باب (3) : جدائی کا عام ذریعہ طلاق - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-01-07

باب (3) : جدائی کا عام ذریعہ طلاق


باب (3) : جدائی کا عام ذریعہ طلاق

فصل اول: طلاق کا معنی ومفہوم
عربی میں بہت سارے الفاظ ایسے ہیں جو اپنی اندر لغوی اعتبار سے ایک معنی رکھتے ہیں لیکن اسلام نے ان الفاظ کو خاص شرعی معنی میں استعمال کیا ہے مثلا ”صلاۃ“ کا لغوی معنی دعا وغیرہ ہے لیکن اسلام نے پانچ وقت کی ایک خاص عبادت کے لئے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔اسی طرح ”زکاۃ“ کا لغوی معنی پاکی وغیرہ کے آتے ہیں لیکن اسلام نے ایک خاص مالی خیرات کے لئے یہ لفظ استعمال کیا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔
اس طرح کے الفاظ شرعی مصادر میں مستعمل ہوں تو سیاق اور قرائین کے لحاظ سے دیکھنا ہوگا کہ یہ الفاظ اصل عربی لغت کے اعتبار سے اپنے اصل معنی میں ہی استعمال کئے گئے ہیں یا خاص شرعی اصطلاح کے طور پر ان کا استعمال ہوا ہے پھر جو نتیجہ سامنے آئے اسی لحاظ سے ان الفاظ کے معانی مراد لئے جائیں گے ۔جہاں سیاق وقرائن لغوی معنی کے مراد ہونے پر دلالت کریں گے وہاں لغوی معنی مراد لیا جائے گا اور جہاں سیاق وقرائن شرعی اصطلاحی معنی مراد ہونے کی طرف اشارہ کریں گے وہاں شریعت کا اصطلاحی معنی مراد لیا جائے گا۔
”طلاق“ بھی انہیں الفاظ میں سے ہے کہ یہ اسلامی مصادر میں کہیں ”لغوی معنی“ میں مستعمل ہے اور کئی ”شرعی واصطلاحی معنی“ میں ۔

طلاق کا لغوی معنی:
لفظ ”طلاق “ یہ باب نصر سے ”طلق“ کا مصدر ہے جس کا لغوی معنی ”آزاد ہونا “ يا ”چھوٹنا“ہے ۔ اورجب باب تفعیل سے ”تطلیق“ یا باب افعال سے ”اطلاق“ استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب ”آزاد کردینا“ یا ”چھوڑ دینا“ ہوتا ہے۔
فتح مکہ کے موقع پر جن قیدیوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کردیا تھا ، صحیح بخاری کی ایک حدیث میں ان کے لئے ”والطلقاء“ کا لفظ آیا ہے[صحيح البخاري (5/ 159):-كتاب المغازي:باب غزوة الطائف،رقم4333]
ايك حدیث میں حافظ قرآن کو صاحب اونٹ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ :
«إنما مثل صاحب القرآن، كمثل صاحب الإبل المعقلة، إن عاهد عليها أمسكها، وإن أطلقها ذهبت»
قرآن یاد کرنے والے کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے اگر اس کے مالک نے اس کا خیال رکھا تو رہا اور اگر چھوڑ دیا تو چل دیا[صحيح البخاري (6/ 193):-كتاب فضائل القرآن:باب استذكار القرآن وتعاهده،رقم 5031]

طلاق کا اصطلاحی معنی:
شریعت کی اصطلاح میں طلاق کا خاص معنی ہے اور وہ ہے زوجین کے مابین منعقد نکاح کے بندھن وگرہ کو کھول دینا یعنی شوہر کا خاص حالات میں خاص طریقے سے عورت کو اپنے نکاح سے آزاد کردینا ۔ جیساکہ عام قرآنی آیات واحادیث میں یہی معنی مستعمل ہے۔
واضح رہے متاخرین فقہاء نے الگ الگ تعبیر میں طلاق کی اصطلاحی تعریفیں کی ہیں لیکن سب کا ماحصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔اس لئے ہر مسلک کی تعریفات نقل کرکے اس سیدھی اور صاف بات کو بوجھل بنانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔


فصل دوم: طلاق کے اسباب
طلاق کے بہت سارے اسباب ہوتے ہیں اور عموما یہ سارے اسباب زوجین کی طرف سے ایک دوسرے کے حقوق کی عدم رعایت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں، اس لئے میاں بیوی اگر چاہتے ہیں کہ ان کے رشتے میں دراڑ نہ آئے اور معاملہ طلاق تک نہ پہنچے ،تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے کے حقوق کا مکمل پاس ولحاظ رکھنا چاہئے بالخصوص ابتدائی عرصے میں جب تک کہ ایک دو بچے نہیں ہوجاتے معاملہ بڑا ہی نازک رہتا ہے، یا تو محبت و مودت عروج پر رہتی ہے، یا پھر معمولی اختلاف نفرت وعداوت کا طوفان کھڑا کردیتا ہے۔ اور چونکہ ابھی بچے نہیں ہوتے اس لئے دونوں پردباؤ ڈالنے والی اور انہیں کنٹرول کرنے والی کوئی تیسری شے نہیں ہوتی ہے اور ہر ایک محض اپنی انا وشان ہی کی ترنگ میں دوسرے پر انگارے اگلتا ہے ۔البتہ جب ایک دو بچے ہوجاتے ہیں تو میاں بیوی دونوں خود سے زیادہ بچوں کے لئے فکر مند ہوتے ہیں اور ان کی خاطر بہت کچھ برداشت کرنا سیکھ لیتے ہیں ۔بلکہ بچوں کا فی نفسہ وجود ہی میاں بیوی کے رشتہ میں ایک مضبوط تعلق اور قرب کا ایک نیا احساس پیدا کردیتا ہے۔اب اس کے بعد طلاق تک بات تبھی پہنچتی ہے جب طرفین میں سے کوئی ایک زیادتی و حق تلفی کی انتہا کردے اورمن مانی اور خود سری کی ساری حدیں پار کردے ۔
ذیل میں ہم چند اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں جو کثرت سے طلاق کی وجہ بنتے ہیں ۔

بیوی کی خیانت وبے وفائی:
ایک غیرت مند مرد اپنی عورت کےہزار نکھرے و ناز اور لاکھ بدسلوکی وبداخلاقی برداشت کرسکتا ہے مگراس بات کو وہ ایک پل کے لئے برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کی عورت اس کے علاوہ کسی اورمرد کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی دیکھے۔اگراس تعلق سے ایک مرد کے اندر شکوک وشبہات کا ایک ذرہ بھی سرایت کرگیا تو طلاق وعلیحدگی ہی پر معاملہ تمام ہوگا اور بدقسمتی سے اگر بیوی کی بے وفائی، حرام کاری کی آخری حدتک پہنچ گئی اور شوہر کو ثبوت مل گیا تو صرف طلاق ہی نہیں بلک معاملہ درناک خونریزی اورہولناک قتل وغارت گری تک بھی پہنچ سکتاہے۔اورایک نہیں کئی زندگیاں داؤ پر لگ سکتی ہیں ۔
ایک عورت کو یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ ایک مرد کو اپنا پیٹ پالنے کے محض پل و دو پل کی نقل وحرکت ہی کافی ہے لیکن وہ دن بھر کام وکاج میں اپنے اوقات گذار دیتا ہے بلکہ بسا اوقات راتیں بھی کسب معاش کی نذر ہوجاتی ہے حتی کہ بعض حالات میں میں وہ نہ صرف اپنے علاقے بلکہ اپنے ملک سے بھی دور ہوجاتا ہے یہ سب کچھ اس لئے تاکہ اس کی بیوی بچے خوشحال زندگی بسر کرسکیں ۔
اب ایک شوہر جس بیوی کے لئے اتنا سب کچھ کرے اسی بیوی کے بارے میں اسے خبرملے کہ وہ اپنی عزت وناموس کسی اور پرلٹا رہی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس بیوی نے اپنے شوہر کو محض اقتصادی حیوان اور احمق غلام سمجھ رکھا ہے، جو در در کی ٹھوکریں کھا کراس کے قیام وطعام کا بندوبست کرے،اس کی جملہ ضروریات زندگی کو فراہم کرے اور وہ خود عشق و سرور کے لئے کسی اور کو منتخب کرے۔ظاہر ہے کا اس کا رد عمل بڑا بھیانک ہوگا ، اورشوہر کے لئے یہ بات نہ صرف یہ کہ ناقابل برداشت ہوگی بلکہ بسا اوقات اسے درندگی وسفاکی پر بھی آمادہ کرسکتی ہے ۔
یہ صورت حال پیدا نہ ہو اسی لئے اسلام نے ایک بیوی کو بطور خاص حکم دیا ہے کہ وہ ایسے آدمی کا قدم بھی گھر میں نہ پڑنے دے جو اس کے شوہر کو ناپسند ہو ۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں:
ولكم عليهن أن لا يوطئن فرشكم أحدا تكرهونه
تمہارے لئے تمہاری بیویوں پر حق ہے کہ وہ تمارے بستروں پر کسی بھی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جو تمہیں ناپسند ہو[صحيح مسلم 3/ 890 رقم 1218]

حتی کہ شوہرکی موجودگی میں بھی بغیر شوہر کی مرضی کے عورت کسی کو بھی گھر میں قطعا نہ آنے دے
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261) نے کہا:
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن همام بن منبه، قال: هذا ما حدثنا أبو هريرة، عن محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر أحاديث منها، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تصم المرأة وبعلها شاهد إلا بإذنه، ولا تأذن في بيته وهو شاهد إلا بإذنه، وما أنفقت من كسبه من غير أمره، فإن نصف أجره له»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب شوہر حاضر ہو تو اس کی مرضی کے بغیرکوئی عورت روزہ (نفل) نہ رکھے ، اور نہ اس کے گھر میں اس کی مرضی کے بغیر کسی کو آنے دے ۔ اور عورت اپنے شوہر کی کمائی سے جو خرچ کرتی ہے تو اس میں بھی اس کے شوہرکو آدھا ثواب ہے۔“ [صحيح مسلم 3/ 711 رقم 1026]

شوہر کی جنسی خواہش میں بیوی کا عدم تعاون:
بیوی کی طرف سے شوہر کی جنسی خواہش کا خیال نہ رکھنا طلاق کا ایک خاموش مگر بڑا سبب ہے ، یہ چیز شوہر کو شدید نفرت و کراہت میں مبتلا کردیتی ہے ، اور شوہر چڑچڑے پن اور ترش روئی کا شکار ہوجاتا ہے ۔
ایسے میں کسی بات پر جھگڑا ہوجائے اور بات طلاق تک پہنچے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ طلاق کا سبب یہ جھگڑا ہے لیکن درحقیقت اس کے ساتھ یہ خاموش سبب بھی ہوتا ہےکہ بیوی شوہر کی جنسی خواہش پوری نہیں کررہی ہے۔
یہ وجہ ہے کہ احادیث میں ایک بیوی کو سخت تاکید کی گئی ہے کہ وہ شوہر کی جنسی خواہش کا مکمل خیال کرے چنانچہ:
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ، لَعَنَتْهَا المَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے (ناراضگی کی وجہ سے) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔[صحيح البخاري 7/ 30 ، رقم 5193]

امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ»
طلق بن علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے بلائے تو اسے فوراً آنا چاہیئے اگرچہ وہ تنور پر ہو“[سنن الترمذي ت شاكر 3/ 457 والحدیث صحیح]

