پہلی روایت : لفظ ’’مراجعت‘‘ سے طلاق حیض کے وقوع پر استدلال کا جائزہ - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-01-14

پہلی روایت : لفظ ’’مراجعت‘‘ سے طلاق حیض کے وقوع پر استدلال کا جائزہ

پچھلا

دوسری دلیل: واقعہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے استدلال

پہلی روایت: لفظ ’’مراجعت‘‘ سے طلاق حیض کے وقوع پر استدلال کا جائزہ
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
”حدثنا إسماعيل بن عبد الله، قال: حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: أنه طلق امرأته وهي حائض، على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسأل عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مره فليراجعها، ثم ليمسكها حتى تطهر، ثم تحيض ثم تطهر، ثم إن شاء أمسك بعد، وإن شاء طلق قبل أن يمس، فتلك العدة التي أمر الله أن تطلق لها النساء“ 
 ”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (حالت حیض میں) طلاق دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہو کہ اپنی بیوی کو واپس لے لیں اور پھر اپنے نکاح میں باقی رکھیں۔ جب ماہواری (حیض) بند ہو جائے، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنی نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں (لیکن طلاق اس طہر میں) ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ہونا چاہئے۔ یہی (طہر کی) وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“ [صحيح البخاري 7/ 41 رقم 5251]

اس حدیث کے مطابق جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد عمرفاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
 ”مره فليراجعها“ 
 ”ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ اپنی بیوی کو واپس لے لیں“ 

ان الفاظ سے بعض لوگ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طلاق حیض کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو مراجعت یعنی رجوع کرنے کا حکم دیا اور رجوع طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے۔ اس لئے یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف حالت حیض میں دی گئی یہ طلاق واقع ہوگئی تھی ۔

اولا: الفاظ مستعملہ کتاب و سنت اور جدید مصطلحات فن
فقہی اصطلاح میں طلاق کے باب میں جب مراجعت یا رجوع کا لفظ استعال ہوتا ہے تو فقہاء کی اصطلاح میں اس کا خاص معنی یہ ہوتا کہ طلاق شدہ بیوی سے رجوع کرنا ۔ لیکن اس لفظ کا یہ اصطلاحی مفہوم صرف فقہاء کے کلام میں ہی مراد ہوگا اور اگر عین یہی لفظ یااس سے ملتاجلتا لفظ قران وسنت میں مستعمل ہوگا تو اس سے ائمہ کااصطلاحی معنی مراد لینا غلط ہوگا ۔
بہت سارے لوگ یہ بات سمجھ نہیں پاتے اورقران وحدیث کی تفسیروتشریح میں غلطی کرجاتے ہیں اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو:
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”لفظ (السنة) :. فإنه في اللغة الطريقة وهذا يشمل كل ما كان عليه الرسول صلى الله عليه وسلم من الهدى والنور فرضا كان أو نفلا وأما اصطلاحا فهو خاص بما ليس فرضا من هديه صلى الله عليه وسلم فلا يجوز أن يفسر بهذا المعنى الاصطلاحي لفظ (السنة) الذي ورد في بعض الأحاديث الكريمة كقوله صلى الله عليه وسلم: . . . وعليكم بسنتي. . . وقوله صلى الله عليه وسلم . . . فمن رغب عن سنتي فليس مني“ 
لفظ ’’سنت‘‘ یہ لغت میں طریقہ کو کہاجاتاہے اوریہ رسول اکرم ﷺ کے ہرطریقہ اورہررہنمائی کوعام ہے خواہ وہ فرض ہویانفل ، لیکن جدیداصطلاح میں ’’سنت‘‘ آپ ﷺ کے صرف اس طریقہ کے لئے خاص ہے جوفرض نہ ہو،لہٰذا یہ قطعا درست نہیں کہ بعض احادیث میں وارد لفظ ’’سنت‘‘ سے بھی یہی اصطلاحی معنی مراد لئے جائیں جیسے رسول اکرم ﷺ کی یہ حدیث :((۔۔۔اورمیری سنت کو لازم پکڑو۔)) یا یہ حدیث : ((۔۔۔جومیری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔۔۔۔۔))“ [تحذیر الساجد ص 44]۔
علامہ البانی رحمہ اللہ بعض مشائخ پررد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
 ”تفسيرهم للسنة بالمعنى الاصطلاحي غفلة منهم عن معناها الشرعي وما أكثر ما يخطئ الناس فيما نحن فيه بسبب مثل هذه الغفلة“ 
 ”بعض مشائخ کا ’’سنت ‘‘ مستعملہ حدیث کو اصطلاحی معنی میں لینا، اس کے شرعی معنی سے ان کی ناواقفیت کا نتیجہ ہے اوراس ناواقفیت کی بنا پرآج بہت سارے لوگ حدیث کی توضیح وتشریح میں غلطی کربیٹھتے ہیں“ [تحذیر الساجد ص 45]۔

بالکل یہی غلطی ان لوگوں نے بھی کی ہے جنہوں نے یہاں حدیث میں مستعمل لفظ مراجعت سے فقہ کے مصطلح رجوع کا معنی لے لیا ہے ۔

علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”ومما احتج به مخالفونا أن زعموا أن قوله مره فليراجعها دليل على وقوع الطلاق في الحيض، وهو دليل غير قائم لأن المراجعة هنا المراد بها المعنى اللغوي للكلمة، وأما استعمالها في مراجعة المطلقة الرجعية فإنما هو اصطلاح مستحدث بعد عصر النبوة“ 
 ”ہمارے مخالفین نے جن باتوں سے استدلال کیا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ حدیث کے الفاظ (مره فليراجعها) اس بات پر دال ہیں کہ حالت حیض میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ جبکہ یہ استدلال درست نہیں ہے کیونکہ یہاں لفظ مراجعت اپنے لغوی معنوی میں ہے اور مطلقہ رجعیہ کے لئے اس لفظ کا خاص استعمال یہ عہد رسالت کے بعد ایجاد کردہ اصطلاح ہے“ [نظام الطلاق في الإسلام ص 23]۔

بطورمثال عرض ہے کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد نے جب اپنے صرف ایک بیتے کو مال ہبہ کیا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو ایسے ہی ہبہ کیا ہے تو انہیں نے کہا نہیں ، اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”فَارْجِعْهُ“ ، ”تو اسے واپس لے لو“ [صحيح البخاري رقم 2586]
اب یہاں بھی رجوع کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن یہ طلاق سے رجوع کے لئے نہیں ہے ، معلوم ہوا کہ کتاب وسنت میں رجوع کا لفظ صرف طلاق کے بعد والے اصطلاحی رجوع کے لئے ہی نہیں آتا ہے بلکہ اور بھی دیگر معانی میں آتا ہے ۔اس لئے محض اس لفظ سے استدلال نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں طلاق سے رجوع کی بات ہے۔

ثانیا : میاں بیوی کی علیحدگی سے متعلق رجوع کا لفظ
صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق جب مغیث رضی اللہ عنہ کی بیوی بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر سے علیحدگی پر آمادگی ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا:
”لَوْ رَاجَعْتِهِ“ ، ”کاش تم ان سے رجوع کرلو“ [صحيح البخاري رقم 5283]
اور ابن ماجہ کی حدیث میں ہے:
 ”لو راجعتيه فإنه أبو ولدك“ ، کاش تم ان سے رجوع کرلو کیونکہ وہ تمہارے بچوں کے باپ ہیں“ [سنن ابن ماجه رقم 2075 واسنادہ صحیح]

یہاں ملاحظہ کیجئے کہ میاں بیوی کے مابین جدائی کے مسئلے پر ہی بات ہورہی ہے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ اپنے شوہر سے مراجعت یعنی رجوع کرلیں ، اب کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہاں میاں بیوی کے مابین جدائی کا مسئلہ ہے لہٰذا یہاں حدیث میں مراجعت و رجوع کی جو بات ہے اس سے طلاق سے رجوع مراد ہے؟
یادرہے کہ یہاں اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر مغیث سے نہیں بلکہ ان کی بیوی بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ وہ اپنے شوہر سے مراجعت یعنی رجوع کرلیں ، اور رجوع کرنا یہ بیوی کا حق ہے ہی نہیں، اس لئے یہاں مراجعت لغوی معنی میں ہے ۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ اس حدیث میں مستعمل لفظ مراجعت کا مفہوم بتاتے ہوئے واضح کرتے ہیں:
 ”فتعين حمل المراجعة في الحديث على معناها اللغوي والمراد رجوعها إلى عصمته“ 
 ”تو یہ متعین ہے کہ اس حدیث میں مراجعت اپنے لغوی معنی میں ہے اور اس سے مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کا مغیث رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں واپس ہونا ہے“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 9/ 413]

نیز اس بات پر بھی غور کیجئے کہ یہاں نہ تو مغیث رضی اللہ عنہ نے طلاق دی تھی ، اور نہ ہی بریرہ رضی اللہ عنہا نے خلع لیا تھا ، اس کے باوجود بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو رجوع کرنے کے لئے کہا ، یہ اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ طلاق کے بغیر بھی رجوع کی صورت ہوتی ہے ۔لہٰذا محض لفظ رجوع سے طلاق کو ثابت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) فرماتے ہیں:
 ”وقد يكون برجوع بدن كل منهما إلى صاحبه وإن لم يحصل هناك طلاق“ 
 ”اورکبھی مراجعت اس طرح بھی ہوتا ہے کہ میاں بیوی جسمانی طور پر ایک دوسرے سے رجوع کرلیں یعنی ایک ساتھ رہنے لگیں ، گرچہ اس سے پہلے طلاق ہوئی ہی نہ ہو“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 33/ 99]

ثالثا: طلاق کے بعد بھی رجوع لغوی معنی میں
اگر کوئی شخص کتاب وسنت کے مطابق اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے ڈالے ، تو اب وہ اس سے رجوع نہیں کرسکتا ہے ، یعنی تین طلاق کے بعد اصطلاحی رجوع کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے ، البتہ تین طلاق یافتہ عورت کسی دوسرے شوہر سے شادی کرلے اور دوسرا شوہر بھی اسے طلاق دے ڈالے تو اب اس عورت سے اس کا پرانا شوہر دوبارہ نئے سرے سےشادی کرسکتا ہے ، لیکن قرآن میں اس نئی شادی کے لئے بھی رجوع کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جو اصطلاحی رجوع کے معنی میں قطعا نہیں ہے ، کیونکہ تین طلاق کے بعد رجوع ہوتا ہی نہیں ہے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا}
”اگر (تین طلاق یافتہ عورت کا) دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے تو پھر یہ عورت اور اس کا سابق شوہر رجوع کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں“ [البقرة: 230]
یہاں بھی مراجعت یعنی رجوع کی بات ہے لیکن یہ اصطلاحی معنی میں ہرگز نہیں ہے بلکہ نئے سرے سے نکاح کرنے کے معنی میں ہے۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اگر لفظ طلاق کے بعد بھی رجوع کا لفظ مستعمل ہو تو بھی ضروری نہیں ہے کہ رجوع اصطلاحی معنی ہی ہو ، لہٰذا محض لفظ رجوع سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے دی گئی طلاق سے ہی رجوع مراد ہے۔

رابعا: میاں بیوی کے مابین ناچاقی کے بعد بھی لفظ رجوع کا استعمال
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں رجوع کے لئے امساک کا لفظ استعمال کیا ہے چنانچہ ارشاد ہے:
{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
”طلاق دو مرتبہ ہیں، پھر (ہرایک کے بعد) یا تو اچھائی سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ [2/البقرة: 229]
یہاں امساک کے لفظ کا وہی معنی ہے جو اصطلاحی رجوع کا معنی ہے ۔
لیکن قرآن ہی میں امساک کا لفظ بیوی کو باقی رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اصطلاحی رجوع کے معنی میں استعمال نہیں ہوا چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے:
{ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ}
 ”(یاد کرو) جب کہ تم اس شخص سے کہہ رہا تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تم نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر“ [الأحزاب: 37]
صحیح بخاری کی حدیث میں اس کی تفصیل یوں ہے :
 ”حدثنا أحمد، حدثنا محمد بن أبي بكر المقدمي، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن أنس، قال: جاء زيد بن حارثة يشكو، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اتق الله، وأمسك عليك زوجك“ 
 ”سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،انہوں نے کہا: سیدنا زید بن حارثہ ؓ (اپنی بیوی کی ) شکایت کرتے ہوئے آئے تو نبیﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو“ [صحيح البخاري ، رقم 7420]
ملاحظہ فرمائیں یہاں شوہر نے نہ تو طلاق دیا نہ بیوی کو گھر سے نکالا ، بلکہ صرف شکایت کی اور اس پر انہیں امساک یعنی رجوع کا حکم دیا گیا ، اب کیا اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ زید رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی تھی اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امساک یعنی رجوع کا حکم دیا ؟ اگر نہیں تو پھر یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ محض رجوع کے لفظ سے طلاق سے رجوع ثابت کرنا غلط ہے۔

خامسا:راویان حدیث کا لفظ رجوع کو ، وقوع طلاق کی دلیل نہ بنانا
نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس حدیث میں یہ الفاظ موجود ہیں اس حدیث کے رواۃ مثلا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے یہ الفاظ سننے کے بعد بھی سوالات کئے کہ کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ مثلا صحیح بخاری کی زیر بحث روایت ہی میں امام بخاری رحمہ اللہ نے شعبہ سے آگے قتادہ کے طریق سے اس روایت کو یوں بیان کیا:
”عن يونس بن جبير، عن ابن عمر، قال: «مره فليراجعها» قلت: تحتسب؟ قال: أرأيت إن عجز واستحمق“ 
 ”اور یونس بن جبیر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے کہو کہ اپنی بیوی کو واپس لے لیں ، یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمررضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا یہ طلاق شمار کی جائے گی ؟ تو انہوں نے جواب دیا : تو کیا سمجھتا ہے کہ اگر کوئی عاجز ہوجائے یا حماقت کا مرتکب ہوجائے ؟“[صحيح البخاري رقم 5252]
غور کریں کہ اگر لفظ مراجعت میں ہی طلاق شمار کئے جانے کی دلیل موجود ہوتی تو یونس بن جبیر کی روایت میں مراجعت لفظ موجود ہے ، پھر مرفوع حدیث میں یہ لفظ آجانے کے بعد یونس بن جبیر کو خود سمجھ لینا چاہئے کہ یہ طلاق شمار کی گئی ہے ، لیکن انہوں نے اس لفظ سے ایسا کوئی مفہوم نہیں سمجھا بلکہ الگ سے ابن عمررضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا یہ طلاق شمار ہوگی ۔یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس حدیث میں موجود مراجعت کا لفظ ، وقوع طلاق پر قطعا دلالت نہیں کرتا۔

اگلاحصہ

No comments:

Post a Comment