ابن زیاد اور رأس حسین رضی اللہ عنہ - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-08-11

ابن زیاد اور رأس حسین رضی اللہ عنہ



ابن زیاد  اور رأس حسین رضی اللہ عنہ
پوسٹر نگاروں نے لکھا ہے:
{{{(٣) ترجمہ صحیح حدیث: جب سیدناحسین رضی اللہ عنہ کوشہیدکیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ کا سرمبارک (یزیدبن معاویہ کے چہیتے گورنر) عبیداللہ بن زیاد عراقی (کوفی نجدی) کے سامنے لاکر رکھا گیا تو وہ (بدبخت) آپ رضی اللہ عنہ کے سرمبارک کو ہاتھ کی چھڑی سے کریدنے لگا یہ دیکھ کر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (اس خبیث کو تنبیہ کرتے ہوئے) فرمایا:’’اللہ کی قسم ! (سیدنا) حسین رضی اللہ عنہ (اپنی شکل وصورت کے اعتبارسے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ مشابہ تھے‘‘ [صحیح بخاری : حدیث نمبر 3748 ، جامع ترمذی :حدیث نمبر 3778]۔)}}} 

جوابا عرض ہے کہ:
اس روایت کے ترجمہ میں کوتاہی ہے چنانچہ حدیث کے الفاظ تھے:
”فَجَعَلَ يَنْكُتُ“ [صحيح البخاري 3748]۔
اس کا ترجمہ پوسٹر نگار نے یہ کیا:
 {آپ رضی اللہ عنہ کے سرمبارک کو ہاتھ کی چھڑی سے کریدنے لگا} 
اس ترجمہ میں ’’سرمبارک‘‘ متن میں موجود کسی بھی لفظ کا ترجمہ نہیں ہے متن میں ”يَنْكُتُ“ کا لفظ ہے جس کے معنی ”زمین کریدنا ہوتا ہے“ ناکہ سر کریدنا تفصیل آگے آرہی ہے۔

اسی طرح بریکٹ میں لکھا گیا:
 {سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (اس خبیث کو تنبیہ کرتے ہوئے)} 
حالانکہ روایت میں تنبیہ کا کوئی مفہوم سرے سے نکلتا ہی نہیں بلکہ اس کے برعکس تائید کا مفہوم نکلتا ہے یعنی ابن زیاد نے حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی تعریف کی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کی تائید کرتے ہوئے مذکورہ بات کہی ہے۔

اس روایت کو لیکر عبیداللہ بن زیاد پرتین الزامات لگائے جاتے ہیں:

 ● حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لایا جانا۔
 ● حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی مذمت۔
 ● حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی بے حرمتی۔
اب ذیل میں ان تینوں الزامات کا جائزہ پیش خدمت ہے:
.
 ✿ حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لایا جانا۔
اس پہلو سے ابن زیاد پر کوئی الزام عائد نہیں ہوسکتا کیونکہ ابن زیاد نے تو ایسا کرنے کاحکم نہیں دیا ، ورنہ اگر یہی فلسفہ بروئے کار لایاجائے تو یہی معاملہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ہوا ، چنانچہ عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ جنہیں پوسٹر نگار نے جلیل القدر صحابی لکھا ہے وھو کذالک ، ان کے والد محترم اورجنت کی بشارت یافتہ عظیم المرتبت صحابی زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا اورقاتل ان کے سر کو لیکرعلی رضی اللہ عنہ کے دروازے پرحاضرہوا، چنانچہ:

