پہلی حدیث: حدیث لعان - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-02-16

پہلی حدیث: حدیث لعان


پچھلا
 دوسری دلیل : احادیث نبویہ
پہلی حدیث: حدیث لعان
بہت ساری کتب احادیث میں عویمرعجلانی رضی اللہ عنہ اور ان کے بیوی کے بیچ ہونے والے لعان کے واقعہ کا ذکر ہے ، اسے کئی صحابہ نے بیان کیا ہے جس میں ایک صحابی سھل بن سعد رضی اللہ عنہ بھی ہیں ، ان سے ان کے شاگرد امام زہری رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے پھر امام زہری سے ان کے بہت سے شاگردوں نے یہ حدیث بیان کی ہے ، جن میں امام مالک رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں:
”قال سهل: فتلاعنا وأنا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما فرغا، قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها، فطلقها ثلاثا، قبل أن يأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم“ 
”سھل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو ان دونوں نے لعان کیا ، اور میں بھی لوگوں کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، تو جب یہ دونوں لعان سےفارغ ہوگئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگراب میں اسے اپناتا ہوں تو سمجھو میں نے ہی اس پرجھوٹ بولا ہے ، تو انہوں نے اسےتین طلاق دے دیا اس سے پہلے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حکم دیتے“ [صحيح البخاري 7/ 42 رقم 5259]

عرض ہے کہ:
✿ اولا:
لعان کا واقعہ عہد رسالت میں دو بار پیش آیا ہے۔
❀ پہلا واقعہ :
هلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ
ان کے واقعہ کودرج ذیل تین صحابہ نے روایت کیاہے:
⋆ انس بن مالک رضی اللہ عنہ دیکھئے : (صحيح مسلم 3/ 1134رقم 1496)
 ⋆ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، دیکھئے : (صحيح مسلم 2/ 1133 رقم1495)
 ⋆ ابن عباس رضی اللہ عنہ دیکھئے :(صحيح البخاري 6/ 100 رقم 4747)
ان تینوں صحابہ کی کسی بھی روایت میں لعان کے بعد طلاق کا ذکر نہیں ہے،جو اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ لعان یہ طلاق کا محتاج نہیں بلکہ محض لعان ہی سے میاں بیوی کے مابین دائمی وابدی جدائی ہوجاتی ہے۔

 ❀ دوسرا واقعہ
عويمر العجلاني رضی اللہ عنہ کا واقعہ
ان کے واقعہ کودرج ذیل تین صحابہ نے روایت کیاہے:
 ⋆ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ دیکھئے : (صحيح البخاري 7/ 55 رقم 5311)
 ⋆ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، دیکھئے : (مسند أحمد ط الميمنية: 1/ 335وإسناده صحيح )
 ⋆ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ دیکھئے :(صحيح البخاري 7/ 42 رقم 5259)
ان تینوں صحابہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی لعان کے بعد طلاق کا کوئی ذکر نہیں ہے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس واقعہ میں بھی صرف لعان ہی سے جدائی ہوئی ہے ۔
اور سھل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کو امام زہری نے روایت کیا ہے اور امام زہری کے شاگردوں میں بھی تمام اس بات پر متفق ہیں کہ لعان ہی سے جدائی ہوئی ہے۔
 ● اور لعان کے بعد ان کے بعض شاگردوں مثلا ابن ابی ذئب (بخاری رقم 7304) ، فلیح (بخاری رقم 4746 ) ، إبراهيم بن سعد (ابن ماجہ رقم 2066 بسند صحیح) اور عقيل بن خالد (مسند أحمد 5/ 337 بسند صحیح) وغیرہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ پھر عویمر نے اپنی بیوی کو ”فارقها“ یعنی جدا کردیا ۔
 ● اور امام زہری کے بعض شاگردوں نے یہ ذکر کیا کہ لعان کے بعد انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، لیکن انہوں نے طلاق کی بات تین طرح ذکر کی ہے:
 ◈ ”طلقھا“ (اسے طلاق دے دیا) ، یعنی طلاق کا مجملا ذکر ہے ، اسے امام زہری کے شاگردوں میں امام اوزاعی (بخاری4745 ) ،عبد العزيز بن أبي سلمة (مسند أحمد : 5/ 337 بسند صحیح) وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
 ◈ ”فطلقها ثلاثا“ (پھر انہوں نے تین طلاق دی) ، یہاں طلاق کی تعداد تین کا ذکر ہے ، اسے امام زہری کے شاگردوں میں امام مالک (بخاری 5259) ، ھلال (شرح معاني الآثاررقم6146 بسند صحیح) وغیرہ نے بیان کیاہے۔
 ◈ ”هي الطلاق ، هي الطلاق ، هي الطلاق“ (اس کو طلاق ہے، اس کو طلاق ہے ،اس کو طلاق ہے) یہاں تینوں طلاق کی کیفیت کا ذکر ہے ، اسے امام زہری کے شاگردوں میں امام ابن اسحاق (مسند أحمد: 5/ 334) اور امام مالک (الفصل للوصل المدرج في النقل 1/ 318) نے بیان کیا ہے ، ابن اسحاق نے عن سے روایت کیا ہے لیکن امام مالک نے ان کی متابعت کردی ہے اس کی سند ضعیف ہے ، مگردونوں سند ملکر روایت حسن لغیرہ ہے۔

