پہلی دلیل : قرآنی آیت - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-02-26

پہلی دلیل : قرآنی آیت


پچھلا


باب (6) : ایک ساتھ دی گئی تین طلاق  پر تفصیلی بحث 

  قائلین عدم وقوع کے دلائل

 پہلی دلیل : قرآنی آیات

پہلی آیت:
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ 
”طلاق دو مرتبہ ہیں، پھر (ہرمرتبہ کے بعد) یا تو اچھائی سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ [2/البقرة: 229]

اس آیت سے استدلال واضح کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تین طلاق سے متعلق فریق مخالف کے موقف کی نوعیت کیا ہے ۔تو معلوم ہونا چاہئے کہ فریق مخالف کے موقف کی نوعیت الگ الگ ہے ۔

 ❀ پہلی نوعیت :
اگر کسی نے ایک جملہ میں تین طلاق دیا مثلا اس طرح کہا کہ ”طلقتک ثلاثا“ (میں نے تجھ کو تین طلاق دیا ) تو یہ طریقہ طلاق حرام اور بدعت ہے۔
یہاں غور کیجئے کہ طلاق دینے کا عمل ایک ہی بار ہے لیکن اس کے ساتھ تین کی عدد کا ذکر ہے ، یعنی تین طلاق تین بار نہیں بلکہ ایک ہی بار میں اور ایک ہی جملے میں دی جاری ہے اور تین کی عدد استعمال کی جارہی ہے ۔
طلاق دینے کا یہ طریقہ قرآن کی اس آیت کے سراسر خلاف ہے کیونکہ اس آیت میں ”الطلاق اثنتان“ (طلاق دو ہے) نہیں بلکہ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ (طلاق دو مرتبہ ہے ) کہا گیا ہے۔یہی بات بہت سارے مفسرین نے کہی بلکہ امام فخر الدين الرازي (المتوف 606) تو اس پر اجماع نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”لأن المرات لا تكون إلا بعد تفرق بالإجماع“ 
”کیونکہ بالاجماع مرات پر عمل الگ الگ وقت میں ہی ہوسکتا ہے“ [تفسير الرازي 6/ 442]

متعدد حنفی مفسرین نے بھی یہی کہا ہے ، چنانچہ حنفی عالم   أبو بكر الرازي الجصاص الحنفي (المتوفى 370 ) فرماتے ہیں:
”قال: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ وذلك يقتضي التفريق لا محالة; لأنه لو طلق اثنتين معا لما جاز أن يقال طلقها مرتين، كذلك لو دفع رجل إلى آخر درهمين لم يجز أن يقال أعطاه مرتين; حتى يفرق الدفع“ 
”اللہ تعالی کا فرمان ہے ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ (طلاق دو مرتبہ ہے )اور اس حکم کا تقاضا یہ کہ یہ طلاق ہر حال میں الگ الگ وقت میں ہو ، کیونکہ اگر ان سے دو طلاق ایک ہی ساتھ دے دیا تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس نے دو مرتبہ طلاق دی ہے ، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی کو دو درہم دے دے ، تو یہ نہیں کہاجاسکتا کہ اس نے دو مرتبہ دیا ہے ، جب تک کہ الگ الگ بار نہ دے“ [أحكام القرآن للجصاص 1/ 458]

مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے استاذ شیخ محمد تھانوی صاحب حاشیہ نسائی میں فرماتے ہیں:
”الطلاق مرتان معناه مرة بعد مرة فالتطليق الشرعي علي التفريق دون الجمع والارسال مرة واحدة“ ، ”الطلاق مرتان کا مطلب یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد دوسری طلاق دی جائے ، پس طلاق شرعی وہ ہے جو متفرق طورپر دی جائے نہ کی بیک وقت کئی طلاقیں ایک ہی جملے میں دے دی جائیں“ [حاشیہ نسائی 2/ 29 بحوالہ مجموعہ مقالات ص 26]
  اس سلسلے میں علامہ انور شاہ کشمیری کا قول بھی  آگے آرہا ہے ، مزید تفصیل کے لئے کتب تفاسیر دیکھیں۔

 ❀ دوسری نوعیت:
فریق مخالف کا ماننا ہے کہ اگر کسی نے مذکورہ طریقہ پر ایک جملہ میں نہیں بلکہ الگ الگ تین طلاق دے لیکن ایک ہی ساتھ دے مثلا اس طرح ہے ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ (تجھ کو طلاق ہے ، تجھ کو طلاق ہے ، تجھ کو طلاق ہے) تو یہ طریقہ طلاق بھی حرام اور بدعت ہے۔
کیونکہ یہ بھی مذکورہ آیت کے سراسر خلاف ہے ، لیکن اس نوعیت میں ایک جملہ کا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ الگ الگ جملے میں ہی طلاق دی گئی ، اس کے باوجود بھی یہ طریقہ مذکورہ آیت کے خلاف اس وجہ سے ہے کیونکہ مذکورہ آیت میں اللہ رب العالمین نے ابتدائی دو طلاق میں سے ہر ایک طلاق دینے کے بعد صرف دو ہی آپشن(اختیار) دیا ہے ایک رجوع کا دوسرا علیحدگی کا ، چنانچہ فرمایا:
 ﴿إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ 
 (یعنی ہرمرتبہ کے بعد) یا تو اچھائی سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ [2/البقرة : 229]

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) فرماتے ہیں:
 ”وأما السنة إذا طلقها طلقة واحدة لم يطلقها الثانية حتى يراجعها في العدة أو يتزوجها بعقد جديد بعد العدة فحينئذ له أن يطلقها الثانية“ 
 ”سنت یہ ہے کہ جب ایک طلاق دے ڈالے تو دوسری طلاق نہیں دے سکتا جب تک کہ دوران عدت رجوع نہ کرلے یا عدت کے بعد نئے سرے سے نکاح کرلے ، ایسی صورت میں وہ دوسری طلاق دے سکتا ہے“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 33/ 72]

شیخ ابن عثمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”والقول الراجح في هذه المسائل كلها: أنه ليس هناك طلاق ثلاث أبداً، إلا إذا تخلله رجعة، أو عقد، وإلا فلا يقع الثلاث، وهذا اختيار شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله، وهو الصحيح“ 
 ”ان تمام مسائل میں راجح قول یہ ہے کہ ایسی صورت میں تین طلاق ہرگز نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہرطلاق کے بعد رجوع نہ ہوا ہو یا عقد جدید نہ ہوا ہو ، ورنہ تین طلاق نہیں شمار ہوگی ، یہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف ہے اور یہی صحیح ہے“ [الشرح الممتع على زاد المستقنع 13/ 94]

معلوم ہوا کہ ایک مرتبہ طلاق کے بعد، بغیر رجوع کے دوسری مرتبہ طلاق دینے کی گنجائش نہیں ہے ۔لہٰذا اگر کسی نے ایک مرتبہ طلاق کے بعد رجوع کے بغیر دوسری مرتبہ طلاق دی تو اس آیت کی خلاف ورزی ہوئی ۔
اگر کوئی کہے کہ یہاں ایک مرتبہ طلاق کے بعد امساک یا تسریح کا ذکر نہیں ہے بلکہ دو مرتبہ طلاق کے بعد اس کا ذکر ہے ، تو عرض ہے کہ پھر اس سے یہ لازم آتا ہے کسی نے ایک ہی مرتبہ طلاق دی تو اس کے بعد امساک یا تسریح نہیں کرسکتا ، یہاں تک کہ دوسری مرتبہ بھی طلاق دے ، جبکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہے ۔
مزید یہ کہ دو مرتبہ کے بعد بھی تو تیسری طلاق کا اختیار نہیں ہے بلکہ اس کے بعد صرف امساک یا تسریح ہی کا اختیار ہے ، اس لئے بغیر امساک اور تسریح کے تیسری مرتبہ طلاق دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

 ✿ بیک وقت تین طلاق دینا حرام وبدعت ہے:
واضح رہے کہ اب تک ہم نے جو بھی بات کی وہ اس مسئلہ پر کہ ایک ہی جملے میں تین طلاق دینا ، یا الگ الگ جملے میں ایک ہی ساتھ بغیر امساک وتسریح کے طلاق دینا قرآن کی مذکورہ آیت کے خلاف ہے لہٰذا حرام اور ناجائز ہے۔اور اس بات سے فریق مخالف کو بھی اختلاف نہیں ہے ، کیونکہ فریق مخالف بھی مذکورہ دونوں طریقہ طلاق کو بدعت اور ناجائز سمجھتے ہیں ۔
البتہ امام شافعی رحمہ اللہ ان طریقوں پر طلاق دینے کو نا جائز نہیں مانتے لیکن مذکورہ آیت سے امام شافعی کے موقف کی تردید ہوتی ہے ، اوراس بات سے احناف وغیرہ بھی متفق ہیں کہ مذکورہ آیت سے امام شافعی رحمہ اللہ کے موقف کی تردید ہوتی ہے ۔

چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ کی تبویب کے پیش نظر ان کا موقف بھی امام شافعی جیسا ظاہر ہوتا ہے کہ ایک وقت میں تین طلاق دینا جائز ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ نے اس باب میں قرآن کی مذکورہ آیت بھی پیش کی ہے تو اس کی تشریح میں علامہ أنور شاه كشميري رحمه الله (المتوفى1353) فرماتے ہیں:
 ”وأما عند الشافعي فلا بدعي عنده من حيث العدد، فلا يكون الجمع بين الطلاقات الثلاث بدعة عنده، وإليه مال المصنف“ 
 ”امام شافعی کے نزدیک عدد کے اعتبار سے کوئی بدعی طلاق نہیں ہے اس لئے ان کے نزدیک ایک ساتھ تین طلاق دینا بدعت نہیں ہے اور اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ کا بھی میلان ہے“ [فيض الباري على صحيح البخاري 5/ 575]

اس کے بعد علامہ أنور شاه كشميري رحمه الله اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
 ”قلت: الآية حجة عليه لا له، فإنه ليس معنى قوله: {مرتان} اثنتين، بل معناه مرة بعد مرة“ 
 ”میں (انور شاہ کشمیری) کہتاہوں کہ: یہ آیت امام بخاری کے خلاف ہے نہ کہ ان کے موافق کیونکہ آیت میں ”مرتان“ (دو مرتبہ) کا مطلب اثنتين (دو) نہیں ہے بلکہ ایک مرتبہ کے بعددوسری مرتبہ مراد ہے“ [فيض الباري على صحيح البخاري 5/ 575]

معلوم ہوا کہ احناف بھی یہ مانتے ہیں کہ قرآن کی مذکورہ آیت ایک ساتھ تین طلاق دینے کے حرام ہونے پردلالت کرتی ہے ، اسی لئے علامہ انور کشمیری وغیرہ اسی آیت کو لیکر امام شافعی وغیرہ کے موقف کی تردید کرتے ہیں ۔

لیکن افسوس ہے کہ عصر حاضر کے احناف نے جب یہ دیکھا کہ امام شافعی کی تردید سے تو تین طلاق کو تین نہ ماننے والوں کی تائید ہوتی ہے ، تو ان لوگوں پلٹی مارنے کوشش کی جس پر ایک حنفی عالم مولانا محفوظ الرحمن قاسمی صاحب بالکل بجا فرمایاکہ:
”یہی باتیں سیکڑوں برس سے احناف کے چوٹی کے علماء لکھتے آرہے ہیں ، اور ان میں یہ بات مسلمہ تھی کیونکہ مقصد امام شافعی کارد تھا ۔اب جبکہ یہی استدلال ان لوگوں کے حق میں جارہا ہے جوتین کو الگ الگ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیک کلمہ تین طلاقیں کم سے کم تین نہیں سمجھی جائیں گی ، کیونکہ یہ تین مرتبہ نہیں واقع کی گئی ہیں ۔ تو اب مولانا عامر عثمانی صاحب احناف کی ان متفقہ تصریحوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اصرار کررہے ہیں کہ ان بزرگوں نے جو سمجھا غلط سمجھا، یہاں بھی اثنین ہی کے معنی میں ہے“ [مجموعہ مقالات ص196]
ظاہر ہے کہ احناف کے مفتقہ موقف کے خلاف عامر عثمانی جیسے لوگوں کی فلسفہ سنجی بے بسی کے سوا کچھ نہں ہے۔
 ✿ بیک وقت دی گئی تین طلاقیں واقع نہیں ہوتی ہیں:
اب رہا سوال یہ کہ مذکورہ پوری بحث تو اس بات پر ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینا حرام و بدعت ہے لیکن ایسی تین طلاق واقع نہیں ہوگی اس کی دلیل کیا ہے ؟
تو عرض ہے کہ ایسی طلاق کا حرام ہونا ہی دلیل ہے کہ یہ واقع نہیں ہوگی ۔کیونکہ شریعت کا اصول ہے کہ کتاب وسنت کے خلاف کیا گیا کام باطل ومردود ہے چنانچہ:
اللہ کا ارشاد ہے:
 ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ﴾ 
 ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل وبرباد نہ کرو“ [47/محمد: 33]

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
 ”حدثنا إسحاق بن إبراهيم، وعبد بن حميد، جميعا عن أبي عامر، قال عبد: حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا عبد الله بن جعفر الزهري، عن سعد بن إبراهيم، قال: سألت القاسم بن محمد، عن رجل له ثلاثة مساكن، فأوصى بثلث كل مسكن منها، قال: يجمع ذلك كله في مسكن واحد، ثم قال: أخبرتني عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد“ 
 ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے بتائے ہوئے حکم کے مطابق نہیں ہے تو وہ عمل مردود ہے“ [صحيح مسلم 3/ 1343 رقم 1718]

قرآن وحدیث کے ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے خلاف کوئی عمل کیا جائے گا تو وہ باطل ومردود ہوگا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
چونکہ حالت حیض میں عورت کو طلاق دینا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے خلاف ہے لہٰذا یہ طلاق باطل ومرودد ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) فرماتے ہیں:
 ”والطلاق المحرم ليس عليه أمر الله ورسوله فهو مردود“ 
 ”حرام طلاق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق نہیں ہے اس لئے مردود ہے“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 33/ 101]

قاضی ثناء اللہ پانی پتی مظہری حنفی رحمہ اللہ ( 1225) فرماتے ہیں:
 ”فكان القياس ان لا يكون الطلقتين المجتمعتين معتبرة شرعا وإذا لم يكن الطلقتين معتبرة لم يكن الثلاث مجتمعة معتبرة بالطريق الاولى لوجودهما فيها مع زيادة“ 
 ”قیاس یہ کہتا ہے کہ اکٹھی دی گئی دو طلاق شرعا معتبر نہ ہوں اور جب اکٹھی دی گئی دو طلاقیں شرعا معتبر نہ ہوں گی تو تین اکٹھی طلاقیں بدرجہ اولی معتبر نہ ہوں گی کیونکہ اس میں دو طلاقیں ایک مزید طلاق کے ساتھ شامل ہیں“ [التفسير المظهري 1/ 300]

شیخ محمد ابوزھرہ حنفی رحمہ اللہ مذکورہ  آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”أن الطلقات الثلاث لاتقع دفعة واحدة بل تقع علي دفعات ، فالطلاق المقترن بالعدد لفظا أو إشارة ينبغي بمتقضي نص الآية أن لايقع إلا واحدة لأنه دفعة واحدة“ 
 ”اس آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ایک دفعہ میں دی گئی تین طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ، بلکہ الگ الگ اوقات میں ہی واقع ہوگی ، لہذا عدد کے ساتھ لفظا یا اشارۃ جڑی ہوئی طلاق کی بابت آیت کی صراحت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ایک ہی واقع ہوگی کیونکہ ایک ہی دفعہ میں دی گئی ہے“ [الأحوال الشخصية ص303، 304]


 ✿ آیت مذکورہ سے ہمارے استدلال پر فریق مخالف کے جوابات کا جائزہ:
قارئین اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ مذکورہ آیت سے ہمارے استدلال کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ اکٹھی دی گئی تین طلاق حرام وبدعت ہے اس پر احناف بھی متفق ہیں، اور دوسرا یہ کہ اس طرح دی گئی تین طلاق واقع نہیں ہوتی ۔
لیکن حیرت ہے کہ بعض دیوبندی حضرات جب ہمارے اس استدلال کا جواب دینے بیٹھتے ہیں تو اول الذکر پہلو ہی کی تردید شروع کردیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں اول الذکر پہلو پر تو مذہب حنفی کی بھی وہی رائے ہے جو ہماری رائے ۔
مثلا اوپر ماقبل میں مذکور پہلی نوعیت والی تین طلاق ، یعنی ایک ہی جملے میں دی گئی تین طلاق کو جب ہم تین شمار نہیں کرتے اور اس پر مذکورہ آیت سے استدلال کرتے ہوئے ہم کہتے کہ ﴿مَرَّتَانِ﴾ میں ”دو مرتبہ طلاق“ کی بات ہے نہ کہ ”دو طلاق“ کی بات ہے ، تو بعض دیوبندی حضرات شوافع کی بولی بولتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ یہاں ﴿مَرَّتَانِ﴾ کے معنی ”اثنان“ ہیں ، یعنی ڈبل طلاق کی بات ہے ، پھر ﴿أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ﴾ [القصص: 54] اور اس جیسی آیات پیش کرنے لگ جاتے ہیں ۔

عرض ہے کہ:
 ● اولا:
 اس جواب سے خود فقہ حنفی ہی کی تردید ہورہی ہے ، کیونکہ اس جواب میں ایک جملہ میں تین طلاق دینے کو قرآن سے ثابت بتایا جارہا ہے ۔
انصاف سے بتلایا جائے کہ اگر مذکورہ آیت میں ”دو مرتبہ طلاق“ نہیں بلکہ ”دو طلاق“ دینے کا تذکرہ ہے تو پھر ایک جملے میں دو طلاق یا تین طلاق دینے کو فقہائے احناف اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے حرام وبدعت کیوں کہتے ہیں ؟؟
● ثانیا:
 آیت کریمہ ﴿أُولَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ﴾ یا اس جیسی آیات میں دو گنے ثواب کی جو بات ہے اس کا تعلق ”افعال“ سے نہیں بلکہ ”اعیان“ سے ہے۔
اعیان یعنی اشیاء میں تو بیک وقت کسی چیز کو آن واحد میں کئی تعداد میں دیا جاسکتا ہے ، مثلا ایک استاذ اپنے شاگرد کو ایک ہی وقت میں تین قلم انعام دے سکتا ہے ۔
لیکن ”افعال“ میں کسی فعل کو آن واحد میں دو مرتبہ انجام دینا نا ممکن اور محال ہے۔
اور طلاق دینا یہ فعل ہے اس لئے آن واحد میں اسے ایک ہی مرتبہ انجام دیا جاسکتا ہے، اور آن واحد میں صرف ایک بار یہ فعل انجام دیتے وقت دو یا تین کی عدد بول دینے سے فعل میں تکرار نہیں ہوگا بلکہ فعل ایک مرتبہ رہے گا ۔
مثلا قرآن میں لعان کے وقت چار مرتبہ قسم کھانے کا حکم ہے[النور: 6]
اب اگر کوئی ایک ہی جملے میں کہے کہ میں چار قسمیں کھا کر کہتاہوں ، تو سب کے نزدیک اس کی ایک ہی قسم شمار ہوگی ،
 اسی طرح فرض نمازوں کے بعد چونتیس مرتبہ ”اللہ اکبر“ کہنا سنت ہے ، اب اگر کوئی ایک ہی جملے میں اس طرح کہے کہ:
 ”اللہ اکبر اربعا و ثلاثین“ (میں چوتتیس بار اللہ اکبر کہتاہوں) 
تو یہ ایک بار ”اللہ اکبر“ کہنا ہے ، اس میں فعل کی تکرار نہیں ہے ، اور اس کے ساتھ چونتیس کی عدد بول دینے سے چونتیس مرتبہ ”اللہ اکبر“ کہنا نہیں ہوگا۔
اور بعض دیوبندی حضرات تو خلط مبحث کرتے ہوئے وضوء والی حدیث پیش کرتے ہیں جس میں یہ ذکر ہے :
 ”غسل يديه مرتين مرتين“ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دھلا [صحيح البخاري رقم 185]
عرض ہے کہ یہ روایت تو خود دیوبندیوں کے خلاف ہے کیونکہ اس میں فعل کا تکرار ہے۔ کیونکہ اس روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو مرتبہ ہاتھوں کو دھلا ہے ، یعنی ہر ہاتھ دھلنے کا عمل دو بار ہوا ہے۔جبکہ ایک جملہ میں تین طلاق دینے میں یعنی ”طلقتک ثلاثا“ (میں نے تجھ کو تین طلاق دیا ) کہنے میں طلاق دینے کا فعل ایک ہی بار ہوتا ہے۔

اب اگر کوئی کہے کہ ایک جملے میں تین طلاق دینے پر تو وضوء والی حدیث صادق نہیں آتی ہے لیکن اگر کوئی الگ الگ جملے میں تین طلاق مثلا اس طرح کہے : ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ (تجھ کو طلاق ہے ، تجھ کو طلاق ہے ، تجھ کو طلاق ہے) ،تو اس پر تو وضوء والی حدیث صادق آتی ہے ، اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی بیٹھک میں دو بار یا تین بار ایک فعل ہوسکتا ہے ۔
تو عرض ہے کہ پھر یہ معاملہ ”مرتان“ والی بحث سے خارج ہے اور یہ وہی طریقہ طلاق ہے جسے ماقبل میں دوسری نوعیت کے تحت ذکر کیا گیا ہے ۔
اور وہیں پر یہ وضاحت بھی کی گئی ہے ، اس طریقہ طلاق میں گرچہ ایک بیٹھک میں تین الگ الگ بار طلاق دی گئی ہے یعنی طلاق کے فعل کو تین الگ الگ مرتبہ انجام دیا گیا ہے لیکن اس صورت میں آیت کے اگلے الفاظ { إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} کی مخالفت ہے ، کیونکہ پہلی طلاق کے بعد بغیر امساک یا تسریح کے دوسری طلاق دی گئی ہے ، اسی طرح دوسری طلاق کے بعد بھی بغیر امساک یا تسریح کے تیسری طلاق دی گئی ہے، مزید وضاحت ماقبل میں ہوچکی ہے۔
بالفاظ دیگر یوں سمجھ لیں کہ اگر کوئی ایک ہی جملے میں تین طلاق دیتا ہے تو یہ ﴿مَرَّتَانِ﴾ کی مخالفت کرتا ہے ۔
اور اگرکوئی الگ الگ مرتبہ ایک ہی بیٹھک میں تین طلاق دیتا ہے تو یہ ﴿إِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ کی مخالفت کرتا ہے۔
لہٰذا دیوبندی حضرات جواب دیتے ہوئے خلط ملط نہ کریں بلکہ جس طریقہ طلاق پر ہماری جو دلیل ہے ، اسی طریقہ طلاق پر اسی دلیل کا جواب دیں لیں ، لیکن ظاہر ہے کہ ان حضرات کے پاس جواب ہے ہی نہیں اس لئے خلط مبحث کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری آیت:
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو[65/الطلاق: 1]
اس آیت میں اللہ تعالی نے عورتوں کو ان کی عدت میں طلاق دینے کا حکم دیا ہے اور احادیث میں یہاں عدت کی تفسیر میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ عورت طہر یعنی پاکی کی حالت میں ایک ہی طلاق دی جائے ۔
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256) نے کہا:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ»
 ”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں  حالت حیض میں طلاق دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہو کہ اپنی بیوی واپس لیں اور اسے اپنے پاس  رکھیں۔ جب ماہواری (حیض) بند ہو جائے، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنی نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں (لیکن طلاق اس طہر میں) ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ہونا چاہئے۔ یہی (طہر کی) وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“[صحيح البخاري (7/ 41) : كتاب الطلاق، رقم 5251]
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طہر میں ایک ہی طلاق دینے کاحکم دیا ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس حکم پر عمل کرتے ہوئے بعد میں انہیں ایک ہی طلاق دی تھی ۔

امام إسماعيل بن إسحاق القاضی الجهضمي (المتوفى 282 ) نے کہا: 
 ”حدثنا حجاج بن المنهال وحفص بن عمر وسليمان بن حرب واللفظ لحجاج قال حدثنا شعبة قال اخبرني ابو اسحاق قال سمعت ابا الاحوص قال:قال عبد الله {يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن} قال الطلاق للعدة ان تطلقها وهي طاهر ثم تدعها حتى تنقضي عدتها او تراجعها ان شئت ، وزاد حجاج قال قال شعبة واهل الكوفة يقولون من غير جماع“ 
 ”عوف بن مالک ابو الأحوص کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے {يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن} کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عدت میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم عورت کو پاکی کی حالت میں طلاق دو یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے یا تم اس سے رجوع کرلو اگر چاہو ، امام شعبہ کہتے ہیں کہ اہل کوفہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ طہر میں جماع کے بغیر طلاق دی جائے“ [أحكام القرآن للجهضمي:ص 235 رقم 418 وإسناده صحيح فقد صرح أبواسحاق بالسماع، وأخرجه الطبراني في المعجم الكبير 9/ 322 رقم 9613 فقال :حدثنا علي بن عبد العزيز، ثنا حجاج بن المنهال، ثنا شعبة به مع تصريح السماع من أبي إسحاق وإسناده صحيح أيضا]
 ملاحظہ فرمائیں!
یہ سند صحیح ہے اور اس میں آیت مذکورہ کی تفسیر کرتے ہوئے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک ہی طلاق دینے کی بات کہی ہے بلکہ اس ایک طلاق کے بعد دو ہی اختیار دیا ہے یا تو رجوع کرلیا جائے یا اس کی عدت ختم ہونے دی جائے اور عورت خود بخود جدا ہوجائے۔

امام عبد الرزاق رحمه الله (المتوفى211) نے کہا:
 ”عن معمر , عن ابن طاوس , عن أبيه , في قوله تعالى: {فطلقوهن}قال: «إذا أردت الطلاق فطلقها حين تطهر , قبل أن تمسها تطليقة واحدة , ولا ينبغي لك أن تزيد عليها حتى تخلو ثلاثة قروء , فإن واحدة تبينها , هذا طلاق السنة»“
 ”امام طاووس رحمہ اللہ {فطلقوهن} کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر تم طلاق کا ارادہ کرو تو عورت کو طہر کی حالت میں جماع سے پہلے ایک طلاق دو ، اور یہ درست نہیں ہے اس کے بعد مزید طلاق دو یہاں تک کی تین حیض کی عدت گذر جائے اس کے بعد اس ایک طلاق سے وہ عورت جدا ہوجائے گی ، یہی سنی طلاق ہے“ [تفسير عبد الرزاق 3/ 316 وإسناده صحيح]

قرآن کی آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے طہر میں صرف ایک ہی طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔لہٰذا اگر کسی نے ایک طہر میں ایک سے زائد طلاق دی تو اس کی زائد طلاق قرآن کی اس آیت کے خلاف ہونے کے سبب مردود قرار پائے گی ، جیساکہ قرآن وحدیث سے دلیل دی جاچکی ہے کہ کتاب وسنت کے خلاف کیا گیا عمل باطل ومردود ہوتا ہے۔

تیسری آیت : 
اللہ کا ارشاد ہے:
{وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} 
طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں، انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو اسے چھپائیں، اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، اوران کے شوہر اس مدت میں انہیں واپس لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو[البقرة: 228]
اس آیت میں اللہ تعالی نے پہلی یا دوسری طلاق کے بعد مطلقہ عورتوں کو عدت گذارنے کاحکم دیا ہے ، اس عدت پر حکم تبھی ممکن ہے کہ جب پہلی اور دوسری طلاق کو رجعی مانا جائے۔

امام ابن القيم رحمه الله (المتوفى751) فرماتے ہیں:
”ومما يدل على أن الله لم يشرع الثلاث جملة أنه قال تعالى: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228] إلى أن قال: {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} [البقرة: 228] ، فهذا يدل على أن كل طلاق بعد الدخول، فالمطلق أحق فيه بالرجعة سوى الثالثة المذكورة بعد هذا“ 
 ”اللہ تعالی نے ایک ہی جملے میں تین طلاق کو مشروع نہیں کیا ہے کہ اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے : {طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں} اور آگے فرمایا: {اوران کے شوہر اس مدت میں انہیں واپس لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو} یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مدخولہ عورت کو طلاق دینے والا رجوع کا حق رکھتا ہے سوائے تیسری طلاق کے جس کا ذکر اس آیت کے بعد آگے ہے“ [زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 224]

مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب نے بھی اس آیت کو تین طلاق کو ایک ماننے والے کے دلائل میں پیش کرتے ہوئے کہا:
 ”یہ اسی وقت درست ہوسکتا ہے جبکہ تیسری آخری طلاق سے پہلے دو رجعی طلاقیں دی گئی ہوں“ [ دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص230 ]

معلوم ہوا کہ تیسری طلاق سے پہلے ایک یا دو طلاق کے بعد عدت ہوتی ہے ، لہٰذا بغیر عدت کے اگلی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔

No comments:

Post a Comment