دوسری دلیل: خلاف کتاب وسنت عمل مردود ہے - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-01-09

دوسری دلیل: خلاف کتاب وسنت عمل مردود ہے


 ✿ دوسری آیت: ﴿... فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾
 خلاف کتاب وسنت عمل مردود ہے
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو[65/الطلاق: 1]
اس آیت میں اللہ تعالی نے عورتوں کو ان کی عدت میں طلاق دینے کا حکم دیا ہے اور احادیث میں یہاں عدت کی تفسیر میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ عورت طہر یعنی پاکی کی حالت میں ہو۔
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256) نے کہا:
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ العِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ»
 ”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں  حالت حیض میں طلاق دے دی۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہو کہ اپنی بیوی واپس لیں اور اسے اپنے پاس  رکھیں۔ جب ماہواری (حیض) بند ہو جائے، پھر ماہواری آئے اور پھر بند ہو، تب اگر چاہیں تو اپنی بیوی کو اپنی نکاح میں باقی رکھیں اور اگر چاہیں تو طلاق دے دیں (لیکن طلاق اس طہر میں) ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے ہونا چاہئے۔ یہی (طہر کی) وہ مدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے“[صحيح البخاري (7/ 41) : كتاب الطلاق، رقم 5251]

قرآن وحدیث کے مذکورہ دلائل سے معلوم ہوا کہ طلاق دیتے وقت عورت کا پاکی کی حالت میں ہونا ضروری ہے ۔
اگرکسی نے عورت کی ناپاکی کی حالت میں اسے طلاق دے دیا تو اس پر امت کا اجماع ہے کہ قرآن وحدیث کی خلاف ورزی کے سبب یہ بدعی طلاق ہے۔
امام ابن عبد البر رحمه الله (المتوفى 463) نے کہا:
كان الطلاق عند جميعهم في الحيض مكروها بدعة غير سنة
حیض(عورت کی ناپاکی) کی حالت میں طلاق دی گئی تو تمام اہل علم کے نزدیک یہ سنی طلاق نہیں بلکہ حرام و بدعی طلاق ہے [الاستذكار لابن عبدالبر: 6/ 142]

ابن قدامة المقدسي (المتوفى 620) فرماتے ہیں:
وأما المحظور، فالطلاق في الحيض، أو في طهر جامعها فيه، أجمع العلماء في جميع الأمصار وكل الأعصار على تحريمه، ويسمى طلاق البدعة؛ لأن المطلق خالف السنة، وترك أمر الله تعالى ورسوله
جہاں تک حرام طلاق کی بات ہے تو حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے ، یا ایسے طہر میں جس میں شوہر نے بیوی سے جماع کیا ہو ، ہر دور میں ہرعلاقے کے علماء کا اجماع ہے کہ یہ طلاق حرام ہے اور اسے طلاق بدعی کہتے ہیں ، کیونکہ طلاق دینے والے نے اس میں سنت کی مخالفت کی ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کی ہے [المغني لابن قدامة 7/ 364]

امام نووي رحمه الله (المتوفى676)نے کہا:
أجمعت الأمة على تحريم طلاق الحائض
امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ حائضہ عورت کو طلاق دینا حرام ہے[شرح النووي على مسلم 10/ 60]
جب یہ بات مسلم ہے کہ حالت حیض میں دی گئی طلاق کتاب وسنت کی تعلیمات کے خلاف ہے اور ایک بدعی عمل ہے ۔
تو بدعی اعمال کے بارے میں کتاب وسنت میں ایک اصول موجود ہے کہ یہ مردود و ناقابل اعتبار ہوتے ہیں ۔
اللہ کا ارشاد ہے:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ} 
”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل وبرباد نہ کرو“ [47/محمد: 33]

حدیث ملاحظہ ہو:
امام مسلم رحمه الله (المتوفى261)نے کہا:
 ”حدثنا إسحاق بن إبراهيم، وعبد بن حميد، جميعا عن أبي عامر، قال عبد: حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا عبد الله بن جعفر الزهري، عن سعد بن إبراهيم، قال: سألت القاسم بن محمد، عن رجل له ثلاثة مساكن، فأوصى بثلث كل مسكن منها، قال: يجمع ذلك كله في مسكن واحد، ثم قال: أخبرتني عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد“ 
 ”اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے بتائے ہوئے حکم کے مطابق نہیں ہے تو وہ عمل مردود ہے“ [صحيح مسلم 3/ 1343 رقم 1718]

قرآن وحدیث کے ان دلائل سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے خلاف کوئی عمل کیا جائے گا تو وہ باطل ومردود ہوگا اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
چونکہ حالت حیض میں عورت کو طلاق دینا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے خلاف ہے لہٰذا یہ طلاق باطل ومرودد ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) فرماتے ہیں:
 ”والطلاق المحرم ليس عليه أمر الله ورسوله فهو مردود“ 
 ”حرام طلاق اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق نہیں ہے اس لئے مردود ہے“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 33/ 101]

