پہلی دلیل : مطلق آیات سے استدلال - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-01-12

پہلی دلیل : مطلق آیات سے استدلال



قائلین وقوع کے دلائل کا جائزہ
پہلی دلیل : قرآنی آیات 
  مطلق آیات سے استدلال
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر طلاق دینے کے لئے طلاق کا مطلق لفظ وارد ہو اہے مثلا:
{وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ} 
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو“ [البقرة: 231]
یہ اور اس جیسی آیات میں کسی بھی طرح کی تقیید نہیں ہے اس لئے جس طرح بھی طلاق دی جائے طلاق واقع ہوجائے گی۔

جوابا عرض ہے کہ:
اولا:
اگر واقعی ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی طرح بھی طلاق واقع ہوجائے گی تو پھر انہیں آیات سے یہ بھی ثابت کرنا چاہئے کہ کسی طرح بھی طلاق دینا جائزہے !
یعنی ایک ساتھ تین طلاق دینا بھی جائزہے ، حالت حیض میں بھی طلاق دینا جائز ہے اسی طرح جماع والے طہر میں بھی طلاق دینا جائز ہے وغیرہ وغیرہ!
اگر کہا جائے کہ قرآن وحدیث ہی میں دوسرے مقامات پر یہ وضاحت آگئی ہے کہ ان حالتوں میں طلاق دینا درست نہیں ہے تو ہم کہتے ہیں ٹھیک اسی طرح قرآن وحدیث میں دوسرے مقامات پر یہ وضاحت بھی آگئی ہے کہ ان حالتوں میں دی گئی طلاق معتبر نہ ہوگی۔

ثانیا:
اللہ نے قرآن میں یہ بھی کہا ہے:
{وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ}
 ”اللہ نے بیع (تجارت) کو حلال قرار دیا ہے“ [البقرة: 275]
اب کیا اس آیت کی بناپر یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر طرح کی بیع اور ہر طرح کی تجارت صحیح اور معتبر ہوگی کیونکہ اس آیت میں مطلق بیع کا ذکر ہے ؟
 فماکان جوابکم فھوجوابنا

”فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ“ سے استدلال
اللہ کا ارشاد ہے:
{يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا }
 ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وه (خود) نکلیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کھلی برائی کر بیٹھیں، یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے“ [الطلاق: 1]

اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے طریقہ طلاق کی مخالفت کو اپنے اوپر ظلم کہا ہے اور اپنے اوپر ظلم تبھی ہوگا جب طلاق واقع ہوجائے گی۔

عرض ہے کہ :
اولا:
اس آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوران عدت  شوہر بیوی کو گھر سے نہ نکالے  اور نہ ہی بیوی  خود گھرسے نکلے ۔لیکن اگر شوہر اس دوران بیوی کو گھر سے نکال دے یا بیوی خود سے نکل جائے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوجائے گی ، البتہ شوہر یا بیوی کا ایسا کرنا اپنے آپ پر ظلم ضرور ہوگا کیونکہ یہ معصیت کا ارتکاب ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہاں اپنے اپ پر ظلم کرنے سے مراد معصیت کا ارتکاب کرکے اس کے گناہ کا بوجھ لاد کر اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے ۔
قرآن میں متعدد مقامات پر گناہ کا کام کرنے کواپنے آپ پر ظلم کہا گیاہے ، چند آیات ملاحظہ ہوں:
{وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَاقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ }
 ”جب (حضرت موسیٰ) ﴿علیہ السلام﴾ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو“ [البقرة: 54]

{مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ }
 ”جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اُس کی مثال اُس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ اُن لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے“ [آل عمران: 117]

{وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا}
 ”ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آ جاتے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتے، تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والامہربان پاتے“ [النساء: 64]

اس طرح کی اور بھی آیات ہیں جن پر گناہ کرنے کو اپنے آپ پر ظلم کہا گیا ہے قرآنی آیات دوسری آیات کی تفسیر کرتی ہیں اس لئے یہاں بھی ظلم سے مراد گناہ کا کام کرنا ہے۔

ثانیا:
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ }
 ”جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وه اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ، یا بھلائی کے ساتھ الگ کردو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم وزیادتی کے لئے نہ روکو، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا“ [البقرة: 231]
اس آیت میں تو بیوی کو تکلیف دینے کی غرض سے اسے روکنے کو اللہ تعالی اپنے آپ پر ظلم کہہ رہا ہے ۔
اب بتلایا جائے کہ یہاں اپنے آپ پر ظلم کیسے ہوا ؟ یہاں تو بیوی کو پانے کے باوجود بھی شوہر کے لئے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے آپ پر ظلم کررہاہے ۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ بیوی کو پانے کے باوجود بھی شوہر اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہوسکتا ہے ، کیونکہ وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کرکے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ۔
لہٰذا اپنے آپ پر ظلم سے یہ استدلال کرنا طلاق واقع ہوچکی ہے بالکل بے دلیل اور بے بنیاد بات ہے ۔

بلکہ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے نے الٹا ظلم سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ طلاق باطل و مردود ہوگی ۔امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) فرماتے ہیں:
”فعلمنا الله عز وجل كيف يكون طلاق الموطوءة، وأخبرنا أن تلك حدود الله، وأن من تعداها ظالم لنفسه ،فصح أن من ظلم وتعدى حدود الله - عز وجل - ففعله باطل مردود“
”اللہ تعالی نے ہمیں سکھایا ہے کہ مدخولہ بیوی کو کیسے طلاق دی جاتی ہے ، اور ہمیں یہ بتایا کہ یہ اللہ کے حدود ہیں اور جو ان حدود سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہوگا ،اس لئے صحیح بات یہی ہے کہ جو ظلم کرے گا اور اللہ کے حدود کی خلاف ورزی کرے تھا اس کا فعل باطل اور مردود ہوگا“ [المحلى لابن حزم، ط بيروت: 9/ 367]



اگلاحصہ


No comments:

Post a Comment