کیا ”یزید“ کو ”امير المؤمنين“ کہنے والے پر عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیس کوڑے لگوائے؟ - Kifayatullah Sanabili Official website

2019-08-19

کیا ”یزید“ کو ”امير المؤمنين“ کہنے والے پر عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیس کوڑے لگوائے؟


کیا ”یزید“ کو ”امير المؤمنين“ کہنے والے پر عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیس کوڑے لگوائے؟
”کفایت اللہ سنابلی“
 ✿  ✿  ✿ 
امام ذھبی رحمہ اللہ نے کہا:
”قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ: ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غُنْيَةٍ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَذَكَرَ رَجُلٌ يَزِيدَ فَقَالَ: قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: تَقُولُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ! وَأَمَرَ بِهِ فَضُرِبَ عِشْرِينَ سَوْطًا“ 
 ”نوفل بن فرات کا کہنا ہے کہ میں عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے پاس تھا اس دوران ایک شخص نے یزید رحمہ اللہ کاتذکرہ کیا اورکہا: ’’امیرالمومنین یزیدبن معاویہ ‘‘ ، یہ سن کرعمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا : تم امیرالمومنین کہتے ہو ! پھران کے حکم پر اس شخص کو بیس کوڑے لگائے گئے“ [تاريخ الإسلام للذهبي: 5/ 275 وھو ایضا باختلاف السند فی:تهذيب التهذيب (11/ 361) و لسان الميزان (6/ 294) ، وبدون السند فی:النجوم الزاهرة فى ملوك مصر والقاهرة (1/ 163) و شذرات الذهب في أخبار من ذهب (1/ 278) و تاريخ الخلفاء (ص: 158) والروض الباسم لابن الوزير( 1/ 57) و ينابيع المودة لذوي القربى ـ القندوزي 3 / 32 ]۔

اس روایت کو بہت سارے لوگ یزید بن معاویہ کی مذمت میں بیان کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت ثابت ہی نہیں ، اور عمربن عبدالعزیزرحمہ اللہ ایسی مضحکہ خیزحرکت سے بری ہیں۔
تفصیل ملاحظہ ہو:
درج بالا روایت تین علتوں کی بناپرضعیف ہے:

پہلی علت
اس روایت کی مکمل سند نامعلوم ہے ۔
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ”مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ“ سے نقل کیا ہے۔
 ”محمد بن المتوكل المعروف بابن أبي السری“ کی وفات 238 ھ ہے،[الثقات لابن حبان: 9/ 88]۔
اورامام ذھبی رحمہ اللہ کی پیدائش 673 ھ ہے،[ذيل التقييد في رواة السنن والأسانيد 1/ 54]۔
یعنی درمیان میں ساڑے چار صدی کافاصلہ ہے ۔
 ◈ تنبیہ:
اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ امام ذھبی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت کو محمد بن أبي السري کی کتاب سے نقل کیا ہے کیونکہ ”محمد بن أبي السري“ کے بارے میں یہ ملتا ہی نہیں کہ انہوں نے کوئی کتاب لکھی ، نیزامام ذہبی نے ”محمد بن أبي السري“ کے ترجمہ میں بھی ان کی کسی کتاب کا تذکرہ نہیں کیا ہے، اورنہ ہی کسی اورمقام پر ان کی کسی کتاب کاذکرملتاہے۔

نیز اسی روایت کو حافظ ابن حجر نے بیان کیا تو ”محمد بن أبي السري“ کا نام بھی ساقط کردیا اورکہا:
 ”وقال يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية أحد الثقات ثنا نوفل بن أبي عقرب ثقة قال كنت عند عمر بن عبد العزيز فذكر رجل يزيد بن معاوية فقال أمير المؤمنين يزيد فقال عمر تقول أمير المؤمنين يزيد وأمر به فضرب عشرين سوطا“ [تهذيب التهذيب لابن حجر: 37/ 190، لسان الميزان لابن حجر: 6/ 294]

