{20}. (وقفہ) ، کربلائی آنسو! - Kifayatullah Sanabili Official website

2018-07-01

{20}. (وقفہ) ، کربلائی آنسو!


{20}. (وقفہ) ، کربلائی آنسو!
✿ ✿ ✿ ✿
برادران یوسف نے خود ہی اپنے بھائی پرظلم کیا اور شام کو روتے ہوئے گھر آئے اور اپنی معصومیت کے آنسو بہانے لگے ۔
اہل کوفہ نے حسین رضی اللہ عنہ پر بربریت کی انتہائی کردی ، حتی کہ انہیں شہید کرڈلا ، اور پھر خود ہی رونا دھونا شروع کرکے اپنی مظلومیت کی تاریخ لکھ ڈالی، جس پر ایمان لانے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔
آج بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بڑے طنطنے کے ساتھ وار کرتے جائیں گے، لیکن جوابی کار روائی میں کوئی اگر ایک جملہ بھی لکھ دے ، تو فورا کربلائی مجلس منعقد ہوجائے گی ،آنسوؤں کا سیلاب آئے گا ، اور آنسو پونچھنے والے بھی پہنچیں گے ۔
ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ موصوف کی شخصیت سے ان کی پارسائی کا نقاب تھوڑا سا ہٹائیں تاکہ آں حضرت کی زبان و قلم کی شرافت سے بھی انصاف پسند قارئین آگاہ ہوجائیں۔
یوں تو موصوف نے ابتداء ہی میں((ذہنی اپج)) کا تحفہ دیا ، اور ہماری تحریروں کا ((پوری عمارت ہی عقل وقیاس پر کھڑی ہے)) جیسے تحقیر آمیز جملوں سے استقبال کیا ، لیکن ہم نے نظر انداز کیا ۔ہماری اس چشم پوشی کا موصوف نے غلط فائدہ اٹھا اور بتدریج جملے اچھالتے رہے ، حتی کے یہ مرحلہ بھی آیا کہ ناچیز کو نہ صرف بریلویوں کی صف میں کھڑا کیا بلکہ ان کے شرکیہ استدلال سے بھی رشتہ جوڑ دیا ، چناں چہ موصوف اپنے بعض بریلوی دوستوں سے ایک شرکیہ استدلال نقل کرکے ارشاد فرماتے ہیں:
((تو یہ ہے ہمارے بعض اخوان کا طریقہ استدلال "مارے گھٹنا پھوٹے سر" ایسے استدلالات ہم بریلیوں سے سنا کرتے تھے۔ لیکن صدقہ فطر کے مسئلہ میں بعض مشہور اہل حدیث حضرات تو استدلال کے باب میں ان سے بھی دو قدم آگے نظر آتے ہیں))
دیکھا آپ نے ! بریلویویں کی صف میں ہی نہیں بلکہ دو قدم آگے بھی پہنچا کر دم لیا ۔
اور مزید آگے بڑھے تو شرافت کا یہ نمونہ بھی دیکھنے کو ملا کہ ہماری نقل کردہ روایت کے ایک ٹکڑے کا خود ہی من مانی ترجمہ کیا ، پھر بڑی ڈھٹائی سے اسے ہماری طرف منسوب کردیا ، اور((نص کی تحریف معنوی ہے)) کہہ کر اس غریب پر تحریف کا الزام جڑ دیا ۔اس کی دلخراش داستان قارئین اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں گے، جو ابھی جلد ہی نشر کی جائے گی ۔
پھر آں موصوف اور آگے بڑھے تو پھر یہی حرکت دوبارہ دہرائی اور ہماری دوسری عبارت کو لیکر اس پر تحریف کا گولہ داغ دیا ۔ فرمایا:
((لفظ عشرۃ کا ترجمہ اپنے مفاد کے لئے دس درہم کردینا تحریف معنوی ہی تو ہے))
لیکن بدقسمتی سے یہ ان پر ہی پلٹ گیا جس کا دردناک اعتراف موصوف نے خود ہی کیا ہے ۔
لیکن افسوس کہ اس شرمناک تجربہ سے گذرنے کے بعد بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور پھر اگلی تحریر میں ایک تیسری بات کو لیکر خیانت کا الزام لگادیا۔سبحان اللہ !
ظاہر کہ اب موصوف شرافت کے دائرہ سے کافی باہرآچکے تھے ، اس لئے اس بار ہم نے اس خیانت والے الزام کا نوٹس لے لیا ،پھر کیا تھا ، ماتم کی مجلس منعقد کرلی گئی اور آنسو بہائے جانے لگے ۔
محترم ! اگر طبیعت اتنی ہی نازک ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ دوسروں پر جملے اچھالنے سے پہلے اپنی قوت برداشت کاحجم دیکھ لیا کریں ۔
موصوف نے ایک بات یہ بھی کہی ہے کہ (( چاہے حنبلی کہو ، یا خارجی کہو ، یا بہاری کہو)) ۔ اس سے کچھ لوگ یہ سمجھ لیں گے کہ ناچیز نے ہی موصوف کو ان القابات سے نوازا ہے ،جبکہ بات ایسی نہیں ہے۔
جہاں تک حنبلی کی بات ہے تو ہم نے بعض متاخرین حنابلہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ فطرہ کے مسئلہ میں اپنےمخالف کی تبدیع اور تفسیق سے بھی دریغ نہیں کرتے ، اوریہ حقیقت ہے۔
رہی بات خارجی کہنے کی تو یہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو اجتہادی مسائل میں صرف اپنی بات اوردلائل پیش کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ مخالف پر چڑھ دوڑتے ہیں ، اور اسے ولاء اور براء کا مسئلہ بنا لیتے ہیں ، اور فساد فی الارض برپا کرتے ہیں ۔
رہی بات بہاری کہنے کی تو اس کا تعلق موصوف سے نہیں بلکہ موصوف کے اعوان و انصار سے ہے ،میں نے یہ محسوس کیا کہ خاص ان دنوں اور خاص فطرہ کے مسئلہ کو لیکر میرے بارے میں انتہائی گھٹیا اور اہانت آمیز جملے استعمال کرنے والے اکثر بہار ہی کے حضرات دیکھنے کو ملے ہیں ، اس مسئلہ میں مجھ سے اختلاف کرنے والے تو بے شمار ہیں لیکن خاص اس اختلاف میں ایک جھنڈ ایسا موجود ہے جو خاص علاقہ کا ہے اورخاص شعار میں بات کررہاہے، معلوم نہیں کہ یہ حضرات موصوف کے دوستوں میں سے ہیں یا محض علاقہ کی نسبت نے انہیں اس حمیت پر آمادہ کیا ہے۔چنانچہ ابھی جلد ہی ایک صاحب طوفان کی طرح میری وال پر آئے اور پہنچتے ہی ”جہالت“ کے لقب سے سرفراز کردیا ۔ اس پر میں نے ان کا نسب نامہ معلوم کیا تو وہ بہار کے پائے گئے پھر میں نے سلام کرکے رخصت ہونے میں ہی عافیت جانی ۔
یہ واقعہ ایک کمنٹ کرنے والا کے ساتھ پیش آیا ہے ، لیکن اس کے درد کا اظہار موصوف نے کیا ہے ، اس لئے میں نے یہ وضاحت ضروری سمجھی تاکہ کوئی غلط فہمی نہ ہو۔
رب العالمین ہم سب کو صحیح سمجھ اور صحیح عمل کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔

No comments:

Post a Comment