امام ابن سعد رحمه الله (المتوفى230)نے کہا:
 ”أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَعْنِي الْوَالِبِيَّ قَالَ : دَعَا الأَحْنَفُ بَنِي تَمِيمٍ فَلَمْ يُجِيبُوهُ ، ثُمَّ دَعَا بَنِي سَعْدٍ فَلَمْ يُجِيبُوهُ ، فَاعْتَزَلَ فِي رَهْطٍ ، فَمَرَّ الزُّبَيْرُ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ : ذُو النِّعَالِ ، فَقَالَ الأَحْنَفُ : هَذَا الَّذِي كَانَ يُفْسِدُ بَيْنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَاتَّبَعَهُ رَجُلاَنِ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ فَحَمَلَ عَلَيْهِ أَحَدُهُمَا فَطَعَنَهُ ، وَحَمَلَ عَلَيْهِ الْآخَرُ فَقَتَلَهُ ، وَجَاءَ بِرَأْسِهِ إِلَى الْبَابِ فَقَالَ : ائْذَنُوا لِقَاتِلِ الزُّبَيْرِ ، فَسَمِعَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ : بَشِّرْ قَاتَلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ ، فَأَلْقَاهُ وَذَهَبَ.“ 
 ”ابوخالد الوالبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: احنف نے بنوتمیم کو دعوت دی مگر انہوں نے قبول نہ کی ، پھر اس نے بنوسعد کو دعوت دی انہوں نے بھی قبول نہ کی ، پس ایک دن زبیررضی اللہ عنہ اپنے ایک گھوڑے پر جارہے تھے جس کا نام ذوالنعال تھا ، تو احنف نے کہا:یہی وہ شخص ہے جو لوگوں کے مابین فساد برپاکرتاہے ، راوی کہتے ہیں کہ پھر احنف کے ساتھیوں میں سے دولوگوں نے ان کا پیچھا کیا پھر ایک نے ان پرحملہ کرکے انہیں زخمی کردیا اور دوسرے نے حملہ کرکے انہیں قتل کرڈلا ۔ اس کے بعد احنف زبیررضی اللہ عنہ کا سر لے کر علی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہنچا اورکہا:قاتل زبیر کو اجازت دیں ، علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی اورکہا: ابن صفیہ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو ، پھر احنف نے زبیررضی اللہ عنہ کے سر کو وہیں رکھا اوررخصت ہوگیا“ [الطبقات الكبرى لابن سعد: 3/ 110 واسنادہ صحیح ، واخرجہ ایضا ابن عساکر من طریق ابن سعد بہ]
اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ، کسی بھی راوی سے متعلق اہل فن کے اقوال معلوم کرنے کے لئے اسی راوی پر کلک کریں ۔

اوریہ روایت ایک دوسری سند سے بھی منقول ہے ، چنانچہ:
امام ابن عساكر رحمه الله (المتوفى571)نے کہا:
أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن منصور أنا أحمد بن عبد الواحد بن أبي الحديد أنا جدي أنا أبو بكر الخرائطي نا عمر بن شبة نا قرة ابن حبيب ناالفضل بن أبي الحكم عن أبي نضرةقال جيء برأس الزبير إلى علي فقال يا أعرابي حدثني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا إلى جنبه قاعد أن قاتل الزبير في النار يا أعرابي تبوأ مقعدك من النار[تاريخ مدينة دمشق لابن عساکر: 18/ 421 واسنادہ قوی]۔

نیزاسی روایت کی ایک تیسری سند بھی ہے جسے امام حاکم نے اسے روایت کیا ہے اوربعد روایت اسے صحیح قرار دیا ہے اورامام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی ان کی تائید کی ہے دیکھئے ۔[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3/ 414 رقم 5580]۔
لیکن ہماری نظر میں یہ روایت ضعیف ہے ، اوراس سلسلے کی سب سے مضبوط اور مستند وصحیح روایت وہی ہے جسے ہم نے اوپر امام ابن سعد رحمہ اللہ کے حوالے سے پیش کیا ہے۔
.
 ✿ حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی مذمت۔
 ◈ بخاری کے الفاظ ہیں:
 ”وَقَالَ فِي حُسْنِهِ شَيْئًا“ [بخاری رقم 3748]۔
 ”اس نے آپ کے حسن کے بارے میں کچھ کہا ۔“ 
ان الفاظ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے آپ کے حسن کی تعریف کی تھی ، چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ بخاری کے ان الفاظ کی شرح میں فرماتے ہیں :
’’ای من المدح ‘‘ [ھدایۃ الرواۃ: ج٥ص٤٦١، حاشیہ رقم ٢]۔
 ”ابن زیاد نے آپ کے حسن کے بارے میں تعریفی کلمات کہے ۔“ 
 ◈ اوراس روایت کے اخیرمیں جو یہ الفاظ ہیں:
 ”كَانَ أَشْبَهَهُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ [بخاری رقم 3748]۔
حسین رضی اللہ عنہ لوگوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۔
اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ابن زیاد نے حسن کی تعریف ہی کی تھی ، جبھی تو صحابی رسول نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی مشابہت ذکر کرکے اس کی تائید کی ۔
اوربعض روایات میں تو بالکل صراحت ہے کہ ابن زیادنے اس موقع پر حسن کی تعریف ہی کی تھی ، چنانچہ ابن حبان میں منقول اسی روایت کے الفاظ ہیں:
 ”مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا!“ [صحيح ابن حبان: 15/ 429]۔
 ”میں نے اس جیسی خوبصورتی کہیں نہیں دیکھی۔“ 
اورترمذی کے الفاظ ہیں:
 ”مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، لِمَ يُذْكَرُ؟“ [سنن الترمذي ت شاكر 5/ 659]۔
 ”میں نے اس جیسی خوبصورتی کہیں نہیں دیکھی پھر کیوں آپ کی برائی کی جاتی ہے۔“ 
ان تمام روایات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ابن زیاد نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کی تعریف ہی کی تھی ۔
.
 ✿ حسین رضی اللہ عنہ کے سر کی بے حرمتی۔
بخاری کے الفاظ ہیں:
 ”فَجَعَلَ يَنْكُتُ“ [صحيح البخاري3748]۔
’’ينكت‘‘ کا معنی ہوتا ہے سوچ یا غم کی حالت میں باریک اورچھوٹی لکڑی یا انگلی سے زمین کریدنا۔
اہل عرب کا معمول تھا کہ وہ غوروفکر یا غم کی حالت میں ایساکرتے تھے۔

