فرض نمازوں کے بعد اذکار یا دعائیں؟ - Kifayatullah Sanabili Official website

2019-07-20

فرض نمازوں کے بعد اذکار یا دعائیں؟


فرض نمازوں کے بعد اذکار یا دعائیں؟
کفایت اللہ
✿ ✿ ✿ 
’’ذکر‘‘ اور ’’دعاء‘‘ میں فرق
اردو میں عام طور سے ’’ذکر‘‘ اور ’’دعاء‘‘ میں فرق نہیں کیا جاتا اور ’’ذکر‘‘ کوبھی ’’دعاء‘‘ ہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔حالانکہ دونوں میں فرق ہے ’’ذکر‘‘ سے مراد ایسے الفاظ جن میں اللہ کی حمد وثناء بیان کی جائے اور ’’دعاء ‘‘ سے مراد ایسے الفاظ جن میں بندہ اللہ سے کچھ طلب کرے۔
یہ فرق واضح ہوجانے کے بعد معلوم ہونا چاہئے کہ نماز کے بعد کوئی بھی خصوصی ’’دعاء‘‘ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے بلکہ نماز کے بعد صرف اور صرف ’’اذکار ‘‘ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ۔
نیز اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے اندر تشہد کے اخیر میں زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنے کی تعلیم دی ہے [ صحیح مسلم رقم968] 
اس کے برخلاف کسی بھی حدیث میں نہیں ملتا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد کوئی دعا پڑھی ہو یا ایسی کوئی تعلیم دی ہو البتہ نماز کے بعد اذکار پڑھنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

زیادہ سے زیادہ استغفار کے بارے میں کہا جاسکتاہے کہ یہ دعاء ہے اور اس کا محل نماز کے بعد ہے ۔لیکن یہ استغفار جن الفاظ کے ساتھ منقول ہے ان میں اکثر الفاظ ذکر ہی کے ہیں یعنی مجموعی لحاظ سے یہ بھی ذکر ہی ہے۔نیز استغفار میں براہ راست خیر کا سوال نہیں ہوتا ہے بلکہ عذاب الہی سے بچنے کا سوال ہوتاہےاس لئے اس میں ذکر کا پہلو غالب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شیخ بن باز رحمہ اللہ نے بھی استغفار کو ذکر ہی کے قبیل سے مانا ہے چنانچہ لکھتے ہیں:
”أما الأذكار الواردة في ذلك، فقد دلت الأحاديث الصحيحة على أن ذلك في دبر الصلاة بعد السلام. ومن ذلك أن يقول حين يسلم: أستغفر الله، أستغفر الله، أستغفر الله، اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام . . .“ 
 ”دبر الصلاۃ کے الفاظ میں جن اذکار کا ذکر ہے ان کے بارے میں احادیث سے ثابت ہے کہ انہیں نماز کے اخیر میں سلام پھیرنے کے بعد پڑھا جائے گا ان اذکار میں سے یہ ہے کہ نمازی سلام پھیرنے کے بعد کہے : أستغفر الله، أستغفر الله، أستغفر الله، اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام . . .“ [مجموع فتاوى ابن باز 25/ 158]

