طلاق بدعت کے وقوع پر ایک من گھڑت روایت - Kifayatullah Sanabili Official website

2020-01-16

طلاق بدعت کے وقوع پر ایک من گھڑت روایت


تیسری دلیل
طلاق بدعت کے وقوع پر ایک من گھڑت روایت
امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385) نے کہا:
”نا محمد بن مخلد , نا أحمد بن عبد الله الحداد , نا أبو الصلت إسماعيل بن أبي أمية الدارع ح. ونا عبد الباقي بن قانع , نا عبد الوارث بن إبراهيم العسكري , نا إسماعيل بن أبي أمية , نا حماد بن زيد , نا عبد العزيز بن صهيب , عن أنس , قال: سمعت معاذ بن جبل , قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا معاذ من طلق في بدعة واحدة أو اثنتين أو ثلاثا ألزمناه بدعته». إسماعيل بن أبي أمية القرشي ضعيف متروك الحديث“ 
 ”معاذبن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ : اے معاذ جو طلاق بدعی دے گا ، ایک بار ، یا دو بار یا تین بار تو ہم اسے لازم کردیں گے، امام دارقطنی کہتے ہیں کہ اسماعیل بن ابی امیہ قرشی ضعیف اور متروک الحدیث ہے“ [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 5/ 37رقم 3944 وإسناده تالف وهذا حديث باطل موضوع ،وأخرجه الدارقطني أيضا في سننه رقم 4020من طريق عبد الله الحداد ،وأخرجه أيضا الجصاص في شرح مختصر الطحاوي 5/ 29 من طريق زكريا بن يحيى الشامي ، وأخرجه أيضا البيهقي في سننه رقم 15328من طريق محمدبن يوسف ،كلهم (عبد الله الحداد وزكريا بن يحيى الشامي و محمدبن يوسف) عن إسماعيل بن أمية به ، وأخرجه الدارقطني أيضا في سننه رقم 4021من طريق عبد الله الحداد فخالفهم فقال:نا إسماعيل بن أمية , نا سعيد بن راشد , عن حميد الطويل , عن أنس بن مالك به]

یہ روایت موضوع و من گھڑت ہے ۔سند میں کذاب کے ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے الفاظ ہی سے اس کا من گھڑت ہونا ظاہر ہے کیونکہ کتاب وسنت کے خلاف دی گئی طلاق کے لئے طلاق بدعت کی اصطلاح یہ بعد کے فقہاء کی طرف سے ، عہد رسالت میں یہ اصطلاح رائج ہی نہ تھی ۔

امام ابن حزم رحمه الله (المتوفى456) فرماتے ہیں:
 ”موضوع بلا شك“ ، ”یہ حدیث بلاشک وشبہ موضوع ومن گھڑت ہے“ [المحلى لابن حزم، ت بيروت: 9/ 379]

امام ابن القيم رحمه الله (المتوفى751) فرماتے ہیں:
 ”حديث باطل على رسول الله صلى الله عليه وسلم“ 
 ”یہ حدیث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ گھڑی گئی ہے“ [زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 217]

اور سند میں اس کا مرکزی راوی ”إسماعيل بن أبي أمية“ ہے، یہ حدیث گھڑتا تھا۔
امام ابن القيم رحمه الله (المتوفى751) نے کہا:
 ”إنما هو من حديث إسماعيل بن أمية الذارع الكذاب“ 
 ”یہ حدیث اسماعیل بن امیہ الذارع کذاب (جھوٹے) کی بیان کردہ ہے“ [زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 217]
نوٹ:-
زاد المعاد کے معلق نے ابن القیم کی اس بات پر تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسماعیل کو ائمہ نے جھوٹا نہیں کہا ہے بلکہ ضعیف کہا ہے[زاد المعاد، ن مؤسسة الرسالة: 5/ 217 حاشیہ 1]
عرض ہے کہ یہ بالکل غلط بیانی ہے کیونک امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے حدیث گھڑنے والا قرار دیا ہے ، اب اس سے بڑا جھوٹا شخص اور کون ہوسکتا ہے۔

امام دارقطني رحمه الله (المتوفى385) نے کہا:
 ”إسماعيل هذا يضع الحديث“ ، ”یہ اسماعیل حدیث گھڑتا تھا“ [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 3/ 442]

نیز امام دارقطنی نے مذکورہ روایت درج کرنے کے بعد ہی کہا ہے کہ:
 ”إسماعيل بن أبي أمية القرشي ضعيف متروك الحديث“ 
 ”اسماعیل بن ابوامیہ قرشی ضعیف اور متروک ہے“ [سنن الدارقطني، ت الارنؤوط: 5/ 37]

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے

اگلاحصہ

No comments:

Post a Comment