امام ابن الأثيررحمه الله (المتوفى606)نے کہا:
 ”(نَكَتَ) فِيهِ «بَيْنا هُوَ يَنْكُتُ إذِ انْتَبه» أَيْ يُفَكِّر ويُحدِّث نفسَه. وَأَصْلُهُ مِنَ النَّكْتِ بالحَصَى، ونَكْت الأرضِ بالقَضيب، وَهُوَ أَنْ يُؤثِّرَ فِيهَا بطَرَفِه، فِعْلَ المُفَكِّر المَهْموم. وَمِنْهُ الْحَدِيثُ «فجعَل يَنْكُتُ بقَضيب» أَيْ يَضْرب الأرضَ بطَرَفه. وَحَدِيثُ عُمَرَ «دخَلْت الْمَسْجِدَ فَإِذَا الناسُ يَنْكُتون بالحَصى» أَيْ يَضْربون بِهِ الْأَرْضَ.“ [النهاية في غريب الحديث والأثر 5/ 113]۔

لسان العرب میں ہے:
 ”فَجَعَلَ يَنْكُتُ بقَضيبٍ أَي يَضْرِبُ الأَرض بطَرَفه. ابْنُ سِيدَهْ: النَّكْتُ قَرْعُكَ الأَرضَ بعُود أَو بإِصْبَع. وَفِي الْحَدِيثِ: بَيْنَا هُوَ يَنْكُت إِذ انْتَبه ؛ أَي يُفَكِّرُ ويُحَدِّثُ نفسَه، وأَصلُه مِنَ النَّكْتِ بالحَصى. ونَكَتَ الأَرضَ بِالْقَضِيبِ: َهُوَ أَن يؤَثر فِيهَا بِطَرَفِهِ، فِعْلَ المُفَكِّر الْمَهْمُومِ“ [لسان العرب 2/ 100]۔

امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب قائم کیا ہے:
 ”بَابُ الرَّجُلِ يَنْكُتُ الشَّيْءَ بِيَدِهِ فِي الأَرْضِ“ [صحيح البخاري 8/ 48]۔
 ”یعنی اس بات کا بیان کہ کوئی چیز سے زمین کریدے“ 
پھر اس کے تحت ایک جنازہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت سے متعلق حدیث ہے اور یہ غم کا موقع ہوتا ہے اس میں ہے:
 ”فَجَعَلَ يَنْكُتُ الأَرْضَ بِعُودٍ“ [صحيح البخاري 8/ 48]۔
 ”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم لکڑی سے زمین کو کریدنے لگے۔“ 
معلوم ہوا کہ اہل عرب کے یہاں ینکت کا عمل سوچ اور غم کے وقت ہوتا تھا ، اورشہادت حسین اورحسین رضی اللہ عنہ کے سر کے مشاہدہ سے ابن زیاد بھی سوچ اورغم میں پڑگیا اور اس سے بھی اسی طرح کا عمل ہوا یعنی وہ پہلے کسی چھوٹی اورباریک لکڑی سے زمین کریدرہا تھا ۔