اور شیخ ابن عثمین رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ نماز کے بعد استغفار گرچہ دعاء ہے لیکن یہ عام دعاء نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صرف نماز میں ہونے والی کوتاہیوں سے مغفرت طلب کرنا ہے ۔شیخ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
 ”فإن قال: قائل أليس قد ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه إذا سلم من الصلاة استغفر ثلاثاً وقال: اللهم أنت السلام ومنك السلام . . . وهذا دعاء؟ فالجواب: أن هذا دعاء خاص متعلق بالصلاة؛ لأن استغفار الإنسان بعد سلامه من الصلاة من أجل أنه قد لا يكون أتم صلاته، بل أخل فيها إما بحركة أو انصراف قلب أو ما أشبه ذلك، فكان هذا الدعاء بالمغفرة لاصقاً بالصلاة متمماً، وليس دعاء مطلقاً مجرداً“ 
 ”اگرکوئی کہے کہ : کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تھے تو تین بار استغر اللہ پڑھتے تھے پھر کہتے تھے أنت السلام ومنك السلام . . . اور یہ دعاء ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ (استغفارر والی دعاء) نماز ہی سے متعلق خاص ہے ، کیونکہ نماز کے بعدنمازی استغفار اس لئے کرتا ہے کیونکہ دوران نماز اس سے کچھ نہ کچھ کوتاہی ہوسکتی ہے ، مثلا نماز میں اس نے بلا وجہ حرکت کی ہو یا دوران نماز اس کا دل کہیں اور لگا ہو وغیرہ وغیرہ تو یہ استغفار کی دعاء نماز کے فورا بعد اسی لئے ہے تاکہ دوران نماز ہونے والیوں کوتاہیوں کا ازالہ ہوسکے ، لہذا یہ عام اور مطلق دعاء نہیں ہے“ [فتاوى نور على الدرب للعثيمين 4/ 2، ترقيم الشاملة]

الغرض نماز کے بعد استغفار جن کلمات کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ان میں ذکرہی غالب ہے ، لہذا یہ ذکر کے قبیل سے ہے جیساکہ شیخ بن باز رحمہ اللہ نے کہا ہے اور اس کے اندر معنوی طور پر جو دعاء کا مفہوم ہے اس کا تعلق بھی خاص نماز ہی سے ہے جیساکہ شیخ ابن عثمین رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے ۔
تاہم اگر اسے مکمل طور سے دعاء ہی مان لیں تو صرف اسی کا استثناء کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح اگر کسی روایت میں کسی خاص دعاء کے بارے میں صراحت مل جائے کہ اسے نماز کے بعد پڑھنا ہے تو اسے بھی اس اصول سے مستثنی کیا جائے گا۔باقی اصولی طور پر یہی بات کہی جائے گی کہ نماز کے اخیر میں دعاؤں کا محل سلام پھیرنے سے پہلے کا وقت ہے ۔اور اذکار کا محل سلام پھیرنے کے بعد کاوقت ہے۔ 

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) فرماتے ہیں:
’’الأحاديث المعروفة في الصحاح والسنن والمساند تدل على أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يدعو في دبر صلاته قبل الخروج منها وكان يأمر أصحابه بذلك ويعلمهم ذلك ولم ينقل أحد أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا صلى بالناس يدعو بعد الخروج من الصلاة هو والمأمومون جميعا لا في الفجر ولا في العصر ولا في غيرهما من الصلوات بل قد ثبت عنه أنه كان يستقبل أصحابه ويذكر الله ويعلمهم ذكر الله عقيب الخروج من الصلاة‘‘
’’صحاح ، سنن اور مسانید میں جو مشہور احادیث ہیں وہ اس بات پردلالت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے اخیر میں نماز ختم کرنے سے قبل دعائیں کرتے تھے اور اپنے صحابہ کو بھی اسی بات کا حکم دیتے اور یہی تعلیم دیتے تھے۔ اور یہ کسی نے نقل نہیں کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو نماز ختم کرنے کے بعد آپ اور آپ کے سارے صحابہ دعائیں کرتے تھے، نہ فجر میں نہ عصر میں نہ ان دونوں کے علاوہ کسی اور نماز میں ۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو صحابہ کی طرف رخ کرکے اللہ کا ذکر کرتے تھے اور صحابہ کو بھی اسی بات کی تعلیم دیتے تھے‘‘ [مجموع الفتاوى 22/ 492]