 ✿ تیسری آیت: {... فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
قرآن کے مطابق اصلاحی رجوع کے بغیر دوسری طلاق نہیں
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
”طلاق دو مرتبہ ہیں، پھر (ہرایک کے بعد) یا تو اچھائی سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے“ [2/البقرة: 229]
اس آیت میں اللہ تعالی نے دو طلاق رجعی کا ذکر کیاہے اور ہر طلاق کے بعد دو ہی آپشن (اختیار) دیا ہے ، ایک یہ کہ اسے معروف کے ساتھ اپنا لینا یعنی رجوع کرلینا اور دوسرے یہ کہ اسے معروف کے ساتھ چھوڑدینا۔
اس آیت سےبہت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک طلاق ہوجانے کے بعد اگر عورت سے رجوع کرناہے تو معروف کے ساتھ ہی رجوع کرنا ہے یعنی اسے اپنے نکاح میں باقی رکھنے ہی کے لئے رجوع کرنا ہے ، نہ یہ کہ اس نیت سے رجوع کرنا کہ بعد میں اسے طلاق دینا ہے ۔
نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
{وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا}
”اوران کے شوہر اس مدت میں انہیں واپس لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو“ [البقرة: 228]
مزید ارشاد ہے:
{ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا }
 ”اور طلاق کے بعد عورتوں کو اس نیت سے نہ روکو کہ ان پر ظلم کرو“ [2/البقرة: 231]

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728) اس آیت سے متعلق فرماتے ہیں:
”قوله سبحانه : {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} وقوله سبحانه : { وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا } فإن ذلك نص في أن الرجعة إنما ثبتت لمن قصد الصلاح دون الضرار“ 
”اللہ تعالی کا فرمان {اوران کے شوہر اس مدت میں انہیں واپس لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو} نیز اللہ تعالی کا فرمان { اور طلاق کے بعد عورتوں کو اس نیت سے نہ روکو کہ ان پر ظلم کرو } ،اس میں صریح دلیل ہے کہ رجوع اسی شخص کا ثابت مانا جائے گا جو اصلاح کی نیت سے رجوع کرکے نہ کہ نقصان پہنچانے کے لئے“ [مجموع الفتاوى، ت حسنين: 6/ 54 ، شفاء العليل في إختصار إبطال التحليل ص55]

امير صنعاني رحمه الله (المتوفي1182) فرماتے ہیں:
”واعلم أنه قال تعالى {وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} أي أحق بردهن في العدة بشرط أن يريد الزوج بردها الإصلاح، وهو حسن العشرة والقيام بحقوق الزوجية.فإن أراد بالرجعة غير ذلك كمن يراجع زوجته ليطلقها كما يفعله العامة ... فهذه المراجعة لم يرد بها إصلاحا، ولا إقامة حدود الله فهي باطلة إذ الآية ظاهرة في أنه لا تباح له المراجعة، ولا يكون أحق برد امرأته إلا بشرط إرادة الإصلاح وأي إرادة إصلاح في مراجعتها ليطلقها. ومن قال إن قوله {إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا} ليس بشرط للرجعة، فإنه قول مخالف لظاهر الآية بلا دليل“ 
 ”اور جان کہ اللہ کا فرمان {اوران کے شوہر اس مدت میں انہیں واپس لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو} اس کا مطلب یہ ہے کہ عدت میں وہ واپس لینے کے پورے حقدار ہیں ، لیکن اس شرط پر کہ شوہر کا ارادہ اصلاح ، حسن سلوک اور حق زوجیت کو اچھی طرح ادا کرنے کا ہو ، اور اگر رجوع سے شوہر کا ارادہ اس کے سوا کچھ اور ہو مثلا اس لئے اپنی بیوی سے رجوع کرے تاکہ اسے طلاق دے جیساکہ عام لوگ کرتے ہیں... تو ایسے رجوع میں اصلاح کی نیت نہیں ہے ، اور نہ ہی اللہ کے حدود کو قائم کرنا مقصود ہے ، لہٰذا ایسا رجوع باطل ہے، کیونکہ آیت کا مفہوم ظاہر ہے کہ شوہر کے لئے رجوع جائز نہیں ہوگا اور وہ بیوی کو واپس لینے کا حقدار نہیں ہوگا مگر اس شرط کے ساتھ کہ اس کا ارادہ اصلاح کا ہو ، اور یہ کون سی اصلاح والی بات ہے  کہ وہ طلاق دینے کے لئے رجوع کرے، اور جو یہ کہے کہ اللہ کا قول {اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو} رجوع کے لئے شرط نہیں ہے تو بغیر کسی دلیل کے آیت کے ظاہری مفہوم کی مخالفت کررہاہے“ [سبل السلام 2/ 268]

لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث گذرچکی  ہے کہ انہوں نے جب حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دی تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کو واپس لینے کاحکم دیا اور یہ بھی کہا کہ بعد میں چاہو تو طلاق دے سکتے ہو ۔اب اگریہاں پہلی طلاق کو معتبر مانا جائے اور اس کے بعد بیوی واپس لینے کو اصطلاحی رجوع قراردیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک طلاق کے بعد دوبارہ طلاق دینے کی نیت سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے ۔اوریہ قرآن کی صراحت کے خلاف ہے کیونکہ قرآن میں ایک طلاق کے بعد معروف اور اصلاح کی نیت سے ہی رجوع کا حکم دیا گیا ہے۔
اس لئے یہ ماننا لازم ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حیض کی حالت میں جو طلاق دی تھی اسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کالعدم قرار دیا ہے ، اور بیوی کو واپس لینے کا حکم دیا ہے ، اور یہ اصطلاحی رجوع کا معاملہ نہیں بلکہ طلاق کے کالعدم ہونے اور نکاح کے باقی ہونے کے سبب اپنی بیوی کو اپنانے کا معاملہ ہے۔

دوسری دلیل : احادیث صحیحہ
 ✿  پہلی حدیث :طلاق ثلاثہ  میں دو زائد طلاق بدعی کو مردود قرار دیا
امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
 ”حدثنا سعد بن إبراهيم ، حدثنا أبي ، عن محمد بن إسحاق ، حدثني داود بن الحصين ، عن عكرمة ، مولى ابن عباس ، عن ابن عباس ، قال : طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد ، فحزن عليها حزنا شديدا ، قال : فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم : «كيف طلقتها ؟» قال : طلقتها ثلاثا ، قال : فقال : «في مجلس واحد ؟ » قال : نعم قال : «فإنما تلك واحدة فأرجعها إن شئت» قال : فرجعها فكان ابن عباس : يرى أنما الطلاق عند كل طهر“ 
 ”عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے دی، پھر اس پر انہیں شدید رنج لاحق ہوا ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیسے طلاق دی ؟“ انہوں نے کہا: میں نے تین طلاق دے دی ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ سلم نے پوچھا: ”کیا ایک ہی مجلس میں ؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پھر یہ ایک ہی طلاق ہے تم چاہو تو اپنی بیوی کو واپس لے لو“ ، چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی کو واپس لے لیا ۔ اس حدیث کی بنا پر ابن عباس رضی اللہ عنہ فتوی دیتے کہ طلاق الگ الگ طہر میں ہی معتبر ہوگی“ [مسند أحمد ط الميمنية: 1/ 265 رقم 2387 وإسناده صحيح ]
اس حدیث کی استنادی حالت پر تفصیلی بحث آگے آرہی ہے ۔
یہ بات مسلم ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک طلاق کے بعد مزید دوطلاقیں دے ڈالنا بدعت ہے ، اور اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو بدعی طلاق کو کالعدم قراردیاہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بدعی طلاق واقع ہی نہیں ہوتی ، اور جب اس حدیث سے یہ اصولی بات ثابت ہوگئی کہ بدعی طلاق واقع نہیں ہوتی تو یہی حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی کیونکہ یہ بھی بالاتفاق بدعی طلاق ہے۔

 ✿ دوسری حدیث: طلاق حیض سے نکاح کا نہ ٹوٹنا اور اس کے بے اثر ہونا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ اگرانہیں طلاق دینا ہے تو دوبارہ حیض کے بعد والے طہر میں طلاق دیں۔ یہ حدیث ماقبل میں گزرچکی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت حیض میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی دی گئی طلاق بے اثر تھی اس کا کوئی اعتبار نہیں تھا ورنہ اگر اس کا اعتبار ہوتا اور اس کا کوئی اثر ہوتا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طلاق کو کافی سمجھتے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دوبارہ طلاق دینے کا پابند نہیں کرتے ۔

شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله (المتوفى728)فرماتے ہیں:
”ولو كان الطلاق قد لزم لم يكن في الأمر بالرجعة ليطلقها طلقة ثانية فائدة؛ بل فيه مضرة عليهما؛ فإن له أن يطلقها بعد الرجعة بالنص والإجماع وحينئذ يكون في الطلاق مع الأول تكثير الطلاق؛ وتطويل العدة وتعذيب الزوجين جميعا“ 
”اگر طلاق حیض واقع ہوجاتی تو بیوی کو واپس لے کر دوبارہ دوسری طلاق دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، بلکہ اس میں میاں بیوی دونوں کے لئے نقصان ہے ، اور یہ بات نص اور اجماع سے ثابت ہے کہ شوہر بیوی کو واپس لینے کے بعد دوبارہ طلاق دے سکتا ہے۔ پھر ایسی صورت میں پہلی طلاق کے ساتھ دوسری طلاق بھی جمع ہورہی ہے، نیز عدت کی مدت بھی طویل ہورہی ہے اور میاں بیوی دونوں کے لئے اذیتناک صورت حال بن رہی ہے“ [مجموع الفتاوى، ت ابن قاسم: 33/ 22]

بالفاظ دیگر پہلی طلاق اس قابل ہی نہ تھی کہ نکاح کو ختم کرسکتی ، اسی لئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح ختم کرنے کے لئے دوبارہ طلاق کا حکم دیا۔تو جب پہلی طلاق بالکل ناکارہ اور لغو تھی اور نکاح پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتی تھی تو بھلا اس کا شمار کیسے ہوسکتا ہے ! اور کیونکر ہوسکتاہے !!