لعان سے متعلق ان تمام احادیث پر نگاہ ڈالیں تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ هلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں کسی نے بھی طلاق کا ذکر نہیں کیا ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ لعان نہ تو طلاق ہے اور نہ ہی اس میں طلاق کی ضرورت ہے۔
اور عويمر العجلاني رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو روایت کرنے والے دو صحابہ عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس واقعہ میں بھی طلاق کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے اس میں بھی طلاق نہیں دی گئی ہے۔
اور اس دوسرے واقعہ کو روایت کرنے والے تیسرے صحابی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کو امام زہری نے نقل کیا اور ان کے کئی شاگردوں نے بھی طلاق کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ صرف تفریق کا ذکر کیا ہے ۔اور بعض شاگردوں نے جو طلاق کا ذکر کیا ہے تو یہ امام زہری رحمہ اللہ کی طرف سے روایت بالمعنی ہے اس طرح کہ امام زہری نے اس تفریق کواپنے طور سے طلاق سمجھ لیا اور طلاق کے لفظ سے اس تفریق کو بیان کیا ۔
چنانچہ کبھی امام زہری نے تفریق کا ذکر کیا ، کبھی طلاق کا ذکر کیا اور کبھی تین طلاق کا ذکر کیا جس سے ان کی مراد تاکید تھی ، جیساکہ ابن اسحاق اور امام مالک کی روایت سے واضح ہے ۔
ابن اسحاق کی روایت پرحافظ ابن حجررحمہ اللہ کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے علامہ معلمی رحمہ اللہ نے یہی وضاحت کی ہے چنانچہ:
محمدبن اسحاق والی روایت پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ:
 ”وقد تفرد بهذه الزيادة ولم يتابع عليها وكأنه رواه بالمعنى لاعتقاده منع جمع الطلقات الثلاث بكلمة واحدة“ 
 ”اس اضافہ کو بیان کرنے میں ابن اسحاق منفرد ہے اور اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، اور گویا کہ انہوں نے روایت بالمعنی کیا ہے کیونکہ ان کا موقف یہ تھا کہ ایک ہی جملے میں اکٹھی تین طلاق نہیں دے سکتے“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 9/ 451]
علامہ معلمی رحمہ اللہ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
 ”أقول: لم يذكر الزهري صفة الطلاق إلا في هذه الرواية, وابن إسحاق أعلم بالله من أن يسمع من ابن شهاب قوله: فطلقها ثلاثًا فيرى هذا المعنى مخالفًا لرأيه، فيعمد إلى إبداله بما يوافق مذهبه على أنه من لفظ الملاعن، وهذا تبديلٌ وتحريفٌ، لا رواية بالمعنى. وليس اتهامه بذلك بأقوى من احتمال أن يكون الزهري كان ربما زاد لفظ ثلاثًا لما فهمه من أن الطلاق كان باتًّا، بسبب أن النبي - صلى الله عليه وسلم - فرق بينهما الفرقة الباتة، وظن أن سبب التفرقة تلك هو الطلاق، وإن صارت السنة بعد ذلك الفرقة المؤبدة, ولو بلا لفظ طلاق.وفي الصحيحين بعد ذكر الطلاق، قال ابن شهاب - وهو الزهري -: فكانت سنة المتلاعنين ، وفي رواية : وكان ذلك تفريقًا بين كل متلاعنين .على أن قوله: فطلقها ثلاثًا محتملٌ احتمالاً قريبًا أن يكون معناه: كرَّر الطلاقَ ثلاثًا، فيكون طلَّق تطليقة، ولكن أكّد تأكيدًا لفظيًا.ويؤيد هذا اقتصار ابن شهاب تارةً على طلَّقها ، وتارةً على فارقها .وعلى هذا، فرواية ابن إسحاق إنما كانت تفيد طلقة واحدة، إلا أنه أكّد اللفظ، فأعاده ثلاثًا، كما فهمه ابن حجر، فهي مفسَّرة للروايات الأخرى، لا مخالفة“ 
 ”میں(علامہ معلمی) کہتا ہوں کہ: زہری نے طلاق دینے کی کیفیت صرف ابن اسحاق کی اسی روایت میں بیان کی ہے اور ابن اسحاق اللہ کاخوف رکھنے والے ہیں وہ ایسا نہیں کرسکتے کہ ابن شہاب سے ”فطلقها ثلاثًا“ (انہوں نے تین طلاق دی) کے الفاظ سنیں اور پھر ان الفاظ کو اپنے موقف کے خلاف پاکر اپنے موقف کے موافق بدل دیں اور یہ ظاہر کریں کہ لعان کرنے والے نے یہی الفاظ کہے ہیں ، یہ تو صریح تحریف و تبدیل ہے نہ کہ روایت بالمعنی ! اور ابن اسحاق رحمہ اللہ پر ایسی تہمت لگانے سے زیادہ قوی احتمال اس بات کا ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ نے خود تین طلاق کے الفاظ اپنی طرف سے یہ سمجھ کر استعمال کئے ہوں کہ یہ معاملہ فائنل طلاق کا تھا ، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے مابین ہمیشہ کے لئے جدائی کا فیصلہ کردیا ، تو امام زہری نےا پنے طور پر یہ سمجھ لیا کہ اس جدائی کا سبب طلاق ہی ہے ،گرچہ اس کے بعد ابدی جدائی ہی کا طریقہ رہا ، اور گرچہ اس جدائی کے لئے طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ۔اور صحیحین میں طلاق کے لفظ کے بعد امام زہری کے یہ الفاظ ہیں ”تولعان کرنے والوں کا یہی طریقہ رہا“ اور ایک روایت میں زہری کے الفاظ ہیں : ”اور یہ دولعان کرنے والوں کی بیچ تفریق تھی“ ۔ علاوہ بریں امام زہری کے الفاظ ”فطلقها ثلاثًا“ (انہوں نے اسے تین طلاق دیا ) میں تقریبا اسی معنی کا احتمال ہے کہ ”كرَّر الطلاقَ ثلاثًا“ ( انہوں تین بار لفظ طلاق کا تکرار کیا ) ، ایسی صورت میں یہ ایک ہی طلاق تھی لیکن تاکید کے لئے انہوں نے لفظ طلاق کو دہرادیا ، اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امام زہری کبھی ”طلَّقها“ (اسے طلاق دیا) کا لفظ استعمال کرتے اور کبھی ”فارقها“ ( اسے جداکردیا) کا لفظ استعمال کرتے۔اس بنیاد پر ابن اسحاق کی روایت کا مطلب بھی یہی ہے کہ انہوں نے ایک ہی طلاق دی تھی مگر تاکید کے لئے لفظ طلاق کو دہرا دیا جیساکہ ابن حجررحمہ اللہ نے سمجھا ہے ، تو ابن اسحاق کی روایت دیگر روایات کی تفسیر ہی کرتی ہے لہٰذا یہاں کوئی مخالفت کی بات نہیں ہے“ [آثار الشيخ العلامة عبد الرحمن بن يحيي المعلمي اليماني 17/ 639]