اورپھراسی روایت کو امام سیوطی نے بیان کیا تو پوری سند ہی غائب کردی ، چنانچہ امام سیوطی نے کہا:
 ”قال نوفل بن أبي الفرات: كنت عند عمر بن عبد العزيز، فذكر رجل يزيد، فقال: قال أمير المؤمنين يزيد بن معاوية، فقال: تقول أمير المؤمنين؟ وأمر به، فضرب عشرين سوطًا“ [تاريخ الخلفاء ص: 158]۔

اسی طرح سليمان بن خوجه القندوزي نے بھی کہا:
 ”وقال نوفل بن أبي الفرات: كنت عند عمر بن عبد العزيز فقال رجل : أمير المؤمنين يزيد (بن معاوية). فقال عمر : تقول أمير المؤمنين، وأمر به فضربه عشرين سوطا“ [ينابيع المودة لذوي القربى :ج 3 ص32 ]۔

ان تمام نقول سے ظاہر ہے کہ مذکورہ اہل علم میں سے کسی ایک نے بھی اس روایت کی مکمل سند بیان نہیں کی ہے ، لہٰذا اس روایت کے غیرثابت شدہ ہونے کی یہ پہلی علت ہے۔

دوسری علت
امام ذھبی رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت جس راوی کے حوالہ سے نقل کیا ہے وہ م ”حمد بن المتوكل المعروف بابن أبي السری“ ہے۔
اس کے بارے میں ناقدین کے اقوال مختلف ہیں اورراجح یہی ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے۔
✿ معدلین کے اقوال:
● امام ابن معين رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
”وسألت يحيى عن ابن ابي السري العسقلاني فقال ثقة“ [سؤالات ابن الجنيد لابن معين: ص: 388]۔
 ● امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
 ”محمد بن أبي السري العسقلاني ثقة“ [المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3/ 700]۔
 ● امام ابن القطان رحمہ اللہ (المتوفى : 628)نے کہا:
 ”ابْن أبي السّري مُحَمَّد بن المتَوَكل ثِقَة حَافظ“ [بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام 5/ 218]۔
 ● امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
 ”لحافظ، العالم، الصادق“ [سير أعلام النبلاء للذهبي: 11/ 161]۔
یعنی صرف چار ناقدین نے اس راوی کو ثقہ کہا ہے ان میں بھی امام ابن معین رحمہ اللہ کی توثیق دیانت داری کے معنی میں ہوسکتی ہے کیونکہ وہ اکثر دیانت داری کے معنی میں بھی راوی کو ثقہ کہہ دیتے ہیں:
علامہ معلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”وقد اختلف كلام ابن معين في جماعة ، يوثق أحدهم تارة ويضعفه أخرى ، منهم إسماعيل بن زكريا الخُلقاني ، وأشعث بن سوار ، والجراح بن مليح الرواسي ، وزيد بن أبي العالية ، والحسن بن يحيى الخُشَني ، والزبير بن سعيد ، وزهير بن محمد التميمي ، وزيد بن حبان الرقي ، وسلم العلوي ، وعافية القاضي ، وعبد الله الحسين أبو حريز ، وعبد الله بن عقيل أبو عقيل ، وعبد الله بن عمر بن حفص العمري ، وعبد الله بن واقد أبو قتادة الحراني ، وعبد الواحد بن غياث ، وعبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب ، وعتبة بن أبي حكيم ، وغيرهم . وجاء عنه توثيق جماعة ضعفهم الأكثر ون منهم تمام بن نجيح ، ودراج ابن سمعان ، والربيع بن حبيب الملاح وعباد بن كثير الرملي ، ومسلم بن خالد الزنجي ، ومسلمة بن علقمة ، وموسى بن يعقوب الزمعي ، ومؤمل بن إسماعيل ، ويحيى بن عبد الحميد الحماني .وهذا يشعر بأن ابن معين كان ربما يطلق كلمة ((ثقة )) لا يريد بها أكثر من أن الراوي لا يتعمد الكذب“ [التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 164]۔
اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے توثیق کے ساتھ ان کی تضعیف بھی کی ہے کما سیاتی ۔

 ✿ جارحین کے اقوال:
 ● امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277)نے کہا:
 ”لين الحديث“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 105]۔
 ● امام ابن عدي رحمه الله (المتوفى365)نے کہا:
 ”وابن أَبِي السري العسقلاني كثير الغلظ“ [الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي: 7/ 288] 
 ● امام أبو علي، الغساني رحمه الله (المتوفى498)نے کہا:
 ”كثير الحفظ وكثير الغلط“ [تسمية شيوخ أبي داود لأبي علي الغساني: ص: 96] 
 ● امام ابن القيسراني رحمه الله (المتوفى:507)نے کہا:
 ”وابن أبي السري كثير الغلط“ [ذخيرة الحفاظ لابن القيسراني: 4/ 1912] 
 ● امام ابن الجوزي رحمه الله (المتوفى597)نے کہا:
 ”محمد بن المتوكل العسقلاني قال الرازي لين الحديث“ [الضعفاء والمتروكين لابن الجوزي: 3/ 95] 
 ● امام ذهبي رحمه الله (المتوفى748)نے کہا:
 ”محمد بن أبي السري العسقلاني.هو ابن المتوكل، له مناكير“ [ميزان الاعتدال للذهبي: 3/ 560] 
نیزکہا:
 ”ولمحمد هذا أحاديث تستنكر“ [ميزان الاعتدال للذهبي: 4/ 24] 
نیزکہا:
 ”حافظ وثق ولينه أبو حاتم“ [الكاشف للذهبي: 2/ 214] 
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”ولذلك أشار الذهبي في الكاشف إلى أن التوثيق المذكور غير موثوق به، فقال : وثق“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة 3/ 377] 
علامہ البانی کی اس عبارت سے معلوم ہواکہ امام ذہبی جب ’’وثق ‘‘ کہیں تو اس بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ اس راوی کی جوتوثیق کی گئی ہے وہ غیر معتبرہے ۔
 ● امام ابن رجب رحمه الله (المتوفى795)نے کہا:
 ”ومنها: أن مُحَمَّد بْن المتوكل لَمْ يخرج لَهُ فِي ((الصحيح)) ، وقد تكلم فِيهِ أبو حاتم الرَّازِي وغيره ولينوه، وَهُوَ كثير الوهم“ [فتح الباري لابن رجب: 6/ 405] 
 ● حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نےکہا:
 ”محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن الهاشمي مولاهم العسقلاني المعروف بابن أبي السري صدوق عارف له أوهام كثيرة“ [تقريب التهذيب لابن حجر: 1/ 418] 
علامہ البانی رحمہ اللہ کا موقف:
علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس راوی کو ضعیف کہا ہے بلکہ بعض مقامات پرسخت ضعیف قراردیتے ہوئے اسے ’’متہم ‘‘ بھی قرار دیا ہے، چند حوالے ملاحظہ ہوں:
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”وابن أبي السري هو محمد بن المتوكل وهو ضعيف حتى اتهمه بعضهم[سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة 3/ 162] 
ایک اورمقام پرفرماتے ہیں:
 ”وهذا سند ضعيف من أجل ابن أبي السري واسمه محمد بن المتوكل العسقلاني فإنه ضعيف وقد أتهم [إرواء الغليل 4/ 244] 
مزیدتفصیل کے لئے دیکھئے:[معجم الرواة الذين ترجم لهم الألباني: ج ٤ص ٢٠ ، ٢١] 

تیسری علت
”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ کی توثیق موجود نہیں ، کسی بھی ناقد امام سے اس کی مستند توثیق نہیں ملتی ۔

✿ تنبیہ اول:
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ثقات میں ذکرکیا ہے۔
عرض ہے کہ جمہورمحدثین کے نزدیک ابن حبان رحمہ اللہ اگرتوثیق میں منفردہوں تو ان کی توثیق غیرمعتبرہے۔

✿ تنبیہ دوم :
یہ عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے عامل تھے ، چنانچہ:
امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
 ”أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي أنا أبو الحسين بن النقور أنا عيسى بن علي أخبرنا عبد الله بن محمد نا داود بن عمرو نا يحيى بن عبد الملك بن حميد بن أبي غنية نا نوفل بن الفرات عامل عمر بن عبد العزيز قال وكان رجلا من كتاب الشام مأمونا“ [تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 292 واسنادہ صحیح]۔
عرض ہے کہ عمربن عبدالعزیررحمہ اللہ کاعامل ہونا بھی ان کے ثقاہت کی دلیل نہیں ہے۔
غورکریں کہ ”نوفل بن الفرات“ عمربن عبدالعزیررحمہ اللہ کے عامل تھے لیکن ”مالک الدار“ خلیفہ دوم عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے خازن تھےانہیں بھی امام ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے ، اوران سے وسیلہ کے بارے میں ایک بہت ہی منکر روایت مروی ہے۔
لیکن اہل علم نے اس روایت کو ضعیف قراردیا ہے، اور ”مالک الدار“ کو نامعلوم التوثیق قراردیا ہے۔
 ◈ علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”عدم التسليم بصحة هذه القصة لأن مالك الدار غير معروف العدالة والضبط“ [التوسل للالبانی :ص: 120]۔
علامہ البانی رحمہ اللہ سے قبل بھی اہل علم نے اسے مجہول قراردیا ہے، چنانچہ:
 ◈ امام منذري رحمه الله (المتوفى656)نے کہا:
 ”رَوَاهُ الطَّبَرَانِيّ فِي الْكَبِير وَرُوَاته إِلَى مَالك الدَّار ثِقَات مَشْهُورُونَ وَمَالك الدَّار لَا أعرفهُ“ [الترغيب والترهيب للمنذري: 2/ 29]۔
 ◈ امام هيثمي رحمه الله (المتوفى807)نے کہا:
 ”رواه الطبراني في الكبير. ومالك الدار لم أعرفه وبقيه رجاله ثقات“ [مجمع الزوائد للهيثمي: 3/ 166]۔

 ✿ تنبیہ سوم :
تاریخ ابن عساکر کی مذکورہ روایت میں یہ بھی ہے کہ:
 ”وكان رجلا من كتاب الشام مأمونا“ [تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 292 واسنادہ صحیح]۔
یعنی اس راوی کو ’’مأمون‘‘ کہا گیا ہے۔
عرض ہے کہ ’’مأمون‘‘ سے زیادہ سے زیادہ دیانت داری کا پتہ چل سکتا ہے اس سے ثقہ ہونا لازم نہیں آتا ۔
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
 ”حدثنا نصر بن علي الجهضمي حدثنا الأصمعي عن ابن أبي الزناد عن أبيه قال أدركت بالمدينة مائة كلهم مأمون ما يؤخذ عنهم الحديث يقال ليس من أهله“ 
”یعنی امام ابوالزناد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے مدینہ میں سیکڑوں لوگوں کو پایا جو ’’مأمون‘‘ تھے لیکن ان سے حدیث کی روایت نہیں کی جاتی تھی کیونکہ بقول اہل علم وہ اس کے قابل نہ تھے“ [صحيح مسلم، مقدمہ: 1/ 12واسنادہ صحیح]۔

 ✿ تنبیہ چہارم :
حافظ ابن حجررحمہ اللہ مذکورہ روایت کی سند میں ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ کی جگہ ”نوفل بن أبي عقرب“ کانام لکھا ہے اوراسے ”ثقہ“ کہا ہے ، حافظ ابن حجررحمہ اللہ لکھتے ہیں:
 ”قال يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية أحد الثقات ثنا نوفل بن أبي عقرب ثقة قال كنت عند عمر بن عبد العزيز فذكر رجل يزيد بن معاوية فقال أمير المؤمنين يزيد فقال عمر تقول أمير المؤمنين يزيد وأمر به فضرب عشرين سوطا“ [تهذيب التهذيب لابن حجر: 37/ 190]۔
یادرہے کہ یہ کتابت کی غلطی نہیں ہے کیونکہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اپنی دوسری کتاب ’’لسان الميزان‘‘ میں بھی یہ سند اسی طرح درج کی ہے ، ملاحظہ ہو:
 ”قال يحيى بن عبد الملك بن أبي عتبة حدثنا نوفل بن أبي عقرب كنت عند عمر بن عبد العزيز فذكر رجل يزيد بن معاوية فقال أمير المؤمنين يزيد فقال له عمر تقول أمير المؤمنين وأمر به فضربه عشرين سوطا“ [لسان الميزان لابن حجر: 6/ 294]۔
معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے اس روایت کی سند میں ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ کی جگہ نوفل بن أبي عقرب کانام لکھا ہے
عرض ہے کہ اس نام کے کسی بھی راوی کا نام ونشان مجھے کتب جرح وتعدیل میں نہیں مل سکا۔
البتہ ’’أبو نوفل بن أبى عقرب البكرى‘‘ نام کے ایک ثقہ راوی موجود ہیں اورحافظ ابن حجررحمہ اللہ نے غالبا زیربحث راوی کویہی راوی سمجھ لیا اوراسے ثقہ کہہ دیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سند میں ”أبو نوفل بن أبى عقرب البكر“ ىنہیں ہے ، اورحافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ سند غالبا اپنے حافظہ سے لکھی ہے اورسند میں وہم کے شکارہوگئے یا جس مرجع سے نقل کیا ہے وہیں پرغلطی تھی ، بہرحال جوبھی وجہ ہے بہرصورت اس سند میں ”نوفل بن أبي عقرب“ کے بجائے ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ ہی ہیں ، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
 ● پہلی دلیل:
امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی دوکتابوں میں یہ سند نقل کی ہے اوردونوں میں ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ ہی درج کیا ہے، کما مضی۔
 ● دوسری دلیل:
امام ذہبی رحمہ اللہ کے علاوہ امام سیوطی نے بھی اس سند میں ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ ہی کانام نقل کیا ہے، کما مضی۔
 ● تیسری دلیل:
عمربن عبدالعزیزسے روایت کرنے والوں میں ”نوفل بن أبي عقرب“ کانام نہیں ملتا بلکہ ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ ہی کانام ملتاہے۔
امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
 ”نوفل بن الفرات بن مسلم ويقال ابن سالم ويقال نوفل بن أبي الفرات أبو الجراح العقيلي مولى بني عقيل الجزري الرقي قدم على عمر بن عبد العزيز مع أبيه وروى عنه“ [تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 290]۔
امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
 ”نوفل بن الفرات يروى عن عمر بن عبد العزيز روى عنه مبشر بن إسماعيل الحلبي“ [الثقات لابن حبان: 9/ 221]۔
 ● چوتھی دلیل:
 ”يحيى بن عبد الملك بن أبي عتبة“ کے استاذوں میں بھی ”نوفل بن أبي عقرب“ کانام نہیں ملتا بلکہ ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ ہی کانام ملتاہے۔
امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
 ”نوفل بن الفرات بن مسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔ روى عنه الليث۔۔۔و۔۔ ويحيى بن عبد الملك بن أبي غنية“ [تاريخ دمشق لابن عساكر 62/ 290]۔
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اس سند میں ”نَوْفَلِ بنِ أَبِي الفُرَاتِ“ ہی ہے اوریہ نا معلوم التوثیق ہے۔

  فائدہ 
 ❀ حسین رضی اللہ عنہ نے بھی یزید کو امیر المؤمنین کہا ہے چنانچہ:
امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
 ”حدثنا محمد بن عمار الرازي قال حدثنا سعيد بن سليمان قال حدثنا عباد بن العوام قال حدثنا حصين ۔۔۔قال حصين فحدثني هلال بن يساف أن ابن زياد أمر بأخذ ما بين واقصة إلى طريق الشأم إلى طريق البصرة فلا يدعون أحدا يلج ولا أحدا يخرج فأقبل الحسين ولا يشعر بشيء حتى لقي الأعراب فسألهم فقالوا لا والله ما ندري غير أنا لا نستطيع أن نلج ولا نخرج قال فانطلق يسير نحو طريق الشأم نحو يزيد فلقيته الخيول بكربلاء فنزل يناشدهم الله والإسلام قال وكان بعث إليه عمر بن سعد وشمر بن ذي الجوشن وحصين بن نميم فناشدهم الحسين الله والإسلام أن يسيروه إلى أمير المؤمنين فيضع يده في يده“ 
 ”ہلال بن یساف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ اورشام وبصرہ کے بیچ پہرہ لگادیا جائے اورکسی کو بھی آنے جانے سے روک دیا جائے، چنانچہ حسین رضی اللہ عنہ ان باتوں سے بے خبر آگے بڑھے یہاں تک بعض اعرابیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے سے پوچھ تاچھ کی تو انہوں نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ہمیں کچھ نہیں معلوم سوائے اس کی کہ ہم نہ وہاں جاسکتے ہیں اورنہ وہاں سے نکل سکتے ہیں۔پھرحسین رضی اللہ عنہ شام کے راستہ پر یزیدبن معاویہ کی طرف چل پڑے ، ، پھر راستہ میں گھوڑسواروں نے انہیں کربلا کے مقام پر روک لیا اوروہ رک گئے ، اورانہیں اللہ اوراسلام کا واسطہ دینے لگے ،عبیداللہ بن زیاد نے عمربن سعدبن بی وقاص ، شمربن ذی الجوشن اورحصین بن نمیرکو ان کی جانب بھیجاتھا حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے اللہ اوراسلام کا واسطہ دے کرکہا : وہ انہیں امیرالمؤمنین یزیدبن معاویہ کے پاس لے چلیں تاکہ وہ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں [تاريخ الأمم والرسل والملوك- الطبري 3/ 299 واسنادہ صحیح]۔
یہ سند بالکل صحیح ہے ،صحیح تاریخ الطبری کے محققین نے بھی اس روایت کے رواۃ کو ثقہ قرار دیا ہے اور اسے صحیح تاریخ الطبری میں نقل کیا ہے۔
دکتور شیبانی نے بھی طبری کی اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے دیکھئے[ مواقف المعارضہ ص 342] 
 ❀ امام لیث بن سعد رحمہ اللہ نے بھی یزید کو امیرالمؤمنین کہا ہے:
امام خليفة بن خياط (المتوفى: 240)نے کہا:
 ”قرئَ عَلَى ابْن بكير وَأَنا أسمع عَن اللَّيْث قَالَ توفّي أَمِير الْمُؤمنِينَ يَزِيد فِي سنة أَربع وَسِتِّينَ“ [تاريخ خليفة بن خياط ص: 253]۔
امام ابوبکرابن العربی(المتوفی: 543) رحمہ اللہ بجاطور پرفرماتے ہیں:
 ”فإن قيل. كان يزيد خمارًا. قلنا: لا يحل إلا بشاهدين، فمن شهد بذلك عليه بل شهد العدل بعدالته. فروى يحيى بن بكير، عن الليث بن سعد، قال الليث: توفي أمير المؤمنين يزيد في تاريخ كذا فسماه الليث أمير المؤمنين بعد ذهاب ملكهم وانقراض دولتهم، ولولا كونه عنده كذلك ما قال إلا توفي يزيد“ [العواصم من القواصم ط الأوقاف السعودية ص: 228]۔

عمربن عبدالعزیررحمہ اللہ نے یزید کے والد معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کو کوڑے لگائے
امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
 ”أخبرتنا أم البهاء فاطمة بنت محمد قالت أنا أبو الفضل الرازي أنا جعفر بن عبد الله نا محمد بن هارون نا أبو كريب نا ابن المبارك عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة قال ما رأيت عمر بن عبد العزيز ضرب إنسانا قط إلا إنسانا شتم معاوية فإنه ضربه أسواطا“ 
 ”ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ عمربن عبدالعزیز نے کسی شخص کو ماراہو سوائے ایک شخص کے جس امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کو برابھلا کہا تو اسے عمر بن عبد العزيز رحمہ اللہ نے کئی کوڑے لگائے“ [تاريخ دمشق لابن عساكر 59/ 211 واسنادہ صحیح] 
 زبیرعلی زئی صاحب نے بھی اس کی سند کو صحیح قراردیا ہے دیکھے:[فضائل صحابہ صحیح روایات کی روشنی میں :ص :129]
غورفرمائیں حقیقت کیا ہے اورلوگ کیا بیان کرتے پھرتے ہیں۔
(کفایت اللہ سنابلی)

No comments:

Post a Comment