حدیث عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-03-01

حدیث عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ


پچھلا
حدیث عبادہ بن ثابت رضی اللہ عنہ
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385) نے کہا:
نا أبو محمد بن صاعد , نا يحيى بن عبد الباقي الأذني ح. ونا عثمان بن أحمد الدقاق , نا يحيى بن عبد الباقي الأذني , نا محمد بن عبد الله بن القاسم الصنعاني , نا عمرو بن عبد الله بن فلاح الصنعاني , نا محمد بن عيينة , عن عبيد الله بن الوليد الوصافي , وصدقة بن أبي عمران , عن إبراهيم بن عبيد الله بن عبادة بن الصامت , عن أبيه , عن جده , قال: طلق بعض آبائي امرأته ألفا فانطلق بنوه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم , فقالوا: يا رسول الله إن أبانا طلق أمنا ألفا فهل له من مخرج؟ , فقال: إن أباكم لم يتق الله فيجعل له من أمره مخرجا , بانت منه بثلاث على غير السنة , وتسعمائة وسبعة وتسعون إثم في عنقه
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے خاندان میں بعض نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، پھر اس کے لڑکے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے والد نے ہماری والدہ کو ہزار طلاق دے دی ہے ، تو کیا کوئی راستہ ہے ؟ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمارے والد اللہ سے نہیں ڈرے کہ ان کے لئے کوئی راستہ نکلتا ، تمہاری ماں تین غیرسنی طلاق سے جدا ہوچکی ہے اور باقی نو سو ستانوے طلاقوں کا گناہ تمہارے والد کی گردن پر ہے [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 5/ 36، المؤتلف والمختلف للدارقطني 4/ 1863وأخرجه أيضا الخطيب في تاريخ بغداد 14/ 227 و ابن عساكر في تاريخه 64/ 303 من طريق عثمان بن أحمد الدقاق به ، وأخرجه أيضا اسحاق بن راهويه في مسنده رقم 781 وابن عدي في الكامل 7/ 233 وعبدالرازاق في مصنفه 6/ 393 من طريق عبيد الله بن الوليد الوصافي عن داود بن إبراهيم، عن عبادة بن الصامت نحوه مختصرا ، و ”داود بن إبراهيم“ لا يعرف قاله الذهبي في الميزان 2/ 4]
عرض ہے کہ :
امام دارقطنی نے اس روایت کو بیان کرنے کے بعد خود ہی فرمادیا:
رواته مجهولون وضعفاء إلا شيخنا وابن عبد الباقي
اس کے رواۃ مجہول اور ضعیف ہے سوائے ہمارے استاذ اور ابن عبدالباقی کے [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 5/ 36]
اور سند کا مرکزی راوی عبيد الله بن الوليد الوصافي سخت ضعیف ومتروک راوی ہے۔
اس کے ضعیف ہونے پرتمام ائمہ فن کا اتفاق ہے۔

مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی فرماتے ہیں:
”اس روایت کے ساقط الاعتبار ہونے کی یہ دلیل بھی ہے کہ حضرت عبادہ کے والد اور دادے کا مشرف بہ اسلام ہونا کسی صحیح یا سقیم روایت سے بھی ثابت نہیں ہے“  [ دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص228 ]

No comments:

Post a Comment