شیخ ابن عثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’وأما الدعاء بعد الصلاة النافلة والفريضة فليس له أصل عن النبي عليه الصلاة والسلام فإن الله تعالى قال (فَإِذَا قَضَيْتُمْ الصَّلاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ) ولم يقل فادعو الله والدعاء إنما يكون قبل السلام هكذا أرشد النبي صلى الله عليه وسلم إليه فقال حين ذكر التشهد ثم ليتخير من الدعاء ما شاء ‘‘
’’رہی بات نفل یا فرض نماز کے بعد دعاؤں کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: (جب تم نماز سے فارغ ہو تو اللہ کا ذکر کرو) یہاں اللہ نے یہ نہیں کہا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دعاء کرو۔ اور دعاء سلام پھیرنے سے پہلے نماز کے اندر کرنی ہے جیساکہ اللہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تشہد کا ذکر کیا تو اس کی تعلیم دیتے ہوئے کہا: پھر اس کے بعد نمازی جن دعاؤں کو چاہے اختیار کرے‘‘ [فتاوى نور على الدرب:ج8ص2، ترقيم الشاملة ،نیز دیکھیں:مجموع فتاوى ورسائل العثيمين:ج13ص 268]

’’دبرالصلاۃ‘‘ کا مفہوم 
واضح رہے کہ بعض اذکار ودعاؤں کے ساتھ ’’دبرالصلاۃ‘‘ کا لفظ وارد ہے اور اس لفظ سے سلام پھیرنے سے قبل نماز کا آخری حصہ اور سلام پھیرنے کے بعد کا وقت بھی مراد ہوسکتاہے ۔ لیکن مذکورہ تفصیل کی روشنی میں اس لفظ کے سلسلے میں ضابطہ یہی ہوگا کہ اگر یہ لفظ دعاؤں کے ساتھ آئے تو اس سے مراد سلام پھیرنے سے قبل نماز کا آخری حصہ ہوگا اور اگر یہ لفظ اذکار کے ساتھ آئے تو اس سے مراد سلام پھیرنے کے بعد کا وقت ہوگا۔
شیخ ابن عثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ما قيد بدبر الصلاة إن كان ذكراً فهو بعدها، وإن كان دعاء فهو في آخرها‘‘
’’جن الفاظ کے ساتھ دبرالصلاۃ کے الفاظ وارد ہیں وہ اگر اذکار ہیں تو ان کا محل نماز کے بعد کا وقت ہے اور اگر دعائیں ہیں تو ان کا محل (سلام پھیرنے سے قبل) نماز کا آخری حصہ ہے‘‘[ مجموع فتاوى ورسائل العثيمين:ج13ص 268]
معنوی طور پر یہی بات شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی کہی ہے دیکھئے:[مجموع الفتاوى:ج22ص 492]
نیز دبرالصلاۃ کے ساتھ دعاؤں والی بیشتر روایات کے بعض طرق میں یہ صراحت بھی مل جاتی ہے کہ انہیں سلام سے پہلے پڑھنا ہے ۔

