خطبہ مسنونہ میں ’’ وكل ضلالة في النار‘‘ کے الفاظ ! - Kifayatullah Sanabili website

2020-12-11

خطبہ مسنونہ میں ’’ وكل ضلالة في النار‘‘ کے الفاظ !

ایک  بریلوی مقرر  نے اپنی تقریر میں بڑے زور وشورسے یہ بات بھی کہی کہ اہل حدیث حضرات اپنی ہرتقریرجس خطبہ سے شروع کرتے ہیں‌ اس میں ’’وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ بھی پڑھتے ہیں‌، اہل حدیث حضرات کی تقاریرکا کوئی خطبہ ان الفاظ سے خالی نہیں‌ ہوتا۔
لیکن اہل حدیث حضرات کو اس بات کا علم ہی نہیں‌ کہ خطبہ میں یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں‌ ،جس روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے وہ ضعیف ہے۔

میں نے بعض نوجوانوں کے ہاتھ نسائی کی ایک روایت مع سند اس کے پاس بھیجی اورمطالبہ کیا کہ اس کی سند میں کیا خرابی ہے ذرا وضاحت فرما دیں‌ مگرموصوف کوئی بھی وضاحت کرنے سے قاصر رہے، دراصل معاصرین میں سے بعض اہل علم نے ان الفاظ کے اضافہ کو شاذ قراردیا ہے ،اس بے چارے نے یہ بات کہیں پڑھ لی اور بے ڈھڑک اسے تقریر میں پیش کردیا لیکن خود اس قابل نہیں کہ اسے ضعیف ثابت کرسکے ، ضعیف ثابت کرنا تو دورکی بعد اس بے چارے کے پاس اتنی بھی لیاقت نہیں ، جس کسی نے ان الفاظ کا شاذ کہا ہے اس کی دلیل ہی پیش کردے ، غالبا اس نے کہیں‌ پر یہ پڑھ لیا کہ ان الفاظ کا اضافہ شاذ ہے مگراس کے جو دلائل دے گئے تھے وہ اس کے سرکے اوپرسے چلے گئے۔

الغرض نسائی کی روایت سے متعلق باربار استفسارکے باوجود بھی موصوف اس کے ضعف سے متعلق ایک حرف بھی نہیں کہہ سکے البتہ دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے یہ کہنے کی جسارت ضرورکی کہ محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

حالانکہ میرے ناقص علم کے مطابق کسی ایک بھی محدث نے اسے ضعیف نہیں کہا ہے بلکہ اس کے برعکس محدثین اوروہ بھی متقدمین میں سے کئی ایک نے اس روایت کو صحیح وثابت کہا ہے جیساکہ آگے بیان ہوگا۔

بہرحال اگلے سطورمیں مذکورہ روایت سے متعلق ہم اپنا مطالعہ پیش کرتے ہیں ، ہمارے ناقص علم میں خطبہ مسنونہ میں مذکورہ الفاظ کا اضافہ ثابت شدہ ہے،اورمعاصرین میں سے بعض اہل علم کا اسے شاذ قرار دینا محل نظر ہے۔

امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ» ، ثُمَّ يَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» ، وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ يَقُولُ: صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ، وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ» [سنن النسائي (3/ 188) رقم 1578 واخرجه ايضا في السنن الكبرى (2/ 308) وفي الإغراب (ص: 57) واخرجه ايضا ابن خزيمه في صحيحه (3/ 143) وابونعيم في حلية الأولياء وطبقات الأصفياء (3/ 189) من طريق عتبة بن عبد الله به]

صحابی رسول جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جیسے کہ اس کا حق ہے۔ پھر فرماتے جیسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔ یقین رکھو سب سے سچی کتاب اللہ کی کتاب اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے۔ سب سے بری چیز (دین میں) نئی چیز پیدا کرنا ہے اور ہر نئی چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی۔ پھر فرماتے میں اور قیامت اتنی قریب ہیں جتنی یہ دو انگلیاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قیامت کا ذکر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار مبارک سرخ ہوجاتے آواز بلند ہوجاتی اور غصہ تیز ہوجاتا جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں کہ صبح یا شام کے وقت تم لوگوں کو لشکر لوٹ لے گا۔ جو شخص مال چھوڑ کر مرے گا وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر مرے گا اس کا قرض اور بچوں کی پرورش کا میں ذمہ دار ہوں کیونکہ کہ میں مسلمانوں کا ولی ہوں۔

روایت مذکورہ کی سند پر بحث​


جابر بن عبد الله بن عمرو بن حرام الأنصارى الخزرجى السلمى ​


معروف مشہور صحابی ہیں‌۔

محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب القرشى ​


کتب ستہ کے راوی اور ثقہ ہیں۔

امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
تابعي، ثقة [تاريخ الثقات للعجلي ط الباز (261) ص: 410]۔

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
ثقة فاضل [تقريب التهذيب: 1/ 411]

جعفر بن محمد بن على بن الحسين بن على بن أبى طالب القرشى ۔​


مسلم اورسنن اربعہ کے راوی ہیں۔

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
ثقة لا يسأل عن مثله [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/ 487]۔

امام ابن عبد البر رحمه الله (المتوفى463)نے کہا:
كان ثقة مأمونا عاقلا حكيما ورعا فاضلا[التمهيد 2/ 66]۔

سفيان بن سعيد بن مسروق الثورى​


کتب ستہ کے راوی اورمعرورف مشہورثقہ ہیں۔

لیکن موصوف مدلس تھے، مگرمذکورہ حدیث کے ایک طریق میں انہوں نے تحدیث کی صراحت کردی ہے :

امام احمد رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ، احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، صُبِّحْتُمْ مُسِّيتُمْ» قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: «أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا، أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ، وَأَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ» [ مسند أحمد (22/ 467) رقم 14630]۔

لیکن ظاہر ہے کہ یہ روایت مختصرہے اوراس میں نسائی کے تمام الفاظ نہیں‌ ہیں مگراس سے اتناتوضرورمعلوم ہواکہ مذکورہ حدیث کو بنیادی طورپرسفیان ثوری رحمہ اللہ نے اپنے استاذ سے سن رکھا ہے ، اس لئے کوئی بعید نہیں کہ سفیان ثوری نے پوری روایت اپنے استاذ سے سنی ہو اورکہیں پرمختصر بیان کیا اورکہیں‌ مطول، لیکن صرف اتنی سی بات بہرحال کافی نہیں ہے مگر چونکہ مذکورہ حدیث کے جملہ الفاظ کے شواہد متابعات بھی موجود ہیں اس لئے شواہد متابعات کے پیش نظر مذکوہ حدیث بالکل صحیح ہے۔

شواہد ومتابعات کا تذکرہ آگے ہوگا۔

عبد الله بن المبارك بن واضح الحنظلى التميمى​

کتب ستہ کے راوی اوربالاتفاق ثقہ محدث ہیں‌۔

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
عبد الله بن المبارك ثقة امام[مقدمة الجرح والتعديل لابن أبي حاتم ص: 253]

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
ان عبد الله بن المبارك كيسا مستثبتا ثقة[سؤالات ابن الجنيد لابن معين: ص: 366]۔

امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
كان ثقة مأمونًا إمامًا حجة كثير الحديث[الطبقات الكبرى لابن سعد، ط العلمية: 7/ 263]

امام أبو يعلى الخليلي رحمه الله (المتوفى446)نے کہا:
الْإِمَامُ، الْمُتَّفَقُ عَلَيْهِ[الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي 3/ 887]۔

امام مزي رحمه الله (المتوفى 742) نے کہا:
أحد الأئمة الاعلام وحفاظ الاسلام[تهذيب الكمال للمزي: 16/ 6]

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748) نے کہا:
حديثه حجة بالإجماع[سير أعلام النبلاء للذهبي: 8/ 380]

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) نے کہا:
ثقة ثبت فقيه عالم[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 235]

الغرض یہ کہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ بالاجماع حجت اورزبردست ثقہ راوی ہیں۔

لیکن حیرت ہے کہ بعض معاصرین نے مذکورہ حدیث میں‌ ’’وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ کے اضافہ کو شاذ قراردیا اوراس کی ذمہ داری ابن المبارک رحمہ اللہ جیسے جلیل القدرمحدث‌ پرڈال دی ، یعنی یہ کہا کہ ابن مبارک ان الفاظ‌ کی روایت میں‌ منفرد ہیں‌ لہذا یہ حجت نہیں۔

لیکن ہمارا کہنا یہ ہے کہ ابن المبارک رحمہ اللہ نے ایک زائد چیز بیان کی اورزائد چیز دیگرروایت پرایک اضافہ ہے نہ کہ دیگرروایت کے مخالف، اورشذوذ کی بات وہاں‌ کی جاتی ہے جہاں مخالفت ہو اوراگرمخالفت کے بغیر کوئی راوی کوئی مزید چیز بیان کرے تو راوی کے ثقہ ہونے کی صورت میں اس کی زیادتی معتبروحجت ہوگی کیونکہ اصول ہے کہ زيادة الثقة مقبولة۔

امام مسلم رحمه الله (المتوفى261) نے کہا:
وَالَّذِي نَعْرِفُ مِنْ مَذْهَبِهِمْ فِي قَبُولِ مَا يَتَفَرَّدُ بِهِ الْمُحَدِّثُ مِنَ الْحَدِيثِ أَنْ يَكُونَ قَدْ شَارَكَ الثِّقَاتِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْحِفْظِ فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا، وَأَمْعَنَ فِي ذَلِكَ عَلَى الْمُوَافَقَةِ لَهُمْ، فَإِذَا وُجِدَ كَذَلِكَ، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا لَيْسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ قُبِلَتْ زِيَادَتُهُ[صحيح مسلم: 1/ 7]

اسی طرح یہ بھی اصول ہے کہ من علم حجة على من لم يعلم۔


مذکورہ الفاظ کی روایت میں ابن المبارک رحمہ اللہ منفرد نہیں :

لطف تو یہ ہے کہ مذکورالفاظ کی روایت میں ابن المبارک رحمہ اللہ منفرد بھی نہیں ہیں‌ بلکہ امام وکیع جیسے جلیل القدرثقہ محدث‌ نے ان الفاظ‌ کی روایت میں ان کی متابعت کی ہے ۔

امام أبو نعيم رحمه الله (المتوفى430 ) نے کہا:
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْعَسْكَرِيُّ عَسْكَرُ سُرَّ مَنْ رَأَى بِبَغْدَادَ ثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ثَنَا أَبُو بَكْرٍ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعُثْمَانُ قَالا ثَنَا وَكيِعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَأنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح وَثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مَعْدَانَ ثَنَا سَالم بْنُ جُنَادَةَ ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ ضَلالَةٌ وَكُلُّ ضَلالَةٍ فِي النَّارِ ثُمَّ يَقُولُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَعَلا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ صَبَّحَتْكُمْ مَسَّتْكُمْ ثُمَّ يَقُولُ (مَنْ تَرَكَ مَالا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ) رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ وَكِيعٍ [المسند المستخرج على صحيح مسلم لأبي نعيم (2/ 455) رقم 1953 اخرجہ ایضا البیھقی فی الأسماء والصفات (1/ 202) رقم 137 من طرق وکیع بہ]۔

امام وکیع رحمہ اللہ کی طرف سے اس زبردست متابعت کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کو تفرد کا ذمہ دار ٹہرائے۔


عتبة بن عبد الله بن عتبة اليحمدى الأزدى​


امام نسائی کے استاذ اورثقہ راوی ہیں ، کسی ایک بھی محدث نے ان پرجرح نہیں کی ہے ۔

امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
لا بأس به [تسمية الشيوخ للنسائي: ص: 73]۔

امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354) نے انہیں ثقات میں ذکرکیا ہے۔
عتبة بن عبد الله بن عتبة اليحمدي [الثقات لابن حبان: 8/ 508]۔

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
الشيخ، المحدث، المسند، الثقة[سير أعلام النبلاء للذهبي: 11/ 539]۔

بعض اہل علم نے شذوذ کی ذمہ داری اس راوی پرڈالی ہے لیکن یہ بھی درست نہیں کیونکہ:

اول: تو عتبہ بن عبداللہ ثقہ ہیں اورثقہ کی زیادتی مقبول ومعتبرہے۔

دوم: عتبہ کی متابعت بھی کئی رواۃ نے کی ہے :

پہلی متابعت( حبان بن موسی کی طرف سے):

امام فریابی رحمہ اللہ(المتوفى301 ) نے کہا:
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ, عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ, قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ، يَحْمَدُ اللَّهَ, وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ, ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ يهدِ اللَّهُ, فَلَا مضلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ, فَلَا هاديَ لَهُ، أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٍ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ"، ثُمَّ يَقُولُ: "بُعِثْتُ 1 أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ", وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ, وَعَلَا صَوْتَهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ، ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضِيَاعًا فإلي, وعلي، وأنا وليُّ المؤمنين".[القدر للفريابي (ص: 251) واخرجہ ایضا الاجری فی الشريعة (1/ 398) رقم 84 و البیھقی فی الاعتقاد (ص: 229) من طریق حبان بن موسى بہ ]ِ


دوسری متابعت (سُوَيْدُ بنُ نَصْر،المَرْوَزِيُّکی طرف سے ):

امام ابن بطہ رحمہ اللہ(المتوفى387 ) نے کہا:
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي عَزْرَةَ الْغِفَارِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ الْمُعَافَا الْبَزَّازُ، وَهَذَا لَفْظُهُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، وَسُوَيْدٌ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا خَطَبَ: «نَحْمَدُ اللَّهَ وَنُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ» ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ يَهْدِي اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَحْسَنُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٌ فِي النَّارِ»[الإبانة الكبرى لابن بطة (4/ 85)]ِ

ان متابعات کے بعد اس بات کی بھی گنجائش باقی نہیں‌ کہ عتبہ بن عبداللہ سے کوئی چوک ہوئی ہو۔


حدیث مذکورکے شواہد ومتابعات​


زیرتحقیق حدیث‌ میں‌ خطبے کے الفاظ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»​


یہ تمام کے تمام الفاظ‌ دیگرصحیح آحادیث سے‌‌ثابت ہیں ملاحظہ ہو:

ابتدائی الفاظ​


امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، يَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَخَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ» ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ [صحيح مسلم: 2/ 593 ]۔

امام مسلم رحمہ اللہ ہی نے دوسرے مقام پرکہا:
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُولُ: «صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ» ، وَيَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» ، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى، وَيَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» ثُمَّ يَقُولُ: «أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ»[صحيح مسلم: 2/ 592]


مذکورہ دونوں روایات صحیح مسلم کی ہیں‌ جن کی صحت مسلم ہے۔

كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ​


امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275)نے کہا:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو السُّلَمِيُّ، وَحُجْرُ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: أَتَيْنَا الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ {وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ} [التوبة: 92] فَسَلَّمْنَا، وَقُلْنَا: أَتَيْنَاكَ زَائِرِينَ وَعَائِدِينَ وَمُقْتَبِسِينَ، فَقَالَ الْعِرْبَاضُ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ»[سنن أبي داود (4/ 200) رقم 4607 واسنادہ صحیح]۔

یہ حدیث بھی بالاتفا‌ق صحیح ہے۔

مذکورہ الفاظ کے ثبوت میں میرے علم کی حدتک کسی نے کوئی کلام نہیں کیا ہے ، کلام صرف ’’كُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ کے ثبوت سے متعلق ہے اس بارے میں اگلے سطور ملاحظہ ہوں:

كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ​

امام ابن الاعرابی رحمہ اللہ (المتوفى340 ) نے کہا:
نا إِبْرَاهِيمُ، نا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَالضَّلَالَةُ فِي النَّارِ[ معجم ابن الأعرابي (2/ 568) رقم 1116 واسنادہ صحیح ] ۔

’’كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ اور’’وَالضَّلَالَةُ فِي النَّارِ‘‘ معنوی طورایک بات ہے۔

سند کے رجال کا تعارف ملاحظہ ہو:

عبد الله بن مسعود بن غافل بن حبيب الهذلى

معروف و مشہور صحابی ہیں‌۔

عبد الله بن حبيب بن ربيعة، أبو عبد الرحمن السلمى

کتب ستہ کے رجال میں‌ سے ہیں‌ اورثقہ راوی ہیں:

امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
تابعي، ثقة[تاريخ الثقات للعجلي :ص: 253]

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
ثقة ثبت [تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 214]

عطاء بن السائب بن مالك ،أبو يزيد الثقفى

بخاری اورسنن اربعہ کے رجال میں‌ سے ہیں اورثقہ ہیں ، لیکن اخیرمیں‌ ان کا حافظہ خراب ہوگیا تھا :

امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
وكان ثقة. وقد روى عنه المتقدمون. وقد كان تغير حفظه بآخره واختلط في آخر عمره[الطبقات الكبرى لابن سعد، ط العلمية: 6/ 328]

امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
كان شيخًا قديمًا ثقة، روى عن ابن أبي أوفى، ومن سمع من عطاء قديمًا فهو صحيح الحديث
[تاريخ الثقات للعجلي ص: 332]

امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
ثقة ساء حفظه بآخره[الكاشف للذهبي: 2/ 22]


یہ ثقہ تھے مگرآخرمیں‌ اختلاط کے شکارہوگئے تھتے اس لئے ان کی وہی مرویات حجت ہیں جو ان کے اختلاط سے قبل ان سے روایت کی گئی ہیں اور زیرتحقیق سند میں ان سے روایت کرنے والے راوی حمادبن سلمہ ہیں اورانہوں نے عطاء بن السائب سے ان کے مختلط ہونے پہلے روایت کیا ہے۔

امام فسوي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
عطاء ثقة ، حديثه حجة ، ما روى عنه سُفيان وشُعبة وحماد بن سلمة ، وسماع هؤلاء سماع قديم[المعرفة والتاريخ للفسوي: 3/ 84]

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
حديث سفيان وشعبة بن الحجاج وحماد بن سلمة عن عطاء بن السائب مستقيم وحديث جرير بن عبد الحميد وأشباه جرير ليس بذاك لتغير عطاء في آخر عمره [تاريخ ابن معين - رواية الدوري 3/ 309]۔

امام طحاوي رحمه الله (المتوفى321)نے کہا:
وإنما حديثه الذي كان منه قبل تغيره يؤخذ من أربعة لا ممن سواهم وهم شعبة والثوري وحماد بن سلمة وحماد بن زيد[شرح مشكل الآثارللطحاوى: 6/ 117]

امام منذري رحمه الله (المتوفى656)نے کہا:
وإسناده صحيح إن شاء الله فإن عطاء بن السائب ثقة وقد حدث عنه حماد بن سلمة قبل اختلاطه [الترغيب والترهيب 2/ 291]۔

امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
رواه أحمد ورجاله ثقات لأن حماد بن سلمة روى عن عطاء بن السائب قبل الاختلاط.[مجمع الزوائد: 7/ 16]

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
وَحَدِيث حَمَّاد بن سَلمَة عَن عَطاء بن السَّائِب قبل الإختلاط[تغليق التعليق 3/ 470]۔

ایک دوسری کتاب میں کہا:
وإسناده صحيح فإنه من رواية عطاء بن السائب وقد سمع منه حماد بن سلمة قبل لاختلاط[تلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير 1/ 382]


تنبیہ اول:
امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عِصْمَةَ، حَدَّثَنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيى، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيى بن مَعِين يقول لَيْث بن أبِي سُلَيم ضعيف مثل عطاء بن السائب وجميع من روى عن عطاء بن السائب روى عنه فِي الاختلاط إلاَّ شُعْبَة وسفيان.[الكامل في ضعفاء الرجال 7/ 233]۔

ابن معین رحمہ اللہ سے منقول اس قول کی بنیاد پر بعض لوگوں‌ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ عطاء بن السائب سے اختلاط سے قبل صرف شعبہ وسفیان نے ہی سناہے۔
لیکن یہ بات دو وجوہات کی بناپرمردودہے:
اول:
ابن معین رحمہ اللہ سے یہ قول بسندصحیح ثابت ہیں‌ ہیں ، کیونکہ اس کی سندمیں ’’أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيى‘‘ ہے اوراسے ابراہم اصبہانی رحمہ اللہ نے کذاب کہاہے [الكامل في الضعفاء 1/ 195 وسندہ صحیح]۔

دوم :
خود ابن معین رحمہ اللہ سے ان کا یہ قول ثابت ہے کہ ’’حماد بن سلمة‘‘ نے ’’عطاء بن السائب‘‘ سے ان کے مختلط ہونے سے پہلے سناہے، جیساکہ اوپر نقل کیا جاچکاہے۔

تنبیہ ثانی :
عبدالحق اشبیلی اورابن القطان وغیرہ نے امام عقیلی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ :
وسماع حماد بن سلمة بعد الاختلاط [تهذيب التهذيب 7/ 185]۔

عرض ہے کہ :
اولا:
امام عقیلی سے اس کے خلاف بھی منقول ہے، حافظ ابن حجررحمہ اللہ نےکہا:
وقال العقيلي تغير حفظه وسماع حماد بن زيد منه قبل التغير [تهذيب التهذيب 7/ 185]
ثانیا:
امام عقیلی رحمہ اللہ سے مذکورہ قول ثابت ہیی نہیں ہے، ابن القطان وغیرہ کو وہم ہواہے۔
کیونکہ امام عقلیلی کی کتاب میں ضعفاء میں حمادبن سلمہ کا تذکرہ ہے لیکن وہاں ایساکچھ بھی موجود نہیں ، نہ مطوعہ نسخہ میں اورنہ ہی مخطوطے میں تفصیل کے لئے دیکھئے:[الانبساط بتحقيق سماع حماد بن سلمة من عطاء بن السائب فقط قبل الاختلاط: ص 20 ، 22 ]۔


تنبیہ ثالث:
امام عقیلی رحمہ اللہ نے یحیی بن سعید رحمہ اللہ کے بارے میں کہا:
وَكَانَ يَحْيَى لَا يَرْوِي حَدِيثَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ إِلَّا عَنْ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ[الضعفاء الكبير للعقيلي 3/ 400]۔

عرض ہے کہ امام یحیی بن سعید نے بعد حمادبن سلمہ کے طریق سے بھی عطاء سے روایت کرنے لگے تھے اورموت تک اس پرباقی رہے ۔
چنانچہ امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا :
مات يحيى بن سعيد القطان وهو يحدث عن حماد بن سلمة[تاريخ ابن معين - رواية الدوري 4/ 347]۔



حماد بن سلمة بن دينار البصرى

کتب ستہ کے رجال میں سے ہیں‌ البتہ بخاری میں ان کی مرویات تعلیقا ہیں ، موصوف بھی ثقہ ہیں۔

امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
بصري"، ثقة، رجل صالح، حسن الحديث[تاريخ الثقات للعجلي ط الباز (261) ص: 131]

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
ثقة ثبت[سؤالات ابن الجنيد لابن معين: ص: 316]۔

امام یحیی بن سعید نے ان سے روایت کیا ہے،امام ابن معین نے کہا:
مات يحيى بن سعيد القطان وهو يحدث عن حماد بن سلمة[تاريخ ابن معين - رواية الدوري 4/ 347]۔

اوریحیحی بن سعد صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں‌ ،صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں:
امام عجلى رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
يحيى بن سعيد القطان يكنى أبا سعيد بصري ثقة، نقي الحديث، وكان لا يحدث إلا عن ثقة[تاريخ الثقات للعجلي ط الباز (261) ص: 472]


تنبیہ :
حمادبن سلمہ پراختلاط کا الزام مردود ہے امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی تردید کی ہے، آپ فرماتے ہیں:
حديث حماد بن سلمة في أول أمره وآخر أمره واحد [تاريخ ابن معين - رواية الدوري 4/ 312]۔

معلوم ہوا کہ بقول امام ابن معین رحمہ اللہ ’’حماد بن سلمة‘‘ شروع سے لیکر اخیرتک ثقہ تھے ۔


حفص بن عمر، أبو عمر الضرير، البصرى

ابوداؤد کے رجال میں سے ہیں اورثقہ ہیں‌۔

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
صدوق صالح الحديث[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 3/ 183]۔

امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354) نے انہیں ثقات میں ذکرکیاہے:
حفص بن عمر أبو عمر الضرير[الثقات لابن حبان 8/ 199]۔

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
صدوق عالم [تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 93]۔


إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجي البصري، أبو مسلم

امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385)نے کہا:
صدوق ثقة. [تاريخ بغداد ت بشار: 7/ 36 وسندہ صحیح]۔

امام موسى بن هارون الحمال رحمه الله (المتوفى294)نے کہا:
أبو مسلم الكشي ثقة.[تاريخ بغداد ت بشار: 7/ 36 وسندہ صحیح]۔

امام عبد الغني بن سعيد الحافظ رحمه الله (المتوفى409)نے کہا:
ثقة نبيل[تاريخ بغداد ت بشار: 7/ 36 وسندہ صحیح]۔

امام سمعانی رحمہ اللہ(المتوفى 489 ) نے کہا:
من ثقات المحدثين، وكبارهم،[الانساب للسمعاني: 11/ 61]۔


تنبیہ :
امام ابن الاعرابی رحمہ اللہ نے اپنے شیخ کا نام صرف ’’ابراہیم‘‘ بتلایاہے لیکن اس سے مراد’’إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجي البصري، أبو مسلم‘‘ ہی ہیں‌۔

کیونکہ یہ وہ راوی ہیں جو ابن الاعرابی کے استاذ ہونے ساتھ ساتھ ’’حفص بن عمر، أبو عمر الضرير الأكبر البصرى‘‘ کے شاگربھی ہیں ۔

اس کے علاوہ اس طبقہ میں جودوسرے ابراہیم ہیں وہ اگرحفص کے شاگردہیں تو ابن الاعرابی کے استاذ نہیں اوراگر ابن الاعرابی کے استاذ ہیں تو حفص کے شاگر نہیں ۔
اوراس سند میں‌ جو ابراہم ہیں وہ ابن الاعرابی کے استاذ بھی ہیں‌ اورحفص کے شاگرد میں ہیں لہٰذا اس سند میں‌ یہی مراد ہیں۔

’’إبراهيم بن عبد الله الكجي، أبو مسلم‘‘ ابن الاعرابی کے استاذ ہیں اس کی دلیل کے لئے ابن الاعرابی کی بیان کردہ ی سند ملاحظہ ہو:

ابن الاعرابی نے کہا:
نا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، وَمَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ، ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ[معجم ابن الأعرابي (2/ 588) رقم 1159]۔

’’إبراهيم بن عبد الله الكجي، أبو مسلم‘‘ حفص بن عمر، أبو عمر الضرير البصرى کے شاگرد ہیں اس کے دلائل بہت ہیں :

امام مزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حفص بن عُمَر بن الحارث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رَوَى عَنه : البخاري ، وأبو داود ، وإبراهيم بن عَبد الله بن الجنيد الختلي ، وأبو مسلم إبراهيم بن عَبد الله الكشي[تهذيب الكمال للمزي: 7/ 27]۔


علاوہ ازیں حفص بن عمر، أبو عمر الضرير عن حماد بن سلمہ کے طریق سے جو سندیں ملتی ہیں ان میں اکثرحفص کے شاگر ابراہم بن عبداللہ ، ابومسلم ہی ہوتے ہیں‌۔

مثلا:
امام شجری رحمہ اللہ (المتوفى499) نے کہا:
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، بِقِرَاءَتِي عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ فِي دَارِ الزَّعْفَرَانِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ الْقَطِيعِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ فِي قَطِيعَةِ الدَّقِيقِ بِانْتِقَاء عُمَرَ بْنِ جَعْفَرٍ الْبَصْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، الحدیث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔[ترتيب الأمالي الخميسية للشجري (1/ 240)]۔

امام شاشی رحمہ اللہ (المتوفى335) نے کہا:
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: الحدیث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ [المسند للشاشي (2/ 327)]


بطورشاھد پیش کردہ مذکورہ حدیث مرفوع ہے​


’’وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ کے کے ثبوت میں عبداللہ ابن مسعوررضی اللہ عنہ کہ اوپرجوروایت پیش گئی ہے ومرفوع ومتصل ہے اس کی سند میں کوئی بھی علت نہیں ہے، ہر ہر راوی کی بابت تفصیل پیش کردی گئی ہے۔

لیکن بعض اہل علم نے یہ کہ دیا کہ مذکورہ روایت کا مرفوع ہونا درست نہیں‌ بلکہ وہ موقوف ہے، حالانکہ یہ بات قطعا درست نہیں‌ بلکہ حق یہ کہ مزکورہ روایت مرفوع و متصل اورصحیح ہے۔

لیکن تھوڑی دیرکے لئے اگر ہم فرض بھی کرلیں کہ مذکورہ روایت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پرموقوف بھی تب بھی یہ حدیث لازمی طورپر مرفوع حکمی ہی قرار پائے گی ، کیونکہ اس روایت میں‌ جوبات ہے وہ اجتہاد کے ذریعہ نہیں کہی جاسکتی ،
لہذا اس کا حکما مرفوع ہونا واضح ہے ، جیساکہ امام بیھقی رحمہ اللہ نے کہا ہے مذکورہ روایت کو موقوفا نقل کرکے یہ بات کہی ہے ۔

چنانہ امام بيهقي رحمه الله (المتوفى458)نے کہا:
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , أنا عَبْدُ اللَّهِ الشَّيْبَانِيُّ , أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , أنا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ: الْهُدَى , وَالْكَلَامُ فَأَصْدَقُ الْحَدِيثِ كَلَامُ اللَّهِ , وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ , وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ , وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ , وَهَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ[الأسماء والصفات للبيهقي(1/ 482) رقم 413 واسنادہ ضعیف]۔

غورفرمائیں کہ مذکورہ روایت کو امام بیھقی رحمہ اللہ نے موقوفا نقل کیا تو اس کے بعد ہی صراحت کردی کہ:
وَهَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ[الأسماء والصفات للبيهقي (1/ 482)]۔

یعنی یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے اورظاہر ہے کہ انہوں‌ نے یہ بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے لی ہے۔

معلوم ہوا کہ اگرابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو موقوف بھی مان لیں تب بھی یہ مرفوع حکمی ہونے کے باعث شاہد بننے کے قابل ہے۔

یہ بات اس صورت میں کہی جائے گی جب یہ ثابت ہوجائے کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث موقوف ہے لیکن یہ بات درست نہیں اورحق یہ ہے کہ مذکورہ روایت مرفوع ہی ہے ۔

جن لوگوں نے اس کے موقوف ہونے کو راجح کہا ہے انہوں نے دلیل یہ دی ہے کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ روایت کو اکثر نے موقوفا ہی روایت کیا ہے لہذا اس کا موقوف ہونا ہی راجح ہے۔

جوابا عرض ہے کہ ہمارے پاس اس کے دوجوبات ہیں :

پہلا جواب:
مرفوع بیان کرنا زیادتی ثقہ کے قبیل سے ہیں اورثقہ کی زیادتی مقبول ہے۔

دوسراجواب:
جن موقوف روایات کی بنیاد یہ بات کہی جارہی ہے وہ موقوف روایات ، خود ثابت ہی نہیں تفصیل ملاحطہ ہو:

امام مروزي رحمه الله (المتوفى294)نے کہا:
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَنْبَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»[السنة للمروزي (ص: 28) رقم79 واخرجہ ایضا اللالکائی فی شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (1/ 86) من طریق ابی معاویہ بہ]۔

یہ رایت ضعیف ہے اس میں کئی علتیں ہے :

اول :
سند میں اضطراب ہے امام مروزی کی روایت میں ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے شاگرکی جگہ ’’عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِرْدَاسٍ‘‘ کا ذکر ہے اوریہ مجہول ہے ۔

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
مجهول [تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 234]۔

لالکائی کی روایت میں اس کی جگہ ’’الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ‘‘ کا نام ہے یہ مصیبت غالبا امام اعمش کے اس استاذ کی طرف سے ہے جسے انہوں نے تدلیس کرکے حذف کردیا ہے۔


دوم:
امام اعمش رحمہ اللہ مدلس ہیں اورروایت عن سے ہے۔

سوم:

امام اعمش کے شاگرد ابومعاویہ ، محمدبن خازم مدلس ہیں اورروایت عن سے ہے۔


امام طبراني رحمه الله (المتوفى321)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ: الْهَدْيُ وَالْكَلَامُ، وَأَصْدَقُ الْحَدِيثِ كَلَامُ اللهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ "[ المعجم الكبير للطبراني (9/ 97) رقم 8521 واخرجہ ایضا ابن بطہ فی الإبانة الكبرى (1/ 336) رقم 198 والبیھقی فی الأسماء والصفات (1/ 482) رقم 413 وقوام السنة فی الترغيب والترهيب (1/ 294) رقم 475 من طریق ابراہیم الشجری بہ]۔


اس کی سند میں ’’إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ،‘‘ ہے اوریہ ضعیف ہے۔

امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
ممن قدم الكوفة من هجر، وكان ضعيفا في الحديث[الطبقات الكبرى لابن سعد: 6/ 341]۔

امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264) نے اسے ضعفاء میں‌ گنایا ہے:
إبراهيم بن مسلم الهجري [الضعفاء لابي زرعه الرازي 2/ 598]۔

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
إبراهيم الهجري ليس بقوي لين الحديث [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/ 131]۔

امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
يضعف في الحديث [العلل الصغيرللترمذی ص: 756]۔

امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
ليس بشيء [تاريخ ابن معين - رواية الدوري 3/ 276]

امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
إبراهيم بن مسلم الهجري ضعيف كوفي [الضعفاء والمتروكين للنسائي ص: 11]۔

امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507)نے کہا:
إبراهيم بن مسلم الهجري أبو إسحاق الكوفي ليس بشيء في الحديث[معرفة التذكرة لابن طاهر المقدسي ص: 125]

امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
رواه أبو يعلى وفيه إبراهيم بن مسلم الهجري وهو ضعيف[مجمع الزوائد للھیثمی: 11/ 65]

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
لين الحديث رفع موقوفات[تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 18]۔

لہٰذا جب ’’كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ موقوف روایات ثابت ہی نہیں ہیں تو انہیں بنیاد بناکر بسند صحیح متصل ثابت شدہ مرفوع روایت پراعتراض کیونکہ درست ہوسکتاہے۔

كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ کا دوسرا شاہد​


امام ابن وضاح رحمہ اللہ(المتوفى 286 ) نے کہا:
نا أَسَدٌ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ , عَنْ هِلَالٍ الْوَرَّاقِ قَالَ: نا شَيْخُنَا الْقَدِيمُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُكَيْمٍ , عَنْ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «أَصْدَقُ الْقِيلِ قِيلُ اللَّهِ , وَأَنَّ أَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , أَلَا وَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ , وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ , وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ»[البدع لابن وضاح (1/ 56) رقم 56]


اس سند کے سارے راوی بخاری یا مسلم کے ہیں‌ اورجو لوگ امام ابن عیینہ (مدلس ) کے عنعنہ کو مضرنہیں مانتے ہیں ان کے اصول کےمطابق یہ روایت مسلم کی شرط پرصحیح ہے۔
اوریہ روایت مرفوع حکمی ہے لہٰذا یہ بھی شاہد بننے کے قابل ہے جیسا کہ گذشتہ سطوراسی جیسی ایک موقوف روایت سے متعلق امام بیھقی رحمہ اللہ کے حوالہ سےوضاحت کی گئی۔
یہ حوالہ ہم بطورالزام پیش کررہے ہیں ورنہ ہماری نظر میں یہ روایت امام ابن عیینہ رحمہ اللہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔


كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ کا تیسرا شاہد​

أبو الليث نصر بن محمد، السمرقندي (المتوفى 373) نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ: «عَمَلٌ قَلِيلٌ فِي سُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ عَمَلٍ كَثِيرٍ فِي بِدْعَةٍ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ» [تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي (ص: 556)]۔

یہ روایت مرسل ہے حسن نے ڈائریکٹ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اس لئےہماری نظر میں یہ ضعیف ہے مزید اس میں اوربھی کئی علتیں ہیں لیکن جولوگ ضعیف ، اورضعیف ملاکرحسن لغیرہ بنانے والے باطل اصول پرایمان رکھتے ہیں انہیں اس حدیث کو بھی بطورشاہد تسلیم کرلینا چاہے۔

اہل بدعت بدعت کے لئے لمحہ فکریہ ​
اہل بدعت امام ابوحنیفہ کو اپنا امام مانتے ہیں اوران کے مقلد ہیں جب ان سے یہ کہا جائے کہ امام ابوحنیفہ نے کوئی کتاب نہیں لکھی تو حضرات فقہ الاکبرجیسی کتابوں کا نام لیتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ امام ابوحنیفہ کی کتاب ہے ۔
عرض ہے کہ امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب اسی کتاب میں ہے:
حدثنَا حَمَّاد عَن إِبْرَاهِيم عَن ابْن مَسْعُود رَضِي الله عَنهُ انه كَانَ يَقُول إِن شَرّ الْأُمُور محدثاتها وكل محدثة بِدعَة وكل بِدعَة ضَلَالَة وكل ضَلَالَة فِي النَّار وَقَالَ الله تَعَالَى {فألهمها فجورها وتقواها} وَقَالَ الله تَعَالَى لمُوسَى على سيدنَا وَنَبِينَا وَعَلِيهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام {فَإنَّا قد فتنا قَوْمك من بعْدك وأضلهم السامري}[الفقه الأكبر (ص: 142)]۔

ہماری نظر میں تو یہ کتاب اوراس کی مرویات قطعا معتبر نہیں لیکن اہل بدعت اس بارے میں کیا فرمائیں گے۔

کیا ابن تیمہ رحمہ اللہ نے زیرتحقیق روایت کوضعیف کہا؟؟؟​


بعض اہل علم نے ابن تیمہ رحمہ اللہ کی طرف مذکورہ حدیث کی تضعیف منسوب کی اوردلیل میں ابن تیمہ رحمہ اللہ کی یہ عبارت پیش کی ہے:
وَلَمْ يَقُلْ : وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ بَلْ يَضِلُّ عَنْ الْحَقِّ مَنْ قَصَدَ الْحَقَّ وَقَدْ اجْتَهَدَ فِي طَلَبِهِ فَعَجَزَ عَنْهُ فَلَا يُعَاقَبُ وَقَدْ يَفْعَلُ بَعْضَ مَا أُمِرَ بِهِ فَيَكُونُ لَهُ أَجْرٌ عَلَى اجْتِهَادِهِ وَخَطَؤُهُ الَّذِي ضَلَّ فِيهِ عَنْ حَقِيقَةِ الْأَمْرِ مَغْفُورٌ لَهُ . وَكَثِيرٌ مِنْ مُجْتَهِدِي السَّلَفِ وَالْخَلَفِ قَدْ قَالُوا وَفَعَلُوا مَا هُوَ بِدْعَةٌ وَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ بِدْعَةٌ إمَّا لِأَحَادِيثَ ضَعِيفَةٍ ظَنُّوهَا صَحِيحَةً وَإِمَّا لِآيَاتِ فَهِمُوا مِنْهَا مَا لَمْ يُرَدْ مِنْهَا وَإِمَّا لِرَأْيٍ رَأَوْهُ وَفِي الْمَسْأَلَةِ نُصُوصٌ لَمْ تَبْلُغْهُمْ . وَإِذَا اتَّقَى الرَّجُلُ رَبَّهُ مَا اسْتَطَاعَ دَخَلَ فِي قَوْلِهِ : { رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا } وَفِي الصَّحِيحِ أَنَّ اللَّهَ قَالَ : " قَدْ فَعَلْت " وَبَسْطُ هَذَا لَهُ مَوْضِعٌ آخَرُ .[مجموع الفتاوى ( الباز المعدلة ) 19/ 191]۔

قارئین غورفرمائیں کہ اس عبارت میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ ’’كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ والی حدیث ضعیف ہے ، بلکہ سیاق یہی بتلاتا ہے کہ امام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے یہ بات قیاسا کہی ہے اوریہ کہتے وقت ان کے پیش نظر بات نہ تھی کہ دیگرحدیث سے یہ بات بھی ثابت ہے ۔