چنانچہ علامه عينى رحمه الله (المتوفى855) نے اس جملہ کی شرح کرتے ہوئے کہا:
 ”قَوْله: (فَجعل ينكت) ، أَي: فَجعل عبيد الله بن زِيَاد ينكت أَي: يضْرب بقضيب على الأَرْض فيؤثر فِيهَا[“ عمدة القاري شرح صحيح البخاري 16/ 241]۔
 ”بخاری کی حدیث میں (کریدنے لگا) کا مطلب یہ ہے کہ عبیداللہ بن زیاد ایک لکڑی کو زمین پر رکھ کرکریدنے لگا۔“ 

پھرجب حسین رضی اللہ عنہ کے حسن کو اس نے بغور دیکھا تو تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا اور اور تعریف کرتے ہوئے اس نے اسی لکڑی سے جس سے زمین کرید رہا تھا حسین رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف اشارہ کیا جیساکہ دیگرروایات میں اور آپ کے حسن کی تعریف کی ۔

یادرہے کہ کسی بھی روایت میں یہ صراحت نہیں ہے کہ ابن زیاد کا یہ عمل سر کے ساتھ مباشرۃ تھا بلکہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے دورسے اس لکڑی کے ذریعہ اشارہ کیا تھا ، اس کی دلیل یہ ہے کہ بخاری سمیت متعدد روایات میں صرف ينكت کریدنے کا ذکر ہے ، اور عربی زبان میں عام طور سے اس سے زمین کریدنا ہی مراد ہوتا ہے اوربعض روایات میں اس کے ساتھ اضافہ بھی ہے مگر کسی میں آنکھ کا ذکر ہے کسی میں ناک کا ذکر ہے کسی میں ہونٹ کا ذکر ہے اور کسی میں دانت کاذکرہے۔
یہ اختلاف بتلاتا ہے کہ کریدنے کاعمل زمین کے ساتھ تھا اورچہرے کی طرف فقط اشارہ کیا گیا تھا جسے بعض رواۃ نے آنکھ ، بعض نے ناک ، بعض نے ہونٹ اوربعض نے دانت کے ساتھ ذکریا ۔

اوربعض روایات میں اشارہ کی صراحت بھی ہے چنانچہ ترمذی کے الفاظ ہیں:
 ”فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ فِي أَنْفِهِ“ [سنن الترمذي ت شاكر 5/ 659]۔
 ”یعنی وہ آپ کی ناک کی طرف لکڑی کے اشارہ سے کہنے لگا۔“ 
علامہ مبارکپوری ترمذی کے اس جملہ کی شرح میں لکھتے ہیں:
(فَجَعَلَ يَقُولُ) أَيْ فَجَعَلَ (عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يُشِيرُ بِقَضِيبِ) [تحفة الأحوذي 10/ 192 ]۔
یعنی وہ آپ کی ناک کی طرف لکڑی کے اشارہ سے کچھ کہنے لگا۔
جناب عتیق الرحمن سنبھلی صاحب لکھتے ہیں:
’’جب ایک روایت ’’ٹہوکا دینے ‘‘ کے بجائے ’’اشارہ کرنے‘‘ کی موجود ہے تو کم ازکم شک کافائدہ ابن زیاد کو پہنچنے سے ہم نہیں روک سکتے‘‘ [واقعہ کربلا اوراس کا پس منظر:ص]۔
اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے اس طرز عمل پر صحابی رسول انس رضی اللہ عنہ نے کوئی نکیر نہیں کہ بلکہ عبیداللہ کی طرف سے مدح حسن کی تائید کی ، اگرعبیداللہ بن زیاد نے گستاخانہ طورپر ایسی کوئی حرکت کی ہوتی تو دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے والے انس رضی اللہ عنہ ضرور نکیر کرتے ۔
یادرہے کہ فتح الباری وغیرہ میں طبرانی وبزار کے حوالے سے نکیرکی جو روایت منقول ہے وہ سخت ضعیف ہے، اسی طرح ابن زیاد سے متعلق یہ روایت کہ اس کی موت پر اس کے سر میں بھی سانپ داخل ہوا یہ بھی ضعیف ومردود ہے۔
لہٰذا قرین انصاف بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ ابن زیاد نے کوئی گستاخی ہرگزنہیں کی ہوگی اوراحترام ہی سے پیش آیا ہوگا۔