عمومی دعاء
واضح رہے کہ عمومی طور پر کسی وقت بھی دعاء کرنا جائز ہے اور اس عموم میں نماز کے بعد کا وقت بھی ہے ۔اس اعتبار سے بغیرمعمول کے اگر کبھی کبھار نماز کے بعد بھی دعاء کرلی جائے توعمومی طور پر اس کا جواز ہے۔لیکن اسے معمول بنا لینا اور خاص کر عین نماز کے بعد اسے سنت قرار دینا محل نظر ہے۔
لہٰذا یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ یہاں عام دعاؤں کی نہیں بلکہ خاص ان دعاؤں کی بات ہے جن کا خصوصی طور پر نماز کے اخیر میں پڑھنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ اور مسئلہ ان دعاؤں کے پڑھنے سے انکار کا نہیں بلکہ ان کےمحل کا ہے ۔یعنی انہیں نماز کے اخیر میں کب پڑھا جائے گا نماز کے اندر؟ یا نماز کے باہر؟
شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ ابن عثیمن رحمہما اللہ نے قرآن یا حدیث کی روشنی میں جو اصول پیش کیا ہے اس کی رو سے ان دعاؤں کو نماز کے اخیر میں سلام پھیرنے سے قبل ہی پڑھیں گے نیز اس طرح کی کئی روایات کے بعض طرق میں یہ صراحت بھی آجاتی ہے کہ انہیں نما ز کے اندر پڑھنا ہے ۔
تنبیہ:
امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
 ”حدثنا محمد بن يحيى الثقفي المروزي قال: حدثنا حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن عبد الرحمن بن سابط، عن أبي أمامة، قال: قيل يا رسول الله: أي الدعاء أسمع؟ قال: «جوف الليل الآخر، ودبر الصلوات المكتوبات»“ 
 ”ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے؟ آپ نے فرمایا: «آدھی رات کے آخر کی دعا (یعنی تہائی رات میں مانگی ہوئی دعا) اور فرض نمازوں کے اخیر میں»“ [سنن الترمذي ت شاكر 5/ 526 ، رقم3499] 
یہ روایت ضعیف ہے۔
کیونکہ اس کی سند منقطع ہے امام ابن معين رحمه الله (المتوفى233) نے کہا ہے کہ عبد الرحمن بن سابط کا سماع ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں [تاريخ ابن معين، رواية الدوري: 3/ 87]
اس علت کے سبب امام ابن القطان رحمه الله (المتوفى628) نے اس روایت کو ضعیف قرار دیاہے دیکھیں:[بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام 2/ 385]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس سند کو منقطع قرار دیا ہے دیکھیں :[تخریج الکلم الطیب : ص 114 طبع المعارف]
لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ شواہد کی بناپر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے ۔(حوالہ سابق)
عرض ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے دو شواہد تو وہی ذکرکئے ہیں جن کا حوالہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بعد دیا ہے مگر اس کی سند نہ تو امام ترمذی رحمہ اللہ نے پیش کی ہے اور نہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ، تیسرے شاہد کے لئے علامہ البانی رحمہ اللہ نے معجم الصحابہ لابن قانع کا ذکر کیا ہے۔
عرض ہے کہ یہ تینوں شواہد میں دو تو بے سند ہیں اور ایک ضعیف ہے ، مزید مصیبت یہ کہ ان تینوں میں سے کسی میں بھی نماز کے اخیر میں دعاء کرنے والے بات سرے سے ہے ہی نہیں، پھر اس حصہ کے لئے دیگر غیرمتعلق روایات شاہد کیونکر بن سکتی ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ یہ روایت منقطع ہے لہٰذا اس سے استدلال درست نہیں ہے ۔
تاہم اگر کوئی علامہ البانی رحمہ اللہ کی تقلید میں اسے حسن لغیرہ ہی تسلیم کرے تو عرض ہے کہ اس میں بھی نماز کے بعد دعاء کرنے کی صراحت نہیں ہے بلکہ (دبر الصلوات) کے الفاظ ہیں اور ماقبل میں وضاحت ہوچکی ہے کہ جب دعاء کے لئے دبر الصلوات کا ذکر ہو تو اس سے مراد نماز کے اندر سلام پھیرنے سے قبل کا محل ہے ۔

اس وضاحت کے بعد وہ اذکار پیش خدمت ہیں جنہیں فرض نمازوں کے بعد پڑھنا صحیح سندوں سے ثابت ہے:
(1)
 ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ 
 ”اللہ سب سے بڑا ہے“ 
[صحیح البخاری:ـ کتاب الاذان:باب الذکربعدالصلاة،رقم842،مسلم ،رقم583 ]۔ 

(2)
 ”أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، أَسْتَغْفِرُ اللهَ ، اللهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ[يا] ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ“ 
 ”میں اللہ سے بخشش طلب کرتا ہوں (تین مرتبہ ) ائے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری طرف ہی سلامتی ہے ، تو بابرکت ہے ائے بزرگی اور عزت والے“ 
[مسلم:ـ کتاب المساجد ومواضع الصلوٰة:استحباب الذکربعد الصلوٰة وبیان صفتہ،حدیث نمبر 591]۔