 ✿ تیسری حدیث : طلاق حیض کے مردود وکالعدم  ہونے پر صریح حدیث
متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہ حالت حیض جو طلاق دی تھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رد کردیا تھا اور اسے قابل اعتبار نہیں جاناتھا ۔

امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نے کہا:
”حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جريج، أخبرني أبو الزبير، أنه سمع عبد الرحمن بن أيمن، مولى عروة، يسأل ابن عمر، وأبو الزبير يسمع، قال: كيف ترى في رجل طلق امرأته حائضا؟ قال: طلق عبد الله بن عمر امرأته، وهي حائض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسأل عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إن عبد الله بن عمر طلق امرأته، وهي حائض، قال عبد الله: فردها علي، ولم يرها شيئا، وقال: «إذا طهرت فليطلق أو ليمسك» ، قال ابن عمر: وقرأ النبي صلى الله عليه وسلم {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] في قبل عدتهن“ 
 ”عبدالرحمٰن بن ایمن مولیٰ عروہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور ابوالزبیر سن رہے تھے، کہا کہ آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنی بیوی کو حیض کے دنوں میں طلاق دی ہو؟ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حیض کے دنوں میں طلاق دے دی تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے حالانکہ وہ حیض سے ہے۔ تو عبداللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو مجھ پر لوٹا دیا اور اسے کچھ نہ سمجھا۔ اور فرمایا جب یہ پاک ہو جائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس طرح) پڑھا {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1] اے نبی! جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو“ [سنن أبي داود 2/ 256 رقم 2185 واسنادہ صحیح علی شرط الشیخین قال الحافظ ابن حجر فى الفتح (9/308) وإسناده على شرط الصحيح، ومن طریق ابی داؤد اخرجہ البیھقی فی السنن الكبرى 7/ 535 رقم 14929 ، واخرجہ عبد الرزاق فی مصنفہ 6/ 309 رقم 10960]

اس حدیث میں پوری صراحت کے ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ نقل ہے کہ:
”فردها علي، ولم يرها شيئا“ (اس طلاق کو مجھ پر لوٹا دیا اور اسے کچھ نہ سمجھا) 
یہاں ”فردها“ میں ضمیر ”ها“ کا مرجع طلاق ہی ہے جیساکہ اگلے الفاظ ”ولم يرها شيئا“ (اوراسے کچھ نہ سمجھا) سے بالکل واضح ہے۔

 ● امام شافعي رحمه الله (المتوفى204) جیسے عظیم فقیہ نے بھی صاف لکھا ہے اس حدیث سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو شمار نہیں کیا ان کے الفاظ:
 ”الظاهر، فلم تحسب تطليقة“ 
 ”یہ الفاظ بظاہر یہی بتاتے ہیں کہ یہ طلاق شمار نہیں کی گئی“ [اختلاف الحديث (مطبوع ملحقا بالأم للشافعي): 8/ 661]

 ● أبو الحسن، نور الدين السندي الحنفی (المتوفى1138) رحمہ اللہ بھی یہی اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
 ”قوله: ولم يرها شيئاً بظاهره يدل على عدم وقوع الطلاق أصلاً“ 
 ”حدیث کے الفاظ ”ولم يرها شيئاً“ ( اور اسے کچھ نہ سمجھا ) بظاہر اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ طلاق اصلا واقع ہی نہیں ہوئی“ [حاشية مسند الامام احمد بن حنبل : 4 /158]

ان اہل علم نے ظاہری معنی کے اعتراف کے بعد اس کی تاویل کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن اس تاویل کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے آگے وضاحت آرہی ہے۔
یہ متن کی بات ہوئی اور سند کے اعتبار سے بھی یہ حدیث بالکل صحیح ہے بلکہ صحیحین کی شرط پر صحیح ہے۔

 ⟐ امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456)نے کہا:
 ”وهذا اسناد في غاية الصحة لا يحتمل التوجيهات“ 
 ”یہ سند حد درجہ صحیح ہے اس میں کسی قسم کی تاویلات کی گنجائش نہیں ہے“ [المحلى لابن حزم: 10/ 166]

