“ 
 ”جمہور اہل علم اس بات پر ہیں کہ قضاء سے پہلے نفل روزوں کو رکھا جاسکتا ہے ،اور عدم جواز کا قول حنابلہ کی منفرد رائے ہے، قضاء سے پہلے شوال کے چھ روزے رکھنے کا بھی اسی مسئلہ سے تعلق ہے ، اور اس اصل سے ہٹ کر شوال کے چھ روزوں سے متعلق متقدمین حنابلہ کا کوئی خصوصی قول موجود نہیں ہے ، لہٰذا جمہور کے نزدیک پہلے شوال کے چھ روزے رکھ سکتے ہیں اورقضاء کو مؤخر کرسکتے ہیں“ [دیکھئے شیخ کے اکاونٹ پر ان کا ٹویٹ]
.
معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں مذہب حنبلی کا منفرد قول مرجوح ہے، اور راجح اور درست قول جمہور ہی کا ہے ، واللہ اعلم۔
(کفایت اللہ سنابلی)

No comments:

Post a Comment