امام ابن ماجة رحمه الله (المتوفى273)نے کہا:
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الشَّامِ سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟» قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا، وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ»
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ (سجدہ تحیہ) کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے معاذ! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، ایسا نہ کرنا، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر لے، اور اگر شوہر عورت سے جماع کی خواہش کرے، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے“[سنن ابن ماجه 1/ 595 ، رقم 1853 والحدیث صحیح]

ان احادیث کے ساتھ اس بات پر بھی غور کریں کہ اسلام میں حالت حیض میں طلاق دینے سے منع کیا گیا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ایام میں شوہر بیوی سے ہمبستری کا مجاز نہیں ہوتا ہے (کماسیاتی)جس کے سبب اس مدت میں وہ چڑچڑے پن اور مدمزاجی کا شکار رہتا ہے ، اور معمولی بات پر بھی طلاق دے سکتا ہے ۔ایسی صورت جنسی تسکین سے محرومی ہی طلاق کی تحریک بنتی ہے ۔
نیز اس بات پر بھی غور کریں کہ حالت طہر میں طلاق دینے کے لئے بھی یہ شرط لگائی گئی ہے کہ جس طہر میں شوہر طلاق دے اس میں اس نے ہمبستری نہ کی ہو اور اگر بیوی شوہر کی جنسی تسکین کا خیال رکھنے والی ہوگی تو انقطاع حیض کے بعد فورا شوہرکے ساتھ ہمبستر ی میں تعاون کرکے گی اس طرح اس طہر میں طلاق کا امکان ہی ختم ہوجائے گا۔
اس کے برعکس اگر بیوی انقطاع حیض کے بعد بھی شوہر کے ساتھ ہمبستر نہ ہو اور بات بات پر جھگڑتی رہے تو ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں شوہر کی طرف سے طلاق کے امکانات زیادہ ہیں ۔

محترم ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب نے اس سلسلے میں ایک مختصر مضمون اور مفید مضمون لکھا ہے افادہ عام کے لئے یہ مضمون پیش خدمت ہے :

بیوی کے ساتھ زبردستی کرنا [Marital Rape]
بیوی کے ساتھ زبردستی تعلق قائم کرنے کے بارے سوالات بہت تیزی سے بڑھتے چلے جا رہے ہیں، دونوں کی طرف سے۔ اس مسئلے پر غور کرنے کے لیے فی الحال تین بڑے پہلو ہیں:
مذہبی، نفسیاتی اور قانونی۔
مذہبی اعتبار سے بیوی اس بات کی پابند ہے کہ جب اس کا شوہر اسے اپنے بستر پر بلائے تو وہ انکار نہ کرے اور اگر وہ انکار کرے تو اس پر ساری رات فرشتوں کی لعنت رہتی ہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ یہ بات عورت کو سمجھ نہیں آ سکتی کیونکہ وہ مرد نہیں ہے اور مرد کی سائیکالوجی کو نہیں سمجھ سکتی، البتہ فرائیڈ اگر یہ بات کرتا تو اس پر ہزاروں نہ سہی تو سینکڑوں کتابیں ضرور لکھی جا چکی ہوتیں۔
پس اگر بیوی اپنے شوہر کو انکار کر دے تو شوہر اپنی بیوی سے زبردستی کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس بارے فقہاء کا کہنا یہ ہے کہ بیوی کا یہ انکار کرنا "نشوز" یعنی سرکشی ہے اور نشوز کے بارے قرآن مجید نے یہ ہدایت دی ہے کہ پہلے اپنی بیوی کو وعظ کرے، اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو تو بستر علیحدہ کر لے، اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو تو اس پر سختی کرے۔ اگر تو اس کے باوجود بیوی انکار پر اصرار کرے تو وہ نان نفقے کی مستحق نہیں رہتی۔ لیکن یہاں یہ فرق ملحوظ رہے کہ فقہاء کے نزدیک اس انکار سے مراد بیوی کا بلاوجہ انکار کرنا ہے اور اگر انکار کی کوئی وجہ ہے جیسے بیوی بیمار ہے تو اس کا یہ حکم نہیں ہے۔

اس مسئلے کا دوسرا پہلو نفسیاتی ہے کہ عورت کی نفسیات یہ ہے کہ اس کے لیے یہ برداشت کرنا مشکل ہے کہ اس کے ساتھ زبردستی کوئی تعلق قائم کیا جائے۔ وہ یہ چاہتی ہے کہ جب وہ خود اپنے آپ کو مرد کے سپرد کرنے کے لیے دلی طور تیار ہو جائے تو اس وقت اس سے ایسا تعلق قائم کیا جائے، ورنہ تو اس کے لیے شدید ذہنی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں، ان میں سے ایک اس فعل سے ہی نفرت کرنا یا خود خاوند سے نفرت کرنا بھی شامل ہے۔ اکثر بیویوں کے اپنے خاوندوں سے بھاگنے کی وجہ یہی ہے کہ ان سے ان کی رضامندی کے بغیر تعلق قائم کر لیا جاتا ہے جو ان کے ذہنی مسائل کا باعث بن جاتا ہے۔
میرے خیال میں اعلی اخلاق یہی ہیں کہ اگر خاوند کے ہاتھ لگانے پر بیوی اس کے ہاتھ کو جھڑک دے تو اس کو ہاتھ لگانے کا خیال بھی دل سے نکال دے۔ اور یہی رویہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں ملتا ہے کہ جب آپ کے ہاتھ لگانے پر آپ کی ایک منکوحہ نے غلط فہمی میں اعوذ باللہ پڑھ دی تو طبیعت کی نفاست کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی بات پر اس سے علیحدگی اختیار کر لی کہ شاید اسے میرا ہاتھ لگانا پسند نہیں آیا لہذا اس لیے اس نے اعوذ باللہ پڑھی ہے جبکہ اس منکوحہ کو کسی اور زوجہ محترمہ نے یہ کہا تھا اور جان بوجھ کر کہا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو جانتی تھیں اور پسند نہیں کرتی تھیں کہ آپ کی زوجیت میں کسی اور خاتون کا اضافہ ہو۔
ہمارے ہاں عموما جو شادیاں ہوتی ہیں تو لڑکے اور لڑکی میں پہلے سے کوئی مانوسیت اور الفت نہیں ہوتی لہذا ایسی صورت میں پہلے دن ہی ایسا تعلق قائم کرنا عموما لڑکی کے لیے ایک ذہنی اذیت کا سبب بن جاتا ہے اور اس فعل سے نفرت ساری زندگی کے لیے اس کے لاشعور کا حصہ بن جاتی ہے۔ آپ کی بیوی اگر پہلے دن آپ کو ہاتھ لگانے سے روکتی ہے تو میرے خیال میں یہ فطری چیز ہے، اسے وقت لینے دیں، دو تین دن میں بات چیت سے مانوسیت پیدا کریں اور پھر کوئی ایسا تعلق قائم کریں ورنہ آپ اسے ذہنی مریض بھی بنا سکتے ہیں، خاص طور اس تعلق کے حوالے سے۔ نکاح کے دو بول سے اگرچہ حقیقت تو تبدیل ہو گئی ہے کہ وہ آپ کی منکوحہ بن گئی ہے لیکن ایک پردہ دار خاتون کے لیے اسے ذہنا قبول کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے کہ کوئی اس کے پورے جسم کا مالک بن چکا ہے، اور وہ بھی چند لمحوں میں۔

اس مسئلے کا تیسرا پہلو قانونی ہے تو بعض ممالک میں بیوی کے ساتھ زبردستی کو ایک جرم سمجھا جاتا ہے کہ جس کی سزا بھی ہے جیسا کہ امریکہ، برطانیہ، روس، جاپان اور ترکی وغیرہ میں یہ ایک جرم ہے کہ شوہر یا بیوی میں سے کوئی بھی اپنے پارٹنر کے ساتھ زبردستی تعلق قائم کرے اور اکثر یورپین ممالک میں یہ ایک جرم ہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اکثر مسلم اور مشرقی ممالک مثلا انڈونیشیا، ملائیشیا، سعودی عرب، ایران، چین، انڈیا وغیرہ میں یہ جرم تصور نہیں ہوتا اور یہی بات درست ہے۔
ٹھیک ہے کہ بیوی لونڈی نہیں ہے، بیوی اور لونڈی میں یہی فرق ہوتا ہے کہ بیوی سے زبردستی نہیں کی جاتی لیکن ایسی صورت میں بیوی اگر اتنی ہی تنگ ہے تو اس کے پاس خلع کا آپشن تو موجود ہے۔ اب یہ کیا بات ہوئی کہ اس نے رہنا بھی اسی شوہر کے ساتھ ہے، اور شوہر سے نان نفقہ بھی پورا لینا ہے اور اس کے حق کی بات آئے تو اب بیوی کہے کہ میرے نفسیاتی مسائل ہیں، ذہنی ہم آہنگی کے بغیر میں اپنا آپ اس کے حوالے کیسے کر سکتی ہوں؟ تو بی بی پھر ایسے شوہر سے علیحدگی لے لو یا پھر کم از کم اس سے نان نفقے کا مطالبہ ہی بند کر دو کہ اسے تو اس پر لگایا ہوا ہے کہ وہ تمہارے مسائل سمجھے لیکن یہ کہ تم اس کے مسائل کو کنسڈر کرو تو یہ بات تمہیں سمجھ نہیں آتی اور اس کے اصرار پر وہ تمہیں جنسی حیوان لگنے لگتا ہے لیکن وہ تو نان نفقے کے مطالبے پر تمہیں اقتصادی حیوان نہیں کہہ رہا۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ مزاج کی نفاست اور اعلی اخلاق کا تقاضا یہی ہے کہ شوہر اس معاملے میں بیوی کے ساتھ زبردستی نہ کرے بلکہ افہام وتفہیم سے اس مسئلے کو حل کرے، اور اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو تو اگر زیادہ تنگ ہے تو بیوی کا نان نفقہ بند کر دے۔ لیکن اگر شوہر ایسا کر لے تو یہ کوئی گناہ یا جرم نہیں ہے کہ جس کے لیے شوہر پر کوئی اخروی یا دنیاوی سزا لاگو ہو اور ایسی صورت میں اگر بیوی کے لیے نفسیاتی مسائل پیدا ہوں تو اس کے لیے خلع کا رستہ کھلا ہے۔ اگر ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے اور شوہر سے واقعی میں کچھ فائدہ بھی حاصل نہیں ہو رہا تو پھر بہتر یہی ہے کہ شوہر کو صبر کی تلقین کرنے کی بجائے اس سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔ واللہ اعلم بالصواب (انتہی )

واضح رہے کہ بر صغیر میں عموما مرد ایک ہی شادی پر اکتفاء کرتا ہے اس لئے یہاں تو بیوی کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ اس کے انکار پر شوہر کے سامنے کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔

مالی مسائل
(1) مالی مسائل میں آج کل ایک اہم مسئلہ جہیز کا بھی ہے جس شوہر کے والدین لالچی ہوں اس کی بیوی اگرجہیز لیکر نہ آئی تو اس کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے اور بالآخر معاملہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے ۔ لڑکی والوں کو چاہئے کہ ایسے لالچی اور کام چور لوگوں کے گھر رشتہ ہی نہ کریں ، تاکہ یہ نوبت ہی نہ آئے۔

(2) دوسری طرف جو عورتیں زیادہ جہیز لاتی ہے یا میکے سے اخراجات وصول کرتی ہے وہ شوہر پر حکمرانی شروع کردیتی ہیں اور ہرمعاملے میں اپنا ہی حکم چلاتی ہیں یہ معاملہ بھی طلاق کا سبب بن جاتا ہے۔عورت کے والدین کو اس معاملے میں حساس ہونا چاہئے انہیں چاہئے کہ اپنی بیٹی کو نوازنے کے ساتھ اسے نصیحت بھی کرتے کہ وہ شوہر کے حقوق کو فراموش نہ کرے اور ایک فرمانبردار بیوی بن کرہی رہے ۔اور اس حدیث پر عمل کرنے کی پوری کوشش کرے :
امام نسائي رحمه الله (المتوفى303)نے کہا:
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: «الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ»
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: عورتوں میں اچھی عورت کون سی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ عورت جو اپنے شوہر کو جب وہ اسے دیکھے خوش کر دے ، جب وہ کسی کام کا اسے حکم دے تو (خوش اسلوبی سے) اسے بجا لائے، اپنی ذات اور اپنے مال کے سلسلے میں شوہر کی مخالفت نہ کرے کہ اسے برا لگے [سنن النسائي( 6/ 68):-كتاب النكاح:أي النساء خير،رقم 3231 وإسناده حسن]

امام ابن ماجة رحمه الله (المتوفى273) نے کہا:
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خُطْبَةٍ خَطَبَهَا: «لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ فِي مَالِهَا، إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، إِذَا هُوَ مَلَكَ عِصْمَتَهَا»
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: ”کسی عورت کا اپنے مال میں بغیر اپنے شوہر کی اجازت کے تصرف کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ وہ اس کی عصمت (ناموس) کا مالک ہے“[سنن ابن ماجه 2/ 798 ، رقم 2388 والحدیث صحیح بالشواھد]
اس حدیث میں مال سے متعلق جو بات ہے اس بارے میں بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ استحبابی حکم ہے ، جبکہ بعض اہل علم کہتے کہیں اس کا تعلق صدقات وعطیات کے علاوہ عام معاملات میں خرچ کرنے سے ہے ۔
اور بعض اہل علم ہر معاملے میں اس حدیث کو عام مانتے ہیں اور جن احادیث میں یہ ذکر ملتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بعض عورتوں نے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اللہ کی راہ میں اپنا ذاتی مال خرچ کیا ہے ، اس سے متعلق ان اہل علم کا خیال ہے کہ یہاں پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ حکم یا تقریر ی اجازت موجود ہے ، لہٰذا یہاں شوہر سے اجازت کی ضرورت نہ تھی ۔
مثلا عید کے موقع پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خواتین کو صدقہ پر ابھارا تو عین اسی مقام پر خواتین نے اپنے شوہروں سے اجازت لئے بغیر اپنے زیورات وغیرہ صدقہ کئے ۔
تو چونکہ یہاں پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم موجود تھا اس لئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہ تھی ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے بغیر ولی کی اجازت کے کسی خاتون کی شادی نہیں ہوسکتی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض خواتین کی شادی ان کی اولیاء کی اجازت کے بغیر کرادی ۔
یہاں پر بھی چونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود ولی بن گئے اس لئے رشتہ دار ولی کی اجازت کی ضرورت نہ رہی۔
الغر ض یہ کہ خواتین کو اپنے مال میں بھی کچھ خرچ کرنے پہلے اپنے شوہر کی اجازت لے لینی چاہئے۔

(3) جو عورتیں خود کماتی بھی ہیں یا میکے سے کثیر رقم پاتی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بہت خود سر ہوجاتی ہیں بلکہ شوہر کو حقیر سمجھنے لگتی ہیں بلکہ بہت سی ایسی عورتیں تو صرف اپنے اور بال بچوں کے اخراجات کے لئے شوہر کی نکاح میں رہتی ہے اور عیاشی اور موج ومستی کے لئے افیر چلاتی ہیں بلکہ بدکاری سے بھی نہیں چوکتیں ، ظاہر ہے کہ ایسی غدار عورت کوئی بھی شوہر رکھنا پسند نہیں کرے گا ۔اس طرح کی سوچ رکھنے والی عورتوں کو صحیح بخاری کی یہ حدیث باربار پڑھنی چاہئے:
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلاَ مَمْلُوكٍ، وَلاَ شَيْءٍ غَيْرَ نَاضِحٍ وَغَيْرَ فَرَسِهِ، فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَسْتَقِي المَاءَ، وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، وَكَانَ يَخْبِزُ جَارَاتٌ لِي مِنَ الأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي، وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ، فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ: «إِخْ إِخْ» لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي قَدِ اسْتَحْيَيْتُ فَمَضَى، فَجِئْتُ الزُّبَيْرَ فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لِأَرْكَبَ، فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى كَانَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ، قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ تَكْفِينِي سِيَاسَةَ الفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان فرماتی ہیں کہ : زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس ایک اونٹ اور ان کے گھوڑے کے سوا روئے زمین پر کوئی مال، کوئی غلام، کوئی چیز نہیں تھی۔ میں ہی ان کا گھوڑا چراتی، پانی پلاتی، ان کا ڈول سیتی اور آٹا گوندھتی۔ میں اچھی طرح روٹی نہیں پکا سکتی تھی۔ انصار کی کچھ لڑکیاں میری روٹی پکا جاتی تھیں۔ یہ بڑی سچی اور باوفا عورتیں تھیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کی وہ زمین جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دی تھی، اس سے میں اپنے سر پر کھجور کی گٹھلیاں گھر لایا کرتی تھی۔ یہ زمین میرے گھر سے دو میل دور تھی۔ ایک روز میں آ رہی تھی اور گٹھلیاں میرے سر پر تھیں کہ راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبیلہ انصار کے کئی آدمی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا پھر (اپنے اونٹ کو بٹھانے کے لیے) کہا اخ اخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے سوار کر لیں لیکن مجھے مردوں کے ساتھ چلنے میں شرم آئی اور زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر رضی اللہ عنہ بڑے ہی باغیرت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھ گئے کہ میں شرم محسوس کر رہی ہوں۔ اس لیے آپ آگے بڑھ گئے۔ پھر میں زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور ان سے واقعہ کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی تھی۔ میرے سر پر گٹھلیاں تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اونٹ مجھے بٹھانے کے لیے بٹھایا لیکن مجھے اس سے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ اس پر زبیر نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھ کو تو اس سے بڑا رنج ہوا کہ تو گٹھلیاں لانے کے لیے نکلے اگر تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو جاتی تو اتنی غیرت کی بات نہ تھی (کیونکہ اسماء رضی اللہ عنہا آپ کی سالی اور بھاوج دونوں ہوتی تھیں) اس کے بعد میرے والد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک غلام میرے پاس بھیج دیا وہ گھوڑے کا سب کام کرنے لگا اور میں بےفکر ہو گئی گویا والد ماجد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (غلام بھیج کر) مجھ کو آزاد کر دیا[صحيح البخاري 7/ 35 ، رقم 5224]
ملاحظہ فرمائیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہ اپنے باپ کے گھر کتنی ناز ونعمت سے پلی تھیں ، کہ انہیں روٹیاں بنانا تک نہیں آتا تھا ، لیکن اپنے شوہر کے پاس آنے کے بعد انہیں روٹیاں اورکھانا بنانا پڑا ، اور اس کے لئے انہوں نے اپنے شوہر سے کوئی شکوہ بھی نہ کیا بلکہ خود پڑوس کی لڑکیوں سے روٹی بنانا سیکھ کر اپنے شوہر کے لئے یہ کام کرنے لگیں ، اور صرف گھر کا کام نہیں بلکہ باہر کا کام بھی انہیں کرنا پڑا ، گویا کہ ان حالت ایک غلام عورت یعنی لونڈی جیسی ہوگئی تھی جیساکہ روایت کے اخیر میں انہوں نے خود اپنی اس حالت کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
لیکن ان سب کے باوجود اپنے شوہر کے ساتھ ان کی وفاداری کا حال دیکھئے کہ ایک عام انسان نہیں بلکہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی سواری سے انہوں نے انکار کردیا کہ کہیں اس سے ان کے شوہر کی غیرت کو ٹھیس نہ پہنچے ، اللہ اکبر۔
اور آج کی عورتوں کا کیا حال ہے ان کے شوہر نے نان و نفقہ میں کچھ کمی کردی اور انہیں اپنے میکے سے کچھ مل گیا یا خود سے کچھ کما لیا تو انہیں شوہر کی غیرت و حمیت کا کچھ خیال نہیں رہتا اور وہ نہ صرف اپنے مال میں مانی تصرف کرتی ہیں بلکہ اپنے جسم کو بھی بانٹا شروع کردیتی ہیں ، واللہ المستعان !
یاد رہے کہ سب سے بڑی دولت ایمان کی دولت ہوتی ہے ، اگر شوہر صاحب ایمان اور دیندار ہے تو گرچہ اس کے پاس دولت نہ ہو وہ بہت بڑی نعمت ہے ، اس کے برعکس اگر شوہر کے پاس ایمان نہ ہو تو وہ خواہ دنیا کی ساری دولت بیوی کی قدموں میں ڈال دے سب بے کار ہے۔
فرعون کی بیوی مثال دیکھیں ، اس کا شوہر اس وقت دنیا کا سب سے امیر ترین شوہر بلکہ سپر پاور بادشاہ تھا ، اب بیوی کے لئے جس شاندار محل اور حویلی کا بندوبست اس کے یہاں تھا اس کی کوئی مثال نہ تھی ، لیکن چونکہ وہ صاحب ایمان نہ تھا اس لئے اس کی بیوی آسیہ کو نہ یہ شوہر راس آیا نہ اس کی حولی پسند آئی ، بلکہ ان دونوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے آسیہ یہ دعاء کی :
{ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ }
اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا [التحريم: 11]
لہٰذا ایک صالحہ عورت اور مؤمنہ بیوی کا طرزعمل یہ ہونا چاہئے کہ وہ دولت سے زیادہ ایمان کو اہمیت دے اور شوہر کی مالی حالت کی کمزوری کو اپنے بے وفائی کا جواز نہ بنائے ۔

ناپسندیدگی
زوجین میں اگر کوئی دوسرے کو پسند نہ ہو تو یہ چیز بھی طلاق کا سبب بن جاتی ہے ، کیونکہ ایسی صورت میں کوئی بھی دوسرے سے ذہنی اورجسمانی سکون حاصل نہیں کرسکتا بالاخر نتیجہ طلاق تک پہنچتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں یہ عجیب صورت حال ہے کہ لڑکے یا لڑکی کی شادی کے وقت گھر کے تمام افراد سے ان کی مرضی پوچھی جاتی ہے ، لیکن شادی کرنے والے لڑکے یا لڑی کی مرضی کوئی نہیں پوچھتا ۔البتہ رشتہ طے ہونے کے بعد اور عین نکاح کے وقت محض ادائیگی رسم کے طور پر لڑکے اور لڑکی سے قبول و اقرار کروایا جاتا ہے ، ظاہرہے کہ عین اس موڑ پر دونوں میں سے کسی کے لئے بھی انکار کرنا بہت مشکل امر بلکہ تقریبا ناممکن بات ہے۔
ایسے میں اگر شادی ہوجائے اور لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند نہ ہوں تو پھر اس رشتہ میں دوام نہیں ہوتا بلکہ جلد ہی یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، اسی لئے حدیث ہے :
امام نسائي رحمه الله (المتوفى303):
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا»
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دیکھ لو، کیونکہ دیکھ لینے سے تم دونون کے مابین یہ رشتہ دوام پائے گا [سنن النسائي (6/ 69):-كتاب النكاح:إباحة النظر قبل التزويج،رقم3235 ]
لہذا نکاح کے رشتہ میں دوام کے لئے ضروری ہے کہ لڑکے اور لڑکی کی پسند سے ہی رشتہ طے کیا جائے ۔
طلاق کے یہ چند عام اسباب ہیں اگر ان کو دور کردیا جائے تو کافی حد تک طلاق کی نوبت نہیں آئے گی ان شاء اللہ
ذیل میں ہم شیخ شعبان بیدار صفوائی حفظہ اللہ کا ایک مضمون پیش کرتے ہیں جس میں آں محترم نے طلاق کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے ۔

اسباب طلاق کا تجزیاتی مطالعہ
طلاق کا لفظ ذہن میں آتے ہی ٹوٹ پھوٹ ، اختلاف و انتشار اور مایوسی و افسردگی کی ایک مکروہ صورت ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے طلاق کا مسئلہ اگر صرف اتنا ہو تا کہ دو افراد ایک ساتھ رہتے تھےجو کسی وجہ سے الگ ہو گئے تو اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ حالانکہ شریعت کی نظر میں محض یہ چیز بھی بہت عظیم ہے لیکن خطرناکی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ محض دو لوگوں کا بگاڑ نہیں کہ بالعموم یہ دو خاندانوں او ردو گھروں کا بگاڑ بن جاتا ہے ،اس سے بھی بڑی بات تب پیدا ہوجاتی ہے جب دونوں سے بچے موجود ہوتے ہیں ،بچے اگر ابھی چند ماہ کے ہی ہوں تب بھی بڑھنے کے بعد جو احساس محرومی ابدی طور پر ان کے اندر جنم لے لیتا ہے وہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ صرف اسی کو ہو سکتا ہے جس نے اس کا تجربہ کیا ہو اور اگر بچے ماں باپ کو پہنچاننے لگے ہوں دونوں کے پیار کو محسوس کرنے لگے ہوں یا پھر بچے بڑے ہوں تو ایسی صورت میںجو شاک بچوں کو لگتا ہے وہ انتہائی صبر آزما ہوتا ہے ،یہ بچے اگر ماں کے پاس ہیں تو باپ کی شفقتوں اور باپ کے پاس ہیں تو ماں کے پیارے سے محروم ہونے کے ساتھ دونوں کے درمیان جاری کشاکش سے عدم توازن کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لئے یہ امر انتہائی اہم ہے کہ طلاق کے عمومی اسباب پر غور کرلیا جائے۔
طلاق کے وہ ظاہری اسباب جو صرف مغرب کی نسبت سے سننے میں آتے ہیں ان پر یہاں گفتگو نہیں کی جا سکتی اوردرحقیقت وہ اسبابِ طلاق ہیں بھی نہیں ۔مثلاً اہل مغرب کے یہاں میاں بیوی میں اس بات پر طلاق ہوجائے کہ بیوی کو میاں کے کتے کا رنگ پسند نہیں یا طلاق اس بات پر ہو جائے کہ میاں کو بیوی کا بوائے فرینڈ سے بار باربات کرنا پسند نہیں آرہا تھا۔غرض اس مفلس معاشرے کے لئے طلاق پر گفتگو عبث ہے کیونکہ ان کے یہاں سرے سے کوئی نکاح ہی نہیں ہوتا۔ جانوروں کی طرح ایک دوسرے کو دیکھا، سونگھا سانگھا اور آنا جانا ہوا کہ ساتھ رہنا بھی ہو گیا اور کسی روز بھونکا بھونکی ہو گئی کتا کسی اور کتیا کے ساتھ اور کتیا کسی اور کتے کے ساتھ روانہ ہوگئی۔
طلاق کے اسباب دراصل سنجیدہ انسانی معاشرے کے لئے ہیں خواہ ایسا معاشرہ مغرب میں ہو یا مشرق میں ۔
طلاق کے اسباب جو بھی ہیں ان میں کوئی ترجیح قائم نہیں کی جا سکتی عورت کا بد زبان اور بد چلن ہونا مرد کا شدید مار پیٹ کرنا اور جنسی طور پر کمزور ہونا طلاق کے حتمی اسباب میں سے ہیں، اس کے باوجود ہمارے لئے ممکن نہیں کی کوئی خاص ترتیب اور ترجیح قائم کر سکیں ۔ گھریلونا چاقیاں طلاق کا عمومی سبب بنتی ہیں یہ ناچاقیاں معاملات کی پیچیدگیوں سے اٹھتی ہیں،معمولی باتیں ہمارے غیر معمولی اختلافی انداز سے بڑی بن جاتی ہیں۔ فاصلہ کم ہوتا ہے لیکن بڑے رد عمل سے کم فاصلہ زیادہ اثر ڈال دیتا ہے ۔بعض چیز یں چھوٹی ہوتی ہیں انسان دھیان نہیں دیتا لیکن یہ بھی جاننا چاہئے کہ بہت سی چھوٹی چیزوں کا لحاظ کرلینا بڑے پیمانے پر اچھے اثرات کا حامل ہوتا ہے ۔
گناہ اور برائیوں کے نتائج بھی بڑے تہ در تہ ہوتے ہیں انسان گناہ کرتا جاتا ہےاور اس کے تانے بانے تیار ہوتے جاتے ہیں پھر وہ ایک دوسرے سے الجھتے جاتے ہیں اور زندگی اس الجھن کا بری طرح شکار ہوجاتی ہے انسان کو بظاہر طلاق کا کوئی چھوٹایا بڑا سبب نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ ظاہری سبب گناہ کی مٹی سے نکلا اور معصیت کے پانی سے شاداب تھوہر کا پودا ہوتا ہے ۔
اللہ کا ارشاد ہے:{ وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ}(الشوریٰ: ۳۰)
’’جو کچھ تمہیں پیش آتا ہے وہ دراصل تمہاری کرتوت کا نتیجہ ہوتا ہے ‘‘۔
ہمارے یہاں والدین کے اندر ایک رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ وہ از خود بچوں کی شادی کا کہیں ذہن بنا لیتے ہیں اور پھر محسوس و غیر محسوس تمام ہی ذرائع سے بچو ں پر دباؤ ڈالتے ہیں اس دباؤ میں والدین کے یہاں اخلاص ہوتاہے، لیکن واقعہ یہ بھی ہے کہ یہ اخلاص ہر جگہ نہیں ہو اکرتا کہیں سوچ یہ ہوتی ہے کہ جہیز اچھا مل جائے گا، فلاں گھر میں شادی سے ہمارا اسٹیٹس بڑھے گا، فلاں سے میری دوستی ہے یا فلاں ایسے اور اس قسم کی رشتہ دار ہیں ان کی بات کو کیسے کا ٹا جائے حتیٰ کہ بہت دفعہ ایسے کریہہ اور نا قابل بیان اسباب بھی دیکھے جاتے ہیں کہ اللہ ہی مددگار ہے ۔غرض بچے کی پسند سے زیادہ والدین اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں اور بچہ کے بجائے بچی ہو تو معاملہ اور ہی دشوار ہوجاتا ہے اس کی خاموشی کا معنی ہی کچھ اور ہو گیا یعنی وہ کتنی بھی ناراض ہو کتناہی نا پسند کیوں نہ کررہی ہو بس خاموش ہو تو کافی ہے ۔ اگر بچی دبے یا کھلے لفظوں میں اس کا اظہار کردے تو ہرطرف سے لعنت اور پھٹکار ! دراصل یہ وہ چیز ہے جس نے ہماری بچیوں کے اندر باغیانہ ذہن کی پرورش میں بڑا کردارادا کیا ہے۔ صورت دو ہی بنتی ہے یا تو ماں باپ کی ناجائز خواہش کےمطابق عقل مند اولاد شادی نہ کرےیا شادی کرکے ایک مکمل محرومی اور ذہنی اذیت کے ساتھ زندگی گزاردے یہی زندگی جب نہیں گزرپاتی تو طلاق کا شیطان نمودار ہو جاتا ہے ۔
طلاق کا ایک انتہائی عجیب و غریب سبب ہے ’’ لو میرج‘‘ ۔ لو میرج یعنی محبت کی شادی! سوال یہ ہے کہ جب یہ شادی ہوتی ہی ہے محبت کے سمندر کو چھلک جانے سے سنبھالنے کے لئے تو ایسا کیا ہوجاتا ہے جو سمندر میں بھی صحراکی خاک اڑنے لگتی ہے۔ دراصل ہوتا یہ ہے کہ یہ تعلق ہی غیر ذمہ دارانہ قسم کا تعلق ہوتا ہے البتہ شیطان اسے انتہائی مزین کرکےپیش کرتا ہے اورخود طرفین ایک دوسرے پر اپنی خوبیاں ہی ظاہر کرتے ہیں ہر وہ گزر گاہ اور ہر وہ موقع جہاں ایک دوسرے کو نظر آجانے کا امکان ہوتا ہے وہاں کوشش یہ ہوتی ہے کہ زینت میں رہیں اگر زینت میں نہ رہیں توھیئت کم ازکم خراب نہ ہو۔ظاہر ہے اس تصور کےساتھ دولوگوں کا ناجائز رابطہ ہوتا ہے تو بھلا خامیوں پر نظر کیسے جا سکے گی پھر بالعموم دونوں پر کسی قسم کی ذمہ داری نہیں ہوتی اس لئے ذہن و دماغ میں تفریح کی بھر پور آمادگی قائم رہتی ہے پھر بات بات میں جان قربان کردینے سے کم پر کوئی اظہار نہیں ہوتا، مزید یہ کہ شادی سے پہلے شوہرانہ اور بیگمانہ غیرت بھی نچلی سطح کی ہوتی ہے لیکن شادی کےبعد جب آسمانی دنیا سے زمین پر اترنا ہوتا ہے اور رنگین عینک آنکھ سے اتر جاتی ہے او رٹھیک ٹھیک دکھائی دینے لگتا ہے جان دینے والا پانی بھی خود سے اٹھا کر پینے کو راضی نہیں ہوتا شیطان بھی اب گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتا ہے پہلے تو دونوں کو ایک دوسرے کے لئے مزین بنا کر پیش کرتا تھا اور اب صرف ہاتھ ہی نہیں اٹھا لیتا دونوں میں بگاڑ کی راہیں استوار کرنے لگ جاتا ہے ۔ تو طلاق ہوجاتی ہے ۔
شک وشبہ کی وہ قسم جو انسان کو تحقیق کی طرف لے جائے اور آنکھیں کھلی رکھے، بند نہ ہونے دے محمود ہے اور مطلوب بھی۔ لیکن شک وشبہ جب انسان کی بیماری بن جائے ہر سایہ آسیب ، ہر رسی سانپ اور ہر سوال طنز وتعریض محسوس ہونے لگے گمانی بدگمانی کا دوسرا نام بن جائے انسان ہر گفتگو کو اپنی ذات سے منسوب کر رکھے تو یہ انتہائی خراب ترین نفسیات ہے ۔
اب جب یہ بیماریاں میاں بیوی کو اپنی چپیٹ میں لے لیں جن کی کل زندگی کا دارومدار ایک دوسرے پر اعتماد ایک دوسرے سے بے طرح اور مخلصانہ محبت پر منحصرہے تو نتیجہ کیا ہوگا آپ سمجھ سکتے ہیں جو لو گ شرعی طریقے پر زندگی گزارتے ہیں ان کے یہاں وفاداری سے متعلق شک وشبہ کی فضا کم ہی پیدا ہوتی ہے یا نہیں پیدا ہوتی ہے لیکن وہ لوگ جن کی زندگی کم زیادہ یا مکمل غیر شرعی طریقوں پر مبنی ہو ظاہر ہے ان کے یہاں قدم بہ قدم شبہات جنم لیں گے بایں صورت واحد حل یہی ہے کہ اپنے طور طریق میں تبدیلی لائیں ساتھ ہی ساتھ خواہ مخواہ شبہات میں مبتلا رہنے کے بجائے یقین واعتماد کی فضا قائم رکھیں ورنہ کسی نہ کسی دن وہ حادثہ بہر حال ہوجائے گا جسے کوئی بھی حساس دل انسان بہتر نہیں کہہ سکتا ۔
قرآن مجید عام ہدایت دیتے ہوئے ایمان والوں سے مخاطب ہے: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ}(الحجرات:۱۲)’’ایمان والو!بہت زیادہ گمان کرنے سے احتراز کرو‘‘۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث‘‘’’بدگمانی سے اجتناب کرو کیونکہ گمان باتوں میں سب سے جھوٹی بات ہے‘‘ ۔
انسانی زندگی میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں خیالات کی دنیا ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی سواگر کہیں سے کچھ سن لیں خواہ گھر والوں کی زبان سے رشتہ داروں اور اعزاواقارب کی زبان سے یا غیروں کی زبان سے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مردوزن خوب تحقیق کر لیں کیونکہ فوری طور پر میلے دل کا غبار اگر آپ نے باہر نکال دیا تو بعد میں بھلے ہی آپ اپنی غلطی تسلیم کر لیں غبار کا اثر اچھی طرح زائل نہیں ہوگا، دھاگے ٹوٹنے کے بعد جوڑے جا سکتے ہیں لیکن گرہ تو پڑ ہی جائے گی۔ اس لئے کوشش یہ رہے کہ زندگی کا گلاب تھوڑا مرجھا جائے کوئی بات نہیںاس پر ناپاک سانسوں کی گرد نہ پڑنے پائے کہ یہ گلاب کی طہارت ونفاست اور نزاکت کے لئے زہر ہے ۔ قرآن پاک کی ایک سورہ سورۃ الحجرات میں اس بابت ایک رہنمائی ملتی ہے ۔اللہ کا ارشاد ہے:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا}(الحجرات:۶)’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو‘‘۔یہ آیت کریمہ اگر چہ فاسق کے بیان میں ہے لیکن اس آیت سے جو اصل مزاج کا فروغ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ تفتیش کا پہلو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔
یہ بات تو ٹھیک ہے کہ زوجین کو شک وشبہ کی فضا سے خود کو بچائے رکھنا چاہئے لیکن یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ شک وشبہ کا موقع بھی نہیں دینا چاہئے۔ مثال کےطور پر اولاً کسی عورت کو نا محرم مردوں سے بے ضرورت گفتگو نہیں کرنا چاہئے اور اگر شریعت کا پاس ولحاظ کوئی عورت نہیں رکھتی تو کم از کم گفتگو کو رنگین کرنے سے اجتناب ہونا چاہئے ۔بہت سی خواتین کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اپنے شوہر سے گفتگو بڑی روکھی سوکھی کرتی ہیں بلکہ تیز وتند کرتی ہیں ہمیشہ ہونٹ زاویہ قائمہ میں رہتے ہیں اور ماتھا رہ رہ کے شکن آلود ہوتا رہتا ہے اسباب جو بھی ہوں لیکن ایک معتد بہ تعداد خواتین کی ایسی ہی ہیں جو غلط طرز گفتار کی شکار ہیں لیکن جب ان کا واسطہ غیر محرم سے پڑتا ہے تو سبب جو بھی ہو نیک ہو بد ہو یا کچھ بھی نہ ہو ہونٹ اپنی جگہ پر آجاتے ہیں، پیشانی چمک اٹھتی ہے اور گفتگو کا انداز لچکیلا ہو جاتا ہے۔ ایسے میں ایک غیرت مند شوہر کا بے چین ہونا فطری امر ہے اسے خواہ مخواہ الزام دینا زبردستی ہوگی۔
زیب وزینت کے معاملے میں بھی ہماری بہت ساری خواتین کا طرز عمل قابل اعتراض ہوتا ہے مجلسی ماحول اور علاج ومعالجہ کے لئے ان کی آراستگی دیکھتے بنتی ہے مگر شوہر کے لئے بچوں کے جھمیلوں اور کام کی کثرت جیسے سینکڑوں حوالے موجود ہوتے ہیں ۔
پردے کا معاملہ اور بھی عجیب ہوتا ہے یہ پردہ بزرگوں سے خوب کریں گی مگر جوانوں سے انداز بے تکلفانہ ہوتا ہے بلکہ بذات خود پردے کا ہی یہ کم خیال رکھتی ہیں ۔دیور ، بہنوئی یا اس قسم کے رشتہ داروں کے ساتھ ان کی خوش کلامی ، شگفتگی ، ہنسی مذاق، بے تکلفی اور اس سے آگے مزاحیہ چھیڑ چھاڑ کسی بھی ایسے شوہر کے لئے جس کی رگوں میں واقعی خون ہے اور سینے میں واقعی دل ہے دوزخ کا سامان ہے۔
کوئی بتلائے کہ اگر عورت فون پر اجنبی مردوں سے لچک دار انداز میں بات کر ے اور بات کو خواہ مخواہ دراز کر ے تو کیا شوہر شک کا شکار نہیں ہوگا؟ اگر ہم سے پوچھئے تو شوہر کا شک میںمبتلا نہ ہونا بذات خود مشکوک چیز ہے۔
طلاق کے اسباب میں شوہر کا بد اخلاق ہونا بھی شامل ہے عدم برداشت اور اخلاق وآداب سے پیدل لوگوںکو شوہریت زیب ہی نہیں دیتی ۔ان کو اگر اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنا با ر محسوس ہوتا ہے تو ان کے لئے بہتر ہے کہ روزہ رکھ کر زندگی مجرد ڈھنگ سے گزار لیں ۔وجہ یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ تعامل میں اخلاق کی ایک کم از کم قسم کی سطح بہر حال ضروری ہے اگر اخلاق کی کوئی سطح کسی کے پاس نہیں ہے تو دوسروں کے ساتھ اس کا رابطہ کبھی بھی استوار نہیں رہ سکتا۔قرآن عورتوں کی بابت بطور خاص رہنمائی کرتا ہے : ’’وعاشروھن بالمعروف‘‘’’ ان کے ساتھ معروف طریقے سے زندگی گزارو‘‘۔(النساء:۱۹) وجہ یہ ہے کہ عورت ذات غیر معروف طرز عمل کا تحمل بہت مشکل سے کر پاتی ہے اگر اس کے پاس کوئی مجبوری نہ ہو تو وہ مرد سے فوری الگ ہو جائے ۔ البتہ بات تب مکمل ہوگی جب یہ بھی بتا دیا جائے کہ طلاق کا بڑا عامل عورت کا حد درجہ نافرمان ہونا ہے ایک اچھی عورت کے بارے میں رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ اچھی عورت وہ ہے جسے دیکھ کر دل خوش ہوجائے اور وہ مرد کا کہنا مان لے۔ حدیث کے الفاظ ہیں’’ التی تسرہ اذا نظر وتطیعہ اذا امر‘‘ ’’جب وہ دیکھے تو وہ اسے خوش کردے اور جب وہ حکم دے تو مان لے‘‘۔کیونکہ عورت کسی بستر کا نام نہیں ہے عورت ایک طرح کی جنت کا نام ہے ہم جس زمانے میں جی رہے ہیں اس میں بستر کی قلت نہیں ہے قلت ہے تو عورت کی ہے ایسی صورت میں عورت جنت کے بجائے محض بستر کی چیزیں بن جائے تو ظاہر ہے یہ تشویش کی بات ہوجاتی ہے ۔
طلاق کا ایک سبب ایسا ہے جومردوزن دونوں سے یکساں متعلق ہے ۔ یعنی ایک دوسرے پر بے جا نقد کرنا ، ایک دوسرے کے عیوب پر نظر رکھنا اور عیوب کو بیان کرنا شدید قسم کے تعلق خرابوٗ معاملات ہیں ۔ ایک دوسرے پر تنقید کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بجا بھی ہو تو بھی تعلقات کو کمزور کرتی ہے اب جب یہی چیز بے جا ہو جائے تو کس قدر تباہی کا سامان پیدا کر ے گی اس کوسمجھ لینا چنداں مشکل نہیں اور عیب پرنظر رکھنا تو انتہائی خسیس حرکت ہے اس کا معاملہ صرف یہی نہیں ہے کہ وہ عیب پر نظر رکھ رہا ہے بلکہ اس کا معاملہ یہ ہوجاتا ہے کہ انسان ا س بینائی سے محروم ہونے لگتا ہے جس سے دوسرے کی بھلائیاں نظر آتی ہیں پھر نظر رکھنے کے ساتھ عیوب کو بیان کرنا ایک دوسری انتہاء ہےجو آپسی تعلقات کو بگاڑ دیا کرتی ہے یہ بات تو تب ہے جب انسان کے اندر واقعی وہ عیب ہو اور اگر عیب فی الواقع نہیں ہے بس انسان کی عیب جوٗیانہ صلاحیت کا نتیجہ ہے تو مزید دکھ کی بات ہے۔ اگر زوجین میں واقعی کوئی خامی پائی جائے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس تعلق سے انتہائی پیاری بات بیان فرمائی ہے { فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا }’’ کہ اگر تمہیں وہ کسی سبب نا پسند ہیں تو عین ممکن ہے کہ کوئی چیز تمہیں نا پسند ہو لیکن اللہ اس کے اندر بہت ساری بھلائیاں پیدا فرمادے‘‘۔(النساء:۱۹)یہ ہے وہ قیمتی نظریہ جو زوجین کو بے جانقد، عیب خوئی ،اور عیب جوئی سے محفوظ کرسکتا ہے۔
طلاق کے اسباب میںایک بڑا سبب زوجین کے اندر جنسی کمزوری کا پایا جانا ہے ۔ جنسی کمزوری کے سبب اگر طلاق نہ بھی ہوتو ازدواجی خیانت ضرور راہ پاجاتی ہے اور اگر یہ بھی نہ واقع ہوتو آپسی کشاکش تعلقات میں دائمی بگاڑاورذہنی الجھن بہر حال موجود رہے گی ۔
موجود ہ دور میں جنسی کمزوری جنسی بے راہ روی کے سبب عام ہے مزید برآں نوجوان طبقہ نا تجربہ کاری کے سبب غیر حقیقی چیزوں کو بھی جنسی کمزوری جان کر حکیموں کے آستانے پر حاضری دینے لگتا ہے اور یہ بے چارے جنسیات میں خود کو ماہر بتاتے ہیں بھلے ہی ان کے پاس نزلہ تک کی دوائی موجود نہ ہو پھر ہوتا یہ ہے کہ یہ لوگ صحیح سالم کو بھی بیمار بنا دیتے ہیں ۔بہر حال اس مسئلے میں طرفین کوسمجھداری سے کام لینا چاہئےاگر مرد کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو عورت کا علاج کرائے اور اگر عورت کی ضرورت پوری نہیں ہوتی توعورت خیانت اور بے توجہی یا خلع کے بجائے اصل معاملے سے با خبر کردے اور شوہرکا اس باب میں تعاون کرے ان شاء اللہ تعلقات کے طریقوں میں تبدیلی یا ضروری علاج سے یہ مسائل ختم ہو جائیں گے ۔
بعض دفعہ جنسی اعتبار سے کوئی عیب تو نہیں ہوتا لیکن افراط قوت کے سبب خواہش پوری نہیں ہوتی متعدد اسباب موجود ہوتے ہیں ۔ مثلاً بچوں کے سبب عورت خاطر خواہ موقع نہیں دے پاتی یا کسی سبب اس کی چاہت اعتدال پر ہے یا کم ہے سو ان تمام صورتوں کا علاج طلاق نہیں تعدّد ہے ۔ یعنی یہ کہ شوہر دوسری شادی کرلے اور اگر مرد کمزور ہے تو علاج کرائے اور کامیابی نہ ملے اور عورت حاصل شدہ جنسی معیار سے مطمئن نہیں ہے تو اسے شریعت بہرحال خلع کا اختیار دیتی ہے ۔
طلاق کا اہم ترین اور بنیادی سبب عورت کی بدزبانی ہوتی ہے اور بدچلنی کے بعد بد زبانی ہی وہ انتہائی اہم بات ہے جس کے سبب طلاق ہوا کرتی ہے ۔ عورت اگر کھانا بنانے میں کمزور ہو ، گھریلومعاملات میں فطری طور پر مست ہو غرض تمام عیوب اس کے اندر ہوں لیکن اگر اس کے اندر معصومیت ہے اور زبان شیریں ہے تو شوہر سب کچھ گوارا کرلیتا ہے لیکن زبان کا زہر وہ زہر ہے جو زندگی کا لال خون سفید کردیتا ہے اس کا صاف و شفاف حسین ترین بدن نیلا اور سیاہ کر ڈالتا ہے ۔یہ وہ گندگی ہے کہ بالٹی بھر زمزم میں اس کا ایک قطرہ پڑجائے تو سب کچھ بے کار ہوجاتا ہے سو عورتوں کو قینچی کی طرح زبان چلانے سے حد درجہ احتیاط کرنی چاہئے ۔
طلاق کے معاملے میں گھر کے لوگوں کا کردار اہم تر ہوتا ہے جو ماں باپ اپنے بچے کو انتہائی لاڈ پیار سے پال پوس کر بڑا کرتے ہیں بیس بائیس سال کے لڑکے کو سفر کرنے، کھیتی باڑی کے معاملات میں ، خاندانی اور رشتے کے امور میں آٹھ دس سال کا بچہ جانتے ہیں وہی ماں باپ اٹھارہ انیس سال کے لڑکے کو بھی شادی کی صبح سے ہی ماہر مجرم جاننے لگتے ہیں اس کی بیوی کی ہر ادا میں کوئی سازش ، ہر بولی میں کوئی طنز اور بانی ہر ہنسی کے پیچھے استہزاء کا ارادہ نکال لاتے ہیں اور شوہر کو سونگھنے والا ، بھر جانے والا، بدل جانے والا قراردیتے ہیں ۔
شادی کے بعد فطری طور پر تھوڑی سی تبدیلی ضرور پیدا ہوجاتی ہے سمجھدار ماں باپ اس تبدیلی کو عام بات سمجھتے ہیں اور زندگی کی ناگزیر ضرورت جانتے ہیں مگر ضدی ماں باپ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں ۔ مثلاً : جو بیٹا ہر چیز ماں سے مانگتا تھا ہر موقع پر ماں کے پاس آکے بیٹھتا تھا کھانا ماں کے ساتھ کھاتا تھا بیوی کے آنے کے بعد اس کے اس طریقے میں تبدیلی اور کوتاہی پیدا ہوجاتی ہے ۔ بہت دفعہ وہ ٹہلنے گھومنے بھی کہیں نکل جاتے ہیں اور ماں باپ سے کسی سبب اجازت نہیں لے پاتے ۔ ماں باپ ان چیزوں کو ایک بڑا مسئلہ بنالیتے ہیں اور بیٹے سے زیادہ بہو کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور ایک نا ختم ہونے والی لڑائی جنم دےدیتے ہیں اسی کے ساتھ مشترک فیملی نظام کی پیچیدگیاں الگ سر اٹھاتی ہیں اگر بہو ابھی ایک ہی ہے ظاہر ہے وہ بڑی بہو ہوگی تو پوچھئے ہی مت ! دیور جی کے نخرے اسی کو اٹھانا ہے ، نندوں کو الگ ناز برداری کے خیالات ادھر ساس سسر کا لحاظ کچھ اور تقاضا کرتا ہے ، گھر کے اور دیگر افراد اور اقارب کے معاملات الگ، ان سب کے لئے بس بہو کی ذمہ داری ہے کہ ’’ انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو ‘‘۔
اس پیچیدہ نظام زندگی کی اصل ڈائن اکیلی بہو تصور کی جاتی ہے نتیجے میں بہت دفعہ فرماں بردار بیٹا اپنی بیوی سے ہی بدظن ہوجاتا ہے کیونکہ اس چخ چخ میں وہ خود بیوی کی زد میں آجاتا ہے اور طلاق ہوجاتی ہے ۔ اس سلسلے میں ایک بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ والدین بہو کے لئے جس مشینی زندگی کو پسند کرتے ہیں اس میں وہ بہو کو یہ موقع ہی نہیں دیتے کہ ان کے بیٹے کو وقت دے ۔ بعض والدین کو یہ کہتے ہوئے میں نےخود سنا ہے کہ فلاں آجاتا ہے تو سارا کام بگڑ جاتا ہے ۔
ناچاقیوں کی وجہ جو بھی ہوگھر والے اس کے ذمہ دارہوں یا بیوی کے میکے والے یا خود میاں بیوی کے آپسی معاملات !اگر شوہر انہیں شرعی طریقے سے حل کرے تو طلاق کی نوبت نہیں آتی ۔ مثلاً: ناچاقی اگر خود میاں بیوی کے آپسی معاملات کے سبب ہو اور اس میں بنیادی کردار بیوی کی نافرمانی اور بد زبانی ہو تو طریقہ یہ ہے کہ نصیحت کی جائے واضح رہے یہ نصیحت صلواتیں سنانے ، دھمکیاں دینے اور طنز و تعریض کے انداز میں نہیں ہونی چاہئے بلکہ نصیحت واقعی نصیحت ہونی چاہئے اور یہ مرحلہ صبر کے ساتھ تادیر جاری رہنا چاہئے ۔اس پر بھی بات نہ بنے تو بستر الگ کردیا جائے اس مرحلے میں بھی طنز وتعریض کرنے اور دھمکیاں دینے سے گریز ہونا چاہئے ۔ اگر اس چیزسےبھی کامیابی نہ ملے تو ہلکی مار کی اجازت ہے واضح رہے جو لوگ پہلے سے بیوی کو مارتے ہوں یا مارچکے ہوں ان کی مار اس موقع پر کچھ فائدہ نہ دے گی ۔ سوجان لینا چاہئے کہ بیوی کو مارنا شرعی قوانین میں جرم ہے آپ صرف اُس مرحلے میں مارسکتے ہیں وہ بھی ہلکے انداز میں جب بیوی بہت نافرمان ہوجائے اور نصیحت اور بستر الگ کردینے کے مراحل پارکرچکے ہوں ۔ اگر اس پر بھی کامیابی نہ ہو تو عورت کے گھر والوں کے سامنے مسئلہ پیش کریں اور کوئی حل نہ نکلے تو صرف ایک طلاق طہر میں دے دیں ۔ ان شاء اللہ ابدی جدائی کی نوبت نہیں آئے گی ۔(شعبان بیدار صفوائی)

فصل سوم: طلاق سے قبل اصلاح اور اس کے مراحل
اصلاح سے قبل
ایک شوہر کو بیوی کی اصلاح سے قبل یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ صد فی صد اصلاح کا کوئی امکان نہیں ہے، کچھ نہ کچھ مسائل باقی رہیں گے جن کا علاج نظر انداز کرنا ہی ہے ورنہ اصلاح کے بجائے فساد ہی کا نتیجہ سامنے آئے گا۔
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
حدثنا أبو كريب، وموسى بن حزام، قالا: حدثنا حسين بن علي، عن زائدة، عن ميسرة الأشجعي، عن أبي حازم، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «استوصوا بالنساء، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج، فاستوصوا بالنساء»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عورتوں کے بارے میں میری وصیت کا ہمیشہ خیال رکھنا، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بالکل سیدھی کرنے کی کوشش کرے تو انجام کار توڑ کے رہے گا اور اگر اسے وہ یونہی چھوڑ دے گا تو پھر ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ پس عورتوں کے بارے میں میری نصیحت مانو، عورتوں سے اچھا سلوک کرو۔“[صحيح البخاري 4/ 133رقم 3331]

اوراس بات کو بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ عورت کے اندر اگرکوئی ایک بات ناپسندیدہ ہے تو دوسری کچھ باتیں پسندیدہ بھی ہیں ۔

امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
حدثني إبراهيم بن موسى الرازي، حدثنا عيسى يعني ابن يونس، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن عمران بن أبي أنس، عن عمر بن الحكم، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يفرك مؤمن مؤمنة، إن كره منها خلقا رضي منها آخر»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن نہ رکھے کوئی مؤمن مرد کسی مؤمن عورت کو اگر اس میں ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی۔“ یا سوا اس کے اور کچھ فرمایا۔“[صحيح مسلم 3/ 1091 رقم 1469]

اصلاح کے مراحل
اور اگر بیوی کی کوتاہی وکمی ناقابل برداشت ہو تو فورا طلاق ہی کا فیصلہ نہیں کردینا چاہئے بلکہ اس کی اصلاح کے لئے بالترتیب درج ذیل طریقے اپنانا چاہئے۔
1۔وعظ ونصیحت کے ذریعہ بیوی کو سمجھائے۔
2۔اگرنصیحت سے بات نہ بنے تو بیوی کا بستر الگ کردے ۔
3۔اگراس کا بھی اثر نہ ہو تو ہلکی مار مارے ۔
اللہ رب العالمین نے بیوی کی اصلاح کے ان طریقوں کو بالترتیب اسی طرح بیان کیا ہے ارشاد ہے:
{وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا }
اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بددماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وه تابعداری کریں تو ان پر کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے [4/النساء: 34]
امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخَلَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ، وَوَعَظَ، فَذَكَرَ فِي الحَدِيثِ قِصَّةً، فَقَالَ: «أَلَا وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّمَا هُنَّ عَوَانٌ عِنْدَكُمْ، لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي المَضَاجِعِ، وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا، أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ فَلَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ، أَلَا وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ»: "
عمرو بن احوص کہتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ اور (لوگوں کو) نصیحت کی اور انہیں سمجھایا۔ پھر راوی نے اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سنو! عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو۔ اس لیے کہ وہ تمہارے پاس قیدی ہیں۔ تم اس (ہمبستری اور اپنی عصمت اور اپنے مال کی امانت وغیرہ) کے علاوہ اور کچھ اختیار نہیں رکھتے (اور جب وہ اپنا فرض ادا کرتی ہوں تو پھر ان کے ساتھ بدسلوکی کا جواز کیا ہے) ہاں اگر وہ کسی کھلی ہوئی بیحیائی کا ارتکاب کریں (تو پھر تمہیں انہیں سزا دینے کا ہے) پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں سے علاحدہ چھوڑ دو اور انہیں مارو لیکن اذیت ناک مار نہ ہو، اس کے بعد اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو پھر انہیں سزا دینے کا کوئی اور بہانہ نہ تلاش کرو، سنو! جس طرح تمہارا تمہاری بیویوں پر حق ہے اسی طرح تم پر تمہاری بیویوں کا بھی حق ہے۔ تمہارا حق تمہاری بیویوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر ایسے لوگوں کو نہ روندنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو، اور تمہارے گھر میں ایسے لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیں جنہیں تم اچھا نہیں سمجھتے۔ سنو! اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کے لباس اور پہنے میں اچھا سلوک کرو“[سنن الترمذي ت شاكر (2/ 532):- أبواب الرضاع :باب ما جاء في حق المرأة على زوجها،رقم 1163]

لیکن یادرہے کہ بیوی کو مارنے کی صورت میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پیش نظر رہنی چاہئے:
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ العَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ اليَوْمِ»
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھر دوسرے دن اس سے ہمبستر ہو گا۔[صحيح البخاري (7/ 32):-كتاب النكاح:باب لا تطيع المرأة زوجها في معصية،رقم 5204]

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اذیتناک مار نہ مانے کی تفسیر یہ کی ہے کہ مسواک وغیرہ سے مارا جائے ۔
امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
حدثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري قال: ثنا ابن عيينة , عن ابن جريج , عن عطاء قال: قلت لابن عباس: ما الضرب غير المبرح؟ قال: «بالسواك ونحوه»
امام عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اذیتناک مار نہ مارنے کا کیا مطلب ہے ؟ تو انہو ں نے کہا : مسواک وغیرہ سے مارے [تفسير الطبري، ط هجر: 6/ 712 وإسناده صحيح و أخرجه الطبري أيضا(6/ 711) من طريق آخر عن ابن عيينه به]

امام عطاء بھی یہی فرمایا کرتے تھے [تفسير ابن أبي حاتم، 3/ 944 و إسناده صحيح، أحكام القرآن للجهضمي ص: 111و إسناده صحيح ]

اگر بیوی کی اصلاح کے یہ سارے طریقے کارگر ثابت نہ ہوں تو بھی شوہر کو اس کے بعد طلاق کا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ تیسرے فریق کو سامنے لاکر ان کے ذریعہ صلح واصلاح کی کوشش کرنی چاہئے اس کی خاطر ایک شخص بیوی کے طرف سے اورایک شخص شوہر کی طرف سے اور دونوں میں کر صورت حال کا جائزہ لیں اور صلح و اصلاح کی بھرپور کوشش کریں ، اللہ کا ارشاد ہے:
{ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا }
اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم والا پوری خبر والاہے [4/النساء: 35]

صلح واصلاح کی یہ ساری کوششیں رائیگاں ثابت ہوں اور بیوی کی اصلاح کی کوئی سبیل نظر نہ آئے تو اس کے بعد شوہر اسلامی طریقے پر اپنا حق طلاق استعمال کرسکتا ہے۔


فصل چہارم: طلاق کا حکم

طلاق میں اصل جواز یا ممانعت:
طلاق میں اصل ممانعت ہے یا جواز اس بارے میں فقہاء کے مختلف اقوال ہیں ذیل میں صرف دو اہم اقوال پیش مع ترجیح پیش کئے جاتے ہیں ۔
پہلا قول:
طلاق میں اصل ممانعت ہے ، یعنی بغیر کسی نقص یا غلطی  کے طلاق دینا حرام و ناجائز ہے۔اس قول کے دلائل درج ذیل ہیں:
(الف):
امام حاكم رحمه الله (المتوفى405)نے کہا:
أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الإِمَامُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوبِ عِنْدَ اللهِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امْرَأَةً ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا ، طَلَّقَهَا ، وَذَهَبَ بِمَهْرِهَا ، وَرَجُلٌ اسْتَعْمَلَ رَجُلاً ، فَذَهَبَ بِأُجْرَتِهِ ، وَآخَرُ يَقْتُلُ دَابَّةً عَبَثًا
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ کوئی آدمی کسی عورت سے شادی کرے اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر ہڑپ کرلے ، اور کوئی آدمی کسی کو مزدوری پر رکھے اور اس کی اجرت ہڑپ کرلے ، اور کوئی آدمی کسی جانور کو بلا وجہ قتل کرے [المستدرك للحاكم، ط الهند: 2/ 182 وحسنہ الالبانی فی الصحیحہ رقم 999]
اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ بلا وجہ طلاق دینا ناجائز ہے ، لیکن درست نہیں ہے کیونکہ اس حدیث میں وعید محض طلاق دینے پر نہیں بلکہ طلاق دینے کے بعد عورت کا مہر ہڑپ کرلینے پر ہے ۔ لہٰذا اس حدیث کا نفس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
(ب):
امام ابن أبي شيبة رحمه الله (المتوفى235)نے کہا:
حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ, عَنْ لَيْثٍ, عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلى الله عَليهِ وسَلمَ فَطَلَّقَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلى الله عَليهِ وسَلمَ: طَلَّقْتهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ بَاسٍ؟ قَالَ: لاَ يَا رَسُولَ اللهِ، ثُمَّ تَزَوَّجَ أُخْرَى, ثُمَّ طَلَّقَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلمَ: طَلَّقْتهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ بَاسٍ؟ قَالَ: لاَ يَا رَسُولَ اللهِ، ثُمَّ تَزَوَّجَ أُخْرَى, ثُمَّ طَلَّقَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلمَ: أَطَلَّقْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ بَاسٍ؟ قَالَ: لاَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلى الله عَليهِ وسَلمَ فِي الثَّالِثَةِ: إِنَّ اللهَ لاَ يُحِبُّ كُلَّ ذَوَّاقٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَلاَ كُلَّ ذَوَّاقَةٍ مِنَ النِّسَاءِ
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مین ایک عورت سے شادی کی پھر اسے طلاق دے دی ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : تم نے اسے طلاق دے دیا ؟ اس نے کہا: ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کسی وجہ سے ؟ اس نے کہا: نہیں اللہ کے رسول ۔ پھر اس نے دوسری عورت سے شادی کی اور اسے بھی طلاق دے دیا ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : تم نے اسے طلاق دے دیا ؟ اس نے کہا: ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: کسی وجہ سے ؟ اس نے کہا: نہیں اللہ کے رسول ۔ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار کہا : اللہ تعالی شہوت پرست مرد اور شہوت پرست عورت کو پسند نہیں کرتا [مصنف ابن أبي شيبة، ت الشثري: 10/ 480]
یہ روایت ضعیف ہے ۔ کیونکہ شہربن حوشب صحابی نہیں ہیں اور ڈائریکٹ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کررہے ہیں ، یعنی روایت مرسل ہے ، نیز سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہے اور یہ ضعیف ہے ، تفصیل کے لئے دیکھئے : یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ ص527 تا 529۔

دوسرا قول :
طلاق میں اصل جواز مع الکراہت ہے ۔یہی قول راجح ہے اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(الف):
{وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا}
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناه ہوتے ہوئے بھی لے لو گے، تم اسے کیسے لے لو گے[النساء: 20]
اس آیت میں اللہ رب العالمین نے استبدال زوج کی کوئی شرط نہیں لگائی ہے ، اور نہ ہی اس تعلق سے کسی دوسری آیت یا کسی حدیث میں کوئی شرط وارد ہے ، لہٰذا یہ اصلا جائز ہے۔
(ب):
امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نے کہا:
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ، ثُمَّ رَاجَعَهَا»
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر آپ نے ان سے رجعت کر لی[سنن أبي داود( 2/ 285) : كتاب الطلاق، باب في المراجعة ، رقم 2283 وصححہ الالبانی]
اس حدیث سے بھی طلاق کا جواز ثابت ہوتا ہے ، علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
دل الحديث على جواز تطليق الرجل لزوجته ولو أنها كانت صوامة قوامة
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے گرچہ اس کی بیوی بڑی نمازی اور روزے دار(یعنی نیک وصالح ) ہی کیوں نہ ہو [ سلسلة الأحاديث الصحيحة 5/ 18]
واضح رہے کہ کسی بھی صحیح سند میں یہ منقول نہیں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو کس وجہ سے طلاق دی تھی ۔اب یہاں کوئی وجہ رہی ہو یا نہ رہی ہو بہرصورت وجہ کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کہ بغیر کسی سبب کے شوہر اپنی مرضی سے بھی طلاق سے سکتا ہے ۔
کیونکہ طلاق دینے کے لئے کسی سبب کا ہونا شرط ہوتا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سبب کو ضرور بیان کرتے یا کم از کم اس کی طرف اشارہ کرتے ۔

تکلیفی احکام کے اعتبار سے طلاق کا حکم:
تکلیفی احکام(حرام ، مکروہ ، مباح ، مستحب اورواجب) کی حیثیت سے حالات کی نوعیت کے اعتبار سے طلاق کا حکم مختلف ہوگا تفصیل حسب ذیل ہے:

حرام وناجائز:
اپنے اصل کے اعتبار سے سے طلاق دینا حرام اور ناجائز نہیں ہے جیساکہ تفصیل گذرچکی ہے ، البتہ طلاق دینے کے طریقہ کے اعتبار سے حرام طلاق کی شکل یہ ہے کہ غیر مسنون طریقہ پر طلاق دی جائے جیسے حالیت حیض وغیرہ میں ۔

مکروہ و مبغوض:
طلاق دینا اصلا جائزہے جیساکہ تفصیل پیش کی جاچکی ہے ، اس لئے اگر شوہر کو بیوی کی بعض عادات پسند نہ ہوں  ، یا  بیوی کی کوئی بھی غلطی نہ ہو بلکہ وہ متقی اور پرہیزگار ہو ، لیکن شوہریوں ہی اسے پسند نہ کرتا ہوں ، تو بھی شوہر طلاق دے سکتا ہے ، کیونکہ طلاق میں اصل جواز ہے۔
لیکن ایسی صورتوں میں طلاق دینے کو ناپسند کیا گیا ہے ، اللہ کا ارشاد ہے :
{وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا }
ان (عورتوں )کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے [4/النساء: 19]
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن نہ رکھے کوئی مؤمن مرد کسی مؤمن عورت کو اگر اس میں ایک عادت ناپسند ہو گی تو دوسری پسند بھی ہو گی“ [صحيح مسلم (3/ 1091):-كتاب الرضاع:باب الوصية بالنساء،رقم 1469]

مباح و جائز:
جب کوئی ایسی معقول وجہ ہو جس کی بناپر طلاق کے بعد فریقین میں سے دو نوں کے لئے یا کسی ایک کے لئے بہتر صورت حال پیدا ہونے کی امید ہو تو طلاق دینا جائز ہے ۔مثلا میاں بیوی کے یہاں اولاد نہیں ہورہی ہے اور یہ توقع ہو کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو کر دوسری جگہ اپنی اپنی شادی کرلیں تو دونوں کو اولاد ہوسکتی ہے جیساکہ کئی مقامات پر ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں، تو اس بناپر طلاق دینا جائز ہے۔
یا شوہر اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہے اور عورت کے اندر یہ صلاحیت ہو تو بھی شوہر طلاق دے سکتا ہے تاکہ یہ عورت کسی اور سے شادی کرکے اولاد کے نعمت سے مالا مال ہو ۔ان حالات اور ان سے ملتے جلتے دیگر حالات میں طلاق دینا بلاکراہت جائز ہے۔
اور رہی وہ حدیث میں جس کے الفاظ ہیں کہ:
«أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ»
اللہ کے نزدیک حلال اشیاء میں مبغوض ترین چیز طلاق ہے [سنن أبي داود( 2/ 255):-كتاب الطلاق:باب في كراهية الطلاق،رقم 2178]
تو یہ حدیث ضعیف ہے ۔دیکھئے ارواء الغلیل حدیث نمبر (2040)۔

مستحب ومندوب :
جب عورت ،خود مرد کے ساتھ رہنا پسند نہ کرے۔اور آئے دن نافرمانی و بدزبانی سے پیش آئے اس کی ضروریات اور جذبات کی ذرا بھی قدر نہ کرے جس کے سبب مرد صبح وشام ڈسٹرب رہتا ہے اس کے دیگراعمال و سرگرمیاں اس سے متاثر ہوتی ہوں تو بہتر ہے کہ ایسی بیوی کو طلاق دے دی جائے۔
امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275)نے کہا:
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ:۔۔۔ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا - يَعْنِي الْبَذَاءَ - قَالَ: «فَطَلِّقْهَا إِذًا»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَهَا صُحْبَةً، وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ، قَالَ: " فَمُرْهَا يَقُولُ: عِظْهَا فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے (میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔[سنن أبي داود (1/ 35):-كتاب الطهارة:باب في الاستنثار،رقم142 وإسناده حسن]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت بہت زیادہ بدزبان ہوجائے تو اسے طلاق دینا ہی بہتر ہے تاہم اگر شوہر بیوی سے اپنے لگاؤ کی خاطر اسے طلاق دینے کے بجائے اصلاح کی کوشش جاری رکھنا چاہے تو یہ بھی درست ہے ۔
اور ایک حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ:
ثَلاَثَةٌ يَدْعُونَ اللَّهَ فَلاَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ : رَجُلٌ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ سَيِّئَةَ الْخُلُقِ فَلَمْ يُطَلِّقْهَا ، وَرَجُلٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مَالٌ فَلَمْ يُشْهِدْ عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ آتَى سَفِيهًا مَالَهُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلاَ تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ}
تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے دعا کرتے ہیں تو اللہ ان کی دعا قبول نہیں کرتا ایک وہ شخص جس کی بیوی بداخلاق ہو پھر بھی وہ اسے طلاق نہیں دیتا دوسرا وہ شخص جس کا مال کسی شخص کے پاس ہو لیکن اس نے اس پر کسی کو گواہ نہیں بنایا اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی احمق کو اپنا مال دے دیا جبکہ اللہ کا فرمان ہے کہ احمقوں کو اپنے مال مت دو [المستدرك للحاكم، ط الهند: 2/ 302 رقم 3181]
علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے دیکھیں: سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (1805)۔
لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ کے شاگر علامہ اسحاق الحوینی حفظہ اللہ نے اسے مرفوعا اور موقوفا ہر طرح سے ضعیف قراردیا ہے جیساکہ ان کے ایک صوتی درس میں ان کا بیان ریکارڈ ہے اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ کے ایک دوسرے شاگردعلامہ مقبل بن الھادی رحمہ اللہ نے بھی اسے مطلقا ضعیف قرار دیا ہے دیکھیں:[أحاديث معلة ظاهرها الصحة ص: 270]
ہماری نظر میں شاگرد حضرات کی تحقیق ہی راجح ہے واللہ اعلم۔


فرض و واجب:
جب عورت شرعی واجبات میں کوتاہی کرے اور سمجھانے سے باز نہ آئے جس کے سبب مرد کا دین وایمان بھی خطرے میں پڑ جائے ۔یا اس عورت کے سبب مرد کسی کے کسی بڑے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو ، یا میوی بیوی کے درمیان نزاع کی صورت میں طرفین متفقہ طور پر طلاق دلانے کا فیصلہ کردیں تو ان حالات میں طلاق دینا فرض اور واجب ہوگا۔
واجب طلاق کی مثال میں فقہاء نے یہ بات بھی کہی ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے ایلاء کرلے اور اس کی اکثر مدت چارماہ گذرجائے اور وہ بیوی کو واپس لینے پر تیار نہ ہو تو اس پرواجب ہوگا کہ بیوی کو طلاق دے۔واللہ اعلم۔

کیا والدین کے حکم پر طلاق دینا ضروری ہے:
اگروالدين تقوی وصلاح میں معروف ہوں اوریہ بالکل ظاہر ہو کہ وہ محض اپنے بیٹے کی خیر خواہی اور دو اندیشی کی بنا پر طلاق کا حکم دے رہے ہیں تو ان کی اطاعت کرنی چاہے۔
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی بیوی کی ناشکری دیکھی تو اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ غَيِّرْ عَتَبَةَ بَابِكَ (اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل لو) یعنی اپنی بیوی کو طلاق دے دو[صحيح البخاري (4/ 143):-كتاب أحاديث الأنبياء ،رقم3364]

امام ترمذي رحمه الله (المتوفى279)نے کہا:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ المُبَارَكِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا، فَأَمَرَنِي أَبِي أَنْ أُطَلِّقَهَا، فَأَبَيْتُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، طَلِّقْ امْرَأَتَكَ»
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میرے نکاح میں ایک عورت تھی، میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے۔ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن عمر! تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو“[سنن الترمذي ت شاكر (3/ 486):-أبواب الطلاق واللعان:باب ما جاء في الرجل يسأله أبوه أن يطلق زوجته،رقم 1189 وإسناده حسن]

امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے كها:
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خثيمة قال حدثناإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ أَنَّ رَجُلًا أَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ فقَالَ إِنَّ أَبِي لَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ وَإِنَّهُ الْآنَ يَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا قَالَ مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تَعُقَّ وَالِدَكَ وَلَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَكَ غَيْرَ أَنَّكَ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ "الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى ذَلِكَ إِنْ شِئْتَ أَوْ دَعْ" قَالَ فَأَحْسِبُ عَطَاءً قَالَ فَطَلَّقَهَا"
ایک شخص ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میرے والد نے میری شادی کرادی اوراب وہی مجھے طلاق کا حکم دے رہے ہیں ؟ تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں یہ حکم نہیں دے سکتا کہ اپنے والد کی نافرمانی کرو اور نہ ہی یہ حکم دے سکتا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان بتاتاہوں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کہ والد یہ جنت کا پچلا دروازہ ہے تو اگر تم چاہو تو اس کی حفاظت کرو یا اسے چھوڑ دو ، راوی کہتے ہیں کہ پھر انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی [صحيح ابن حبان 2/ 168 والحديث صحيح وإسماعيل بن إبراهيم تابعه شعبة وغيره أخرجه غيرواحد]

لیکن یادرہے کہ آج کل والدین غیر ضروری باتوں پر بھی طلاق کا حکم دیتے ہیں مثلا جہیز وغیرہ کے چکر میں یا شوہر کے علاوہ گھر کے دیگر افراد کی خدمت نہ کرنے پر تو ایسے حالات میں والدین کے کہنے پر بیوی کو طلاق دینا درست نہیں ہے۔کیونکہ اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سب کی اطاعت اس بات سے مشروط ہے کہ اس میں معصیت کا حکم نہ ہو ۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
لاَ طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ
اللہ عزوجل کی معصیت کے معاملے میں کسی بھی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں [مسند أحمد ط الميمنية: 1/ 131 واسنادہ صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ میرے والد کا حکم ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دوں تو امام احمد رحمہ اللہ نے کہا : تم طلاق مت دو ۔اس شخص نے کہا لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے والد عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دیں ، تو امام احمد رحمہ اللہ نے کہا:
حتى يكون أبوك مثل عمر رضي الله عنه
کیا تمہارے والد عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ہوگئے ہیں [طبقات الحنابلة 1/ 169]

فصل پنجم :طلاق کے ارکان وشرائط

رکن اورشرط میں فرق:
رکن اور شرط میں اس لحاظ سے تو کوئی فرق نہیں ہے کہ کسی عمل کے صحیح ومعتبر ہونے کے لئے اس کے ارکان وشرائط دونوں کا پایا جانا لازم ہے ۔البتہ ان دونوں کی کیفیت اور حیثیت کے اعتبار سے ان میں فرق ہوتا ہے۔جس کی تفصیل یہ ہے:
1۔کسی عمل کا رکن اس عمل کے اندر داخل ہوتا ہے جبکہ کسی عمل کی شرط اس عمل کے باہر ہوتی جیسے نماز کے لئے رکوع رکن ہے اور یہ نماز کے اندر داخل ہے لیکن وضوء شرط ہے اوریہ نماز کے اندر داخل نہیں ۔
2۔کسی عمل کارکن اس عمل کے وجود پر دلالت کرتا ہے جیسے نماز کا رکن رکوع ،نماز کے وجود پر دلالت کرتا ہے لیکن کسی عمل کی شرط اس عمل کے وجود پر دلالت نہیں کرتی مثلا وضوء کی شرط ،نماز کے وجود پردلالت نہیں کرتی۔
3۔ کسی عمل میں رکن کی حیثیت ایسے بنیاد کی ہوتی ہے جس کے بغیر اصلا اس عمل کے وجود ہی کا تصورنہ ہو جیسے تقسیم میراث کے عمل کے تین ارکان ہیں مؤرث ، وارث اورموروث ۔اب اگران میں سے کوئی ایک رکن مفقود ہو تو تقسیم میراث کے عمل کا وجود ہی ممکن نہیں ہے۔

طلاق کے ارکان:
طلاق کے درج ذیل چار ارکان ہے ان میں سے کوئی ایک بھی مفقود ہوتو اصلا طلاق کے عمل کا وجودہی ممکن نہیں۔
1۔مطلقہ ، یعنی نکاح میں باقی بیوی جو عمل طلاق کا محل ہوگی
2۔مطلق ، یعنی مکلف شوہر جو طلاق کا عمل انجام دے گا
3۔صیغہ،یعنی صراحتا یا کنایۃ وہ الفاظ جن سے طلاق دی جائے
4۔قصد،یعنی طلاق کے لئے ارادہ ونیت
ان ارکان کے وجود کے بعد طلاق کا عمل تو ہوگا لیکن جب تک دیگر شروط نہ پائی جائیں یہ عمل معتبر اور صحیح نہیں ہوگا اور نہ ہی طلاق واقع ہوگی ۔


No comments:

Post a Comment