 ⟐ امام ابن قيم رحمه الله (المتوفى751)نے کہا:
 ”قالوا: وهذا إسناد في غاية الصحة“ 
 ”اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ سند حد درجہ صحیح ہے“ [زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 206]

 ⟐ حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) نے کہا:
 ”وإسناده على شرط الصحيح“ 
 ”اس کی سند صحیح کی شرط پر ہے“ [فتح الباري لابن حجر 9/ 353]

 ⟐ علامہ البانی رحمہ اللہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا یہ فیصلہ نقل کرنے کے بعد اس کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
 ”وهو الحق الذى لا ريب فيه“ 
 ”یہی بات حق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے“ [إرواء الغليل للألباني: 7/ 129]

 ⟐ علامہ الصنعاني (المتوفى 1182) نے کہا:
 ”وإسناده على شرط الصحيح“ 
 ”اس کی سند صحیح کی شرط پر ہے“ [سبل السلام 2/ 250]

ابوالزبیر کی روایت پراعتراضات اوران کے جوابات:
پہلا اعتراض:
اس حدیث پر بعض ائمہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ (فردها علي، ولم يرها شيئا ) کے الفاظ روایت کرنے میں ابو الزبیر منفرد ہیں کسی نے بھی ان کی متابعت نہیں کی ہے ۔اور نافع وغیرہ کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیںَ۔
چنانچہ امام أبوداؤد رحمه الله نے یہ روایت بیان کرنے کے بعد کہا:
 ”والأحاديث كلها على خلاف ما قال: أبو الزبير“ 
 ”ابن عمر کے دیگر شاگردوں کی تمام روایات ابو الزبیر کے بیان کے خلاف ہیں“ [سنن أبي داود 2/ 256]

جوابا عرض ہے کہ :
اولا:
امام ابوالزبیر رحمہ اللہ کتب ستہ کے راوی اور حافظ  ثقہ و ثبت امام ہیں اور نافع وغیرہ کی کسی بھی روایت میں ان کی مخالفت موجود نہیں ہے ، امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وأما قولكم إن نافعا أثبت في بن عمر وأولى به من أبي الزبير وأخص فروايته أولى أن نأخذ بها فهذا إنما يحتاج إليه عند التعارض فكيف ولا تعارض بينهما فإن رواية أبي الزبير صريحة في أنها لم تحسب عليه وأما نافع فرواياته ليس فيها شيء صريح قط أن النبي حسبها عليه“
 ”رہا آپ لوگوں کا یہ کہنا کہ نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں اثبت اور ابوالزبیر سے بہتر ہیں اس لئے بہتر ہے کہ ہم نافع کی روایت کو لیں ، تو یہ کہنے کی ضرورت تب پیش آتی جب دونوں کی روایات میں تعارض ہوتا ، اور ان دونوں کی روایات میں کوئی تعارض نہیں ہے ، کیونکہ ابوالزبیر کی روایت میں تو یہ صراحت موجود ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طلاق کو شمار نہیں کیا ، لیکن نافع کی کسی بھی روایت میں یہ صراحت موجود نہیں ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے طلاق کو شمار کیا“ [عون المعبود مع حاشية ابن القيم: 6/ 171]

امام ابن القیم رحمہ اللہ دوسرے مقام پر فرماتے ہین:
”أين في الأحاديث الصحيحة ما يخالف حديث أبي الزبير؟ فهل فيها حديث واحد أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - احتسب عليه تلك الطلقة، وأمره أن يعتد بها، فإن كان ذلك، فنعم والله هذا خلاف صريح لحديث أبي الزبير، ولا تجدون إلى ذلك سبيلا“ 
”صحیح احادیث میں کون سی ایسی بات ہے جو ابوالزبیر کی حدیث کے خلاف ہو ؟ کیا ان میں سے کسی ایک بھی حدیث میں یہ وارد ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو شمار کیا تھا ؟ یا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو اسے شمار کرنے کاحکم دیا تھا ؟ اگر ایسا ہے تو جی ہاں یہ ابوالزبیر کی حدیث کے صریح خلاف ہے لیکن تم ایسا ہرگز نہیں دکھا سکتے“ [زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 207]