(3)
 ”سُبْحَانَ اللَّهِ“ (33دفعہ)۔ ”الْحَمْدُ لِلَّهِ“ (33دفعہ)۔ ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ (34دفعہ)
 ”اللہ پاک ہے ، تمام تعریفات اللہ کے لیے ہیں ،اللہ سب سے بڑا ہے“ 
[مسلم:کتاب المساجد ومواضع الصلوٰة:استحباب الذکربعد الصلوٰة وبیان صفتہ ،حدیث نمبر596]۔​
یا
 ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ صرف 33دفعہ ہی پڑھے اور 100 کی عدداس دعاء سے پوری کرے:
 ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ“ 
 ”اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت ہے ، اور اس کے لیے تمام تعریفات اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ 
[مسلم:ـ کتاب المساجد...:استحباب الذکربعد الصلوٰة وبیان صفتہ ،حدیث نمبر597]۔

(4)
 ”لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الجَدِّ مِنْكَ الجَدُّ“ 
 ”اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اُسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے ستائش ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اﷲ تو جو چیز دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو تو روک لے اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی کوشش کرنے والے کی کوشش تیرے مقابلے میں سود مند نہیں“ 
[بخاری:ـ کتاب الاذان:باب الذکر بعدالصلوٰة،حدیث نمبر844] 

(5)
 ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ“ 
 ”اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لئے بادشاہت ہے ، اور اس کے لیے تمام تعریفات اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ،اللہ کی توفیق و مدد کے بغیر ، گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، ہم اس کی عبادت کرتے ہیں ، اسی کے لئے فضل ہے اور بہترین ثنا (تعریف ) اسی کے لیے ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، ہم اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے والے ہیں اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو“ 
[مسلم:ـ کتاب المساجد ومواضع الصلوٰة:استحباب الذکربعد الصلوٰة وبیان صفتہ،حدیث نمبر594] 

(6)
 ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (١) مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (٢) وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ (٣) وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ (٤) وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (٥)“ 
 ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجئے میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں ، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ، اور اندھیری رات کی تاریکی سے جب وہ چھا جائے ، اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے ، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے​“ 

(7)
 ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (١) مَلِكِ النَّاسِ (٢) إِلَهِ النَّاسِ (٣) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (٤) الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ (٥) مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ (٦)“ 
 ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسم کہہ دیجئے میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں ، لوگوں کے مالک کی ، لوگوں کے معبود کی ، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے (شیطان) کے شر سے ، جولوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے ، جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے ہے“ 
[ترمذی:ـ کتاب فضائل القرآن:باب ماجاء فی المعوذتین،حدیث نمبر2903 صحیح بالشواھد] 

▪ مذکورہ اذکار کے علاوہ ہمارے علم کی حد تک کسی اور ذکر کا صراحتا نماز کے بعد پڑھنا ثابت نہیں ہے واللہ اعلم۔
▪ بعض دعاؤں سے متعلق بعض طرق میں یہ صراحت ملتی ہے کہ انہیں سلام پھیرنے کے بعد پڑھا جائے گا لیکن یہ صراحت شاذ ہے اور ان روایات میں محفوظ بات یہی ہے ان دعاؤں کو سلام پھیرنے سے قبل ہی پڑھا جائے گا۔
البتہ اگر کسی خاص دعاء کے بارے میں کوئی صحیح روایت مل جائے کہ اسے نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہی پڑھنا ہے تو اسے مذکورہ اصول سے مستثنی قراردیا جائے گا اور خاص دلیل کی بناپر اسے نماز کے بعد ہی پڑھا جائے گا۔واللہ اعلم۔
(کفایت اللہ سنابلی)



No comments:

Post a Comment