یا ممکن ہے کہ امام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے محض لوگوں سے یہ اضافہ سناہو اوراس وقت تک ان کی نظر میں اس کی دلیل نہ گذری ہو اس لئے اس کی وضاحت کردی ۔

ان تمام توجیہات کے لئے ہمارے پاس قرینہ یہ ہے کہ خود ابن تیمہ رحمہ اللہ نے جہاں ’’ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ“ والی حدیث پیش کی ہے وہاں ایسی کوئی بات نہیں کی بلکہ صراحت کے ساتھ اس حدیث کو صحیح قراردیا جسے ہم اگے پیش کریں گے لیکن اس سے قبل یہ وضاحت ہوجائے کہ ہرگمراہی کے لئے جہنم کی بات کہنا غلط ہے کیونکہ ہرگمراہی جان بوجھ کرنہیں‌ ہوتی بلکہ بعض گمراہیں اجتہادی غلطیوں کے سبب ہوتی ہیں لہٰذا ایسی گمراہی پرجہنم کی وعید کیسے ہوسکتی ہے۔

توعرض ہے کہ اجتہادی غلطیوں کی بناپرجو چوک ہوتی ہے اس پر گمراہی کا اطلاق ہی درست نہیں کیونکہ وہ تو معفو عنہ ہے نیز اس پر تو ایک اجرکا وعدہ بھی کیا گیاہے۔

بہرحال اب امام ابن تیمہ رحمہ اللہ کی وہ عبارتیں‌ ملاحظہ فرمائیں جس میں امام ابن تیمہ رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث کو صحیح کہا ہے:

والجواب: أما القول إن شر الأمور محدثاتها، وإن كل بدعة ضلالة، وكل ضلالة في النار، والتحذير من الأمور المحدثات: فهذا نص رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلا يحل لأحد أن يدفع دلالته على ذم البدع، ومن نازع في دلالته فهو مراغم.[اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم (2/ 88)]۔

اوردوسرے مقام پر کہتے ہیں:
وَفِي لَفْظٍ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ «مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا ُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ خَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ لْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ» رَوَاهُ النَّسَائِيّ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ وَزَادَ: «كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ» وَكَانَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَخْطُبُ بِهَذَا الْخُطْبَةِ، وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - َوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: «إنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ الْكَلَامُ وَالْهَدْيُ فَأَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ َأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ أَلَا، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ» وَفِي لَفْظٍ: «غَيْرَ أَنَّكُمْ سَتُحْدِثُونَ وَيُحْدَثُ لَكُمْ فَكُلُّ مُحْدَثَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ» .[الفتاوى الكبرى لابن تيمية (6/ 78)]۔

امام ابن تیمہ رحمہ اللہ کی ان عبارتوں سے بالکل واضح ہے کہ انہوں نے ’’كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ پر جب اشکال پیش کیا تھا تو اس وقت انہیں یہ علم نہ تھا کہ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے لیکن جب انہیں اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح بھی کہا اوراس سے استدلال بھی کیا ، لہذا امام ابن تیمہ رحمہ اللہ کی طرف مذکورہ حدیث کی تضعیف کو منسوب کرنا قطعا درست نہیں ۔


مذکورہ حدیث‌ کی تصحیح کرنے والے محدثین



امام ابن خزيمة، النيسابوري (المتوفى 311 )۔

آپ نے اس روایت کو اپنی صحیح میں نقل کیاہے ، ملاحظہ ہو:
الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ , يَحْمَدُ اللَّهَ , وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ , ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ , وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ , إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ , وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ , وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ , وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ , وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ» , ثُمَّ يَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» , وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ , وَعَلَا صَوْتُهُ , وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ: «صَبَّحَتْكُمُ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ» , ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ , وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ , وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» . «هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ. وَلَفْظُ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ مُخَالِفٌ لِهَذَا اللَّفْظِ»[صحيح ابن خزيمة (3/ 143)رقم 1785]




أبو نعيم ، الأصبهاني (المتوفى 430 ) رحمہ اللہ۔

آپ نے اپنی کتاب ’’الحلیہ‘‘ اس حدیث کونقل کرنے کے بعد اسے صراحت کے ساتھ صحیح کہا ہے ، ملاحظہ ہو:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ: «مَنْ يهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ» ، ثُمَّ يَقُولُ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ» ، وَكَانَ إِذَا ذُكِرَتِ السَّاعَةُ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ صَبَّحَتْكُمْ مَسَّتْكُمْ، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا أَوْ دَيْنًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ، وَأَنَا أَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ» . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ثَابِتٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ رَوَاهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنِ الثَّوْرِيِّ[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 3/ 189]


امام أبو بكر البيهقي (المتوفى 458 ) رحمہ اللہ ۔

آپ فرماتے ہیں:
وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُطْبَتِهِ يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ يَقُولُ: مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ , وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَصْدَقُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ " أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ , حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَابِرِ، فَذَكَرَهُ[الاعتقاد للبيهقي ص: 229]



ابن تیمیہ الحراني الدمشقي (المتوفى 728 )۔

آپ نے کہا:
وَفِي لَفْظٍ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ يَقُولُ «مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ خَيْرُ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ» رَوَاهُ النَّسَائِيّ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ وَزَادَ: كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ[الفتاوى الكبرى لابن تيمية (6/ 78)]

ان محدثین کے بالمقابل ہمیں کسی ایک بھی محدث کا حوالہ نہیں ملا جس نے مذکورہ حدیث کو ضعیف کہا ہو ۔

خلاصہ کلام یہ مذکورہ حدیث صحیح ہے اورخطبہ مسنونہ میں ’’كُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘ کی زیادتی ثابت و درست ہے، واللہ اعلم۔


(ختم شد)​

No comments:

Post a Comment