ثانیا:
یہ بات بھی غلط ہے کہ کسی نے بھی ابوالزبیر کی متابعت نہیں کی ہے کیونکہ ابن عمر کے ایک عظیم شاگرد سعيد بن جبير نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے معنوی طور پر یہی بات نقل کی ہے جیسا کہ آگے یہ روایت آرہی ہے ۔اس دوسری روایت کی بناپر علامہ البانی رحمہ اللہ نے امام ابوداؤد وغیرہ کا رد کرتے ہوئے لکھا ہے:
 ”وأما دعوى أبى داود أن الأحاديث كلها على خلاف ما قال أبو الزبير , فيرده طريق سعيد بن جبير التى قبله , فإنه موافق لرواية أبى الزبير هذه فإنه قال: « فرد النبى - صلى الله عليه وسلم - ذلك على حتى طلقتها وهى طاهر » وإسنادها صحيح غاية كما تقدم فهى شاهد قوى جدا لحديث أبى الزبير ترد قول أبى داود المتقدم ومن نحا نحوه مثل ابن عبد البر والخطابى وغيرهم“ 
رہا ابوداؤد کا یہ دعوی کہ تمام احادیث ابوالزبیر کے بیان کے خلاف ہیں تو سعید بن جبیر کا گذشتہ طریق اس کی تردید کرتا ہے کیونکہ وہ ابوالزبیر کی اس روایت کے موافق ہے کیونکہ انہوں نے کہا: « تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو مجھ پرلوٹا دیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو گئی تب میں نے اسے طلاق دی» اس کی سند حددرجہ صحیح ہے جیسا کہ گذرا پس یہ ابوالزبیر کی روایت کے لئے بہت مضبوط شاہد ہے جس سے امام ابوداؤد کے مذکورہ قول اور ان کے موافقین مثلا ابن عبدالبر ، خطابی وغیرہم کی تردید ہوتی ہے[إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل: 7/ 130]

علامہ البانی رحمہ اللہ کے اس کلام پر بعض لوگوں نے تعاقب کیا ہے اس کا جواب آگے آرہا ہے۔

کچھ ضعیف وغیرثابت متابعات:
 ● امام سعيد بن منصور رحمه الله (المتوفى227) نے :
”حدثنا حديج بن معاوية، نا أبو إسحاق، عن عبد الله بن مالك، عن ابن عمر، أنه طلق امرأته وهي حائض، فانطلق عمر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن عبد الله طلق امرأته وهي حائض، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ليس ذلك بشيء“ 
 ”عبداللہ بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ابن عمررضی اللہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ، تو عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے“ [سنن سعيد بن منصور، ت الأعظمي: 1/ 403 ]

اس کی سند ضعیف ہے لیکن سندمیں کوئی کذاب یا سخت ضعیف راوی نہیں ہے شاید اسی لئے حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے ابوالزبیر کی متابعات میں اسے ذکر کرتے ہوئے کہا:
 ”وروى سعيد بن منصور من طريق عبد الله بن مالك عن بن عمر أنه طلق امرأته وهي حائض فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس ذلك بشيء وهذه متابعات لأبي الزبير“ 
 ”سعید بن منصور نے عبداللہ بن مالک کے طریق سے یہ روایت کیا ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، یہ روایات ابوالزبیر کی متابعت کرتی ہیں“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 9/ 354]

 ●  أبو موسى المديني(المتوفى 581 ) نے کہا:
 ”أخبرنا أبو علي الحداد، ثنا أبو نعيم الحافظ، ثنا زيد بن أبي بلال، ثنا جعفر بن محمد بن جعفر الحسنى العلوي، ثنا الحسن بن زيد، حدثني علي بن الحسن بن علي بن عمر بن علي، عن علي  بن جعفر بن محمد، عن أخيه موسى بن جعفر، عن أبيه، عن جده وسألته عن رجل طلق امرأته في غير عدة، فقال: إن ابن عمر -رضي الله عنهما- طلق امرأته على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي حائض فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يراجعها ولم يحتسب بتلك التطليقة“ 
 ”علي بن حسين رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : ابن عمر رضی اللہ عنہ نے عہد رسالت میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دیا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ بیوی کو واپس لیں اور اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا“[اللطائف من دقائق المعارف لأبي موسى المديني ص: 426]

اس کی سند بھی ضعیف ومرسل ہے۔

 ● اس کے علاوہ اوربھی کئی رواۃ سے ابو الزبیر کی متابعت منقول ہےچنانچہ امام شوکانی نے امام عبدالبر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ :
 ”وقال ابن عبد البر في التمهيد: إنه تابع أبا الزبير على ذلك أربعة: عبد الله بن عمر ومحمد بن عبد العزيز بن أبي رواد ويحيى بن سليم وإبراهيم بن أبي حسنة“ 
 ”ابن عبدالبر نے تہمید میں کہا ہے کہ ابوالزبیر کی متابعت چار رواۃ : عبد الله بن عمر ،محمد بن عبد العزيز بن ابی رواد ،يحیی بن سليم اور ابراہيم بن أبي حسنہ نے کی ہے“ [نيل الأوطار 6/ 268]
لیکن یہ چاروں متابعات سندوں کے ساتھ ہمیں نہیں مل سکیں ۔