بلکہ ایک صحیح روایت کے مطابق تو عبداللہ بن زیادنے اس موقع پر حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت سے یاد کیا(أنساب الأشراف للبلاذري: 3/ 226 واسنادہ صحیح) اوراہل عرب ازراہ تعظیم کنیت سے یاد کیا کرتے تھے ، چنانچہ اس روایت پرتبصرہ کرتے ہوئے جناب عتیق الرحمن سنبھلی صاحب لکھتے ہیں:
’’اس روایت میں سب باتیں خود سمجھ لینے کی ہیں ، مگر ایک نقطہ عام قارئین کے اعتبارسے وضاحت طلب ہے کہ اہل عرب کے یہاں کنیت سےکسی کا ذکر یا اس کو خطاب از راہ تعظیم ہوتا تھا ، اس روایت کے مطابق ابن زیاد نے حضرت حسین کاذکر آپ کی کنیت ’’ابوعبداللہ‘‘ سے کیا ہے اورچھڑی سے کہیں ٹہوکا نہیں دیا ہے بلکہ اشارہ کیا ہے ، جو ابن زیاد کے رویے کو کافی مختلف شکل دینے والی بات ہے‘‘[واقعہ کربلا اوراس کا پس منظر:ص]۔

اوراسی بلاذری کی صحیح روایت میں یہ بھی ہے کہ:
وأمر ببناته ونسائه فكان أحسن مَا صنع بهن أن أمر لهن بمنزل في مكان معتزل فأجرى عليهن رزقا وأمر لهن بكسوة ونفقة.ولجأ ابنان لعبد اللَّه بْن جعفر إِلَى رجل من طيّئ فضرب أعناقهما وأتى ابْن زياد برءوسهما!!! فهم (ابن زياد) بضرب عنقه وأمر بداره فهدمت. [أنساب الأشراف للبلاذري: 3/ 226 واسنادہ صحیح]۔
یعنی حسین رضی اللہ عنہ کی ازواج ان کی بیٹیوں بارے میں ابن زیاد نے یہ حکم دیتے ہوئے سب سے اچھا کام کیا کہ ان کے قیام کے لئے ایک خاص اورالگ جگہ پر انتظام کیا اوران کا کھانا پانی بھی وہیں پہنچانے کاحکم دیا اوران کے کپڑے اوردیگر اخراجات فراہم کرنے کے بھی احکام دئے ، اسی دوران ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ عبداللہ بن جعفرکے دوبیٹوں نے بنو طے کے ایک شخص کے یہاں رکنے سوال کیا تو اس (ظالم) نے انہیں قتل کردیا اور ان کے سر لے کر عبیداللہ بن زیاد کے سامنے پہونچا ، یہ دیکھ عبیداللہ بن زیاد نے اس کے قتل کا ارادہ کرلیا اوراس کے گھر کو منہدم کروادیا۔
اس روایت پرغور کیجئے کیا اس طرح کے کردار کا مالک شخص حسین رضی اللہ عنہ کی توہیں کرسکتا ہے ، جب ابن زیاد عبداللہ بن جعفرکے بچوں کے قتل پر آگ بگولہ ہوگیا اورقاتل کو سزاء دی اس کے گھر کو گروادیا تو پھر یہی عبیداللہ بن زیاد حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر کوئی نازیبا حرکت کیسے کرسکتا ہے بلکہ ظن غالب ہے کہ جس شخص نے حسین رضی اللہ عنہ کا سر پیش کیا تھا اسے عبیداللہ بن زیاد نے ضرور قتل کیا ہوگا ، چنانچہ بعض روایات میں اس کی صراحت بھی ہے چنانچہ بعض روایات میں ہے:
 ”حزّ رأسه وأتي به عبيد الله وهو يقول: أوقر رکابي فضّة وذهبا ... أنا قتلت الملک المحجّبا .......خير عباد الله أمّا وأبا فقال له عبيد الله بن زياد: إذا کان خير الناس أما وأبا وخير عباد الله، فلم قتلته؟ قدّموه فاضربوا عنقه! فضربت عنقه.“ 
 ”حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل آپ کاسرقلم کرکے عبیداللہ بن زیاد کے پہونچا اورکہنے لگا : آج میں اپنی پیالی سونے چاندی سے بھرلوں گا ، آج میں نے چھپے ہوئے بادشاہ کا قتل کیا ہے ، جو ماں باپ کے اعتبارسے اللہ کے بندوں میں سب سے بہتر تھے ، یہ سن کر عبیداللہ بن زیاد نے کہا : جب وہ اللہ کے تمام بندوں میں ماں باپ کے لحاظ سے سب سے بہتر تھے تو تو نے انہیں قتل کیوں کیا؟ اس کے بعد عبیداللہ بن زیاد نے حکم صادرکیا کہ اس کو آگے لے جاگر قتل کردو ، چنانچہ اس کی گردن مار دی گئی“ ۔[ العقد الفريد:5/ 130 ، العواصم من القواصم: 240 ، الصواعق المحرقة: 2/ 577 ، سمط النجوم: 3/ 185 ، مروج الذهب ج3 ص141. ]۔
اس روایت کی کوئی صحیح سند ہمیں نہیں مل سکی لیکن عبداللہ بن جعفرکے بیٹوں کا سر لانے والے کے ساتھ عبیداللہ بن زیاد نے جو کچھ کیا اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کا سر لانے والے کو بھی عبیداللہ بن زیاد نے معاف نہ کیا ہوگا بلکہ اس کی گردن مروادی ہوگی جیساکہ اس روایت میں ہے ۔