علامہ معلمی رحمہ اللہ کے جواب سے اس بات کی وضاحت ہوگئی ابن اسحاق کی روایت میں دیگر روایات کی تفسیر ہی ہے اس لئے ابن اسحاق اپنے بیان میں منفرد نہیں ہيں ، تاہم یہ بھی واضح ہو کہ امام مالک رحمہ اللہ نے عین ابن اسحاق کے الفاظ میں ہی ان کی متابعت بھی کردی ہے کمامضی اس لئے تفرد کی بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
اگر کوئی کہے کہ امام مالک نے الگ سے زہری سے جو روایت بیان کی ہے اس میں اس طرح کے الفاظ نہیں ہیں ، تو عرض ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے دونوں طرح سے زہری سے روایت کیا ہے ، جیساکہ زہری ہی کے شاگر ابن جریج نے زہری سے کبھی ”فطلقها ثلاثا“ کے الفاظ نقل کئے ہیں(صحيح البخاري 7/ 54 رقم 5309) اورکبھی ”ثم فارقها“ کے الفاظ نقل کئے ہیں(مستخرج أبي عوانة 3/ 199 رقم 4675 واسنادہ صحیح) 
یہی معاملہ امام مالک کا بھی ہے کہ انہوں نے بھی دونوں طرح کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ سھل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی لعان کرنے والے صحابی کی طرف سے طلاق کا لفظ استعمال نہیں ہوا تھا بلکہ امام زہری رحمہ اللہ نے اپنے فہم کے مطابق روایت بالمعنی کرتے ہوئے تفریق کو طلاق سے تعبیر کردیا ۔

 ✿ ثانیا:
ابوداؤد الطیالسی کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے  پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ لعان میں جدائی بغیر طلاق کے ہوئی تھی چنانچہ اس روایت کے الفاظ ہیں:
”وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا ترمى، ولا يرمى ولدها، ومن رماها ورمى ولدها جلد الحد، وليس لها عليه قوت ولا سكنى؛ من أجل أنهما يتفرقان بغير طلاق“ 
”(عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ )اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ نہ اس عورت کو تہمت لگائی جائے اور نہ اس کے بچے کو کوئی طعنہ دیا جائے ،جس کسی نے اس عورت کو تہمت لگائی یا بچے کو طعنہ دیا تو اس پر حد نافذ کی جائے گی اور اس عورت کے لئے لعان کرنے والے پر طعام یا رہائش کا کوئی خرچ نہیں ہوگا کیونکہ یہ دونوں طلاق کے بغیر الگ ہورہے ہیں“[مسند أبي داود الطيالسي 4/ 391 رقم 2789 وإسناده صحيح، ومن طريق أبي داؤد أخرجه ابن شبة في تاريخ المدينة 2/ 379 و ابن أبي حاتم في تفسيره 8/ 2533 رقم 14182 والبيهقي في سننه 7 /647 وفي الخلافيات 6/ 360]

اس حدیث میں پوری طرح صراحت ہے کہ لعان میں ہونے والی جدائی بغیر طلاق کے ہوتی ہے۔یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ لعان والے واقعہ میں طلاق نہیں دی گئی ہے اور جس روایت میں طلاق کی بات ہے وہ امام زہری کی طرف سے روایت بالمعنی ہے انہوں نے تفریق کو طلاق سمجھ کر اسے طلاق سے تعبیر کردیا ہے۔
فقہ حنبلی کے امام ابن قدامہ (المتوفى 620 ) فرماتے ہیں:
”وأما حديث المتلاعنين فغير لازم؛ لأن الفرقة لم تقع بالطلاق، فإنها وقعت بمجرد لعانهما“ 
 ”رہی حدیث لعان تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی ہے کیونکہ اس میں جدائی طلاق سے نہیں ہوئی تھی بلکہ محض لعان ہی سے جدائی ہوگئی تھی“ [المغني لابن قدامة 7/ 369]
 ✿ ثالثا:
اگر یہ مان بھی لیں کہ سھل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں طلاق کا لفظ لعان کرنے والے صحابی نے ہی استعمال کیا تھا ، تو بھی ماقبل میں تفصیل پیش کی جاچکی ہے کہ یہ ایک ہی طلاق دی گئی تھی لیکن تاکید و تکرار کے لئے لفظ طلاق کو دہرا دیا گیا تھا۔نیز یہاں طلاق کا لفظ اصطلاحی معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ لغوی معنی میں یعنی عورت کو چھوڑنے کے معنی میں استعمال ہوا جیساکہ خلع والی ایک حدیث میں بھی لغوی معنی میں طلاق کا لفظ استعمال ہوا ہے، اسے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ، اس میں خلع دینے والے شوہر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”اقبل الحديقة وطلقها تطليقة“ ، ”باغ قبول کرلو اور انہیں آزاد کردو“ [ صحيح البخاري 7/ 46 رقم 5273]
اس حدیث میں طلاق لغوی معنی میں یعنی چھوڑنے اور آزاد کرنے کے معنی میں ہے ۔
چنانچہ خلع کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں:
 ”إنما هو فرقة وفسخ ، ليس بطلاق“ ، ”خلع یہ افتراق و فسخ ہے طلاق نہیں ہے“ [مصنف ابن أبي شيبة، ط الفاروق 6/ 438 وإسناده صحيح]
اس سے واضح ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت کردہ خلع والی حدیث میں مستعمل لفظ طلاق کو لغوی معنی میں ہی لیا ہے ۔

 ✿ رابعا:
اگرہم یہ بھی تسلیم کرلیں کہ لعان کرنے والے صحابی نے بغیر تکرار و تاکید کے ایک جملے میں تین طلاق دیا تھا تو بھی یہ حدیث لعان سے متعلق ہے اس لئے طلاق سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔اور عویمر رضی اللہ عنہ نے لعان سے فراغت کے بعد جو تین طلاق دیا یہ بے محل ہے، کیونکہ محض لعان ہی سے ان بیوی ان سے جدا ہوکر اجنبی بن گئی اور اجنبی عورت کو طلاق دینا بے موقع و محل ہے ۔
محض لعان ہی سے عورت جدا ہوکر اجنبی بن جاتی ہے اس پر درج ذیل حدیث مزید واضح ہے، ابن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
 ”قال النبي صلى الله عليه وسلم للمتلاعنين: حسابكما على الله، أحدكما كاذب، لا سبيل لك عليها“ 
 ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالی کے ذمے ہے لیکن تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ اب تمہاری بیوی پر تمہیں کوئی اختیار نہیں رہا“ [صحيح البخاري 7/ 55 رقم5312]
اس کے علاوہ درج ذیل امور بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ لعان کے بعد طلاق کا کوئی معنی نہیں ہے :
1۔ طلاق کے بعد شوہر دوبارہ اپنی بیوی کو اپنا سکتا ہے، اگر طلاق رجعی ہے تو عدت میں رجوع کرسکتا ہے یا عدت کے بعد تجدید نکاح کرسکتا ہے ،اور اگر سنت کے مطابق تیسری طلاق دے دی ہے تو عورت دوسرے شوہر سے شادی کرنے کے بعد اتفاق سے اس سے بھی الگ ہوجائے تو اس صورت میں شوہر اس سے دوبارہ شادی کرسکتا ہے۔
لیکن لعان کے بعد شوہر کسی بھی صورت میں اپنی بیوی کو دوبارہ نہیں اپنا سکتا۔جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والے شوہر سے فرمایا:
 ”لا سبيل لك عليها“ ”اب تمہاری بیوی پر تمہیں کوئی اختیار نہیں رہا“ [صحيح البخاري 7/ 55 رقم5312]
2۔ طلاق کے بعد اگر کوئی نومولود ہو تو اس کا نسب طلاق والے شوہر سے ہی مانا جاتا ہے لیکن لعان کے بعد نومولود ہو تو اس کا نسب لعان والے شوہر سے نہیں مانا جاتا ہے۔[صحيح البخاري :باب يلحق الولد بالملاعنة ، رقم 5315]
3۔ طلاق کے بعد اگر کوئی نومولود ہو تو وہ طلاق والے شوہر کا وارث ہوتا ہے لیکن لعان کے بعد نومولود ہو تو وہ لعان شوہر والے شوہر کا وارث نہیں ہوتا [صحيح البخاري: باب ميراث الملاعنة 8/ 153رقم 6748]
ان دلائل سے واضح ہے کہ لعان طلاق ہر گز نہیں ہے اس لئے لعان کے بعد طلاق کا لفظ استعمال کرنا بے موقع ہے۔اس لئے اس سے استدلال بھی درست نہیں ہے۔

اب اگر کوئي کہے کہ گرچہ لعان طلاق نہیں ہے اور یہ طلاق کا کوئی موقع و محل نہیں تھا ، لیکن جب عویمر رضی للہ عنہ نے ایک ساتھ تین طلاق دیا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پرٹوکنا چاہئے تھا لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے جس کا مطلب یہ ہوگا اگر کسی اور موقع پر لعان سے ہٹ کر کوئی تین طلاق دے دے تو وہ معتبر ہوگی۔
تو عرض ہے کہ اس شبہ کے ہمارے پاس دو جوابات ہیں :

 ⟐ پہلا جواب:
اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاق دینے سے تین معتبر ہوگی ، تو پھر یہ بھی ماننا چاہئے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا بھی جائز اور یہ بدعت نہیں ہے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ساتھ تین طلاق دینے پر بھی تو نہیں ٹوکا ۔ لیکن فریق مخالف اس بات کو نہیں مانتا بلکہ اس کی نظر میں تو بیک وقت تین طلاق دینا خلاف کتاب وسنت ہونے کے سبب بدعت ہے۔
اب اس کا جو جواب بھی فریق مخالف کی طرف سے ہوگا وہی ہمارا جواب بھی ہے۔
 ⟐ دوسرا جواب:
داراصل عویمررضی اللہ عنہ نے یہاں اصطلاحی معنی میں طلاق کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا ، کیونکہ اصطلاحی معنی میں طلاق دینے کا یہ وقت ہی نہیں تھا ، بلکہ عویمر رضی اللہ عنہ نے لغوی معنی یعنی چھوڑنے اور جدا کرنے کے معنی میں یہ لفظ استعمال کیا تھا اس کی دلیل یہ ہے کہ اسی روایت کے کئی طرق میں ”طلَّقها“ (اسے طلاق دیا) کی جگہ ”فارقها“ ( اسے جداکردیا) کا لفظ مستعمل ہے۔
تو جب یہ اصطلاحی طلاق تھی ہی نہیں تو اس پر ٹوکنے کی ضروت بھی نہ تھی ۔
بلکہ خلع کے مسئلے میں خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لغوی معنی میں طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے ، پھر ظاہر ہے کہ کسی صحابی کی طرف سے لغوی معنی میں یہ لفظ استعمال ہو تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیونکر ٹوک سکتے ہیں ؟

اب آخر میں احناف کے گھر سے ایک جواب پیش کرتے ہیں ، دراصل اس حدیث سے امام شافعی نے یہ استدلال کیا ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینا جائز ہے ، تو اس کا جواب دیتے ہوئے  أبو بكر الجصاص الحنفي (المتوفى 370) فرماتے ہیں:
”وهذا الخبر لا يصح للشافعي الاحتجاج به; لأن من مذهبه أن الفرقة قد كانت وقعت بلعان الزوج قبل لعان المرأة فبانت منه ولم يلحقها طلاق، فكيف كان ينكر عليها طلاقا لم يقع ولم يثبت حكمه.فإن قيل: فما وجهه على مذهبك؟ قيل له جائز أن يكون ذلك قبل أن يسن الطلاق للعدة ومنع الجمع بين التطليقات في طهر واحد، فلذلك لم ينكر عليه الشارع صلى الله عليه وسلم وجائز أيضا أن تكون الفرقة لما كانت مستحقة من غير جهة الطلاق، لم ينكر عليه إيقاعها بالطلاق“ 
 ”اس حدیث سے امام شافعی رحمہ اللہ کے لئے استدلال کرنا درست نہیں ہے کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ شوہر نے لعان کرلیا تو بیوی کے لعان کرنے سے پہلے اسی پر جدائی ہوجائے گی اور بیوی شوہر سے الگ ہوجائے گی ، ایسی صور ت میں اس پر طلاق پڑہی نہیں سکتی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی طلاق پر نکیرکیوں کریں گے جو واقع ہی نہیں ہوئی اور اس کا کوئی اعتبار ہی نہ ہوا ، اگر کہا جائے پھر آپ کے مذہب (یعنی مذہب حنفی ) کے مطابق اس کا جواب کیا ہوگا ؟ تو(ہمارے مذہب کے مطابق اس کے جواب میں یہ) کہا جائے گاکہ ممکن ہے کہ عدت میں طلاق دینے کے حکم ، اور ایک ہی طہر میں ایک سے زائد طلاق دینے کی ممانعت سے پہلے ہی لعان کا یہ واقعہ پیش آیا ہو ، اسی لئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر نہیں کی ، اور یہ بات بھی ہوسکتی ہے کہ چونکہ لعان میں طلاق سے پہلے ہی جدائی طے تھی اس لئے ایک ساتھ تین طلاق دینے پر نکیر نہیں کی گئی“ [أحكام القرآن للجصاص ط العلمية 1/ 465]

دیوبندی عالم مولانا سرفراز صاحب کے فرزند عبدالقدوس قارن صاحب لکھتے ہیں:
”اور یہ تو اتفاقی بات ہے کہ وہ جدائی لعان کی وجہ سے ہوئی تھی ، طلاق کی وجہ سے نہ تھی“ [جواب مقالہ ص 125]
اس اعتراف کے بعد قارن صاحب نے یہ کج بحثی کی ہے کہ گرچہ جدائی لعان سے ہوئی تھی لیکن اس کے بعد تین طلاق دینے کا فائدہ یہ ہے کہ وہ بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی ، لیکن قارن صاحب سے کوئی پوچھے کہ جب لعان سے جدائی ہوچکی ہے تو اس کے بعد وہ اس شوہر کی بیوی رہ ہی نہیں گئی بلکہ وہ اجنبی ہوگئی تو پھر اس پر طلاق کیسے واقع ہوگی؟
مزید یہ کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کے بعد ہی فرمادیا کہ :
لا سبيل لك عليها“ ، اب تمہاری بیوی پر تمہیں کوئی اختیار نہیں رہا“ [صحيح البخاري 7/ 55 رقم5312]
لہٰذا لعان ہی سے بیوی ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاتی ہے ، اس کے بعد اسے طلاق دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

مولانا کرم شاہ ازہری بریلوی صاحب مذکورہ جوابات نقل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اور جواب نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں اس کا ایک اور جواب دیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سکوت کی وجہ یہ تھی کہ عویمر رضی اللہ عنہ اس وقت سخت غصے کی حالت میں تھے ، اگر انہیں کچھ کہا جاتا تو ممکن تھا کہ بارگاہ رسالت میں کوئی نازیبا کلمہ ان کے منہ سے نکل جاتا اور ایمان بھی سلب ہوکر رہ جاتا ، حضور کریم نے عویمر رضی اللہ عنہ پررحم فرماتے ہوئے سکوت فرمایا“ [ دعوت فکرونظر: مطبوع در مجموعہ مقالات ص226 ]
ملاحظہ فرمائیں!
اس حنفی جوابات سے خود احناف کے استدلال کی تردید ہوگئی، والحمدللہ

ایک ضعیف روایت کا سہارا:
امام أبوداؤد رحمه الله (المتوفى275) نے کہا:
”حدثنا أحمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن عياض بن عبد الله الفهري، وغيره عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان ما صنع عند النبي صلى الله عليه وسلم سنة، قال سهل: حضرت هذا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمضت السنة بعد في المتلاعنين أن يفرق بينهما ثم لا يجتمعان أبدا“ 
”سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: انہوں (عاصم بن عدی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہو گیا کہ انہیں جدا کر دیا جائے، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں“ [سنن أبي داود 2/ 274 رقم 2250]

یہ روایت پیش کرکے بعض لوگوں یہ کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عویمر رضی اللہ عنہ نے جو تین طلاق دی تھی اللہ ک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ کردیا تھا ۔
عرض ہے کہ:
اولا:
یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اسی حدیث کو امام زہری ہی کے طریق سے امام زہری کے کئی شاگردوں نے نقل کیا مگر کسی نے بھی طلاق کو نافذ کرنے والی بات ذکر نہیں کی مثلا:
مالک عن الزھری بہ (صحيح البخاري رقم 5259)
فلیح عن الزھری بہ (صحيح البخاري رقم 4746)
ابن جریج عن الزھری بہ (صحيح البخاري رقم 5309)
ابن ابی ذئب عن الزھری بہ (صحيح البخاري رقم 7304)
یہ صرف صحیح بخاری میں زہری کے شاگردوں کی احادیث کے حوالے ہیں ، دیگر کتب میں ان کے دیگر شاگردوں نے بھی یہی احادیث بیان کی ہے مگر کسی نے بھی طلاق کو نافذ کرنے والی بات ذکر نہیں کی ہے ، اور ان سب کے خلاف صرف اور صرف عياض بن عبد الله الفهري نے یہی یہ بات ذکر کی ہے ۔اور عياض بن عبد الله الفهري پر محدثین نے جرح کی ہے۔

امام بخاري رحمه الله (المتوفى256) نے کہا:
 ”منكر الحديث“ ، ”یہ منکر الحدیث ہے“ [الضعفاء للعقيلي، ت د مازن: 4/ 447 وإسناده صحيح و آدم صحح له ابن حبان وهو يروي الكتاب]

امام أبو حاتم الرازي رحمه الله (المتوفى277) نے کہا:
 ”ليس بقوي“ ، ”یہ قوی نہیں ہے“ [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 6/ 409]

امام عقيلي رحمه الله (المتوفى322) نے کہا :
 ”حديثه غير محفوظ“ ، ”اس کی حدیث غیر محفوظ ہے“ [الضعفاء للعقيلي، ت د مازن: 4/ 447]

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) نے کہا:
 ”فيه لين“ ، ”اس میں کمزوری ہے“ [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم 5278]

تنبیہ بلیغ:
علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابی داؤد رقم( 1947) میں اس حدیث کو صحیح کہا ہے تو علامہ البانی رحمہ اللہ کی مراد یہ ہے کہ لعان کا یہ واقعی مجموعی طور پر صحیح ہے کیونکہ اس کے شواہد موجود ہیں ، لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ کی مراد یہ قطعا نہیں ہے کہ اس حدیث میں نافذ کرنے والی جو بات ہے وہ بھی صحیح ہے کیونکہ خود علامہ البانی رحمہ اللہ نے دوسری جگہ حدیث کے اس حصہ کو ضعیف قرار دیاہے ، چنانچہ مختصر صحیح بخاری کے حاشیہ میں علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
 ”قلت: وأما ما وقع عند أبي داود من طريق عياض بن عبد الله الفهري عن ابن شهاب عن سهل قال: فطلقها ‌ثلاث تطليقات عند رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، ‌فأنفذه رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ؛ فهو منكر؛ لأن الفهري هذا لا يحتج به إذا تفرَّد، قال أبو حاتم: ليس بالقوي ، وقال الحافظ في التقريب : فيه لين“ 
 ”میں(علامہ البانی) کہتاہوں کہ ابوداؤد میں ياض بن عبد الله الفهري عن ابن شهاب عن سهل کے طریق سے جو یہ الفاظ ہیں کہ (انہیں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ، پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ کردیا ) تو یہ الفاظ منکر ہیں ، کیونکہ عياض بن عبد الله الفهري جب کسی روایت میں منفر ہو تو ناقابل احتجاج ہے ، ابوحاتم نے کہا ہے کہ یہ قوی نہیں ہے اور حافظ ابن حجر نے تقریب میں کہا ہے کہ اس میں کمزوری ہے“ [مختصر صحيح الإمام البخاري :3/ 412]

ابوداؤد کی اس روایت کے ضعف کا جب کوئی جواب نہیں بن پڑتا تو بعض احناف یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ امام ابوداؤد نے اس روایت پر سکوت کیا ہے اس لئے یہ صحیح ہے۔حالانکہ ابوداؤد ہی کی جو روایات ان کے مسلک کے خلاف ہوتی ہیں انہیں ضعیف کہتے وقت انہیں یہ یاد نہیں رہتا کہ امام ابوداؤد نے ان پر سکوت کیا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ جس روایت پر امام ابوداؤد سکوت کریں وہ ان کے نزدیک حجت ہوتی ہے ۔
علامہ محمد قائم السندی الحنفی کہتے ہیں :
”لايلزم من سكوت أبي داؤد عليه حسنه عنده“ 
”اس پر امام ابوداؤد کے سکوت سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ ان کے نزدیک حسن ہے“ [فوز الکرام ص 9 ، 10قلمی]
حیرت ہے کہ جو لوگ طلاق کے مسئلے میں اپنے مسلک کے خلاف پاکر صحیح مسلم کی حدیث کو ضعیف کہہ جاتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ امام مسلم کے نزدیک صحیح ہے بلکہ اس کی صحت پر امت کا اجماع ہے ، وہ لوگ نہ جانے کس منہ سے امام ابوداؤد کے سکوت کو صحت کی دلیل باور کرتے ہیں ۔
ثانیا:
روایت کے الفاظ اس بارے میں صریح نہیں ہیں کہ ان الفاظ کو صحابی نے ہی بیان کیا ہے بلکہ سیاق بتلارہا ہے کہ یہ امام زہری رحمہ اللہ نے اپنی طرف سے مفہوما بیان کیا ہے ، چنانچہ انہوں نے ان الفاظ کو بیان کرنے کے بعد آگے کہا ہے کہا ہے کہ قال سهل: حضرت هذا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ، (میں اس واقعہ کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرتھا) یہ سیاق بتارہا ہے کہ اس سے پہلے کے الفاظ امام زہری کی طرف سے ہیں ۔ نیز ہم گزشتہ سطور میں بھی واضح کرچکے ہیں یہ امام زہری کی روایت میں یہ امام مفہوم امام زہری نے اپنی طرف سے بیان کیاہے۔
حسين إسماعيل الجمل فرماتے ہیں:
 ”ويبدو أن الراوي قاله تفقهًا واستنباطًا من الحديث“ ، ”اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ راوی نے ان الفاظ کو حدیث سے استنباط کرتے ہوئے بیان کیا ہے“ [المقرر على أبواب المحرر: 2/ 222]
اور یہ استدلال درست نہیں ہے کیونکہ حدیث کے اندر یہ معنی موجود نہیں ہے ، اس حدیث کے دیگر رواۃ میں سے کسی نے بھی یہ مفہوم بیان نہیں کیا ، بلکہ اوپر مسند ابوداؤد الطیالسی کی حدیث گزرچکی ہے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہ جدائی طلاق کے بغیر ہوئی تھی ۔
ثالثا:
عویمر عجلانی اوران کی بیوی کے مابین لعان کے وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، جیساکہ متعدد روایات میں ہے دیکھیں :(مسند أحمد ط الميمنية: 1/ 335وإسناده صحيح ،مسند أبي داود الطيالسي 4/ 391 رقم 2789 وإسناده صحيح]
اور صحیح مسلم کی حدیث گزرچکی ہے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہی بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تین طلاق ایک ہی مانی جاتی تھی ، یہ بھی اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ واقعہ لعان میں تین طلاق کو نافذ کرنے والے بات بے بنیادہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ:
 لعان کے واقعہ میں جدائی طلاق کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی اس لئے اس سے طلاق کے مسئلہ میں استدلال کرنا غلط ہے۔


No comments:

Post a Comment