فائدۃ:-مسند شافعی کے مرتبین کا وہم
 ● مسند شافعی میں ہے:
 ”أخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر أنه طلق امرأته وهي حائض في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأل عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مره فليراجعها فردها على ولم ير بها شيئا فقال: إذا طهرت فليطلق أو يمسك“ 
 ”نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور می اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اپنی بیوی کو واپس لے لیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو رد کردیا اور اسے کچھ شمار نہیں کیا اور فرمایا: جب ان کی بیوی پاک ہوجائیں تو چاہیں تو طلاق دیں یا چاہیں تو روک لیں“ [مسند الشافعي، ترتيب السندي 2/ 33 رقم103 ،مسند الشافعي ،ترتيب سنجر 3/ 96 رقم 1243 واسنادہ صحیح وھو سلسلۃ الذھب وانظر: توالي التأسيس لمعالي محمد بن إدريس ص208]

اس روایت میں تو نافع سے بھی ابوالزبیر کی متابعت منقول ہے ، لیکن یہ روایت امام شافعی کی کتب میں ہمیں نہیں مل سکی اس لئے ظن غالب ہے کہ یہ مسند شافعی کے مرتبین کا وہم ہے ، اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ طلاق حیض پر بحث کرتے ہوئے خود امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کا کوئی ذکر نہیں کیا  ہے ، واللہ اعلم۔

بہر حال مؤخر الذکر روایات  ثابت نہیں ہیں اس لئے ہم نے انہیں بطور حجت نہیں بلکہ قارئین کی معلومات کے لئے پیش کیا ہے البتہ اس سے پہلے ابوالزبیر کی تائید میں سعیدبن جبیر رحمہ اللہ  کی متابعت پیش کی جاچکی ہے جو صحیح سند سے ثابت ہے اور سعید بن جبیر جیسے ثقہ وثبت اور فقیہ امام کی متابعت ہی کافی ہے۔بالخصوص جبکہ ابوالزبیر کی کسی نے مخالفت بھی نہیں کی ہے ، جیساکہ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے واضح کیا ہے۔

نیز ابوالزبیر کی اسی روایت کو امام مسلم نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس میں بھی مختصرا یہ الفاظ ہیں ”فردها“ یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو رد کردیا [صحيح مسلم 3/ 1098 رقم 1471]
اورامام مسلم نے اپنی صحیح میں وہی احادیث درج کی ہیں جن کی صحت پر ان کے دور میں محدثین کا اجماع تھا جیساکہ خود امام مسلم رحمہ اللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:
 ”ليس كل شيء عندي صحيح وضعته ها هنا إنما وضعت ها هنا ما أجمعوا عليه“ 
 ”میں نے اس کتاب میں ہرصحیح حدیث درج نہیں کی ہے بلکہ صرف ان صحیح احادیث کو درج کیا ہے جن کی صحت پر محدثین کا اجماع ہے“ [صحيح مسلم 2/ 304 تحت رقم 404]

لہٰذا امام مسلم کے بعد اختلاف کرنے والوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔اور یہ حدیث بلا ریب صحیح بلکہ صحیحین کی شرط پر ہے۔

دوسرا اعتراض: ابوالزبیر کی روایت میں تاویل
ابوالزبیر کی حدیث کو بعض فقہاء نے صحیح مانتے ہوئے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس کی تاویل کی جائے گی پھر الگ الگ لوگوں نے الگ الگ طرح کی تاویلات پیش کی ہیں۔
ان سب  کا جواب یہ ہے کہ اول تو ابوالزبیر کی حدیث اس قدر صریح ہے کہ ایسی تاویلات کی گنجائش ہی نہیں ہے ، دوسرے یہ کہ تاویل کا سہارا تب لیا جاتا ہے جب کہ اس کے خلاف بھی صریح مرفوع احادیث موجود ہیں ، لیکن اوپر گذرچکا ہے کہ اس کے خلاف ایک بھی صحیح مرفوع حدیث کا وجود ہی نہیں ہے اس لئے تاویل کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

 ✿ چوتھی حدیث : طلاق حیض کے مردود وکالعدم  ہونے پر ایک اور صریح حدیث
امام ابن حبان رحمه الله (المتوفى354)نے کہا:
 ”أخبرنا عبد الله بن أحمد بن موسى، قال: حدثنا وهب بن بقية، قال: حدثنا هشيم، عن أبي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر قال: طلقت امرأتي وهي حائض، فرد علي رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك حتى طلقتها وهي طاهر“ 
 ”عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو مجھ پرلوٹا دیا ۔یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو گئی تب میں نے اسے طلاق دی“ [صحيح ابن حبان 10/ 81 رقم 4264 وإسناده صحيح علي شرط مسلم و أخرجه أبو داود الطيالسي في مسنده (3/ 396) و أبو يعلي في مسنده (10/ 19) من طريق سريج بن يونس وأخرجه النسائي في سننه (6/ 141) من طريق زياد بن أيوب و الطحاوي في شرح معاني الآثار (3/ 52) من طريق سعيد بن منصور كلهم (أبو داود الطيالسي وسريج بن يونس و زياد بن أيوب وسعيد بن منصور) من طريق هشيم عن أبي بشر به وصرح ھشیم بالسماع عند ابی یعلی و النسائی والطحاوی ۔واخرجہ ایضا سعید بن منصور1/ 402 من طریق یونس عن سعید بن جبیر بہ واخرجہ ایضا عبدالرزاق 6/ 308 من طریق ایوب عن سعید بن جبیر نحوہ]

اس دوسری روایت کے سبب علامہ البانی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ماقبل کی پہلی روایت میں ابوالزبیر منفرد نہیں ہیں بلکہ ابوالزبیر رحمہ اللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جس مفہوم کی روایت بیان کی اسی مفہوم کی روایت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی ابن عمررضی اللہ عنہ سے بیان کررکھی ہے ۔
اس پر بعض حضرات نے یہ اعتراض کیا کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی اس روایت میں صرف طلاق کو رد کرنے کی بات ہے طلاق کو شمار نہ کرنے کی بات نہیں ہے چنانچہ :
مسند احمد پر اپنی تعلیق میں شعيب الأرنؤوط صاحب علامہ البانی پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
 ”تنبيه: رد صاحب الإرواء 7/129 قول أبي داود: إن أحاديث الجماعة كلها على خلاف ما قال أبو الزبير بما أخرجه الطيالسي (1871) ، وسعيد بن منصور (1546) ، والطحاوي 3/52، والنسائي 6/141، وأبو يعلى من طرق عن هشيم، أخبر أبو بشر عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال: طلقت امرأتي وهي حائض، فردها علي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى طلقتها وهي طاهر. قال صاحب الإرواء : فإنه موافق لرواية أبي الزبير هذه، فإنه قال: فرد النبي صلى الله عليه وسلم ذلك علي حتى طلقتها وهي طاهر ، وعده شاهدا قويا لحديث أبي الزبير. وغير خاف على طلبة العلم أن رواية سعيد بن جبير عن ابن عمر هذه لا تشهد لرواية أبي الزبير، ولا يفهم منها ذلك، فإن احتساب الطلقة في الحيض أو عدم احتسابها مسكوت عنه فيها“ 
 ”تنبیہ : صاحب ارواء (یعنی علامہ البانی) نے ابوداؤد کے قول (ایک جماعت کی تمام احادیث ابو الزبیر کے بیان کردہ لفظ کے خلاف ہیں ) کی تردید میں وہ روایت پیش کی ہے جسے الطيالسي (1871) ، سعيد بن منصور (1546) ، الطحاوي 3/52، النسائي 6/141، اور أبو يعلى نے اپنی سندوں سے هشيم، أخبر أبو بشر عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو مجھ پر لوٹا دیا یہاں تک میں نے اسے حالت طہر میں طلاق دی ۔ صاحب اررواء (یعنی علامہ البانی) کہتے ہیں: یہ حدیث ابو الزبیر کی روایت کے موافق ہے ۔جبکہ طلاب علم پر یہ مخفی نہیں ہے کہ ابن عمر سے سعید بن جبیر کی یہ روایت ابو الزبیر کی روایت کے لئے شہادت نہیں دے رہی ہے نہ اس کا ایسا کوئی مفہوم نکل رہا ہے کیونکہ یہ روایت حالت حیض میں دی گئی طلاق کے شمار کرنے اور نہ شمار کرنے کے سلسلے میں خاموش ہے“ [مسند أحمد ط الرسالة 9/ 372 ]

عرض ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جو روایت پیش کی ہے اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بیوی کو نہیں بلکہ ان کی دی گئی طلاق ہی کو ابن عمررضی اللہ عنہ پر لوٹانے کی بات ہے ، اور ان الفاظ کا صاف مفہوم یہی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق شمار ہی نہیں کی ، کیونکہ طلاق شمار ہونے کے بعد اسے لوٹانے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ۔اوراگر لوٹا دیا تو اسے شمار کرنے کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ۔
یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے متضاد ہیں یعنی طلاق کو یا تو شمار کیا جاسکتا یا رد کیا جاسکتا ہے ، یہ دونوں باتیں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتیں۔لہٰذا کوئی ایک ہی بات ہوسکتی ہے یعنی اگر طلاق شمار ہوگی تو وہ رد نہیں ہوگی ، اوراگررد ہوگی تو شمار نہیں ہوگی ۔
یاد رہے کہ سنت کے مطابق ایک طلاق دینے کے بعد طلاق دہندہ رجوع کے ذریعہ جس چیز کو واپس لے سکتا ہے وہ اس کی بیوی ہوتی ہے نہ کہ اس کی دی گئی طلاق ، کیونکہ سنی طلاق شمار ہوجاتی ہے اسے واپس لینے کا کوئی امکان نہیں رہتا ۔

الغرض یہ کہ قرآن وحدیث کے دلائل سے واضح ہے حیض کی حالت میں دی گئی طلاق حرام وبدعت ہے اور اس کا کوئی شمار نہیں ہے


اگلا حصہ

No comments:

Post a Comment