شیخ عبدالمعید مدنی حفظہ اللہ سابق ایڈیٹر مجلہ الاستقامہ(عربی) لکھتے ہیں:
’’اس وقت پورے عالم اسلام میں سبھی ان سے محبت کرتے تھے ، والہانہ ان کو چاہتے تھے یزید ، عبیداللہ بن زیاد ، عمربن سعد جن پر قتل کا شیعی الزام آتا ہے وہ بھی ان کے ساتھ فی الواقع کسی گستاخی کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ عبیداللہ بن زیاد نے قاتل حسین رضی اللہ عنہ کی گردن ماردی“ [مجلہ الاحسان: جلد:١]۔
اس پوری تفصیل سے معلوم ہوا کہ عبیداللہ بن زیاد کا مذکورہ عمل ازروئے گستاخی نہیں تھا بلکہ فکروغم میں وہ لکڑی سے زمین کریدرہا تھا اورحسین رضی اللہ عنہ کے حسن کو دیکھ کراس نے اسی لکڑی سے آپ کے چہرے کی طرف اشارہ کیا۔
.
پوسٹر نگاروں نے لکھا ہے:
 {{{نوٹ:کسی بھی صحیح روایت سے قطعا ثابت نہیں کہ ’’یزید‘‘ نے اپنے کوفی نجدی گورنر’’عبیداللہ بن زیاد‘‘ کوسزا دی ہو یا اسے عہدہ سے ہٹایا ہو اوریوں یزید خود بھی اس جرم کاحصہ بن گیا۔}}} 
جوابا عرض ہے کہ:
اول تو عبیداللہ کا جرم ثابت ہی نہیں تاہم اگرثابت بھی مان لیں تو اس سے یزید کا کیا تعلق؟؟
اگریزید نے سزا نہیں دی تو پہلے یہ تو ثابت کیا جائے کہ پورے عالم اسلام میں کسی ایک نے بھی یزید سے یہ مطالبہ کیا کہ عبیداللہ بن زیاد کو سزادی جائے؟
اور تو اور خود اہل بیت جب یزید کے پاس پہنچے تو کیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ ابن زیاد کو سزا دی جائے ؟؟

اگریہ مطالبہ نہیں ہوا تو پھر دوباتوں میں کوئی ایک بات ہے:

اول: عبیداللہ بن زیاد نے ایساجرم کیا ہی نہیں ۔
دوم: حالات سازگار نہیں تھے کہ سزا دی جائے۔

ان دونوں میں سے جو بات بھی ہو یزید پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا ، ورنہ اس منطق سے علی رضی اللہ عنہ پر بھی یہ جرم عائد ہوسکتا ہے کیونکہ عظیم المرتبت صحابی زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا اورقاتل ان کے سر کو لیکرعلی رضی اللہ عنہ کے دروانے پرحاضرہوا، اورعلی رضی اللہ عنہ نے بھی اسے کوئی سزا نہیں دی تو کیا علی رضی اللہ عنہ بھی اس جرم کاحصہ بن گئے نعوذ باللہ۔
صاف بات یہ ہے کہ جس طرح علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کوئی مجبوری تھی اسی طرح یزید بن معاویہ کے سامنے بھی کوئی مجبوری ہوسکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment