حدیث صفوان بن عمران الطائي رحمہ اللہ - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-02-25

حدیث صفوان بن عمران الطائي رحمہ اللہ


پچھلا
حدیث صفوان بن عمران الطائي رحمہ اللہ
امام سعيد بن منصور رحمه الله (المتوفى227) نے کہا:
”حدثنا سعيد قال: نا إسماعيل بن عياش قال: حدثني الغاز بن جبلة الجبلاني، عن صفوان بن عمران الطائي، أن رجلا كان نائما مع امرأته فقامت فأخذت سكينا فجلست على صدره ووضعت السكين على حلقه وقالت: لتطلقني ثلاثا البتة وإلا ذبحتك، فناشدها الله، فأبت عليه فطلقها ثلاثا فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «لا قيلولة في الطلاق»“
”صفوان بن عمران الطائي بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ سویا ہوا تھا ، تو وہ اٹھی اورایک چھڑی اٹھا یا پھر اس کے سینہ پر بیٹھ گئی اور چھری کو اس کے حلق پر رکھ کرکہا : تم مجھے تین طلاق مکمل طلاق دو ورنہ تمہیں ذبح کردوں گی ، تو اس نے اللہ کا واسطہ دیا مگر وہ نہ مانی ، تو اس نے اسے تین طلاق دے دیا ، پھر اس کا تذکرہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : طلاق میں واپسی نہیں ہے“ [سنن سعيد بن منصور، ت الأعظمي: 1/ 314 ، ومن طريق سعيد أخرجه العقيلي في الضعفاء 2/ 211 وأخرجه أیضا العقيلي في الضعفاء 3/ 441 و الجصاص في مختصر الطحاوي 5/ 6 من طريق إسماعيل بن عياش به مرسلا ، وأخرجه أیضا العقيلي في الضعفاء 3/ 441 من طریق محمد بن حمير عن الغاز بن جبلة عن صفوان فجعل القصة لصفوان وهو خطأ ظاهر ، وأخرجه أیضا العقيلي في الضعفاء 2/ 211 وابن الجوزي في التحقيق 2/ 294 من طريق بقية، عن الغاز بن جبلة، عن صفوان بن الأصم الطائي، عن رجل، من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فجعل منقطعا ]

یہ حدیث سخت ضعیف ہے۔
”صفوان بن عمران الطائي“ کی کسی نے توثیق نہیں کی ہے ۔
امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277) نے کہا:
”يكتب حديثه، وليس بالقوي“ ، ”اس کی حدیث لکھی جائے گی یہ قوی نہیں ہے“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 4/ 422]
کتابت کی اجازت دینے کے بعد ”ليس بالقوي“ کہنا اس کی مطلق تضعیف ہی ہے ۔

امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) نے کہا:
”صفوان ضعيف“ ، ”صفوان ضعیف ہے“ [المحلى لابن حزم، ت بيروت: 7/ 208]
دوسری جگہ کہا:
”صفوان منكر الحديث“ ، ”صفوان منکر الحدیث ہے“ [المحلى لابن حزم، ت بيروت: 9/ 464]

اور ”الغاز بن جبلة الجبلاني“ کے بارے میں امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے کہا:
”هو منكر الحديث“ ، ”یہ منکر الحدیث ہے“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم، ت المعلمي: 7/ 58]

نیزاس میں اضطراب بھی ہے ۔
 ⟐  امام سعید بن منصور کی روایت میں ارسال ہے۔
 ⟐ اور عقیلی اورابن الجوزی کی بقیہ والی روایت میں صفوان کے بعد عن رجل کا واسطہ ہے یعنی ارسال کی جگہ انقطاع ہے [ضعفاء العقيلي 2/ 211 التحقيق لابن الجوزی 2/ 294]
 ⟐ اور امام عقیلی کی محمد بن حمير والی روایت میں اصل واقعہ کو صفوان بن عمران الطائي ہی کا واقعہ بنادیا گیا ہے یعنی اسے صحابی دکھا دیا گیا ہے [ضعفاء العقيلي 3/ 441]

اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسے بیان کرنے والا سخت ضعیف ہے ، لہٰذا یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے۔
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256) نے کہا:
”وهو حديث منكر، لا يتابع عليه“ ، ”یہ منکر حدیث ہے ، اس پر صفوان کی متابعت نہیں ہے“ [التاريخ الكبير للبخاري، ط العثمانية: 4/ 307]
امام أبو زرعة الرازي رحمه الله (المتوفى264) نے کہا:
”هذا حديث واهي جدا“ ، ”یہ حدیث سخت ضعیف ہے“ [علل الحديث لابن أبي حاتم 4/ 134]

ان کے علاوہ اور بھی کئی محدثین نے اسے ضعیف کہا ہے۔

No comments:

Post a Comment